زکٰوۃ کے مکمل احکام و مسائل قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ابو مُحمد خُرم شہزاد کی کتاب زکوٰۃ کے صحیح احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

زکوۃ کے صحیح احکام و مسائل

◈ زکوۃ کی لغوی وضاحت:

لغت میں لفظ زکوۃ «بڑھنا، نشونما پانا اور پاکیزہ ہونا» کے معانی میں استعمال ہوا ہے۔(المنجد، ص: 339) زکوۃ کو زکوۃ اس لیے کہتے ہیں کہ اس سے زکوۃ دینے والے کا مال مزید بڑھ جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اللہ صدقات (زکوۃ) کو بڑھاتا ہے۔“ (سورة البقره : 276)

◈ زکوۃ کی فرضیت اور فضیلت و اہمیت:

جو شخص بھی صاحب استطاعت ہو، اس پر زکوۃ ادا کرنا فرض ہے، اس سے اس شخص کا مال پاکیزہ و بابرکت ہو جاتا ہے اور فقراء و مساکین کی مدد ہو جاتی ہے۔ زکوۃ کے بارے میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾
”اور زکوۃ دو۔“
(2-البقرة:43)
دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا﴾
”(اے نبی ﷺ) تم ان کے مالوں سے صدقہ (زکوۃ) لے کر انہیں گناہوں سے پاک اور صاف کرو۔“
(9-التوبة:103)
اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کے متعلق فرمایا:
﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ۖ وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾
”اور اس کے کٹائی کے دن اس کا حق (زکوۃ) ادا کرو (یعنی فصلوں کی کٹائی کے وقت اور پھل وغیرہ اتارنے کے وقت) اور حد سے نہ گزرو، یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔“
(6-الأنعام:141)
﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾
”بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور نماز قائم کی اور زکوۃ دی ان کے لیے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“
(2-البقرة:277)
﴿الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ. أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَّهُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ.﴾
وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں اور ان میں سے جو (مال) ہم نے انہیں دیا ہے اس سے (اللہ کی راہ میں) خرچ (یعنی زکوۃ ادا) کرتے ہیں، یہی لوگ سچے مومن ہیں، انہی کے لیے ان کے رب کے پاس بہت سے درجے اور بڑی بخشش اور باعزت رزق ہے۔
(8-الأنفال:3،4)
﴿وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ﴾
اور جو زکوۃ تم لوگ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتے ہو، اس سے دراصل دینے والے (لوگ) اپنے مال میں اضافہ کرتے ہیں۔
(30-الروم:39)
عن ابن عباس أن النبى صلى الله عليه وسلم بعث معاذا رضي الله عنه إلى اليمن فقال ادعهم إلى شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله قد افترض عليهم خمس صلوات فى كل يوم وليلة فإن هم أطاعوا لذلك فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة فى أموالهم تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن (کا حاکم بنا کر) بھیجا تو فرمایا: تم انہیں اس بات کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ نے ان کے مالوں پر زکوۃ کو فرض کیا ہے جو ان کے مال دار لوگوں سے لے کر ان کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا۔
(صحیح بخاری : 1395 ، 1458 ـ صحیح مسلم : 121 )
عن ابن عمر رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة والحج وصوم رمضان.
”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے، گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
(صحیح بخاری : 8)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
عن أنس أن أبا بكر رضى الله عنه كتب له هذا الكتاب لما وجهه إلى البحرين بسم الله الرحمن الرحيم هذه فريضة الصدقة التى فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم على المسلمين والتي أمر الله بها رسوله.
” سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر لکھ دی کہ یہ فرض صدقہ (یعنی زکوۃ) کی تفصیل ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے جس کا اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے۔“
(صحیح بخاری : 1454 )
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب ولا يقبل الله إلا الطيب وإن الله يتقبلها بيمينه ثم يربيها لصاحبه كما يربي أحدكم فلوه حتى تكون مثل الجبل.
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حلال کمائی سے کھجور کے برابر صدقہ کرتا ہے، جبکہ اللہ صرف حلال مال ہی قبول کرتا ہے، تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں قبول فرماتا ہے، پھر اسے اس کے مالک کے لیے اس طرح بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتا ہے، حتی کہ وہ پہاڑ کی مانند ہو جاتی ہے۔“
(صحيح البخاري : 1410 – صحیح مسلم : 2390 )
عن أبى هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما نقصت صدقة من مال وما زاد الله عبدا بعفو إلا عزا وما تواضع أحد لله إلا رفعه الله.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا، درگزر کرنے اور معاف کر دینے سے اللہ بندے کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو کوئی اللہ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کو رفعت عطا فرماتا ہے۔
(صحیح مسلم : 6757)

زکوۃ ادا نہ کرنے پر آگ کے عذاب کی وعید

➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُم ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾
”جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں کنجوسی کو اپنے لیے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وہ ان کے لیے نہایت بدتر ہے، عنقریب قیامت والے دن یہ بخیلی ان کے گلے کا طوق ہونے والی ہے۔“
(3-آل عمران:180)
پانچ ایسی آزمائشیں جن میں سے ایک زکوۃ ادا نہ کرنا ہے:
عن عطاء بن أبى رباح قال: كنت عند عبد الله بن عمر، فقال: كنت عاشر عشرة فى مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم : أبو بكر، وعمر، وعثمان، وعلي، وابن مسعود، وابن جبل، وحذيفة، وابن عوف، وأبو سعيد الخدري، وأنا، فجاء فتى من الأنصار، فسلم، ثم جلس، فقال: يا رسول الله، أى المؤمنين أفضل؟ فقال: أحسنهم خلقا. قال: ف أى المؤمنين أكيس؟ قال: أكثرهم للموت ذكرا، وأحسنهم استعدادا قبل أن ينزل به، أولٰئك هم الأكياس. ثم سكت الفتى، فأقبل علينا النبى صلى الله عليه وسلم فقال: يا معشر المهاجرين، خصال خمس إن ابتليتم بهن ونزلن بكم، وأعوذ بالله أن تدركوهن: لم تظهر الفاحشة فى قوم قط حتى يعلنوا بها إلا ظهر فيهم الطاعون والأوجاع التى لم تكن مضت فى أسلافهم الذين مضوا، ولن ينقصوا المكيال والميزان إلا أخذوا بالسنين وشدة المؤنة وجور السلطان عليهم، ولم يمنعوا زكاة أموالهم إلا منعوا القطر من السماء، ولولا البهائم لم يمطروا، ولن ينقضوا عهد الله ورسوله إلا سلط الله عليهم عدوا من غيرهم فأخذوا بعض ما فى أيديهم، وما لم يحكموا بكتاب الله إلا جعل الله بأسهم بينهم.
ثقہ تابعی عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ان دس افراد میں موجود تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں تھے، سیدنا ابو بکر صدیق، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا حذیفہ، سیدنا عبد الرحمن بن عوف، سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہم اور میں، انصار سے ایک نوجوان آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا پھر بیٹھ گیا، اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مسلمانوں میں سے افضل کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا اخلاق زیادہ اچھا ہو۔ اس نے عرض کی: مسلمانوں میں سے عقل مند کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کثرت سے موت کو یاد کرنے والا ہو، اور موت کی زیادہ تیاری کرنے والا ہو، ایسے لوگ ہی عقل مند ہیں۔ پھر وہ نوجوان خاموش ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے مہاجرین کے گروہ! پانچ آزمائشیں ایسی ہیں جن میں تم مبتلا ہو گے اور میں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم ان کو پاؤ۔ (1) جب کسی قوم میں بدکاری عام ہو جاتی ہے اور وہ اعلانیہ اس کا ارتکاب کرتے ہیں تو ان میں طاعون اور مختلف بیماریاں، جو ان کے اسلاف (پہلے گزرے ہوئے لوگوں) میں نہیں تھیں، پھیل جاتی ہیں۔ (2) جب لوگ ماپ تول میں کمی کرتے ہیں تو انھیں قحط سالیاں، سخت تکلیفیں اور بادشاہوں کے ظلم دبوچ لیتے ہیں۔ (3) جب لوگ زکوۃ ادا نہیں کرتے تو آسمان سے بارش کا نزول بند ہو جاتا ہے اور اگر مویشی نہ ہوتے تو ان پر بارش نازل نہ ہوتی۔ (4) جب لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد و پیمان توڑتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ان کے دشمنوں، جن کا تعلق ان کے غیروں سے ہوتا ہے، کو مسلط کر دیتا ہے، جو ان سے ان کے بعض اموال چھین لیتے ہیں۔ (5) جب مسلمانوں کے حکمران اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے اور اس کے نازل کردہ قوانین کو ترجیح نہیں دیتے تو اللہ تعالیٰ ان کو آپس میں لڑا دیتا ہے۔
(المعجم الاوسط للطبراني : 4671 ، اسناده حسن)
➋ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ . يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ.﴾
”جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے کہ جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں، اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی۔ (اور ان سے کہا جائے گا کہ) یہ ہے جسے تم نے اپنے لیے خزانہ بنا کر رکھا تھا پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو۔“
(9-التوبة:34،35)
سونے اور چاندی کی زکوۃ ادا نہ کی جائے تو قیامت کے دن سونے اور چاندی کی تختیاں بنا کر آگ میں گرم کر کے اس کے مالک کی پیشانی، پیٹھ اور پہلو داغے جائیں گے اور جانوروں کی زکوۃ ادا نہ کی جائے تو قیامت کے دن وہ جانور اپنے مالک کو پچاس ہزار سال تک اپنے پاؤں تلے روندتے رہیں گے:
عن أبى هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما من صاحب ذهب ولا فضة لا يؤدي منها حقها إلا إذا كان يوم القيامة صفحت له صفائح من نار فأحمي عليها فى نار جهنم فيكوىٰ بها جنبه وجبينه وظهره كلما بردت أعيدت له فى يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضىٰ بين العباد فيرىٰ سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار قيل يا رسول الله فالإبل قال ولا صاحب إبل لا يؤدي منها حقها ومن حقها حلبها يوم وردها إلا إذا كان يوم القيامة سطح لها بقاع قرقر أوفر ما كانت لا يفقد منها فصيلا واحدا تطؤه بأخفافها وتعضه بأفواهها كلما مرت عليه أولاها ردت عليه أخراها فى يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضىٰ بين العباد فيرىٰ سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار قيل يا رسول الله فالبقر والغنم قال ولا صاحب بقر ولا غنم لا يؤدي منها حقها إلا إذا كان يوم القيامة سطح لها بقاع قرقر لا يفقد منها شيئا ليس فيها عقصاء ولا جلحاء ولا عصباء تنطحه بقرونها وتطأه بأظلافها كلما مرت عليه أولاها ردت عليه أخراها فى يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضىٰ بين العباد فيرىٰ سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سونے اور چاندی کا مالک ہو لیکن اس کا حق (یعنی زکوۃ) ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس (سونے اور چاندی) کی تختیاں بنائی جائیں گی۔ پھر ان کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا۔ پھر ان سے اس (منکر زکوۃ) کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ پر داغ لگائے جائیں گے۔ جب کبھی (یہ تختیاں گرم کرنے کے لیے) آگ میں واپس لے جائی جائیں گی تو دوبارہ (عذاب دینے کے لیے) لوٹائی جائیں گی (اس سے یہ سلوک) سارا دن ہوتا رہے گا جس کا عرصہ پچاس ہزار سال (کے برابر) ہے۔ یہاں تک کہ انسانوں کے فیصلے ہو جائیں۔ پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف دیکھے گا یا دوزخ کی طرف۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر اونٹوں کا کیا معاملہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اونٹوں کا مالک ہو اور وہ ان کا حق (زکوۃ) ادا نہ کرے اور اس کے حق سے یہ بھی ہے کہ پانی پلانے کے دن کا دودھ دوھے (اور عرب کے رواج کے مطابق یہ دودھ مساکین کو پلا دے) وہ قیامت کے دن ایک ہموار میدان میں اوندھے منہ لٹایا جائے گا اور وہ اونٹ بہت فربہ اور موٹے ہو کر آئیں گے ان میں سے ایک بچہ بھی کم نہ ہوگا۔ (یعنی سب کے سب) اس (منکر زکوۃ) کو اپنے کھروں (پاؤں) سے روندیں گے اور اپنے منہ سے کاٹیں گے۔ جب پہلا اونٹ (یہ سلوک کر کے) جائے گا تو دوسرا آجائے گا (اس سے یہ سلوک) سارا دن ہوتا رہے گا جس کا عرصہ پچاس ہزار سال ( کے برابر) ہے۔ حتی کہ لوگوں کا فیصلہ ہو جائے گا پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف دیکھے گا یا جہنم کی طرف۔ عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! گائے اور بکری کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ فرمایا: کوئی گائے اور بکری والا ایسا نہیں جو ان کا حق (زکوۃ) ادا نہ کرے مگر جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ اوندھا لٹایا جائے گا ایک ہموار زمین پر اور ان گائے اور بکریوں میں سے کوئی کم نہ ہوگی۔ (سب کی سب آئیں گی) اور ان میں سے کوئی سینگ مڑی ہوئی نہ ہوگی نہ بغیر سینگوں کے اور نہ ٹوٹے ہوئے سینگوں والی۔ وہ اس کو اپنے سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے روندیں گی۔ جب پہلی گزر جائے گی تو پچھلی آجائے گی۔ (یعنی لگاتار آتی رہیں گی) دن بھر ایسا ہوتا رہے گا جس کی مدت پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔ یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا۔ پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف دیکھے گا یا دوزخ کی طرف۔
(صحیح بخاری : 1460 – صحیح مسلم : 2337 )

◈زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کا مال قیامت کے دن گنجا سانپ بن کر ان کے گلے کا طوق بنے گا

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من آتاه الله مالا فلم يؤد زكاته مثل له ماله يوم القيامة شجاعا أقرع له زبيبتان يطوقه يوم القيامة ثم يأخذ بلهز متيه يعني بشدقيه ثم يقول أنا مالك أنا كنزك ثم تلا ﴿لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ﴾ الآية.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوۃ ادا نہ کی، تو قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل بن کر، جس کی آنکھوں پر دو نقطے (داغ) ہوں گے اس کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ پھر اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (ترجمہ) جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مال دیا ہے اور وہ بخیلی کرتے ہیں تو اپنے لیے یہ بخل بہتر نہ سمجھیں بلکہ ان کے حق میں برا ہے عنقریب قیامت کے دن یہ بخیلی ان کے گلے کا طوق ہونے والی ہے۔
(صحیح بخاری : 1403)

سونے اور چاندی پر زکوۃ

◈سونے اور چاندی کے زیورات پر زکوۃ نہ دینے پر آگ کی وعید

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن امرأة أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعها ابنة لها وفي يد ابنتها مسكتان غليظتان من ذهب فقال لها أتعطين زكاة هٰذا؟ قالت لا. قال أيسرك أن يسورك الله بهما يوم القيامة سوارين من نار؟ قال فخلعتهما فألقتهما إلى النبى صلى الله عليه وسلم وقالت هما لله عز وجل ولرسوله.
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئی۔ اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم اس کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے یہ پسند ہے کہ اللہ تجھے ان کے بدلہ میں قیامت کے دن دو کنگن آگ سے پہنائے؟“ اس نے (یہ سن کر) دونوں کنگن اتار کر آپ صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں پیش کر دیئے اور کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے لیے ہیں۔
(سنن ابی داؤد : 1563 ، اسناده حسن )
عن أم سلمة قالت كنت ألبس أوضاحا من ذهب فقلت يا رسول الله أكنز هو؟ فقال: ما بلغ أن تؤدىٰ زكاته فزكي فليس بكنز.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ سونے کا زیور پہنا کرتی تھیں، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ کنز (خزانہ) ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”جب تم اس کی زکوۃ ادا کر دو تو پھر یہ کنز نہیں۔“
(سنن ابی داؤد : 1564 ، اسناده حسن)
عن عبد الله بن شداد بن الهاد أنه قال دخلنا علىٰ عائشة زوج النبى صلى الله عليه وسلم فقالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فرأىٰ فى يدي فتخات من ورق فقال ما هٰذا يا عائشة؟ فقلت صنعتهن أتزين لك يا رسول الله. قال أتؤدين زكاتهن؟ قلت لا أو ما شاء الله. قال هو حسبك من النار.
ثقہ تابعی عبد اللہ بن شداد بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں: میرے پاس نبی کریم صلى الله عليه وسلم تشریف لائے، آپ صلى الله عليه وسلم نے میرے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں اور فرمایا: عائشہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں اس لیے بنوایا ہے کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ کے لیے سنگھار کروں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا: کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟ میں نے کہا: نہیں یا جو کچھ اللہ کو منظور تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہیں۔
(سنن ابی داؤد: 1565، اسناده حسن)
وضاحت: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سونے اور چاندی دونوں کے زیورات وغیرہ میں زکوۃ فرض ہے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا والی حدیث میں جو لفظ ”کنز“ ہے اس کا معنی خزانہ ہے۔ قرآن کریم میں چونکہ سونا چاندی کو خزانہ بنانے والوں کے متعلق سخت وعید آئی ہے (یعنی جو ان کی زکوۃ ادا نہیں کرتے) اس لیے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے دریافت فرمایا۔

سونے اور چاندی میں زکوۃ کا نصاب

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
وفي الرقة ربع العشر فإن لم تكن إلا تسعين ومائة فليس فيها شيء إلا أن يشاء ربها.
اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکوۃ (فرض) ہے، اگر کسی شخص کے پاس (200 درہم) نہ ہوں مگر ایک سو نوے درہم (190 درہم) ہوں تو پھر کوئی زکوۃ نہیں ہے مگر مالک اپنی مرضی سے دینا چاہے تو (زکوۃ) دے سکتا ہے (یعنی دوسو (200) درہم پر زکوۃ دینا فرض ہے)۔
(صحیح بخاری : 1454)
تنبیہ: رقه سے مراد چاندی ہے بعضوں نے رقه کا لفظ سونے اور چاندی دونوں پر بولا ہے (اور یہی بات درست ہے) سونے کی زکوۃ دینا صحیح احادیث سے ثابت ہے لیکن سونے کے نصاب کی جتنی احادیث ہیں وہ سب ضعیف ہیں جب کہ چاندی کے نصاب والی احادیث صحیح ہیں لہذا دینار کو درہم کے تابع رکھ کر چاندی کا نصاب زکوۃ دونوں کے لیے معیار زکوۃ ہوگا یعنی سونے کی قیمت جب دوسو درہم کے برابر ہو جائے تو سونے پر زکوۃ فرض ہوگی۔ (والله اعلم بالصواب)
چونکہ چاندی کا نصاب پانچ اوقیہ یعنی دوسو (200) درہم ہے اور موجودہ دور کے حساب سے پانچ اوقیہ چاندی کا وزن ساڑھے باون تولے بنتا ہے اور اس وقت ایک تولہ چاندی کی قیمت ”1416“ روپے ہے اگر ایک تولہ چاندی 1416 روپے کو ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت سے ضرب دی جائے تو ساڑھے باون تولے چاندی کی موجودہ قیمت 74340 روپے بنتی ہے۔ لہذا جس شخص کے پاس 74340 روپے رقم موجود ہو اس پر ایک سال پورا ہونے پر اڑھائی فیصد زکوۃ ادا کرنا فرض ہے۔ اسی طرح جس شخص کے پاس 74340 روپے رقم کا سونا یا چاندی ہو اس پر بھی زکوۃ ادا کرنا فرض ہے۔ نیز اس وقت ایک تولہ سونے (22 کیرٹ) کی قیمت 95500 روپے ہے اور خالص ایک تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ چھ ہزار پانچ سو (106500 روپے) ہے۔ اب ہر شخص خود ہی حساب لگا لے کہ اس کے پاس رقم یعنی مال (روپے پیسے)، یا سونا، یا چاندی جس کی قیمت 74340 روپے ہو تو اس پر زکوۃ ادا کرنا فرض ہے اور اس وقت پونے تولہ سونے پر زکوۃ ادا کرنا فرض ہے کیونکہ پونے تولہ سونے کی قیمت 79875 روپے بنتی ہے۔ الغرض ساڑھے باون تولے چاندی (200 درہم) یا اتنی قیمت کی رقم (روپے پیسے) یا اتنی رقم کے سونے پر زکوۃ دینا فرض ہے کیونکہ ساڑھے سات تولے سونے کے نصاب پر زکوۃ ادا کرنے والی تمام حدیثیں ضعیف ہیں جس کی وضاحت ان شاء اللہ آگے ”زکوۃ کے ضعیف احکام و مسائل“ میں آ رہی ہے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
ليس فيما دون خمس أواق من الورق صدقة.
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کہ چاندی پانچ اوقیہ (یعنی دوسو درہم) سے کم ہو تو اس میں زکوۃ نہیں۔
(صحیح مسلم: 2271۔ صحیح بخاری: 1447)
نوٹ: چاندی اور سونے کا نصاب پانچ اوقیہ ہے، ایک اوقیہ چالیس (40) درہم کا ہوتا ہے اس طرح پانچ اوقیوں کا وزن دوسو (200) درہم ہوا اور موجودہ دور کے حساب سے پانچ اوقیہ چاندی کا وزن ساڑھے باون تولے بنتا ہے۔
تنبیہ: ساڑھے سات تولے سونے کے نصاب والی تمام حدیثیں ضعیف ہیں جس کی وضاحت ان شاء اللہ آگے زکوۃ کے ضعیف احکام و مسائل میں آ رہی ہے۔

تجارتی مال پر زکوۃ

تجارتی اموال میں زکوۃ فرض ہے اور اس کی زکوۃ ایک سال گزر جانے پر ادا کی جائے گی، اس کی تفصیل پیش خدمت ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ﴾
”اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو۔“
(2-البقرة:267)
امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے کہ
”صدقة الكسب والتجارة“ لقوله تعالى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ۔۔۔ إلى قوله أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ
محنت اور تجارت کے مال میں سے زکوۃ ادا کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی سے خرچ کرو۔۔۔
(صحیح بخاری، قبل الحديث : 1445)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
ليس فى العروض زكاة إلا عروض تجارة فإن فيها زكاة.
(استعمال میں آنے والے) سامان میں زکوۃ نہیں ہے مگر وہ سامان جو تجارت کے لیے ہو تو اس میں زکوۃ ہے۔
(مصنف ابن أبي شيبه : 3/ 183 ، ح: 10560 ، اسناده صحيح )
تنبیہ: یہ روایت موقوف ہے لیکن حکماً مرفوع ہے۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تجارتی مال کی زکوۃ وصول کرنے والے اپنے عاملین کو خط لکھا کہ:
يؤخذ من المسلمين من كل أربعين درهما درهم…
مسلمانوں کے (تجارتی مال) سے وصول کیا جائے، ہر چالیس درہم سے ایک درہم برائے زکوۃ۔
(کتاب الاموال للقاسم بن سلام: 1135، اسناده صحیح)
تنبیہ: یہ روایت موقوف ہے لیکن حکماً مرفوع ہے نیز اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ دوسو (200) درہم پر پانچ (5) درہم زکوۃ ادا کرنا فرض ہے (یعنی اڑھائی فیصد زکوۃ) لہذا جس شخص کے پاس دوسو (200) درہم جتنی رقم یعنی مال یا سونا یا چاندی ہے اس پر زکوۃ کی ادائیگی فرض ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)

ایک سال پورا ہونے پر زکوۃ ادا کرنا فرض ہے

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
لا تجب فى مال زكاة حتىٰ يحول عليه الحول
کسی مال میں اس وقت تک زکوۃ واجب نہیں ہے جب تک کہ اس پر ایک سال نہ گزر جائے۔
(موطا امام مالك: 660، اسناده صحیح)
تنبيہ: یہ روایت موقوف ہے لیکن حکما مرفوع ہے۔

جانوروں پر زکوۃ

◈اونٹوں اور بھیڑ، بکریوں پر زکوۃ

عن أنس رضي الله عنه أن أبا بكر الصديق رضى الله عنه كتب له: هٰذه فريضة الصدقة التى فرضها رسول الله صلى الله عليه وسلم على المسلمين والتي أمر الله بها رسوله: فى كل أربع وعشرين من الإبل فما دونها الغنم فى كل خمس شاة فإذا بلغت خمسا وعشرين إلىٰ خمس وثلاثين ففيها بنت مخاض أنثىٰ فإن لم تكن فابن لبون ذكر فإذا بلغت ستا وثلاثين إلىٰ خمس وأربعين ففيها بنت لبون أنثىٰ فإذا بلغت ستا وأربعين إلىٰ ستين ففيها حقة طروقة الجمل فإذا بلغت واحدة وستين إلىٰ خمس وسبعين ففيها جذعة فإذا بلغت ستا وسبعين إلىٰ تسعين ففيها بنتا لبون فإذا بلغت إحدىٰ وتسعين إلىٰ عشرين ومائة ففيها حقتان طروقتا الجمل فإذا زادت علىٰ عشرين ومائة ففي كل أربعين بنت لبون وفي كل خمسين حقة ومن لم يكن معه إلا أربع من الإبل فليس فيها صدقة إلا أن يشاء ربها وفي صدقة الغنم فى سائمتها إذا كانت أربعين إلىٰ عشرين ومائة شاة شاة فإذا زادت علىٰ عشرين ومائة إلىٰ مائتين ففيها شاتان فإذا زادت علىٰ مائتين إلىٰ ثلاث مائة ففيها ثلاث شياه فإذا زادت علىٰ ثلاث مائة ففي كل مائة شاة فإذا كانت سائمة الرجل ناقصة من أربعين شاة شاة واحدة فليس فيها صدقة إلا أن يشاء ربها ولا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة وما كان من خليطين فإنهما يتراجعان بينهما بالسوية ولا يخرج فى الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس إلا أن يشاء المصدق وفي الرقة ربع العشر فإن لم تكن إلا تسعين ومائة فليس فيها صدقة إلا أن يشاء ربها ومن بلغت عنده من الإبل صدقة الجذعة وليست عنده جذعة وعنده حقة فإنها تقبل منه الحقة ويجعل معها شاتان إن استيسرتا له أو عشرون درهما ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده الحقة وعنده الجذعة فإنها تقبل منه الجذعة ويعطيه المصدق عشرين درهما أو شاتين.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ تحریر لکھ دی کہ یہ فرض زکوۃ کی تفصیل ہے جسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا جس کا اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ چوبیس یا ان سے کم اونٹوں کی زکوۃ بکریوں میں ہوگی۔ ہر پانچ اونٹوں کی زکوۃ ایک بکری ہے۔ پھر جب اونٹوں کی تعداد پچیس سے لے کر پینتیس تک پہنچ جائے تو ان میں زکوۃ بنت مخاض (ایک سالہ اونٹنی) ہے اور اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون (دو سالہ نر اونٹ) ہوگا اور جب تعداد 36 سے 45 تک ہو تو ان کی زکوۃ بنت لبون (دو سالہ اونٹنی) ہے اور جب یہ تعداد 46 سے 60 تک ہو تو اس میں زکوۃ ایک حقہ (تین سالہ جوان اونٹنی) ہے جو اونٹ کی جفتی کے قابل ہو پھر یہ تعداد 61 سے 75 تک پہنچ جائے تو اس میں زکوۃ ایک جذعہ (چار سالہ اونٹ یا اونٹنی) ہے اور جب 76 سے 90 تک ہو تو اس میں دو بنت لبون (دو سال کی دو اونٹنیاں) زکوۃ ہے اور جب یہ تعداد 91 سے ایک سو بیس تک پہنچ جائے تو اس کی زکوۃ دو حقہ (تین سال کی دو جوان اونٹنیاں) ہیں جو نر سے جفتی کے قابل ہوں پھر اگر 120 سے زیادہ ہوں تو ہر چالیس اونٹوں میں ایک بنت لبون (دو سالہ اونٹنی) اور ہر پچاس میں ایک حقہ (تین سال کی ایک اونٹنی) زکوۃ ہے اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں اس پر کوئی زکوۃ نہیں مگر یہ کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دے دے اور چرنے والی بکریوں میں زکوۃ اس طرح ہے کہ جب چالیس سے لے کر ایک سو بیس تک بکریاں ہوں تو ان میں ایک بکری زکوۃ ہے اور جب 120 سے زیادہ 200 تک پہنچ جائیں تو ان میں دو بکریاں ہیں اور جب 200 سے بڑھ کر 300 تک پہنچ جائیں تو ان میں تین بکریاں زکوۃ ہوگی اور جب تین سو سے بڑھ جائیں تو ہر سو میں ایک بکری زکوۃ ہے۔ پھر اگر کسی شخص کے پاس چرنے والی بکریوں میں چالیس سے ایک بھی کم بکری ہو تو اس پر کوئی زکوۃ نہیں مگر یہ کہ اس کا مالک اپنی مرضی سے دینا چاہے۔
اور زکوۃ ادا کرنے کے خوف سے نہ تو متفرق بکریوں کا اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھے ریوڑ کو جدا کیا جائے اور جو ریوڑ دو شریکوں کا ہو وہ زکوۃ میں برابر کے حصہ دار ہوں گے اور زکوۃ میں کوئی بوڑھی یا کانی بکری قبول نہیں کی جائے گی اور نہ سانڈ بکرا لیا جائے مگر یہ کہ زکوۃ لینے والا اس کی ضرورت محسوس کرے اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکوۃ (فرض) ہے اور اگر ایک سو نوے درہم (190 درہم) ہوں تو ان میں زکوۃ نہیں مگر یہ کہ ان کا مالک اپنی مرضی سے دینا چاہے اور کسی کے اونٹوں کی زکوۃ ایک جذعہ (چار سالہ اونٹ) بنتی ہو اور اس کے پاس جذعہ نہ ہو بلکہ حقہ (تین سالہ ایک اونٹنی) ہو تو اس سے ایک حقہ (تین سالہ ایک اونٹنی) اور دو بکریاں اگر اسے میسر آئیں لی جائیں گی ورنہ حقہ (تین سالہ ایک اونٹنی) اور بیس درہم لیے جائیں گے اور جس کی زکوۃ حقہ (تین سالہ ایک اونٹنی) ہو اور اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ جذعہ (چار سالہ اونٹ) ہو تو وہ اس سے قبول کیا جائے گا اور زکوۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے دے گا۔
(صحیح بخاری: 1450، 1451، 1453، 1454، 1455)

◈اونٹوں اور بکریوں کی زکوۃ کا مختصر خلاصہ

⟐ 4 اونٹوں پر کوئی زکوۃ نہیں۔
⟐ 5 سے لے کر 24 اونٹوں تک ہر پانچ اونٹ کے بعد ایک بکری زکوۃ ہے۔
⟐ 25 سے لے کر 35 اونٹوں تک ایک سال کی اونٹنی۔
⟐ 36 سے لے کر 45 اونٹوں تک دو سال کی اونٹنی۔
⟐ 46 سے لے کر 60 اونٹوں تک تین سال کی اونٹنی۔
⟐ 61 سے لے کر 75 اونٹوں تک چار سال کی اونٹنی۔
⟐ 76 سے لے کر 90 اونٹوں تک دو سال کی دو اونٹنیاں۔
⟐ 91 سے لے کر 120 اونٹوں تک تین سال کی دو اونٹنیاں۔
⟐ 120 سے زائد تعداد ہو تو ہر چالیس اونٹوں پر دو سال کی اونٹنی اور پچاس (50) اونٹوں پر تین سال کی ایک اونٹنی۔
⟐ نصاب سے کم مال ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص زکوۃ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
⟐ 40 سے کم بکریوں پر زکوۃ نہیں۔
⟐ 40 سے لے کر 120 بکریوں تک ایک بکری۔
⟐ 121 سے لے کر 200 بکریوں تک دو بکریاں۔
⟐ 201 سے لے کر 300 بکریوں تک تین بکریاں۔
⟐ 300 سے زیادہ بکریاں ہوں تو ہر سو (100) بکری پر ایک بکری۔
⟐ نصاب سے کم مال ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص زکوۃ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔

✔ضروری اصطلاحات

⟐ بنت مخاض: ایک سالہ اونٹنی۔
⟐ ابن لبون: دو سالہ نر اونٹ۔
⟐ بنت لبون: دو سالہ اونٹنی۔
⟐ حقہ: تین سالہ اونٹنی۔
⟐ جذعہ: چار سالہ اونٹ یا اونٹنی۔

گائے اور بھینس کی زکوۃ

ثقہ تابعی عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
استعملت علىٰ صدقات عك فلقيت أشياخا ممن صدق علىٰ عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فى البقر وسألتهم واختلفوا على فمنهم من قال اجعلها مثل صدقة الإبل ومنهم من قال فى ثلاثين تبيع ومنهم من قال فى أربعين بقرة بقرة مسنة والجواميس تعد فى الصدقة كالا باقير.
مجھے عک قبیلے کی زکوۃ کی وصولیوں پر مقرر کیا گیا میری ملاقات ایسے اشیاخ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) سے ہوئی جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے دور میں گائے کی زکوۃ دیا کرتے تھے تو میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے جواب مختلف دیئے ان میں سے بعضوں نے کہا: گائیوں کی زکوۃ کو اونٹوں کی زکوۃ کے مثل کر دو اور ان میں سے بعضوں نے کہا: تیس گائیوں پر ایک تبيع (گائے کا ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی) بطور زکوۃ ہے اور ان میں سے بعضوں نے کہا: چالیس گائیوں کی تعداد پر ایک مسنہ گائے بطور زکوۃ ہے اور بھینسوں کو گائیوں کی زکوۃ کی طرح شمار کیا گیا۔
(مصنف ابن ابی شیبه: 10748، اسناده صحیح)
نوٹ:
● 30 سے کم گائیوں اور بھینسوں پر کوئی زکوۃ نہیں۔
● 30 گائیوں اور بھینسوں پر ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی زکوۃ ہے۔
● 40 گائیوں اور بھینسوں پر دو سال کا بچھڑا یا بچھڑی زکوۃ ہے۔

زرعی پیداوار پر زکوۃ

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ﴾
”اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو، ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا جسے تم خود لینے والے نہیں ہو۔“
(2-البقرة:267)
ایک اور جگہ پر رب العالمین نے فرمایا:
﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ۖ وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾
”اور اس کے کٹائی کے دن اس کا حق (زکوۃ) ادا کرو (یعنی فصلوں کی کٹائی کے وقت اور پھل وغیرہ اتارنے کے وقت) اور حد سے نہ گزرو، یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔“
(6-الأنعام:141)

◈قدرتی ذرائع سے سیراب ہونے والی زمین کی شرح زکوۃ دسواں حصہ اور مصنوعی ذرائع (ٹیوب ویل، نہر وغیرہ) سے سیراب ہونے والی زمین کی شرح زکوۃ بیسواں حصہ ہے

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: فيما سقت السماء والعيون أو كان عثريا العشر وما سقي بالنضح نصف العشر.
”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جس زمین کو بارش یا چشمے پانی پلائیں یا زمین تر و تازہ ہو اس کی پیداوار سے دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جس زمین کو کنوؤں کے ذریعے پانی دیا جائے اس میں نصف عشر (یعنی بیسواں حصہ) زکوۃ ہے۔“
(صحیح بخاری: 1483)
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فيما سقت الأنهار والغيم العشور وفيما سقي بالسانية نصف العشر.
”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: وہ زمین جسے آسمان یا چشمہ سیراب کرتا ہو یا وہ خود بخود نمی کی وجہ سے سیراب ہو جاتی ہو تو اس کی پیداوار میں دسواں حصہ زکوۃ ہے اور جسے کنویں سے پانی کھینچ کر سیراب کیا جاتا ہے اس کی پیداوار میں بیسواں حصہ زکوۃ ہے۔“
(صحیح مسلم: 981)

پانچ وسق سے کم غلے پر زکوۃ نہیں

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس فيما دون خمسة أوسق صدقة.
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: پانچ وسق (بیس من) سے کم (غلے) پر زکوۃ نہیں۔
(صحیح بخاری : 1447 – صحیح مسلم : 979 )
دوسری حدیث میں فرمان نبوی ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس فيما دون خمسة أوسق من تمر ولا حب صدقة.
”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم کھجور اور غلے میں زکوۃ نہیں۔“
(صحیح مسلم : 979 – مسند احمد : 97/3)
تنبیہ: ایک وسق ساٹھ (60) صاع (ٹو پہ) کا ہوتا ہے، ایک صاع میں چار مد ہوتے ہیں، ایک مد ایک رطل اور تہائی رطل کے برابر ہوتا ہے، جدید پیمانے کے مطابق ایک صاع تقریباً اڑھائی کلوگرام اور ایک وسق چار (4) من کا ہوتا ہے اور اس طرح پانچ وسق ہیں (20) من وزن ہوا۔
نوٹ: زمین سے پیدا ہونے والی ہر قسم کی زرعی پیداوار پر عشر یعنی زکوۃ فرض ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:” کھیتی کٹنے کے دن اس کا حق (زکوۃ) ادا کر دو۔“ (الأنعام: 141) نیز فرمایا: ”اس چیز میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی۔“ (البقرة: 267) نیز بعض احادیث بھی اس عموم پر دلالت کرتی ہیں لہذا عمومی دلائل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہر زمینی پیداوار پر جب کہ وہ نصاب کو پہنچتی ہو زکوۃ فرض ہے اور اس میں سبزیاں بھی شامل ہیں۔ (والله اعلم بالصواب)

رکاز (دفن شدہ خزانہ) پر زکوۃ

عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فى الركاز الخمس.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: رکاز (دفن شدہ خزانہ) میں پانچواں حصہ زکوۃ ہے۔
(صحیح بخاری : 1499 – صحیح مسلم : 1710)

شہد پر زکوۃ

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن بني شبابة بطنا من فهم كانوا يؤدون إلىٰ رسول الله صلى الله عليه وسلم من نحل کان علیہم العشر من كل عشر قرب قربة وكان لهم واديان لهم ثم أدوا إلىٰ عمر بن الخطاب رضى الله عنه ما كانوا يؤدون إلىٰ رسول الله صلى الله عليه وسلم وحمىٰ لهم وادييهنم.
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: فہم کا قبیلہ بنو شبابہ شہد کا دسواں حصہ یعنی دس مشکیزوں میں سے ایک مشکیزہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو بطور زکوۃ ادا کیا کرتا تھا اور آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے لیے دو وادیاں مختص کر دی تھیں پھر یہ لوگ جو مقدار رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو دیتے تھے وہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ادا کرتے تھے اور انہوں نے بھی وہ دو وادیاں ان کے لیے مختص کیے رکھیں۔
(سنن ابی داؤد: 1600 – المنتقى لابن الجارود: 365، اسناده حسن)

ذاتی استعمال کی چیزوں پر زکوۃ نہیں

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس على المسلم فى فرسه وغلامه صدقة.
”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکوۃ نہیں ہے۔“
(صحیح بخاری : 1463 – صحیح مسلم : 982 )
نوٹ: ذاتی مکان یا مکان کی تعمیر کے لیے پلاٹ، کار، موٹر سائیکل، فرنیچر، فریج وغیرہ پر زکوۃ نہیں ہے۔

زکوۃ کے مصارف

قرآن کریم میں زکوۃ کے آٹھ مصارف ذکر ہوئے ہیں اور مزید اس کی تفصیل صحیح حدیثوں میں آئی ہے جس کی وضاحت پیش خدمت ہے:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾
” صدقے صرف فقیروں کے لیے ہیں اور مسکینوں کے لیے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لیے اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنا مقصود ہو اور گردن چھڑانے میں، قرض داروں کے لیے اور اللہ کی راہ میں اور راہرو مسافروں کے لیے فرض ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے۔“
(9-التوبة:60)

◈فقراء ومساکین کون ہیں؟

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس المسكين الذى يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان ولٰكن المسكين الذى لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن به فيتصدق عليه ولا يقوم فيسأل الناس.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں جو ایک یا دو لقموں یا ایک دو کھجوروں کی خاطر لوگوں سے سوال کرتا پھرے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جو اسے بے نیاز کر دے اور اس کے متعلق پتہ بھی نہ چلے کہ اس پر صدقہ کیا جا سکے اور وہ لوگوں سے مانگے بھی نہیں۔“
(صحیح بخاری : 1476، 1479 – صحیح مسلم : 1039)

◈تالیف قلبی کے لیے مال دینا

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني أعطي قريشا أتألفهم لأنهم حديثو عهد بجاهلية.
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: میں قریش کی تالیف قلبی کے لیے (انہیں مال) دیتا ہوں کیونکہ انہوں نے حال ہی میں زمانہ جاہلیت کو ترک کیا ہے۔
(صحیح بخاری : 3146، صحیح مسلم : 1059)

◈بیوی اپنے خاوند اور بیٹے کو زکوۃ دے سکتی ہے

عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه قال: جاءت زينب امرأة ابن مسعود يا رسول الله إنك أمرت اليوم بالصدقة وكان عندي حلي لي فأردت أن أتصدق به فزعم ابن مسعود أنه وولده أحق من تصدقت به عليهم فقال النبى صلى الله عليه وسلم: صدق ابن مسعود زوجك وولدك أحق من تصدقت به عليهم.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! آج آپ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تھا اور میرے پاس کچھ زیور ہے جسے میں صدقہ کرنا چاہتی ہوں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ وہ خود اور اس کا بیٹا اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ میں ان پر صدقہ کروں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ابن مسعود نے سچ کہا۔ تیرا خاوند اور تیرا بیٹا اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ تو ان پر صدقہ کرے۔
(صحیح بخاری : 1462)

◈پانچ قسم کے افراد زکوۃ لے سکتے ہیں

عن أبى سعيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تحل الصدقة لغني إلا لخمسة لغاز فى سبيل الله أو لعامل عليها أو لغارم أو لرجل اشتراها بماله أو لرجل كان له جار مسكين فتصدق على المسكين فأهداها المسكين للغني.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ”صدقہ غنی کے لیے پانچ صورتوں کے علاوہ جائز نہیں وہ حامل زکوۃ ہو یا جس نے اپنے مال سے خریدا ہو یا مقروض ہو یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہو یا کسی مسکین پر صدقہ کیا جائے اور وہ مسکین اس صدقہ میں سے کسی غنی کو کچھ دے۔“
(سنن ابی داؤد : 1635، 1636 ، مسند أحمد : 56/3 ، اسناده حسن)

◈بغیر مانگے صدقہ ملے تو لیا جا سکتا ہے

عن سالم أن عبد الله بن عمر قال سمعت عمر يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطيني العطاء فأقول أعطه من هو أفقر إليه مني فقال خذه إذا جاءك من هٰذا المال شيء وأنت غير مشرف ولا سائل فخذه وما لا فلا تتبعه نفسك
سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کوئی چیز عطا فرماتے تو وہ عرض کرتے یہ چیز مجھ سے زیادہ کسی محتاج کو عنایت فرما دیجئے۔ تو آپ صلى الله عليه وسلم فرماتے: ”اسے لے لو اور اسے اپنا مال بنا لو یا اسے صدقہ و خیرات کر دو جو مال تمہیں بغیر کسی حرص و لالچ اور سوال کے ملے اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو مت لگایا کرو۔“
(صحیح بخاری : 1473 – صحيح مسلم : 1045 )

جن کے لیے زکوۃ لینا حلال نہیں

◈محمد صلى الله عليه وسلم اور آل محمد صلى الله عليه وسلم کے لیے حلال نہیں

عن أنس رضي الله عنه قال مر النبى صلى الله عليه وسلم بتمرة مسقوطة فقال والله لولا أن تكون من صدقة لأكلتها
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے راستے میں پڑی ہوئی ایک کھجور دیکھی تو فرمایا: ”اگر مجھے اس کے صدقہ کے ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔“
(صحیح بخاری : 2055 – صحیح مسلم : 1071 )
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال أخذ الحسن بن على رضي الله عنهما تمرة من تمر الصدقة فجعلها فى فيه فقال النبى صلى الله عليه وسلم: كخ كخ ليطرحها ثم قال أما شعرت أنا لا نأكل الصدقة
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لی اور اسے منہ میں ڈال لیا تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ٹھہرو ٹھہرو۔ تاکہ وہ اسے پھینک دیں پھر فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔“
(صحیح بخاری : 1491 ـ صحيح مسلم : 1069)
عن عبد المطلب بن ربيعة رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن هٰذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد
”عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: یہ صدقات تو لوگوں (کے مال کا) میل کچیل ہے اور یہ محمد (صلى الله عليه وسلم) اور آل محمد کے لیے حلال نہیں۔“
(صحیح مسلم : 167 ، 168، 1072)

◈مال دار اور کمائی کی طاقت والے شخص کے لیے زکوۃ لینا حلال نہیں

عن عبيد الله بن عدي بن الخيار قال أخبرني رجلان أنهما أتيا النبى صلى الله عليه وسلم وهو فى حجة الوداع وهو يقسم الصدقة فسألاه منها فرفع فينا البصر وخفضه فرآنا جلدين فقال إن شئتما أعطيتكما ولا حظ فيها لغني ولا لقوي مكتسب
عبید اللہ بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں دو آدمیوں نے مجھے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ اس وقت صدقہ تقسیم فرمارہے تھے انہوں نے آپ سے صدقہ کی درخواست کی تو آپ نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ہمیں طاقت ور دیکھ کر فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن اس میں کسی مال دار شخص اور کمائی کی طاقت رکھنے والے شخص کے لیے کوئی حصہ نہیں۔“
(سنن ابی داؤد : 1633 ، اسناده صحيح )
عن عبد الله بن عمرو عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”زکوۃ مال دار اور تندرست آدمی کے لیے حلال نہیں ہے۔“
(سنن ابی داؤد : 1634 ، اسناده حسن)

زکوۃ کے متفرق مسائل

◈زکوۃ دینے والے کو برکت کی دعا دینا

سمعت عبد الله بن أبى أوفى رضى الله عنه يقول: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا تصدق إليه أهل بيت بصدقة صلىٰ عليهم فتصدق أبى بصدقة إليه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم صل علىٰ آل أبى أوفىٰ
”سیدنا عبد اللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: جب کسی گھر والے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو زکوۃ کی ادائیگی کرتے تو آپ صلى الله عليه وسلم ان کے لیے دعائے رحمت کرتے جب میرے ابو جان نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو زکوۃ ادا کی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابو اوفی کی آل پر رحمت نازل فرما۔“
(صحیح بخاری : 4166 – صحیح مسلم : 1078)

◈زکوۃ میں کس قسم کا مال لینا چاہیے؟

عن أنس رضي الله عنه أن أبا بكر رضي الله عنه كتب له الصدقة التى أمر الله رسوله صلى الله عليه وسلم ولا يخرج فى الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس إلا ما شاء المصدق.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں وہ حکم لکھ کر دیا جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلى الله عليه وسلم کو دیا تھا کہ زکوۃ میں بوڑھا اور عیب دار اور نر نہ لیا جائے ہاں اگر زکوۃ لینے والا خود چاہے۔
(صحیح بخاری : 1455 )
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما بعث معاذا رضى الله عنه إلى اليمن قال فى آخر الحديث واجتنبوا كرائم أموال الناس
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حکم بنا کر بھیجا تو فرمایا: (زکوۃ میں) لوگوں کے عمدہ مال لینے سے اجتناب کرنا۔
(صحیح بخاری : 1458)

◈اگر حکومت زکوۃ لے لے تو کیا کرنا چاہیے؟

عن أنس بن مالك رضى الله عنه أنه قال أتى رجل من بني تميم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إذا أديت الزكاة إلىٰ رسولك فقد برئت منها إلى الله ورسوله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نعم إذا أديتها إلىٰ رسولي فقد برئت منها فلك أجرها وإثمها علىٰ من بدلها
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے کہا جب میں زکوۃ آپ کے قاصد کو دوں تو کیا میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے ہاں بری الذمہ ہو گیا؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”ہاں جب تو نے مجھے ادا کر دیا تو تو اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے ہاں بری الذمہ ہو گیا۔ تجھے اس کا اجر ملے گا اور جو اس میں ناجائز تصرف کرے گا اس کا گناہ اسی پر ہے۔“
(مسند احمد : 136/3 ، اسناده صحيح)

◈زکوۃ وصول کرنے والا تحفہ نہ لے

عن أبى حميد الساعدي قال استعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا من الأسد يقال له ابن اللتبية قال عمرو وابن أبى عمر على الصدقة فلما قدم قال هٰذا لكم وهٰذا لي أهدي لي قال فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر فحمد الله وأثنىٰ عليه وقال: ما بال عامل أبعثه فيقول هٰذا لكم وهٰذا أهدي لي أفلا قعد فى بيت أبيه أو فى بيت أمه حتىٰ ينظر أيهدىٰ إليه أم لا والذي نفس محمد بيده لا ينال أحد منكم منها شيئا إلا جاء به يوم القيامة يحمله علىٰ عنقه بعير له رغاء أو بقرة لها خوار أو شاة تيعر ثم رفع يديه حتىٰ رأينا عفرتي إبطيه ثم قال اللهم هل بلغت مرتين
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بنو اسد (قبیلہ) کے ایک شخص ابن لتبیہ نامی کو عامل مقرر فرمایا سیدنا عمرو اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے زکوۃ وصول کرنے کے لیے (تحصیلدار مقرر فرمایا تھا) جب وہ شخص واپس آیا تو کہنے لگا یہ آپ صلى الله عليه وسلم کا (یعنی بیت المال کا) حصہ ہے اور یہ میرا حصہ ہے جو مجھے بطور تحفہ دیا گیا۔ (یہ سن کر) رسول اللہ صلى الله عليه وسلم منبر پر تشریف لائے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور پھر فرمایا: ”اس تحصیل دار کا معاملہ کیسا ہے جسے میں نے (زکوۃ وصول کرنے کے لیے) بھیجا اور (واپس آکر) کہتا ہے یہ تو آپ صلى الله عليه وسلم کا مال ہے اور یہ مجھے بطور تحفہ دیا گیا ہے وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا پھر دیکھتا کہ اسے تحفہ ملتا ہے یا نہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلى الله عليه وسلم کی جان ہے کہ تم میں سے جو شخص اس طرح سے کوئی مال لے گا (یعنی تحفہ وغیرہ کے نام پر) تو وہ قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا اونٹ ہوگا تو وہ بلبلاتا ہوگا۔ گائے ہوگی تو وہ چلاتی ہوگی۔ بکری ہوگی تو وہ ممیاتی ہوگی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے حتیٰ کہ ہمیں آپ صلى الله عليه وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ گئی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: یا اللہ! میں نے (تیرا حکم) پہنچا دیا۔“
(صحيح مسلم : 4843)

◈شراکت دار زکوۃ میں برابری کے ساتھ شریک ہوں گے

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں فرض زکوۃ کے متعلق تحریر لکھوائی تھی جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مقرر فرمائی کہ:
وما كان من خليطين فإنهما يتراجعان بينهما بالسوية.
جو جانور دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہوں وہ مساوی طور پر زکوۃ کا حصہ نکالیں۔
(صحیح بخاری : 1451)

صدقہ فطر (فطرانہ) ہر مسلمان پر فرض ہے

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثىٰ والصغير والكبير من المسلمين وأمر بها أن تؤدىٰ قبل خروج الناس إلى الصلاة.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مسلمانوں کے غلام، آزاد، مرد، عورت، بچہ، بوڑھے سب پر صدقہ فطر فرض کیا ہے. ایک صاع (یعنی تقریباً اڑھائی کلو) کھجوروں سے یا ایک صاع جو سے اور اس کے متعلق حکم دیا ہے کہ یہ فطرانہ نماز (عید) کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔
(صحیح بخاری : 1503 – صحیح مسلم : 984)
عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه قال: كنا نعطيها فى زمان النبى صلى الله عليه وسلم صاعا من طعام أو صاعا من تمر أو صاعا من شعير أو صاعا من زبيب وفي رواية أو صاعا من أقط.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم دور نبوی میں طعام (گندم وغیرہ) سے ایک صاع ،کھجور سے ایک صاع، جو سے ایک صاع یا منقیٰ (کشمش) سے ایک صاع فطرانہ ادا کیا کرتے تھے یا پنیر سے ایک صاع۔
(صحیح بخاری : 1508 – صحیح مسلم : 985)

صدقے کی فضیلت

عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: سبعة يظلهم الله فى ظله يوم لا ظل إلا ظله فذكر الحديث وفيه: ورجل تصدق بصدقة فأخفاها حتىٰ لا تعلم شماله ما تنفق يمينه.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس روز سایہ عطا فرمائے گا جس روز اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہوگا۔“ پھر باقی حدیث بیان کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ ”(ان سات آدمیوں میں) ایک وہ آدمی ہے جو اس قدر چھپا کر صدقہ کرے کہ بائیں ہاتھ کو بھی علم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔“
(صحیح بخاری : 660 – صحيح مسلم : 1031)

◈مال میں اضافے کی غرض سے مانگنے پر وعید

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سأل الناس أموالهم تكثرا فإنما سأل جمرا فليستقل أو ليستكثر.
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو مال میں اضافے کی غرض سے لوگوں سے مانگتا ہے وہ صرف انگارے ہی مانگتا ہے پس وہ چاہے تو انہیں کم کر لے اور چاہے تو زیادہ کر لے۔“
(صحیح مسلم : 1041)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”آدمی ہمیشہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ قیامت کے روز آئے گا تو اس کے چہرے پر گوشت کا کوئی ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔“
صحیح بخاری : 1474 – صحيح مسلم : 1040)

زکوۃ کے ضعیف احکام و مسائل

حدیث نمبر ①

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے زکوۃ کو اس کے وقت سے پہلے ادا کر دینے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔

حدیث نمبر ①

یہ روایت ضعیف ہے اس حدیث کو مسند احمد : 104/1، وسنن أبی داؤد : 1624، وسنن ترمذی : 678، وسنن ابن ماجه : 1795، وسنن الدارمی : 1689، والمنتقى لابن الجارود : 360، وسنن الدار قطنی : 2031، 2032، وطبقات ابن سعد : 26/4، والمستدرك الحاكم : 5431، والسنن الكبرى للبيهقي : 111/4، 54/10، والسنن الصغرى للبيهقي : 1275، ومعرفة السنن والآثار للبيهقي : 2437، وامالی المحاملي : 187، والفوائد الشهير بالغيلانيات لأبي بكر الشافعي : 250، وشرح السنة البغوي : 1577، وتاریخ دمشق لابن عساکر : 21/304، والاحادیث المختارة للضیاء المقدسي : 411، وتهذیب الكمال للمزي : 5/486 نے روایت کیا ہے۔
اول: اس حدیث کی سند میں حکم بن عتیبہ راوی «عن» سے روایت کر رہا ہے اور یہ مدلس ہے۔ (الفتح المبین في تحقيق طبقات المدلسین، ص: 59) کسی کتاب میں سماع کی صراحت نہیں ہے۔
دوم: اس حدیث کی سند میں دوسرے راوی حجیۃ بن عدی الکندی کے متعلق امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لا يحتج بحديثه شبيه بالمجهول (الجرح والتعديل: جلد 3، ص 311) (اس حدیث کے تمام شواہد ضعیف ہیں)۔
تنبیہ: اس راوی کے متعلق متساہلین و متاخرین کی توثیق باطل و مردود ہے۔ تفصیل کے لیے راقم الحروف کی کتاب کتاب الضعفاء والمتروكين جلد اول: 63 تا 91 پڑھیں۔

◈ساڑھے سات تولے سونے پر زکوۃ ادا کرنا

حدیث نمبر ②

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس دوسو (200) درہم ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان میں پانچ (5) درہم زکوۃ ہوگی، اور سونا جب تک بیس (20) دینار نہ ہو اس میں تم پر زکوۃ نہیں، جب بیس (20) دینار ہو جائیں اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں آدھا دینار زکوۃ ہے، پھر جتنا زیادہ ہو اس میں اسی حساب سے زکوۃ ہوگی۔

حدیث نمبر ②

یہ روایت ضعیف ہے اس حدیث کو سنن أبی داؤد : 1573، وموطا عبد اللہ بن وهب : 186، والسنن الكبرى للبيهقي : 4/137، والسنن الصغرى للبيهقي : 1227، ومعرفة السنن والآثار للبيهقي : 2493، وسبعة مجالس من امالی أبي طاهر : 86، وشرح السنة للبغوي : 1582، والاحادیث المختارة للضیاء المقدسي : 528 نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی سند میں ابو اسحاق راوی مدلس ہے اور روایت «عن» سے ہے کسی کتاب میں سماع کی صراحت نہیں ہے۔ اس کے مدلس ہونے کے دلائل پڑھیں: (المعرفة والتاريخ للفسوي : 12/3، 14، وكتاب المجروحين لابن حبان : 1/92، والالزامات والتتبع للدارقطني، ص: 362، وصحيح ابن خزيمة : 1096، والسنن الكبرى للبيهقي : 6/137) اس حدیث کے تمام طرق ضعیف ہیں۔
تنبیہ: سونے کے کتنے نصاب پر زکوۃ ہے راقم نے اس کی وضاحت صحیح حصے میں کر دی ہے۔

◈گائے کی زکوۃ کا بیان

حدیث نمبر ③

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہر تیس (30) گائیوں میں سے ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی ہے، اور ہر چالیس گائیوں میں سے ایک گائے دو دانت والی (دو سالہ) ہے۔

حدیث نمبر ③

یہ روایت ضعیف ہے اس حدیث کو مسند أحمد : 230/5، وسنن أبی داؤد: 1577، وسنن نسائی: 2450، 2451، 2452، 2453، والسنن الكبرى للنسائي : 2230، 2231، 2232، وسنن الدارمي : 1676، ومصنف عبد الرزاق : 6841، ومسند البزار: 2654، والمنتقى لابن الجارود : 343، وسنن الدارقطني : 1958، 1959، 1960، والمعجم الكبير الطبراني : 16682، 16683، 16685، وكتاب الاموال لابن زنجوية : 1141، والمستدرك الحاكم : 1449، والسنن الكبرى للبيهقي : 9/193، والسنن الصغرى للبيهقي : 1200، 4058، ومعرفة السنن والآثار للبيهقي : 2398، وفوائد أبي بكر القاسم : 26، 27، 28، 29، والكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 4/195، وصحيح ابن حبان : 4886، والفوائد الشهير بالغيلانيات لأبي بكر الشافعي : 846، والزيادات على كتاب المزني : 170، 171، وشرح السنة للبغوي : 1571 نے روایت کیا ہے۔
اول: اس حدیث کی سند میں اعمش راوی مدلس ہے اور «عن» سے روایت کر رہا ہے کسی کتاب میں سماع کی صراحت نہیں ہے۔ اس کے مدلس ہونے کے دلائل پڑھیں: (علل الحديث لابن أبي حاتم : 524/2، ح 2119، ومسند ابن الجعد، ص: 129، إسناده صحیح، والمعرفة والتاريخ الفسوي : 12/3، والكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 452/8، إسناده صحیح، وكتاب المجروحين لابن حبان : 1/91، وكتاب العلل للدارقطني : 95/10، وكتاب التوحيد لابن خزيمة، ص: 38، وتاريخ عثمان بن سعيد الدارمي : 952، الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي، ص: 312، اسناده صحیح)
دوم: سند میں دوسرے راوی مسروق کا سماع سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ اس حدیث کے تمام شواہد ضعیف ہیں۔
تنبیہ: ایک صحیح روایت سے گائے کی زکوۃ کا مذکورہ نصاب ثابت ہے۔ والحمد لله (مصنف ابن أبي شيبة : 10748، إسناده صحیح)

◈تجارتی سامان کی زکوۃ کا بیان

حدیث نمبر ④

سیدنا سمرة بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم اس میں سے زکوۃ دیں جس مال کو تجارت کے لیے تیار کرتے ہیں۔

حدیث نمبر ④

یہ روایت ضعیف ہے اس حدیث کو سنن أبی داؤد : 1562، والمعجم الكبير الطبراني : 6903، 7029، وسنن الدارقطني : 2051، والسنن الكبرى للبيهقي : 4/146، 147، والسنن الصغرى للبيهقي : 1237، والتمهيد لابن عبد البر : 17/131 نے روایت کیا ہے۔
اول: اس حدیث کی سند میں جعفر بن سعد بن سمرة بن جندب راوی مجہول ہے۔ (تهذيب التهذيب لابن حجر : 566/1)
دوم: دوسرا راوی خبیب بن سلیمان بن سمرة بن جندب بھی مجہول ہے۔ (تحرير تقريب التهذيب : 357/1)
سوم: تیسرا راوی سلیمان بن سمرة بن جندب بھی مجہول ہے۔ (تحرير تقريب التهذيب : 2/69)
تنبیہ: ایک صحیح روایت سے تجارتی مال میں زکوۃ ثابت ہے۔ والحمد لله (مصنف ابن أبي شيبة : 10560، إسناده صحیح)

◈مال مستفید پر سال گزرنے کے بعد زکوۃ فرض ہے

حدیث نمبر ⑤

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: مال مستفید میں زکوۃ اس وقت تک لازم نہیں ہوتی جب تک اس پر ایک سال نہ گزر جائے۔ (سنن ترمذی : 631، وسنن الدارقطني : 1865، والسنن الكبرى للبيهقي : 104/4)

حدیث نمبر ⑤

اس روایت کی سند میں عبد الرحمن بن زید بن اسلم راوی کے سخت ضعیف ہونے کی وجہ سے یہ سند سخت ضعیف ہے۔
عبد الرحمن بن زید بن اسلم راوی متروک الحدیث اور منکر الحدیث ہے۔ (التاريخ الصغير للبخاري : 109/2، والجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 5/364، وكتاب الضعفاء لأبي زرعة : 464/2، والضعفاء والمتروكين للنسائي، ص: 296، والضعفاء الكبير للعقيلي : 2/350، وكتاب المجروحين لابن حبان : 55/2، وتهذيب التهذيب لابن حجر : 3/435)
عبد الرحمن بن زید بن اسلم کی اپنے باپ سے بیان کردہ روایتیں موضوع (جھوٹی) ہیں۔ (المدخل إلى الصحيح : 97) یہ روایت اس نے اپنے باپ سے ہی روایت کی ہے۔ اس حدیث کے تمام شواہد ضعیف ہیں۔
تنبیہ :درج بالا حدیث اگر چہ ضعیف ہے لیکن سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مذکورہ مسئلہ ثابت ہے والحمد لله
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جس کو مال مستفاد ملے اس پر زکوۃ نہیں ہے حتیٰ کہ مالک کے پاس اس پر ایک سال گزر جائے۔ (یعنی ایک سال گزرنے کے بعد زکوۃ فرض ہے) (سنن ترمذی : 632، إسناده صحیح، یہ روایت موقوف ہے لیکن مرفوع کے حکم میں ہے)

◈سبزیوں کی زکوۃ کا بیان

حدیث نمبر ⑥

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو یمن کی طرف ایک خط لکھا جس میں انھوں نے آپ صلى الله عليه وسلم سے سبزیوں کے بارے میں پوچھا، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ان میں زکوۃ نہیں ہے۔

حدیث نمبر ⑥

یہ روایت ضعیف ہے اس حدیث کو سنن ترمذی : 638، والسنن الصغرى للبيهقي : 960، 962 نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کی سند میں حسن بن عمارة راوی متروک الحدیث اور کذاب ہے۔ (صحیح مسلم: 48/1، 49، والجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 32/3، وكتاب الضعفاء للبخاري : 66، والضعفاء والمتروكين للنسائي، ص: 288، وطبقات ابن سعد : 389/6، واحوال الرجال للجوزجاني : 35، والسنن الدارقطني : 258/2، وكتاب العلل الصغير للترمذي، ص: 280، الضعفاء الكبير للعقيلي : 1/237، والكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 3/97، وكتاب المجروحين لابن حبان : 229/12، والضعفاء والمتروكين للجوزي : 207/1، وتهذيب التهذيب لابن حجر : 505/1، 506) اس حدیث کے تمام شواہد ضعیف ہیں۔
تنبیہ: سبزیوں پر زکوۃ دینا ثابت ہے جیسا کہ راقم نے «زکوۃ کے صحیح احکام ومسائل» میں وضاحت کی ہے۔

◈جس علاقے سے زکوۃ لی جائے وہیں پر تقسیم کرنے کا بیان

حدیث نمبر ⑦

زیاد یا کسی اور امیر نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو زکوۃ وصول کرنے پر عامل مقرر کیا گیا، جب وہ واپس آئے تو انھیں کہا گیا مال کہاں ہے؟ انھوں نے جواب میں کہا کیا مال کے لیے آپ نے مجھے روانہ کیا تھا؟ ہم نے مال وہاں سے لیا جہاں عہد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم میں لیا کرتے تھے اور وہیں تقسیم کر دیا جہاں پر اسے تقسیم کیا کرتے تھے۔

حدیث نمبر ⑦

یہ روایت ضعیف ہے اس حدیث کو سنن أبی داؤد : 1625، وسنن ابن ماجه : 1811، ومسند البزار : 3595، والمعجم الكبير الطبراني : 14963، والمستدرك الحاكم : 5989، والسنن الكبرى للبيهقي : 9/7 نے روایت کیا ہے۔
اول: اس حدیث کی سند میں ابراہیم بن عطاء بن أبي میمونہ البصری راوی مجہول ہے۔
دوم: اس میں انقطاع کا شبہ بھی ہے۔
تنبیہ: امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا اس راوی کو «صالح» کہنا توثیق نہیں ہے۔ نیز یہ حدیث صحیح بخاری کی حدیث کے مخالف بھی ہے۔ (صحیح بخاری : 1458)

◈جس کے پاس 50 درہم یا اس کے مساوی سونا ہو وہ مالدار ہے

حدیث نمبر ⑧

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو شخص اس قدر ملکیت رکھنے کے باوجود لوگوں سے سوال کرے جو اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر دے تو وہ روز قیامت آئے گا تو سوال اس کے چہرے پر خراش کی طرح ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم! وہ کتنی مقدار ہے جو اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر سکتی ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: پچاس (50) درہم یا اس کے مساوی سونا۔

حدیث نمبر ⑧

یہ روایت ضعیف ہے اس حدیث کو مسند أحمد : 441/1، وسنن أبی داؤد: 1626، وسنن ترمذی: 650، 651، وسنن نسائی : 2593، والسنن الكبرى للنسائي : 2373، وسنن ابن ماجه : 1840، والسنن الدارمي : 1693، 1694، ومسند أبي داود الطيالسي : 322، ومصنف ابن أبي شيبة : 10533، ومسند ابن أبي شيبة : 391، ومسند البزار: 1690، مسند أبي يعلى : 5217، ومشكل الآثار للطحاوي : 417، شرح معاني والآثار للطحاوي : 2785، والسنن الدارقطني : 2026، 2027، والمعجم الكبير الطبراني : 1707، والمعجم الأوسط للطبراني : 1686، وكتاب الاموال للقاسم بن سلام : 1164، وكتاب الاموال لابن زنجويه : 1662، والناسخ والمنسوخ للنحاس : 348، والكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي : 214/3، وتهذيب الآثار للطبري : 31-32، والكنى والأسماء للدولابي : 555، والمستدرك الحاكم : 1479، والسنن الكبرى للبيهقي : 24/7، ومعرفة السنن والآثار للبيهقي : 4238، 4239، وجزء البغوي : 18، وشرح السنة للبغوي : 1600 نے روایت کیا ہے۔ اس حدیث کی سند میں حکیم بن جبیر راوی ضعیف اور متروک ہے۔
تنبیہ: درج ذیل صحیح حدیث ہمیں درج بالا ضعیف حدیث سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو شخص اس قدر ملکیت رکھنے کے باوجود سوال کرے جو اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر دے پھر وہ آگ میں اضافہ کر رہا ہے۔ (سنن أبی داؤد : 1629، إسناده صحیح وسنن أبی داؤد: 1627، إسناده صحیح)