مضمون کے اہم نکات
اس مضمون کا بنیادی مقصد اُن سات مہلک اور تباہ کن گناہوں کی تفصیل پیش کرنا ہے جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ یہ گناہ انسان کے لیے دنیا و آخرت دونوں میں ہلاکت اور بربادی کا سبب بنتے ہیں۔ ان میں شرک، جادو، ناحق قتل، سود خوری، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے بھاگ جانا اور پاکدامن مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا شامل ہیں۔ اس مضمون میں ہر گناہ کی شرعی حیثیت، اس کے نقصانات اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا شرعی حکم تفصیل سے بیان کیا جائے گا تاکہ مسلمان ان مہلک افعال سے بچ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی طرف راغب ہوں۔
حدیثِ مبارک (سات مہلک گناہوں کا بیان)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ ))
’’سات ہلاک کر دینے والے گناہوں سے بچتے رہو۔‘‘
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
(وَمَاہُنَّ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟)
’’یا رسول اللہ! وہ کون سے گناہ ہیں؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
➊ ((اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ )) — اللہ کے ساتھ شرک کرنا
➋ (( وَالسِّحْرُ )) — جادو کرنا
➌ (( وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بِالْحَقِّ )) — ناحق قتل
➍ (( وَأَکْلُ الرِّبَا )) — سود کھانا
➎ (( وَأَکْلُ مَالِ الْیَتِیْمِ )) — یتیم کا مال کھانا
➏ (( وَالتَّوَلِّیْ یَوْمَ الزَّحْفِ )) — جنگ کے دن میدان سے بھاگ جانا
➐ ((وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ)) — پاکدامن مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا
صحیح البخاری: 2766، 5764، 6857 — صحیح مسلم: 89
پہلا گناہ: اللہ کے ساتھ شرک کرنا
شرک کی تعریف
شرک کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت یا الوہیت میں کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے۔ مثلاً:
◈ یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی اور بھی کائنات کو چلا سکتا ہے۔
◈ غیر اللہ کی عبادت کرنا، جیسے سجدہ، دعا، نذر و نیاز یا ذبح کرنا۔
◈ مشکلات میں غیر اللہ کو پکارنا یا انہیں مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا۔
◈ غیر اللہ سے خوف یا امید رکھنا جو اللہ کے ساتھ خاص ہے۔
یہ تمام اعمال شرکِ اکبر ہیں جو انسان کے تمام اعمال کو برباد کر دیتے ہیں۔
﴿ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ … ﴾
النساء 4:116
ترجمہ:
’’بے شک اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو معاف نہیں کرتا، اور اس کے علاوہ جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑتا ہے۔‘‘
﴿ اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ … ﴾
المائدہ 5:72
ترجمہ:
’’جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘
دوسرا گناہ: جادو کرنا
سحر (جادو) کی تعریف علماء کے نزدیک:
◈ امام ازہری: ’’سحر کسی چیز کو اس کی اصل حقیقت سے پھیر دینے کا نام ہے۔‘‘
◈ ابن منظور: ’’جادوگر چیزوں کو ان کی حقیقت سے بدل کر پیش کرتا ہے۔‘‘
◈ ابن قدامہ: ’’گرہیں لگانا، منتر پڑھنا، اور ایسے افعال کرنا جن سے انسان کے دل، جسم یا عقل پر اثر پڑے۔‘‘
جادو کی حقیقت
جادو شیطان کے ساتھ ایک معاہدہ ہوتا ہے، جس کے بدلے جادوگر کفریہ اور شرکیہ کام انجام دیتا ہے، اور شیطان اسے مختلف طریقوں سے مدد فراہم کرتا ہے۔
جادو کے اثرات ثابت ہیں
جادو کے اثرات قرآن و حدیث سے ثابت ہیں، حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اثر کیا گیا جس کا ذکر احادیث میں موجود ہے۔
حدیث کا واقعہ اور اس کا ترجمہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لبید بن اعصم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا جس کے اثرات ظاہر ہوئے۔ پھر اللہ نے آپ کو اس کی حقیقت بتائی۔
حدیث کا ترجمہ مختصراً:
’’اے عائشہ! اللہ نے میری دعا قبول کر لی ہے۔ دو فرشتے آئے… ایک نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا ہے… کس نے کیا؟ لبید بن اعصم نے… کس چیز میں؟ کنگھی، بالوں اور کھجور کے خوشے میں… کہاں رکھا ہے؟ بئر ذَروان میں…‘‘
(صحیح البخاری 5763، صحیح مسلم 2189)
جادو سیکھنے کا حکم اور آیت کا ترجمہ
﴿ … وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ … ﴾
البقرۃ 2:102
ترجمہ:
’’سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا، بلکہ شیطانوں نے کفر کیا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے… اور وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جس سے مرد اور عورت کے درمیان جدائی ڈال دیں… حالانکہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے…‘‘
تیسرا گناہ: ناحق قتل کرنا
اسلام نے انسانی جان کی حرمت کو انتہائی بلند مقام دیا ہے۔ کسی بے گناہ جان کو قتل کرنا ان کبائر میں سے ہے جن کی سزا دنیا و آخرت دونوں میں نہایت سخت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح حکم دیا ہے کہ جس جان کو قتل کرنا حرام کیا گیا ہے، اسے کسی شرعی وجہ کے بغیر قتل کرنا جائز نہیں۔
﴿ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ ﴾
الإسراء 17:33
ترجمہ:
’’اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، مگر یہ کہ کسی حق کی بنا پر اس کا قتل لازم آ جائے۔‘‘
﴿ … وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ … ﴾
الأنعام 6:151
ترجمہ:
’’اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے، مگر یہ کہ شرعی حق کی وجہ سے اسے قتل کیا جائے۔‘‘
قتلِ ناحق پر احادیث اور ان کے تراجم
حدیث: تین صورتوں میں مسلمان کا خون حلال ہوتا ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِیٍٔ مُسْلِمٍ … اِلَّا بِاِحْدٰی ثَلَاثٍ … ))
’’کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں، مگر تین صورتوں میں:
1— شادی شدہ زانی،
2— جان کے بدلے جان،
3— وہ شخص جو اسلام چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے جدا ہو جائے۔‘‘
صحیح بخاری: 6878 ، صحیح مسلم: 1676
حجۃ الوداع میں خونِ مسلم کی حرمت کا بیان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کے خطبے میں فرمایا:
(( اِنَّ دِمَاءَکُمْ وَاَمْوَالَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ … ))
’’بے شک تمہارے خون اور تمہارے اموال تم پر حرمت والے ہیں، جس طرح یہ دن (عرفہ)، یہ مہینہ (ذوالحجہ) اور یہ شہر (مکہ) حرمت والے ہیں۔‘‘
صحیح مسلم: 1218
❀ قتلِ ناحق کی شدید وعید
﴿ وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا … ﴾
النساء 4:93
ترجمہ:
’’اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے، وہ ہمیشہ اس میں رہے گا، اللہ کا غضب اس پر ہوگا، اللہ نے اس پر لعنت کی ہے اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘
حدیث: قاتل و مقتول دونوں جہنمی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِذَا التَقَى المُسلِمَانِ بِسَیفَیْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ))
’’جب دو مسلمان ایک دوسرے کے مقابلے میں تلواریں سونت لیں، تو قاتل بھی جہنم میں جائے گا اور مقتول بھی۔‘‘
صحابہ نے پوچھا: ’’مقتول کیوں؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ ))
’’کیونکہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔‘‘
صحیح بخاری: 2888
غیر مسلم معاہد کے قتل کی وعید
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ … ))
’’جس نے کسی معاہد (غیر مسلم شہری) کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے۔‘‘
صحیح بخاری: 3166
چوتھا گناہ: سود کھانا (الرِّبَا)
سود ان کبائر میں سے ہے جن کی حرمت قرآن و حدیث میں انتہائی سخت الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ سود کھانا، کھلانا، لکھنا اور اس پر گواہ بننا سب کے سب یکساں گناہ ہیں۔
﴿ وَأَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ﴾
البقرۃ 275
ترجمہ:
’’اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔‘‘
﴿ یٰأَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَأْکُلُوا الرِّبٰوا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً … ﴾
آل عمران 130
ترجمہ:
’’اے ایمان والو! دوگنے، چوگنے سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ کامیابی حاصل کرو۔‘‘
﴿ … فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُولِهِ ﴾
البقرۃ 278–279
ترجمہ:
’’اگر سود چھوڑ نہ دو تو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘
﴿ یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ ﴾
البقرۃ 276
ترجمہ:
’’اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘
حدیثِ نبوی
(( مَا أَحَدٌ أَکْثَرَ مِنَ الرِّبَا إِلَّا كَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهِ إِلَى قِلَّةٍ ))
’’کوئی شخص جتنا بھی سود لے، انجام کار اس کا مال گھٹ کر رہ جاتا ہے۔‘‘
سنن ابن ماجہ: 2279
(( لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ آکِلَ الرِّبَا … ))
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی۔‘‘
صحیح مسلم: 1598
پانچواں گناہ: یتیم کا مال کھانا
یتیم وہ بچہ ہے جس کے والد کا انتقال ہو چکا ہو اور وہ کم عمر ہو۔ شریعت نے یتیموں کے حقوق کی خاص حفاظت کی ہے۔ یتیم کا مال کھانا اُن مہلک گناہوں میں سے ہے جن پر اللہ نے دنیا و آخرت میں سخت وعید سنائی ہے۔
اسلام نے یتیم کے سرپرست کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ یتیم کی میراث اور مال کی حفاظت کرے، اسے ضائع ہونے سے بچائے، اور جب وہ بالغ اور سمجھدار ہو جائے تو اس کا مال اسے لوٹا دے۔
قرآنی آیات
﴿ وَاٰتُوا الْیَتٰمٰی اَمْوَالَهُمْ … ﴾
النساء 4:2
ترجمہ:
’’اور یتیموں کو ان کے مال واپس کر دو، اور ان کی اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز نہ لو، اور ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ، بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔‘‘
﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا … ﴾
النساء 4:10
ترجمہ:
’’بے شک جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں، اور عنقریب جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔‘‘
﴿ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ … ﴾
الأنعام 6:152
ترجمہ:
’’اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو اس کے حق میں بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔‘‘
﴿ وَلَا تَاْكُلُوْهَآ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا ﴾
النساء 4:6
ترجمہ:
’’اور ان کے بڑے ہونے کے خوف سے ان کے مال فضول خرچی میں جلدی جلدی نہ کھا ڈالو۔‘‘
یتیم کے سرپرست کے لیے رخصت
اگر سرپرست خود فقیر ہو، کوئی ذریعہ معاش نہ ہو، اور یتیم کی کفالت کی وجہ سے کام نہ کر سکے تو شریعت نے اسے اجازت دی ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق مناسب طریقے سے یتیم کے مال سے کھا سکتا ہے۔
﴿ وَمَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ … ﴾
النساء 4:6
ترجمہ:
’’اور جو سرپرست مالدار ہو وہ (یتیم کے مال سے) بچتا رہے، اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق (اتنا) کھا سکتا ہے جو مناسب ہو۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ یتیم کے مال کا ناجائز استعمال نہ صرف حرام ہے بلکہ یہ انسان کو جہنم کے عذاب تک لے جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ’’آگ کھانا‘‘ قرار دیا اور سخت وعید سنائی۔
چھٹا گناہ: میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیرنا
مسلمان جب اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے دشمن کے سامنے صف آرا ہوں تو اس وقت پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا کبیرہ گناہ ہے۔ اسے قرآن نے ’’اللہ کے غضب‘‘ کا سبب قرار دیا ہے۔
میدانِ جنگ میں ثابت قدمی ایمان کی علامت ہے، جبکہ پیٹھ پھیرنا بزدلی اور شکست کو جنم دیتا ہے۔
قرآنی آیات
﴿ یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِذَا لَقِیتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ ﴾
الأنفال 8:15
ترجمہ:
’’اے ایمان والو! جب تم کفار کے مقابلے میں میدان جنگ میں آمنے سامنے ہو تو انہیں پیٹھ نہ دکھاؤ۔‘‘
﴿ وَمَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗٓ … ﴾
الأنفال 8:16
ترجمہ:
’’اور جو شخص اس دن انہیں پیٹھ دکھائے گا—سوائے اس کے کہ جنگی چال کے طور پر پسپا ہو یا اپنی جماعت سے ملنے کے لیے الگ ہو—تو وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہو گا، اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔‘‘
پیٹھ پھیرنے کی کب جائز صورتیں ہیں؟
➊ جنگی چال (Strategy)
دشمن کو دھوکا دینے یا بہتر پوزیشن حاصل کرنے کے لیے وقتی طور پر پیچھے ہٹنا۔
➋ اپنی فوجی جماعت سے جا ملنا
تاکہ دوبارہ صفیں مضبوط کی جائیں اور مشترکہ حملہ کیا جائے۔
ان دو صورتوں کے علاوہ میدان چھوڑنا حرام ہے اور یہ اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔
اس گناہ کی سنگینی
◈ شکست کا سبب بنتا ہے
◈ مسلمانوں کی ہمت ٹوٹتی ہے
◈ دشمن کا حوصلہ بڑھتا ہے
◈ یہ امت کے اجتماعی مفاد کے خلاف ہے
اسی لیے اسے ’’مہلک گناہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
ساتواں گناہ: پاکدامن، بے گناہ اور مومنہ عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگانا
سات مہلک اور تباہ کن گناہوں میں آخری گناہ ہے پاکدامن، باحیا، مومنہ عورتوں پر زنا کی جھوٹی تہمت لگانا۔
اسلام میں عزتِ نفس اور ناموس کی حفاظت کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔ کسی پاک دامن عورت پر زنا کا جھوٹا الزام لگانا نہ صرف ظلم ہے بلکہ شریعت میں اسے حد قذف کے تحت سخت سزا دی گئی ہے۔
یہ گناہ اتنا سنگین ہے کہ اس کے مرتکب شخص کو دنیا میں 80 کوڑے مارنے کا حکم ہے، اس کی گواہی ہمیشہ کے لیے مردود ہو جاتی ہے، اور آخرت میں لعنت اور عظیم عذاب کا وعدہ ہے۔
قرآنی آیات
﴿ وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوْا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً … ﴾
النور 24:4
ترجمہ:
’’اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ لا سکیں، تو ان کو اسی (80) کوڑے مارو، اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ فاسق ہیں۔‘‘
﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ﴾
النور 24:23
ترجمہ:
’’جو لوگ پاکدامن، بے خبر، ایمان والی عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں، اور ان کے لیے بڑا دردناک عذاب ہے۔‘‘
تہمت لگانے کی حرمت کے اسباب
اسلام میں یہ گناہ اس قدر سنگین کیوں ہے؟
کیونکہ:
✿ یہ معصوم عورت کی عزت پر حملہ ہے
✿ خاندان، قبیلہ اور معاشرے میں فساد پھیلاتا ہے
✿ بے گناہ فرد کی ساکھ اور زندگی تباہ ہو جاتی ہے
✿ جھوٹی تہمت جھوٹ، بہتان اور غیبت کا مجموعہ ہے
✿ معاشرے سے اعتماد اور امن ختم ہو جاتا ہے
لہٰذا شریعت نے سخت حکم دیا کہ جب تک چار پاک باز، عادل گواہ نہ ہوں، کسی پر بھی تہمت لگانا جائز نہیں۔
❀ اپنی زبان کی حفاظت
اسلام نے زبان کے غلط استعمال کو بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ))
’’لوگوں کو منہ کے بل جہنم میں کچھ نہیں ڈالتا مگر ان کی زبانوں کے حاصل (یعنی ان کی زبانوں کی کمائی)۔‘‘
(سنن ترمذی)
لہٰذا تہمت، بہتان، غیبت، الزام تراشی، جھوٹ—سب ہی زبان کے خطرناک امراض ہیں جن سے مکمل پرہیز لازم ہے۔
❀ نتیجہ
ہمیں چاہیے کہ:
✿ اپنے عقیدے کو شرک سے پاک رکھیں
✿ جادو اور جادوگروں سے مکمل دور رہیں
✿ کسی کی جان، مال اور عزت کو نقصان نہ پہنچائیں
✿ سود جیسے گھناؤنے نظام کا حصہ نہ بنیں
✿ یتیموں کا خیال رکھیں اور ان کے مال کی حفاظت کریں
✿ دین کی سربلندی کے لیے ثابت قدم رہیں
✿ اپنی زبان کو ہر طرح کی تہمت، جھوٹ اور بہتان سے بچائیں
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان مہلک گناہوں سے محفوظ رکھے، ہم سے جو لغزشیں ہوئیں انہیں معاف فرمائے، اور ہمیں سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین