سابقہ امتوں میں عقیدۂ توحید: فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی عورت کا ایمان

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب اللہ کہاں ہے؟ سے ماخوذ ہے۔

سابقہ امتوں کے موحدین کا نظریہ

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مررت ليلة أسري بي برائحة طيبة، فقلت: ما هذه الرائحة يا جبريل؟ قال: هذه ماشطة بنت فرعون كانت تمشطها، فوقع المشط من يدها، فقالت: بسم الله، قالت ابنة فرعون: أبي؟ قالت: ربي ورب أبيك، قالت: أقول له إذا، قالت: قولي له، قال لها: أولك رب غيري؟ قالت: ربي وربك الذي في السماء.

’’جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں ایک پاکیزہ خوشبو کے پاس سے گزرا۔ میں نے کہا: جبریل! یہ خوشبو کیسی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرنے والی عورت (اور اس کے بیٹے) کی خوشبو ہے۔ وہ اسے کنگھی کر رہی تھی کہ اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی۔ اس نے کہا: بسم اللہ۔ فرعون کی بیٹی نے کہا: کیا اللہ سے تمہاری مراد میرے والد ہیں؟ اس نے جواب دیا: نہیں، بلکہ میرا اور تمہارے والد کا رب۔ اس نے کہا: تب تو میں اپنے والد کو بتاؤں گی۔ اس نے کہا: بتا دینا۔ فرعون کو بتایا گیا، تو اس نے کہا: کیا میرے علاوہ تمہارا کوئی رب ہے؟ اس نے جواب دیا: میرا اور تمہارا رب وہ ہے، جو آسمان میں ہے۔‘‘

(مسند الإمام أحمد: 310/1، مسند أبي يعلى الموصلي: 25/7، واللفظ له، الأحاديث المختارة للضياء المقدسي: 288، وسنده حسن)

اس حدیث کو امام ابن حبان (2904) اور امام حاکم (496/2) نے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إسناده لا بأس به.

’’اس کی سند میں کوئی خرابی نہیں ہے۔‘‘

(تفسير ابن كثير: 29/5)