مضمون کے اہم نکات
اسلام میں زکاۃ کی اہمیت و فرضیت
زکاۃ اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں تیسرا رکن ہے, اس کا منکر کا فر ہے. جب تک نماز اور زکاۃ ادا نہ کرے، مسلم برادری میں شامل نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَإِن تَابُوا۟ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ…
اگر یہ کافر لوگ کفر سے توبہ کریں (کلمہ پڑھ لیں) نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں
[التوبة:11]
اور یہ تینوں اتنے اہم ارکان ہیں کہ انہیں صرف زبانی تسلیم کر لینے سے ہی گزارا نہیں ہو سکتا، بلکہ کلمہ پڑھ لینے کے بعد عملا نماز اور زکاۃ ادا کرنا ہوگی۔ اگر کوئی شخص زکاۃ ادا نہیں کرتا یا وہ اس کی فرضیت کا ہی منکر ہے، یا زکاۃ وصول کرنے پر لڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے تو اس سے جنگ کی جائے گی۔
عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، ويقيموا الصلاة، ويؤتوا الزكاة، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم، إلا بحق الإسلام وحسابهم على الله.
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور محمد ﷺاللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کریں،اور زکاۃ ادا کریں، سو جب وہ یہ کام کر لیں تو انہوں نے اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لئے مگر اسلام کے حق کےساتھ اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔
[صحیح بخاری:25]
لیکن اگر کوئی شخص مال میں زکاۃ فرض ہو جانے کے باوجود بخل کی وجہ سے زکاۃ ادانہیں کرتا تو معلوم ہونے کے بعد اس سے زکاۃ بھی وصول کی جائے گی اور اس کا آدھا مال بھی ضبط کر لیا جائے گا۔اسکی دلیل یہ حدیث ہے:
عن بهز بن حكيم ،عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: في كل سائمة إبل في أربعين بنت لبون، ولا يفرق إبل عن حسابها من أعطاها مؤتجرا، قال ابن العلاء: مؤتجرا بها فله أجرها، ومن منعها فإنا آخذوها، وشطر ماله عزمة من عزمات ربنا عز وجل ليس لآل محمد منها شيء.
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہﷺ نے فرمایا: چرنے والے اونٹوں میں چالیس میں ایک بنت لبون(دو سالہ اونٹنی ہے، (زکاۃ بچانے کے خیال سے ) اونٹ اپنی جگہ سے اِدھر اُدھر نہ کئے جائیں، جو شخص ثواب کی نیت سے زکاۃ دے گا اسے اس کا اجر ملے گا، اور جو اسے روکے گا ہم اس سے اسے وصول کر لیں گے، اور (زکاۃ روکنے کی سزا میں) اس کا آدھا مال لے لیں گے، یہ ہمارے رب عزوجل کے تاکیدی حکموں میں سے ایک تاکیدی حکم ہے، آل محمد کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔
[ابو داؤد: كتاب الزكاة،1575،وحسنه الألباني]
زكاة کا معنی و مفہوم:
عربی زبان میں زکاۃ کا لفظ دو معنوں میں آتا ہے۔ پاک صاف ہونا اور بڑھنا۔ سونا چاندی مال مویشی اور سامان تجارت میں سے ہر سال گزرنے کے بعد اور زمین کی پیداوار حاصل ہونے کے ساتھ ہی اس میں سے اللہ تعالیٰ کا جو حصہ نکالا جاتا ہے۔ اس سے یہ دونوں فائدے حاصل ہوتے ہیں وہ مال پاک ہو جاتا ہے، اور مال والا بھی گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
خُذْ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا.
ان کے اموال سے صدقہ لیجئے جس کے ساتھ آپ انہیں صاف اور پاک کریں گے۔
[التوبة:103]
اس کے علاوہ اس مال میں برکت ہوتی ہے اور وہ بڑھتا ہے۔ زکاۃ اور ٹیکس کا یہی بنیادی فرق ہے، کہ زکاۃ عبادت ہے ، مسلمان ہونے کی علامت ہے،اس کے ادا کرنے سے ثواب حاصل ہوتا ہے، آدمی جہنم سے آزاد ہوتا ہے،اس کا مال اور وہ خود پاک ہو جاتے ہیں، اور مال میں برکت ہوتی ہے۔ جبکہ ٹیکس میں ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔
زکاۃ و عشر کی فضیلت و برکت کی چند آیات واحادیث:
① اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَمْحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَيُرْبِى ٱلصَّدَقَـٰتِ…
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتاہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔
[البقرة:276]
② اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَآ ءَاتَيْتُم مِّن رِّبًۭا لِّيَرْبُوَا۟ فِى أَمْوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرْبُوا۟ عِندَ ٱللَّهِ وَمَآ ءَاتَيْتُم مِّن زَكَوٰةٍۢ تُرِيدُونَ وَجْهَ ٱللَّهِ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُضْعِفُونَ.
اور جو کوئی سودی قرض تم اس لیے دیتے ہو کہ لوگوں کے اموال میں بڑھ جائے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو کچھ تم زکوٰۃ سے دیتے ہو، اللہ کے چہرے کا ارادہ کرتے ہو، تو وہی لوگ کئی گنا بڑھانے والے ہیں۔
[الروم:39]
③ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنۢبُلَةٍۢ مِّا۟ئَةُ حَبَّةٍۢ ۗ وَٱللَّهُ يُضَـٰعِفُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ.
ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، ایک دانے کی مثال کی طرح ہے جس نے سات خوشے اگائے، ہر خوشے میں سو دانے ہیں اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والاہے۔
[البقرة:261]
④ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا، درگزر کرنے اور معاف کر دینے سے اللہ بندے کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے، اور جو کوئی اللہ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کو رفعت عطا فرماتا ہے۔
[صحيح المسلم:رقم الحديث:2588]
⑤ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک دفعہ ایک شخص زمین میں ایک صحرائی ٹکڑے پر کھڑا تھا۔ اس نے ایک بادل میں آواز سنی: فلاں کے باغ کو سیراب کرو۔وہ بادل ایک جانب بنا اور ایک پتھریلی زمین میں اپنا پانی انڈیل دیا۔ پانی کے بہاؤ والی ندیوں میں سے ایک ندی نے وہ سارا پانی اپنے اندر لے لیا۔ وہ شخص پانی کے پیچھے پیچھے چل پڑا تو وہاں ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا اپنے کدال سے پانی کا رخ (اپنے باغ کی طرف) پھیر رہا تھا۔ اس نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! تمھارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں، وہی نام جو اس نے بادل میں سنا تھا۔ اس (آدمی) نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! تم نے مجھ سے میرا نام کیوں پوچھا ہے؟ اس نے کہا: میں نے اس بادل میں، جس کا یہ پانی ہے، (کسی کو) یہ کہتے سنا تھا: فلاں کے باغ کو سیراب کرو، تمھارا نام لیا تھا۔ تم اس میں کیا کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا: تم نے یہ بات کہہ دی ہے تو میں (تمھیں بتا دیتا ہوں)، اس باغ سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے، میں اس پر نظر ڈال کر اس کا ایک تہائی حصہ صدقہ کر دیتا ہوں، ایک تہائی میں اور میرے گھروالے کھاتے ہیں۔ اور ایک تہائی اسی (باغ کی دیکھ بھال) میں لگا دیتا ہوں۔
[صحيح المسلم:رقم الحديث:7473]
وہ اموال جن میں زکاۃ فرض ہے:
اللہ تعالی نے چار قسم کے ایسے اموال میں زکاۃ فرض فرمائی ہے، کہ جن پر انسانی زندگی کا دارو مدار ہے۔
① چوپائے جانور، اونٹ، گائے، بکری وغیرہ۔
② سونا چاندی اور نقدی و غیرہ۔
③ ہر قسم کا تجارت کا سامان جس کی تجارت شرعاً جائز ہے۔
④ زمین سے حاصل ہونے والی چیزیں غلہ ، پھل سبزیاں، معدنیات، دفینے وغیرہ۔
اب ان چاروں کا بیان قدرے تفصیل سے کیا جاتا ہے۔
جانورں کی زکاۃ
جانوروں کی زکاۃ ادا نہ کرنے پر وعید:
عن أبي ذر رضي الله عنه, قال: انتهيت إلى النبي صلى الله عليه وسلم, قال: والذي نفسي بيده أو والذي لا إله غيره أو كما حلف، ما من رجل تكون له إبل أو بقر أو غنم لا يؤدي حقها، إلا أتي بها يوم القيامة أعظم ما تكون وأسمنه تطؤه بأخفافها وتنطحه بقرونها، كلما جازت أخراها ردت عليه أولاها حتى يقضى بين الناس.
ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ، میں نبی کریمﷺکے قریب پہنچ گیا تھا، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یا (آپﷺ نے قسم اس طرح کھائی) اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یا جن الفاظ کے ساتھ بھی آپ نے قسم کھائی ہو (اس تاکید کے بعد فرمایا)کوئی بھی ایسا شخص جس کے پاس اونٹ گائے یا بکری ہو، اور وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو، تو قیامت کے دن اسے لایا جائے گا۔ دنیا سے زیادہ بڑی اور موٹی تازہ کر کے۔ پھر وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندے گی اور سینگ مارے گی۔ جب آخری جانور اس پر سے گزر جائے گا تو پہلا جانور پھر لوٹ کر آئے گا۔ (اور اسے اپنے سینگ مارے گا اور کھروں سے روندے گا) اس وقت تک (یہ سلسلہ برابر قائم رہے گا) جب تک لوگوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
[صحیح بخاری:1460]،[صحيح المسلم:990]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
..في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة، حتى يقضى بين العباد، فيرى سبيله إما إلى الجنة، وإما إلى النار..
اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے (یہ عمل مسلسل ہوتا رہے گا) حتیٰ کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا، پھر وہ جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے گا۔
[صحيح المسلم:987]
وہ جانور جن کی زکاۃ لی جاتی ہے:
رسول اللہ ﷺ اور خلفاء نے جن جانوروں کی زکاۃ وصول کی ہے وہ تین قسم کے ہیں۔ اونٹ، گائے اور بکری، واضح رہے کہ زکاة میں بھینس گائے کی جنس میں اور بھیٹر اور دنبہ بکری کی جنس میں شمار ہوتے ہیں۔
مویشیوں کی زکاۃ کے لئے شرطیں:
مویشیوں پر زکاة فرض ہونے کی دو شرطیں ہیں۔
① ایک تو یہ کہ نصاب کو پہنچنے کے بعد ان پر ایک سال گزر جائے۔
② دوسری یہ کہ ان کی پرورش سارا سال یا سال کے اکثر حصے میں جنگلوں، پہاڑوں یا سبزے کے میدانوں میں چرانے سے ہوتی ہو۔ اگر زیادہ انحصار چرانے پر ہولیکن کبھی کبھا رگھر پر بھی چارا ڈالا جائے تو زکاة میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
اونٹوں کی زکاۃ جو رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمائی:
پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ مالک اپنی مرضی سے دینا چاہے تو الگ بات ہے۔ چوبیس اونٹوں تک کی زکاۃ بکریوں کی صورت میں ادا کی جائے گی۔ پانچ سے نو اونٹوں تک ایک بکری،دس سے چودہ تک دو، پندرہ سے انیس تک تین، اور بیس سے چوبیس اونٹوں تک چار بکریاں زکاۃ میں لی جائیں گی۔
(25 سے 35 اونٹوں تک)،(ایک بنت مخاض)،(ایک سالہ اونٹنی جس کی عمر کا دوسرا سال شروع ہو)
(36 سے 45 اونٹوں تک)،(ایک بنت لبون)،(دو سالہ اونٹنی جس کی عمر کا تیسرا سال شروع ہو)
(46 سے 60 اونٹوں تک)،(ایک حقّہ)،(تین سالہ اونٹنی جس کی عمر کا چوتھا سال شروع ہو)
(61 سے 75 اونٹوں تک)،(ایک جذعہ)،(چار سالہ اونٹنی جس کی عمر کا پانچواں سال شروع ہو)
(76 سے 90 اونٹوں تک)،(دو بنت لبون)
(91 سے 120 اونٹوں تک)،(دو حقّہ)
120 سے آگے ہر دس کے بعد کل تعداد چالیس یا پچاس پر تقسیم ہو جاتی ہے۔ اس لئے رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر اونٹ 120 سے زیادہ ہو جائیں تو یہ چالیس میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس میں ایک حقّہ ہوگا۔
[صحیح بخاری:1454]
گائے (بھینس) کی زکاۃ:
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا تو یہ حکم دیا کہ وہ گائے بیلوں میں ہر تیس گائيوں میں سے ایک تبیع یا تبیعہ (ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑي جو دوسرے سال میں داخل ہو چکا ہو) لیں ، اور چالیس گائیوں میں سے ایک مسنّہ (دو سال سے زیادہ کا نر یا مادہ جسکا سامنے کا دانت گر چکا ہو)لیں۔
[سنن ابی داؤد:1576]،[سنن ترمذی:623]،[سنن نسائي:2453]،[ابن ماجہ:1803]
تیس سے کم گایوں میں زکاۃ نہیں۔ اونٹوں کی طرح یہاں بھی(60) سے آگے، ہر دس کے بعد کل تعداد تیس یا چالیس کے ہندسوں پر تقسیم ہو جاتی ہے۔ تفصیل اس طرح ہوگی:
(30 سے 39 تک)،(ایک تبیع یا تبیعہ)
(40 سے 59 تک)،(ایک مسنّہ)
(60 سے 69 تک)،(دو تبیع یا تبیعہ)
(70 سے 79 تک)،(ایک تبیع یا تبیعہ اور ایک مسنّہ)
(80 سے 89 تک)،(دو مسنّہ)
(90 سے 99 تک)،(تین تبیع یا تبیعہ)
الغرض رسول اللہﷺ کے فرمان کے مطابق ہر تیس میں سے ایک تبیع یا تبیعہ اور ہر چالیس میں سے ایک مسنّہ لیا جائے گا۔
گائے بھینس کی زکاۃ میں نر اور مادہ دونوں دیئے جا سکتے ہیں۔ یہاں صرف تبیع اور مسن کی عمر مقرر ہے۔ مالک اپنی خوشی سے بڑی عمر کا جانور دے تو جائز ہے۔
چرنے والی بکریوں کی زکاۃ:
چالیس سے کم بکریوں پہ زکاۃ نہیں،ان بکریوں کی زکوٰۃ جو (سال کے اکثر حصے جنگل یا میدان وغیرہ میں) چر کر گزارتی ہیں۔ اگر ان کی تعداد چالیس تک پہنچ گئی ہو تو (چالیس سے) ایک سو بیس (120) تک ایک بکری واجب ہو گی، اور جب ایک سو بیس سے تعداد بڑھ جائے (تو ایک 120 سے) سے دو سو (200) تک دو بکریاں واجب ہوں گی۔ اگر دو سو سے بھی تعداد بڑھ جائے تو (تو دو سو سے) تین سو (300) تک تین بکریاں واجب ہوں گی اور جب تین سو سے بھی تعداد آگے نکل جائے تو اب ہر ایک سو پر ایک بکری واجب ہو گی۔
[صحیح بخاری:1454]
نوٹ: صدقہ میں بوڑھا یا عیب دار جانور یا سانڈھ نہ نکالا جائے۔ ہاں صدقہ لینے والا عامل چاہے تو جائز ہے اسی طرح اعلی درجے کا قیمتی جانو ر بھی نہ لیا جائے۔
[صحیح بخاری:1455]
البته مالک اپنی خوشی سے دے تو جائز ہے۔ [سنن ابی داؤد:1567]
اگر کسی کے پاس ایک ہی عمر یا ایک ہی جنس یا ایک ہی درجے کے جانور ہوں، تو زکاۃبھی اسی قسم سے لی جائے گی۔ مثلا سب ہی اعلی یا ادنی ہیں یا سبھی نر یا مادہ ہیں، تو انہی میں سے زکاۃ لی جائے گی ۔
پالتو جانوروں کی زکاۃ:
اونٹ بکریوں یا گائے اور بھینسوں کی پرورش اگر چارہ ڈال کر کی جاتی ہو، تو ان میں زکاۃنہیں ہے۔ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی اگر ساتھ ہی ساتھ خرچ ہوتی رہے تو اس پر بھی زکاۃ نہیں۔ البتہ اگر (کچھ آمدنی) جمع ہو جائے تو دوسرے مال کی زکاۃ ادا کرتے وقت اس کے ساتھ اس میں سے بھی زکاۃ ادا کی جائے گی۔ اگر یہ جانور تجارت کے لئے رکھے گئے ہیں، تو ہر سال ان کی قیمت کا اندازہ کر کے اڑھائی (2.5) فیصد زکاۃ ادا کی جائے گی۔ مرغیوں اور دوسرے جانوروں کے فارموں کا بھی یہی حکم ہے۔
گھوڑوں گدھوں اور خچروں کی زکاة:
یہ جانور خواہ جنگل میں چرنے والے ہوں یا چارے پر پرورش پاتے ہوں، اسی طرح خواہ سواری کے لیے ہوں یا افزائش نسل کے لئے ان پر زکات نہیں۔ البتہ اگر ان سے حاصل ہونے والی آمدنی آدمی کے مال میں جمع ہوتی رہی ہے، تو سال کے آخر میں دوسرے مال کی زکاۃ ادا کرتے وقت اس کی زکاۃ بھی ادا کرے گا۔ اسی طرح اگر یہ جانور تجارت کے لیے ہیں تو دوسر ے سامان تجارت کی طرح ان کی قیمت کا اندازہ کرکے اڑھائی (2.5) فیصد زکاۃ ادا کرے۔
مال تجارت نقدی اور سونے چاندی کی زکاۃ:
مال کی دوسری قسم جس میں زکاۃ فرض ہے، سونا اور چاند کی ہے۔ اس میں سونے اور چاندی کے زیور بھی شامل ہیں، اور نقدی (روپیہ پیسہ) کا بھی یہی حکم ہے۔
نقدی کی زکاۃ ادا نہ کرنے کی وعید:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
۔۔۔وَٱلَّذِينَ يَكْنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍۢ۔۔۔۔يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِى نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَـٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا۟ مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ.
۔۔۔اور جو لوگ سونا اور چاندی خزانہ بنا کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، تو انھیں دردناک عذاب کی خوش خبری دے دے۔۔۔۔۔جس دن اسے جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں اور ان کے پہلوئوں اور ان کی پشتوں کو داغا جائے گا۔ یہ ہے جو تم نے اپنے لیے خزانہ بنایا تھا، سو چکھو جو تم خزانہ بنایا کرتے تھے۔
[التوبة:34/35]
اور ہریرہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
من آتاه الله مالا فلم يؤد زكاته، مثل له ماله شجاعا أقرع، له زبيبتان، يطوقه يوم القيامة، يأخذ بلهزمتيه يعني بشدقيه، يقول: أنا مالك، أنا كنزك، ثم تلا هذه الآية وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية (180) إلى آخر الآية.
جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور پھر اس نے اس کی زکٰوۃ نہیں ادا کی تو (آخرت میں) اس کا مال نہایت زہریلے سانپ بن کر جس کی آنکھوں کے اوپر دو نقطے ہوں گے۔ اس کی گردن میں طوق کی طرح پہنا دیا جائے گا۔ پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں کو پکڑ کر کہے گا کہ میں ہی تیرا مال ہوں، میں ہی تیرا خزانہ ہوں، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت:ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله:کی،،اور جو لوگ کہ اس مال میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دے رکھا ہے، وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ مال ان کے حق میں بہتر ہے۔ آخر تک ۔
[صحیح بخاری:4565]
سونے چاندی کا نصاب اور زکاۃ کی مقدار:
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
..وليس فيما دون خمس أواق من الورق صدقة..
اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ،(پانچ اوقیہ کے دو سو درھم ہوتے ہیں)۔
[صحیح بخاری:1459]
عن علي رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم ببعض أول هذا الحديث، قال: فإذا كانت لك مائتا درهم وحال عليها الحول ففيها خمسة دراهم وليس عليك شيء، يعني في الذهب، حتى يكون لك عشرون دينارا، فإذا كان لك عشرون دينارا وحال عليها الحول ففيها نصف دينار فما زاد فبحساب ذلك.
علی رضی اللہ عنہ اس حدیث کے ابتدائی کچھ حصہ کے ساتھ نبی اکرم ﷺسے روایت کرتے ہیں،آپ نے فرمایا: جب تمہارے پاس دو سو (200) درہم ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان میں پانچ (5) درہم زکاۃ ہو گی، اور سونا جب تک بیس (20) دینار نہ ہو اس میں تم پر زکاۃ نہیں، جب بیس (20) دینار ہو جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں آدھا دینار زکاۃ ہے، پھر جتنا زیادہ ہو اس میں اسی حساب سے زکاۃ ہو گی (یعنی چالیسواں حصہ)۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سونے چاندی اور نقدی کی زکاۃ کے لئے دو شرطیں ہیں،
① ایک یہ کہ چاندی دو سو درہم، اور سونا بیس دینار یا اس سے زیادہ ہو۔
② دوسری یہ کہ اس پر سال گزر چکا ہو تب اس میں سے چالیسواں حصہ (یعنی) اڑھائی (2.5) فیصد زکاۃ فرض ہوگی ۔
موجودہ اوزان کے لحاظ سے چاندی اور سونے کا نصاب:
دو سو درہم کی مقدار کے متعلق پاک و ہند کے علماء میں مشہور یہی ہے،کہ وہ ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہیں۔ جو گراموں کے لحاظ سے تقریبا (611) گرام بنتے ہیں۔ اور بیس دینار ساڑھے سات تولے سونے کے برابر ہیں، جو سوا ستاسی(87.27) گرام بنتے ہیں۔ لیکن تحقیق کے مطابق بیس دینار سونے اور دو سو درہم چاندی کا وزن مندرجہ بالا مقداروں سے کم بنتا ہے۔ چنانچہ شیخ ابوبکر الجزائری نے (الجمل في زكاة العمل) صفحہ: 28/27 میں اور دکتورعبد اللہ بن محمد بن احمد العطار نے ،،الزکاة،، میں بیس دینار کو ستر گرام سونے کے برابر، اور دو سو درہم کو(460) گرام چاندی کے برابر قرار دیا ہے۔ ان حضرات نے ایک دینار کا وزن ساڑھے تین گرام سونا اور ایک درہم کا وزن(2.3) گرام چاندی قرار دیا ہے۔
مفتی عبد الرحمن الرحمانی نے بھی اپنے رسالہ،،الميزان في الاوزان،،میں اس کو درست قرار دیا ہے۔ یہ مقدار عام معروف مقدار ساڑھے باون تولے چاندی اور ساڑھےسات تولے سونے سے کافی کم ہے۔ مگر تحقیق پر مبنی ہے، اور احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے کہ سونا یا چاندی اس نصاب کو پہنچ جائیں تو زکاۃ ادا کی جائے ۔
اوزان کے متعلق مفتی عبد الرحمن الرحمانی صاحب کی تحقیق کا خلاصہ:
ابن خلدون فرماتے ہیں:
صدر اسلام اور عبد صحابہ و تابعین سے لے کر آج تک اس بات پر اجماع ہے کہ در ہم شرعی وہ ہے جس کے دس درہم سات مثقال (دینار) سونے کے برابر ہوں۔ اور اس کا ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ اس کے مطابق ایک درہم(7/10) دینار کے برابر ہوگا۔ اور سونے کا ایک مثقال (دینار) بہتر (72) جو کے دانوں کے برابر ہوتا ہے۔ اس کے مطابق وہ درہم جو(7/10) دینار کے برابر ہے۔ وہ(2/5-50)جو کے دانوں کے برابر ہو گا اور یہ تمام اندازے اجماع سے ثابت ہیں۔
[تاريخ ابن خلدون:1/325]
شربینی نے مغنی میں فرمایا:
مثقال میں جاہلیہ اور اسلام میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ، وہ (72) دانے درمیانے جو کے برابر ہے۔ جن کا چھلکا اتر اہوا نہ ہو اور دونوں طرفوں سے لمبا بار یک حصہ کاٹ دیا گیا ہو ۔ درہم اسلامی وہ ہے جس کے دس درہم سات مثقال کے برابر ہوں۔۔۔ آگے چل کر لکھا ہے : اور درہم (2/5-50) جو کے دانے کے برابر ہے۔
[مغني المحتاج:2/93]
ابن حزم نے اپنے تجربے کے مطابق دینار کو (3/10-82) معتدل جو کے دانے کے برابر اور درہم کو 57.61 (ستاون اعشاریہ اکسٹھ) جو کے برابر لکھا ہے۔
[المحلى بالآثار:4/53]
صاحب قاموس نے لفظ (الملوک) کی تشریح میں درہم کو (48) حبّہ ( دانے) کے برابر لکھا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اکثر محدثین و فقہاء کے مطابق دینار (72) دانے جو اور درہم کے(2/5-50)دانے جوکے برابر ہے۔ صاحب قاموس کے مطابق درہم اڑتالیس جو کے برابر ہے۔ پچاس اور اڑتالیس کا فرق معمولی ہے، جو دانوں کے اختلاف کی وجہ سے ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق(72) دانے جو تو لے جائیں تو ساڑھے تین گرام کے برابر ہوتے ہیں۔ لہذا ایک دینار ساڑھے تین گرام اور بیس دینار ستر گرام سونے کے برابر ہوں گے۔ اگر کسی شخص کے پاس ستر گرام سونا ہے تو اس پر زکاۃ فرض ہے۔اس طرح (2/5-50)جو کے دانے تو لے جائیں تو 2.3 (دو اعشاریہ تین) گرام کے برابر ہوتے ہیں۔ یہ ایک درہم کا وزن ہے، لہذا دو سو درہم(460) گرام چاندی کے برابر ہوں گے اور یہی چاندی کا نصاب ہے۔
نقدی کا نصاب:
رسول اللہﷺ کے زمانے میں بیس دینار اور دو سو درہم کی قیمت تقریبا برابر تھی۔ موجودہ دور میں (460) گرام چاندی کی قیمت(70) گرام سونے کی قیمت سے بہت ہی کم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس دور میں زکاۃ فرض ہونے کے لئے(460)گرام چاندی کی قیمت نصاب ہوگی یا (70) گرام سونے کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فقراء کے لئے زیادہ مفید یہی ہے کہ چاندی کی قیمت کو نصاب بنایا جائے، اور احتیاط بھی اسی میں ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص سونے کی قیمت کو نصاب بنا کر اس سے کم نقدی، ہونے کی صورت میں زکاۃ ادا نہ کرے تو اسے گناہ گار نہیں کہا جا سکتا۔
مسئلہ:1
اگر کسی کے پاس چاندی بھی ہو اور سونا بھی مگر چاندی دوسو درہم سے کم ہو، اور سونا بیس دینار سے کم ہو تو نہ سونے پر زکاۃ ہو گی نہ چاندی پر۔ دونوں کی قیمت جمع کر کے نصاب نہیں بنایا جائے گا، کیونکہ رسول اللہﷺ نے دونوں کا الگ الگ نصاب مقرر فرمایا ہے۔
البتہ اس کے پاس اگر کچھ نقدی بھی ہو اور سونا اور چاندی بھی، تو سونے یا چاندی میں سےجس کے ساتھ روپے ملانے سے نصاب پورا ہوتا ہو اس میں سے زکاۃ دی جائے گی۔
مسئلہ:2
اگر بیوی کا مال الگ ہے، تو نصاب کو پہنچنے پر اسے اپنے مال کی زکاۃ خود ادا کرنا ہوگی ۔
دوران سال حاصل ہونے والے مال کی زکاۃ:
جب کسی شخص کے پاس نصاب کے برابر مویشی یا سونا چاندی یا نقدی ہو، پھر سال کے دوران اسے مزید مال حاصل ہو جائے تو، کیا اس کی زکاۃ پہلے مال کے ساتھ دی جائے گی یا ان کیلئے الگ سال کا حساب ہوگا ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر وہ مال پہلے مال کے نتیجے میں ملا ہے،مثلا، پہلے جانوروں کے بچے دینے کی وجہ سے مال بڑھ گیا، یا پہلے مال کے نفع میں مزید مال مل گیا، تو اس کی زکاۃ پہلے مال کے ساتھ ہی دی جائے گی، کیونکہ یہ پہلا مال ہی ہے جو بڑھ گیا ہے۔ اور اگر وہ کسی الگ ذریعے سے حاصل ہوا ہے مثلا،وراثت یا ہبّہ میں کچھ مال مل گیا یا دوران سال مزدوری سے حاصل ہوا تو اس پر زکاۃ اس وقت فرض ہو گی جب اس پر سال گزر جائے گا۔
کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:
(من استفاد مالا فلا زكاة عليه حتى يحول عليه الحول)
جس شخص کو کوئی نیا مال ملے تو جب تک اس پر سال نہ گزرے اس پر زکا ۃ نہیں۔
[سنن ترمذي:631]
ہاں اپنی سہولت اور زیادہ ثواب کے لئے پہلے مال کے ساتھ ملا کر زکاۃ دے دے تو جائز ہے بلکہ بہتر ہے۔
مال تجارت میں زکاۃ کی فرضیت:
مال کی تیسری قسم جس میں زکاۃ فرض ہے، تجارت کا مال ہے خواہ کسی بھی قسم کا ہو، جب اس پر سال گزر جائے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ان پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کرو جو تم نے کمائی ہیں۔
[البقرة:267]
حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
چند افراد کے سوا ائمہ اربعہ اور دیگر تمام ائمہ محدثین اس بات پر متفق ہیں، کہ تجارت کے سامان میں زکاۃ واجب ہے۔ خواہ تاجر مقیم ہوں یا مسافر، ارزانی (جب مال کی قیمت گری ہوئی ہو) کے وقت سامان خرید کر گرانی (ریٹ بڑھنے) کا انتظار کرنے والے تاجر ہوں، یا عام دکاندار جو ہر وقت اور ہر نرخ پر خرید و فروخت میں مصروف رہتے ہیں ۔ تجارت کا مال نئے یا پرانے کپڑے ہوں، یا کھانے پینے کا سامان ہر قسم کا غلہ پھل، فروٹ، سبزی، گوشت، وغیرہ مٹی، چینی دھات و غیرہ کے برتن ہوں، یا جاندار چیزیں، غلام، گھوڑے، خچر اور گدھے وغیرہ گھر میں پلنے والی بکریاں ہوں یا جنگل میں چرنے والے ریوڑ، غرض تجارت کے ہر قسم کے مال میں زکاۃ فرض ہے۔
[القواعد الدورانية:ص 135]
مال تجارت سے زکاۃ ادا کرنے کا طریقہ:
سال گزرنے پر جب زکاۃ ادا کرنی ہو تو آدمی کو چاہئے کہ وہ نقدی جو اس کے پاس موجود ہے، اور وہ سامان تجارت جو اس کی دکان یا کارخانے یا گودام وغیرہ میں فروخت کیلئے یا خام مال کی صورت میں موجود ہے، اس کی قیمت کا اندازہ کر کے جمع کر لے۔ اس کے ساتھ وہ قرض بھی جو اس نے کسی سے لینا ہے، اور آسانی سے اس کے ملنے کی امید ہے۔ جمع کر لے پھر اگر کسی کا قرض ادا کرنا ہے، تو وہ اس رقم میں سے نکال دے۔ باقی جو کچھ بچے اس میں سے اڑھائی (2.5) فیصد کے حساب سے زکاۃ ادا کردے۔
مسئلہ:1
جس قرض کے واپس ملنے کی امید نہ ہو اس میں ہر سال زکاۃ نہیں ہے، کیونکہ وہ اس کے پاس موجود مال کے حکم میں نہیں ہے ، جب وہ واپس ملے تو اس میں سے ایک سال کی زکاۃ ادا کر دے۔
مسئلہ:2
دکان یا کارخانے کی عمارت، مشینری، فرنیچر اور الماریاں وغیر و جن کی خرید و فروخت نہیں کی جاتی ان پر زکاۃ نہیں ہے۔ اسی طرح گاڑیوں یا کرایہ پر چلنے والی دوسری چیزوں کی قیمت پر زکاۃ نہیں ہے۔ البتہ زکاۃ ادا کرتے وقت دوسرے مال کے ساتھ ان سے حاصل ہونے والے مال کی بھی زکاۃ ادا کی جائے گی ۔
ہاں دکان، مکان، گاڑی، مشینری یا کوئی بھی چیز جو تجارت کے لئے ہو اس کی قیمت کا اندازہ کر کے ہر سال زکاۃ ادا کرنا ہوگی۔
زمین کی پیداوار کی زکاۃ(عشر)
عشر کے متعلقہ چند ایک آیات واحادیث:
چوتھی چیز جس میں سے اللہ کا حق نکالنا فرض ہے، وہ زمین کی پیدوار ہے۔ اس کے متعلق چند آیات واحادیث درج کی جاتی ہیں بعد میں ان سے حاصل ہونے والے مسائل ملاحظہ فرمائیں:
① اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّآ أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ….
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کرو جو تم نے کمائی ہیں اور ان میں سے بھی جو ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالی ہیں۔
[البقرة:267]
② اور فرمایا:
وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَ جَنَّـٰتٍۢ مَّعْرُوشَـٰتٍۢ وَغَيْرَ مَعْرُوشَـٰتٍۢ وَٱلنَّخْلَ وَٱلزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَـٰبِهًۭا وَغَيْرَ مُتَشَـٰبِهٍۢ ۚ كُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثْمَرَ وَءَاتُوا۟ حَقَّهُۥ يَوْمَ حَصَادِهِ…
اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کیے چھپروں پر چڑھائے ہوئے اور نہ چڑھائے ہوئے اور کھجور کے درخت اور کھیتی، جن کے پھل مختلف ہیں اور زیتون اور انار ایک دوسرے سے ملتے جلتے اور نہ ملتے جلتے۔ اس کے پھل میں سے کھائو، جب وہ پھل لائے اور اس کا حق اس کی کٹائی کے دن۔
[الانعام:141]
③ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
فيما سقت السماء والعيون أو كان عثريا العشر وما سقي بالنضح نصف العشر ..
وہ زمین جسے آسمان (بارش کا پانی) یا چشمہ سیراب کرتا ہو۔ یا وہ خودبخود نمی سے سیراب ہو جاتی ہو، تو اس کی پیداوار سے دسواں حصہ لیا جائے اور وہ زمین جسے کنویں سے پانی کھینچ کر سیراب کیا جاتا ہو تو اس کی پیداوار سے بیسواں حصہ لیا جائے۔
[صحیح بخاری:1483]
④ اور رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
ليس فيما أقل من خمسة أوسق صدقة..
زمین کی پانچ وسق سے کم پیداوار میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
[صحیح بخاری:1484]
ان آیات اور احادیث سے ثابت ہونے والے چند مسائل
ہر قسم کے پھل اور جنس پر زکاۃ فرض ہے:
زمین میں پیدا ہونے ہر پھل اور کھیتی میں سے اللہ کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔ خواہ وہ ایسے باغات ہوں جن کی بیلیں چھتوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔مثلا،انگور اور توری وغیرہ یا ایسے باغات جن کی بیلیں زمین پر پھیلتی ہوں۔مثلا، خربوزہ ،تربوز،گرما وغیرہ یا ایسے پھلدار درخت ہوں،اور اپنے تنّے پر قائم ہوں۔ مثلا،کجھور،زیتون،انار وغیرہ یا کوئی بھی کھیتی ہو۔زمین سے پیدا ہونے والے ہر پھل اور کھیتی میں سے اللہ کا حق نکالنا فرض ہے۔اور مال میں اللہ کا سب سے بڑا حق زکاۃ اور عشر ہے۔رسول اللہﷺ کے فرمان کے مطابق بھی بارش، چشموں اور نہروں سے سیراب ہونے والی ہر فصل میں عشر اور پانی کھینچ کر سیراب کی جانے والی ہر فصل میں نصف عشر ہے۔اس سے کوئی فصل مستثنی نہیں ہے۔
بعض علماء کہتے ہیں کہ سبزیوں میں اور پھلوں میں زکاۃ نہیں جن کا ذخیرہ نہ ہوسکتا ہو۔مثلا،پھل اور سبزیاں وغیرہ اور دلیل کے طور پہ ترمذی کی روایت ،،ليس في الخضراوات صدقة،، پیش فرماتے ہیں،اور خضروات میں سبزیاں ،ناشپاتی،آڑو،انار و غیر و شامل کرتے ہیں ۔
مگر یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں، امام ترمذی اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں، اس حدیث کی سند صحیح نہیں اور اس مطلب کی کوئی حدیث نبی ﷺ ثابت نہیں۔
[سنن ترمذی:638]
قرآن مجید میں ہر قسم کے باغوں اور کھیتوں کا ذکر فرما کر اور زیتون اور انار کا نام لے کہ اللہ کا حق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حالانکہ انار کا ذخیرہ نہیں کیا جاتا۔ اور زکاۃ سے بڑھ کر اللہ کا حق کیا ہوسکتا ہے۔
مولانا حافظ محمد اسحاق شیخ الحدیث مدرسہ غزنو یہ لاہور لکھتے ہیں؟
بعض لوگوں نے چار چیزوں گندم، جو، کھجور،اور منقی سے عشر بتایا ہے۔ اور دلیل میں وہ احادیث نقل کی ہیں، جن میں ان ہی چار چیزوں کے نام آتے ہیں، مگر ہ و احادیث مرسل منقطع، یا انتہائی کمزور ہونے کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہیں، ائمہ حدیث نے انہیں قبول نہیں کیا۔ اس لئے ان لوگوں کا یہ مسلک صحیح نہیں قرآن وحدیث کے عموم کی ان ضعیف حدیثوں سے تخصیص نہیں ہو سکتی۔
اس کے برعکس امام داؤد ظاہری فرماتے ہیں، کہ زمین سے پیدا ہونے وان ہر چیزسے (جو آمدنی کا ذریعہ ہو) زکاة واجب ہے۔ لیکن جس چیز میں ناپ تول جاری ہوتا ہو اس میں عشر کے لیے نصاب شرط ہے۔ اور جو چیزيں ناپ تول میں نہیں آتیں ان میں فلیل کثیر میں عشرواجب ہے۔غرباء کی ضروریات اور امراء کے تزکیہ نفس و مال پیش نظرصحیح اور احوط معلوم ہوتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی،،وهذا نوع من الجمع،،کہہ کر اس مذھب کی ترجیح پر اطمینان کا اظہار فرمایا ہے، اور دور حاضر کے ممتاز علماء نے بھی اسے راجح قرار دیا ہے۔ چنانچہ مولانا عبید اللہ صاحب رحمانی اپنی تصنیف (مرعاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح 6/83) میں فرماتے ہیں: وأرجح هذه الأقوال، وأقواها عندي قول داود الظاهري،
میرے نزدیک ان اقوال میں سے داؤد ظاہری کاقول زیادہ راجح اور قوی ہے،
ایسے ہی مؤلف التعلیقات السلفیّہ علی النسائي(1/281)کابھی اسی طرف رجحان ہے۔
حافظ اسحاق صاحب کاکلام ختم ہوا ۔(فتاوی علماء اھل حدیث:7/56)
میں (عبد السلام) کہتا ہوں فتاوی علمائے حدیث (122/7) میں مولا نا شرف الدین محدث نے قرآن وحدیث کے دلائل کے ساتھ ہر قسم کے غلے پھل اور سبزی میں صدقہ ضروری قرار دیا ہے اس مسئلہ میں انکی تحریر قابل دید ہے۔
،،فقه الزكاة،، کے مصنف ڈاکٹر یوسف القرضاوی کا موقف بھی یہی ہے۔
[فقه الزكاة:1/355]
مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ابو حنیفہ اس بات کی طرف گئے ہیں، کہ ہر اس چیز میں سے زکاۃ واجب ہے،جس سے مقصود زمین کی آمدنی حاصل کرنا ہو۔ خواہ وہ غلہ ہو یا پھل ہوں یا فواکہ یا سبزیاں یا اس کے علاوہ ہو جبکہ مقصد زمین سے آمدنی لینا ہو۔ عمر بن عبد العزیز، ابو بردہ بن ابی موسی ، حماد اور نخعی سے بھی یہی مروی ہے، داود ظاہری کا قول بھی یہی ہے اور ابن العربی ( مالکی ) نے بھی اس کو قوی قرار دیا ہے۔فخر رازی کا میلان بھی اسی طرف ہے۔
اور ہمارے شیخ المشائخ علامہ (عبداللہ) غازی پوری کا مختار قول بھی یہی ہے۔
[ترجمه مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح كتاب الزكاة شرح حديث:1828]
اس کے بعد مولانا رحمانی رحمہ اللہ نے اس قول کے دلائل بیان فرمائے ہیں، اور اس سے پہلے حدیث:1809 کی شرح میں اس قول کو اپنے نزدیک سب سے راجح قرار دیا ہے۔
نصاب:کتنا غلہ ہو تو عشر ادا کرنا ضروری ہے:
مدینہ میں غلہ وغیرہ کو تولنے کا رواج نہیں تھا بلکہ صاع (ٹوپہ) کے ساتھ ماپنے کا رواج تھا۔ اس لئے رسول اللہﷺ نے نصاب (یعنی) وہ کم از کم مقدار جس پر صدقہ فرض ہوتا ہے، ماپ کے حساب سے ہی مقرر فر مایا۔ چنانچہ فرمایا: کہ پانچ وسق سے کم میں صدقہ نہیں ہے۔ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، پانچ وسق تین سو صاع ہوئے۔ موجودہ اوزان کے لحاظ سے اس کی مقدار کیا ہے؟ اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔
یہ بات تو ظاہر ہے کہ صاع (ٹوپہ) میں کوئی جنس بھاری ہوگی تو زیادہ آئے گی مثلا ،،گندم،، اور ہلکی ہوگی تو کم آئے گی مثلا،، جو،، اس لئے وزن کے لحاظ سے یہ مقدار اندازا ہی ہو سکتی ہے۔
یہ بات معروف ہے کہ رسول اللہﷺ کے صاع کا وزن پانچ رطل اور ایک رطل کا تیسرا حصہ ہے۔ برصغیر کے عام علماء صاع کا وزن دوسیر گیارہ چھٹا نک اور پانچ وسق کا وزن بیس من بیان فرماتے ہیں۔ چالیس کلوفی من کے لحاظ سے یہ مقدار (18) من تیس کلو تقریبا ہوگی، اور صاع اڑھائی کلو ہوگا۔
ہمارے استاذ حافظ محمد صاحب گوندلوی رحمہ اللہ صاع کا وزن سوّا دو سیر،، اور پانچ وسق کا وزن سولہ من پینتیس سیر بیان فرماتے تھے، تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ اس کے مطابق کلو کے لحاظ سے صاع کاوزن دو کلو ایک سو گرام ہو گا۔ اور نصاب چھ سوتیس (630)کلو بنتا ہے (یعنی) پندرہ من تیس کلو۔
فقہ الزکاة کے مصنف ڈاکٹر محمد یوسف القرضاوی کی تحقیق یہ ہے کہ نبی ﷺ کا صاع جو (1/3-5)رطل کے برابر تھا ، کلو گرام کے لحاظ سے اس کا وزن دو کلو اور ایک سو چھہتر گرام بنتا ہے۔ اس کے مطابق گندم میں سے پانچ وسق کا وزن(653) کلو ہوگا، (یعنی) 16 من تیره کلوگرام۔ مشہور سعودی عالم شیخ محمد بن صالح بن عثیمین نے اپنی کتاب مجالس شہر رمضان میں پانچ وسق کا وزن عمد ہ گندم کے لحاظ سے (612) کلو بیان فرمایا ہے۔ جو پندرہ من بارہ(12) کلو بنتا ہے۔
صاع کی مقدار معلوم کرنے کا ایک سادہ سا طریقہ لغت عرب کی مستند لغات قاموس وغیرہ میں موجود ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ایک صاع میں چار،،مد،، ہوتے ہیں۔ ایک درمیانے قد اور جسم کے آدمی کی دونوں کفنیں ملا کر بھر جائیں تو یہ ایک مد ہوتا ہے۔ چار دفعہ اس کے برابر ہو تو ایک صاع ہوگا۔
شيخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ اور سعودی عرب کے دوسرے بڑے بڑے مفتیان نے اپنے فتاوی میں یہی طریقہ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ کہ صدقہ فطر ادا کرنا ہو تو دونوں ہتھیلیاں ملا کر چار دفعہ بھر کر غلہ دے دیں ۔
مفتی عبد الرحمان الرحمانی قاضی شرعی عدالت مرکز الدعوة والارشاد اپنے رسالہ ،،مسائل عشر پر تحقیقی نظر،،فرماتے ہیں کہ میں نے خود اپنے کئی معتبر ساتھیوں کے ساتھ مل کر تجربہ کیا تو ایک،،مد،،میں زیادہ سے زیادہ پانچ سو (500)گرام گندم آسکی، چنانچہ ایک صاع دو کلو کے برابر ہوگا ۔
عبد السلام بن محمد کہتا ہے کہ میں نے بھی اس کا تجربہ کیا ہے ایک مد میں نصف کلو کے قریب ہی گندم آتی ہے۔ اس لحاظ سے پانچ وسق (300 صاع) چھ سو کلو گندم یعنی پند رہ من کے برابر ہوں گے۔ جو شخص مزید اطمینان چاہے وہ خود دونوں ہاتھوں سے ماپ کر تجربہ کر سکتا ہے۔
شیخ محمد بن صالح عثیمین کا قول چھ سو بارہ(612) کلو بھی اس کے بالکل قریب ہے۔ ان کے تجربہ کے مطابق ایک صاع دو کلو چالیس گرام کے برابر ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ احتیاط اسی میں ہے، کہ کوئی بھی جنس اگر چھ سو کلو گرام (چالیس کلو فی من کے لحاظ سے 15 من) کو پہنچ جائے تو اس میں سے عشر ادا کرنا ہوگا۔
زمین کی پیداوار میں سے کتنی زکاۃ ادا کی جائے؟
ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث او پر گزر چکی ہے، کہ جو فصل بارش یا چشموں سے سیراب ہو یا ایسے درخت ہوں جو اپنی جڑوں سے پانی چوس کر نشو و نما پار ہے ہوں ان میں دسواں حصہ ہے۔ اور جسے پانی کھینچ کر سیراب کیا جائے اس میں دسویں حصے کا نصف یعنی بیسواں حصہ ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
فيما سقت الأنهار والغيم العشور، وفيما سقي بالسانية نصف العشر.
جس (کھیتی) کو دریا کا پانی یا بارش سیراب کرے ان میں عشر (دسواں حصہ) ہے اور جس کو اونٹ (وغیرہ کسی جانور کے ذریعے) سے سیراب کیا جائے ان میں نصف عشر (بیسواں حصہ) ہے۔
[صحيح المسلم:981]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ،رسول اللہﷺ نے فرمایا: جسے دریا یا چشمے کے پانی نے سینچا ہو، اس میں دسواں حصہ ہے اور جسے رہٹ کے پانی سے سینچا گیا ہو اس میں بیسواں حصہ ہے۔
[سنن ابی داؤد:1597]
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ بارانی زمین چشمے یا نہروں سے سیراب ہونے والی زمین کی فصل سے اور اپنی جڑوں سے خود بخود پانی حاصل کرینے والے درختوں میں آمدنی سے دسواں حصہ(یعنی) 10/1 حصہ(دس فیصد) صدقہ نکالنا فرض ہے۔ اور جانوروں یا ٹیوب ویل کے ذریعے پانی کھینچ کرسیراب کی جانے والی زمین میں اس سے (نصف) یعنی 20/1 حصہ (پانچ فیصد) نکالناضروری ہے۔ جب وہ نصاب کو پہنچ جائے ۔
موجودہ سرکاری نہروں سے سیراب ہونے والی زمینوں کا عشر:
یہ بات تو ظاہر ہے کہ چشمے یا دریا سے پانی لانے کے لئے نہر یا نالے بنانے پر خرچ بھی ہوتا ہے، اور مشقت بھی۔ لیکن یہ مشقت چونکہ ایک ہی دفعہ کرنی پڑتی ہے، اس کے بعد اس کی دیکھ بھال پر نسبتا معمولی خرچ اور معمولی مشقت ہوتی ہے۔ اس لئے اس میں زیادہ صدقہ مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی دس من میں سے ایک من ۔ اس کے برعکس جانوروں کے ذریعے یا ٹیوب ویل کے ذریعے جب بھی فصل سیراب کی جائے مشقت بھی ہوتی ہے اور خرچہ بھی۔ اس مشقت اور خرچہ کا اعتبار کرتے ہوئے کم صدقہ مقرر کیا گیا ہے یعنی بیس من میں سے ایک من۔
موجودہ نہروں کے متعلق اہل علم میں اختلاف ہے۔
① ایک موقف یہ ہے کہ حکومت اگر سر کاری نہروں کے بنانے اور بعد میں دیکھ بھال کا خرچہ ہی لیتی تو اس میں دسواں حصہ ہی فرض ہوتا۔ مگر حکومت کے یہ اخراجات عرصہ دراز ہوا پورے ہو چکے، اب وہ با قاعدہ پانی فروخت کرتی ہے ۔ اس لئے اس پانی کا حکم وہی ہوگا جو ٹیوب ویل یا کنویں کے پانی کا ہے۔ کیونکہ زمیندار دونوں پانی خرید کر لگاتا ہے، قیمت کے کم یا زیادہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا، اس لئے موجودہ نہروں کے پانی سے سیراب ہونے والی زمین میں سے بھی بیس من میں سے ایک من نکالنا ہوگا ۔ قریب کے دور کے علماء میں سے حافظ عبد اللہ روپڑی اور مولا نا داؤد غزنوی رحمہم اللہ کا یہی موقف ہے۔ جامعہ محمد یہ گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث حافظ عبد المنان نور پوری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں ۔
② دوسرا موقف یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ، جو فصل بارش یا چشموں یا نہروں سے سیراب ہواس میں ،،عشر،، ہے۔ کا تقاضا یہی ہے کہ پاک و ہند کی نہروں سے سیراب ہونے والی زمینوں میں عشر (دسواں حصہ) ہو۔ کیونکہ یہ نہریں دریاؤں اور چشموں سے نکل کر آتی ہیں، ان میں کہیں بھی کنونیں یا ٹیوب ویل یا جھلار کی طرح پانی کھینچنا نہیں پڑتا، اور یہ معلوم ہے کہ چشموں اور دریاؤں کے پانی سے سیراب کرنے کی صورت یہی ہے، کہ ان چشموں اور دریاؤں سے نالے وغیر ہ کھود کر زرعی زمین تک لائے جائیں ۔ اگر نا لے وغیرہ خود کھودیں تب بھی مشقت کرنا پڑے گی، اور مزدوروں سے کھدوائیں تو اس صورت میں بھی کھدوائی دینا پڑے گی ۔ مگر شریعت نے اس میں عشر ہی مقرر فرمایا ہے۔ خواہ وہ نالے قریب سے آئیں یا دور سے۔ سرکاری نہروں پر جو آبیانہ لیا جاتا ہے وہ کنویں یا ٹیوب ویل یا جھلار پر اٹھنے والے اخراجات اور مشقت کے مقابلے میں بالکل معمولی ہے۔ اور سرکاری نہروں کی ایک دفعہ کھدائی کے اخراجات کے بعد ان کی حفاظت اور مرمت وغیرہ پر مسلسل اخراجات ہوتے ہیں۔ اس پانی کو گھڑے کے پانی کی طرح خریدا ہوا پانی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ یہ نہریں اجتماعی طور پر پوری قوم کی ملکیت ہیں۔اور عوام کی سہولت کے لئے حکومت آب پاشی کے نظام کا اہتمام کرتی ہے۔ اگر زمیندار ان نہروں کا خود اہتمام کریں تو انہیں بھی وہ نہریں اور نالے قائم اور درست رکھنے کیلئے ہر سال مشقت اور خرچ کرنا پڑے گا ۔ اس لئے سرکاری نہروں سے پکنے والی فصل پر (عشر) دس من میں سے ایک من ہی دینا پڑے گا ۔ یہ موقف مولانا حافظ عبداللہ غاز پوری رحمہ اللہ کا ہے ۔ جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث حافظ عبد العزیز اور ان کے والد مرحوم حافظ احمد اللہ صاحب کا فتوی او عمل بھی یہی ہے۔ مرکز الدعوة والارشاد کے قاضی شرعی مفتی عبد الرحمان الرحمانی نے اپنے رسالہ،،مسائل عشر پر تحقیقی نظر،، میں یہی لکھا ہے احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے اور مجھے بھی یہیں درست معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
سوال: فصل پر اٹھنے والے اخراجات مثلا کھاد، بجلی کے بل،سپرے،ہل،گہائی، مزدوری وغیرہ نکال کر عشر دیا جائے گا یا کل پیداوار سے ادا کیا جائے گا؟
جواب: اللہ تعالی نے زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار سے اپنا حق نکالنے کا حکم دیا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّا اخْرَجْنَا لَكُمُ من الأرض..
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو خرچ کرو پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے۔
[البقرة:267]
رسول اللہﷺ کے زمانہ میں بھی یقینا فصل کاشت کرنے، اس کی نگہداشت اور کٹائي، گہائی، وغیرہ پر مشقت اور پیسہ خرچ ہوتا تھا۔ مگر آپﷺ نے ان اخراجات کو وضع کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ہاں پانی کی مشقت کا خیال رکھا ہے اور اس کے لئے بھی ایک جامع حکم دیا ہے، کہ اگر پانی بارش چشموں یا نہروں کا ہے، تو دس من میں سے ایک من، اور اگر کنویں یا ٹیوب ویل یا جھلا رو غیرہ سے کھینچ کرلایا گیا ہے۔ تو بیس من میں سے ایک من ہے۔ کل فصل میں سے پانی کے اخراجات نکال کر باقی میں سے عشر کی اجازت نہیں دی۔
یہ درست ہے کہ آج کل کھاد اور سپرے وغیرہ کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، مگر اللہ کے فضل سے اس نسبت سے آمدنی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے حاصل ہونے والی کل جنس سے عشر ادا کیا جائے گا۔
سوال: حصے پر لی ہوئی زمین کی آمدنی کے عشر کا کیا طریقہ ہے؟
جواب: جو زمین حصے پر لی جائے اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا عشر مالک اور مزارع دونوں اپنے اپنے حصے میں سے ادا کریں گے، بشرطیکہ ان کا حصہ نصاب کو پہنچ جائے۔
سوال: ٹھیکے والی زمین میں عشر زمین کا مالک ادا کرے گا یا کاشت کرنے والا؟
جواب: ٹھیکے والی زمین سے حاصل ہونے والی فصل کا مالک چونکہ کاشت کار ہے، اس لئے اس کا عشر کاشت کار کو ہی دینا پڑے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں اور ہم نے زمین میں سے تمہارے لئے جو کچھ نکالا ہے اس میں سے خرچ کرو۔
[البقرة:267]
رہا زمین کا مالک جس نے زمین کرائے (ٹھیکے) پر دی ہے، اسے جو رقم ملے اگر اس کے پاس پہلے اتنی رقم ہے، جو زکاۃ کے نصاب کو پہنچتی ہے، تو ٹھیکے کی رقم کو بھی اس کے ساتھ شامل کر لے، جب پہلے مال کی زکاۃ کا وقت آئے تو جتنا مال موجود ہو اس میں سے اڑھائی(2.5) فیصد کے حساب سے زکاۃ ادا کرے۔ اور اگر اس سے پہلے وہ نصاب کا مالک نہیں، اور ٹھیکے میں اتنی رقم ملی ہے جو نصاب کوپہنچتی ہے، تو اس پر سال گزرنے کی صورت میں زکاۃ ادا کرے گا۔ اگر پہلے ہی خرچ ہو جائے تو اس کے ذمے کچھ نہیں۔
سوال: کاشتکار ٹھیکے پر لی ہوئی زمین کی آمدنی کا عشر ٹھیکہ ادا کرنے کے بعد باقی ماندہ جنس میں سے ادا کرے گا یا کل آمدنی میں سے؟
جواب: (وَ مِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الأَرْضِ) کے حکم کے مطابق ٹھیکے کی رقم وضع کئے بغیر زمین سے نکلنے والی ساری آمدنی میں سے عشر ادا کرے گا۔
سوال: اگر کاشتکار نے قرض لے کر ٹھیکہ ادا کیا ہو یا ابھی اس کے ذمے ہو اور زمین سے جتنی فصل حاصل ہوئی ہے سب ٹھیکے میں جارہی ہو تو اسے عشر ادا کرنا پڑے گا یا نہیں؟
جواب: اگر زمین کی آمدنی کے علاوہ اس کے پاس اتنا مال موجود ہے جس میں سے وہ ٹھیکہ یا ٹھیکے کے لئے لیا ہوا قرض ادا کر سکتا ہے تو اسے زمین سے حاصل ہونے والی ساری آمدنی کا عشر ادا کرنا ہوگا۔کیونکہ اللہ تعالی نے زمین سے نکلنے والی ساری آمدنی میں سے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن اگر اس کے پاس زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی کے علاوہ کسی قسم کا کوئی مال نہیں جس سے وہ ٹھیکہ ادا کر سکے تو اس پر عشر فرض نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
( أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ)
اللہ تعالی نے مسلمانوں پر صدقہ فرض فرمایا ہے ۔ جو ان کے اغیاء سے لیا جائے گا اور ان کے فقراء پر لوٹایا جائے گا ۔
[صحیح البخاری:4347]
معلوم ہوا صدقہ اغنیاء پر فرض ہے، جس شخص کا سارا مال قرض میں جارہا ہو وہ غنی نہیں بلکہ فقیر ہے، اور فقیر پر صدقہ فرض نہیں ہے۔
(لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا)
اور اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ۔
[البقرة:286]
سوال: سرکاری مالیہ، لگان، آبیانہ اور دوسرے ٹیکس نکال کر باقی ماندہ میں سے عشر ادا کرے گایا ان کے نکالنے سے پہلے کل آمدنی میں سے عشر ادا کرے؟
جواب: آبیانہ نکالنے کی اجازت تو ہرگز نہیں کیونکہ حکومت وہ نہروں نالوں کے اخراجات کے طورپر لیتی ہے۔اگر زمیندار خود انتظام کرتا تو اسے بھی یہ اخراجات کرنے پڑتے دوسرے ٹیکس حکومت کا ظلم ہے۔ مگر عشر کل آمدنی میں سے ہی ادا کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ، (وَ مِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الأَرْضِ) کے حکم کے تحت عشر زمین سے حاصل ہونے والی کل فصل پر ہوتا ہے۔ اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے تو سب سے پہلے تمام آمدنی میں سے اللہ تعالیٰ کا حق (یعنی) عشر ادا کیا جائے ۔باقی ٹیکس وغیر ہ بعد میں ادا کئے جائیں۔ کیونکہ یہ ٹیکس زمین پر ہیں اور عشر آمدنی پر ہے۔ خلفاء رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں جو زمینیں فتح ہوئیں اور کفار کے قبضے میں رہنے دی گئیں ان پر خراج لیا جاتا تھا۔ اب اگر وہ زمین کوئی مسلمان خریدے یا وہ کافر مسلمان ہو جائے تو زمین خراجی ہونے کی وجہ سے زمین کا خراج بھی دینا پڑے گا اور آمدنی میں سے عشر بھی دینا پڑے گا۔
ائمہ ثلاثہ کا یہی فتوی ہے۔ فتاوے علمائے حدیث میں مولانا عبید اللہ مبارکپوری، مولانا عبد الرحمان مبارکپوری اور بہت سے علماء کا یہی فتوی نقل کیا گیا ہے۔
عشر ادا کرنے کا طریقہ:
زکاۃ اور عشر میں اصل یہی ہے کہ حکومت اسلامیہ اسے جمع کرنے اور تقسیم کرنے کا اہتمام کرے۔ اگر حکومت کفار کی ہو یا ایسے مسلمانوں کی ہو جو زکاۃ جمع کرنے کا اہتمام نہ کرتے ہوں تو مسلمانوں کو جس قدر ہو سکے اجتماعیت کا اہتمام کرنا چاہئے۔ پھر اسلامی حکومت یا مسلمانوں کے نظام زکاۃ کا اہتمام کرنے والے ادارے جن زرعی جنسوں کا عشر لینے کا اہتمام کریں وہ انہیں ادا کرنا چاہئے۔ اور جن جنسوں کا عشر لینے کا کسی وجہ سے اہتمام نہ کریں ،مثلا، ان کے پاس انکے سنبھالنے کا انتظام نہ ہو سکتا ہو جیسے سبزیاں اور تازہ پھل وغیرہ تو ان کا عشر کا شتکار کو خود ادا کرنا چاہئے۔ چاہے تو ان پھلوں اور سبزیوں کا دسواں یا بیسواں حصہ مستحقین میں تقسیم کر دے ،بشرطیکہ وہ ضائع نہ ہو۔ کیونکہ نبیﷺ نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اور اگر چاہے تو ان کو فروخت کر کے قیمت کا دسواں یا بیسواں حصہ مستحقین کو دے دے۔
زكاۃ و عشر کن لوگوں پر خرچ کئے جائیں؟
قرآن مجید میں اللہ عز وجل نے صدقات خرچ کرنے کی آٹھ جگہیں بیان فرمائی ہیں:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ.
صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
① فقراء:
جن کے پاس کچھ نہ ہو یہ مسکین سے بھی بدتر حالت والے لوگ ہیں جو کمائی کر ہی نہیں سکتے۔
② مساكين:
وہ لوگ جن کی آمدنی ان کے اخراجات سے کم ہو جیسا کہ موسی اور خضر علیہما السلام کے واقعہ میں فرمایا: کہ کشتی چند مساکین کی ملکیت تھی، جو سمندر میں کام کرتے تھے۔ کشتی کا مالک ہونے اور کام کرنے کے باوجود انہیں مساکین کہا گیا۔ مسکین کی مزید تشریح کے لئے زکات فطر کے آخر میں دیکھیں ۔
③ والعاملين عليها:
زكاة وعشر جمع کرنے پر مامور لوگ خواہ اسے جمع کرنے والے ہوں یا تقسیم کرنے والے یا اس کا حساب رکھنے والے۔ غرض زکاۃ و عشر کے کسی بھی شعبہ میں کام کرنے والے ہوں۔ امیر انہیں ان کے کام کی جتنی مزدوری دے ،لے سکتے ہیں خواہ وہ غنی ہوں کیونکہ یہ ان کے کام کی مزدوری ہے۔
④ والمؤلفة قلوبهم:
وہ ضعیف الایمان مسلمان جن کی دلجوئی اور مالی اعانت نہ کی جائے، تو ان کے اسلام سے منحرف ہونے کا خطرہ ہو یا ایسے مائل بہ اسلام کا فر جن کی مالی اعانت سے ان کے اسلام قبول کر لینے کی امید ہو ۔ بعض لوگوں کے خیال میں دور حاضر میں اس مد میں خرچ کرنا جائز نہیں مگر صحیح یہی ہے کہ اب بھی ان لوگوں پر خرچ کیا جائے گا بلکہ شاید اب اس کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ ہے کیونکہ مسیحی مشنریاں روپے کے زور پر لوگوں کو عیسائی بنا رہی ہیں۔
⑤ وفي الرقاب:
گردنیں چھڑانے میں، (یعنی) غلاموں کو آزاد کروانے میں صدقات خرچ کئے جائیں، خواہ ان کی پوری قیمت ان کے مالکوں کو ادا کر کے آزاد کروایا جائے۔ یا مکا تبت یعنی (قسطوں میں اپنی قیمت ادا کر کے آزاد کر دیئے جانے کے معاہدہ) کی صورت میں قسطوں کی ادائیگی میں مدد کی جائے۔
وہ مسلمان جو کفار کی قید میں ہوں، ان کا فدیہ بھی ،،وفی الرقاب،، میں آتا ہے ۔ اس طرح اگر کوئی بے گناہ مسلمان قید ہے،تو اسے قید سے چھڑوانے میں خرچ کرنا بھی ،،وفی الرقاب ،، میں داخل ہے۔
⑥ والغارمين:
اس سے مراد وہ مقروض ہیں، جن پر اتنا قرض چڑھ گیا ہو، جس کے ادا کرنے کی سکت ان میں نہ ہو۔
ان کی تین قسمیں ہیں۔
① ایک وہ جنہوں نے اپنی ذاتی ضرورتوں یا کاروبار کے لئے قرض لیا مگر ادا کرنے کے قابل نہ رہے ۔
② دوسرے وہ جن کے مال کی نا گہانی آفت مثلا، سیلاب آ جانے یا آگ لگنے یا چوری ہو جانے سے برباد ہو گئے اور وہ قرض کےبوجھ تلے دب گئے۔
③ تیسرے وہ جنہوں نے صلح کروانے کے لئے کی رقم یا دیت وغیرہ کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھائی یا کسی مقروض کی ضمانت دی، جس پر انہیں تاوان پڑ گیا۔ ان تمام صورتوں میں زکاۃ خرچ کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ اس نے وہ قرض کسی گناہ کے کام کے لئے نہ لیا ہو ۔ ہاں تو بہ کرلے تو اسکی امانت کی جائے گی۔ اگر کوئی شخص مقروض فوت ہو جائے، اور قرض ادا کرنے کے لئے کچھ نہ چھوڑے تو زکاة کی مدد سے اس کا قرض ادا کیا جا سکتا ہے۔
⑦ وفي سبيل الله:
بعض لوگ اس سے نیکی کا ہر کام مراد لیتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ پورا اسلام ہی سبیل اللہ یعنی اللہ کا راستہ ہے۔ مگر اس مقام پر اس سے نیکی کا ہر کام مراد نہیں۔ ورنہ فقراء مساکین وغیرہ کو الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی،وہ سب بھی فی سبیل اللہ ہیں۔ بلکہ یہاں فی سبیل اللہ سے مراد اللہ تعالی کی راہ میں لڑنے والے ہیں۔ کیونکہ قرآن وحدیث میں فی سبیل اللہ کا لفظ یا تو عام معنی میں آیا ہے۔ جس سے مراد اسلام اور اللہ کی رضا کا راستہ ہے۔ یا پھر جہاد فی سبیل اللہ کے لئے ۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ۔
صدقات و عشر،ان فقراء کے لئے ہیں جو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں روکے گئے ہیں۔
[سورۃ البقرۃ:273]
اسی طرح ،وانفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة، میں بھی جہاد مراد ہے۔ جیسا کہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے صراحت فرمائی۔
[سنن ابی داؤد:2512]
صحیح بخاری کتاب الزکاۃ میں ہے خالد بن ولید کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا:
(إن خالدا احتبس أدراعه في سبيل الله)
خالدنے اپنی زرہیں اور جنگی ساز و سامان فی سبیل اللہ وقف کر رکھا ہے۔
[صحیح البخاری:1468]
اس لئے مفسرین نے یہاں فی سبیل اللہ سے مراد جہاد اور قتال ہی لیا ہے،چنانچہ امام قرطبی فرماتے ہیں:
وهم الغزاة، وهذا قول أكثر العلماء، وهو تحصيل مذهب مالك رحمه الله.
اس سے مراد لڑنے والے ہیں اور اکثر علماء کا قول یہی ہےاور امام مالک کے مذہب کا حاصل بھی یہی ہے۔
[تفسير القرطبي:8/185]
اس سے مراد لڑنے والے ہیں، اور اکثر علماء کا قول یہی ہے اور امام مالک کے مذہب کا حاصل بھی یہی ہے۔
(بداية المجتهد) میں ہے:
(وأما في سبيل الله: فقال مالك: سبيل الله مواضع الجهاد والرباط وبه قال أبو حنيفة. وقال غيره: الحجاج والعمار. وقال الشافعي: هو الغازي جار الصدق)
فی سبیل اللہ کے متعلق مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے مراد جہاد اور رباط (دشمن کے مقابلے میں چھاؤنی ڈال کر بیٹھنے) کی جگہیں ہیں۔ ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا۔ اور شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے مراد وہ غازی ہے جو اس صدقہ کے پڑوس میں ہو ۔
[بداية المجتهد:2/39]
معالم میں ہے:
أراد بها الغزاة فلهم سهم من الصدقة،
اس سے مراد غازی لئے ہیں ان کے لئے صدقہ کا ایک حصہ ہے۔
[مختصر تفسير البغوي المسمى بمعالم التنزيل:4/381]
شيخ المفسرین ابن جریر طبری فرماتے ہیں:
فإنه يعني: وفي النفقة في نصرة دين الله وطريقه وشريعته التي شرعها لعباده، بقتال أعدائه، وذلك هو غزو الكفار.
(یعنی) فی سبیل اللہ سے مراد اللہ کے دین، اس کے راستے، اور اس کی شریعت میں خرچ کرنا ہے۔ جو اس نے اپنے بندوں کے لئے اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لئے مقرر فرمائی ہے اور وہ کفارسے جنگ ہے۔
[تفسير الطبري جامع البيان:ط دار التربية والتراث:14/319]
فی سبیل اللہ کی تفسیر میں ابن کثیر نے فرمایا:
فمنهم الغُزاة الذين لا حق لهم في الديوان.
ان میں وہ غازی بھی شامل ہیں جن کا دیوان میں حصہ نہیں ہے۔
[تفسير ابن كثيرط ابن الجوزي:4/308]
ابن کثیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا ہے کہ فی سبیل اللہ میں حج کرنے والے بھی شامل ہیں۔
خلاصہ یہ کہ یہاں فی سبیل اللہ سے مراد اسلام کی سربلندی کے لئے جہاد و قتال کرنے والے لوگ ہیں۔ اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں، جو کسی بھی طرح د نیا میں اسلام کو غالب اور کفر کو مغلوب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خواہ وہ دلیل و برھان کے ساتھ ہو، یا ہاتھ اور زبان کے ساتھ ۔ البتہ اس مد کا اولین مصداق وہی لوگ ہیں، جو کفار سے لڑائی میں مصروف ہیں، یا کفار کے خلاف لڑائی کے کسی بھی شعبہ میں شریک ہیں ۔
فائده:
غازی فی سبیل اللہ کو صدقات میں سے دینے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ فقیر یا مسکین ہو بلکہ غنی کوبھی دیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لا تحل الصدقة لغني إلا لخمسة:لغاز في سبيل الله.
کسی مالدار کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں سوائے پانچ لوگوں کے : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے،
⑧ وابن السبيل:
بعض اہل علم کے مطابق اس سے مراد وہ مسافر ہے، جو اگر چہ اپنے وطن میں غنی ہے، مگر سفر میں اس کے پاس خرچ ختم ہو گیا ہے۔ اور اس کے لئے گھر پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے مسافر پر زکاۃ خرچ کرنا جائز ہے۔
الفاظ کے عموم اور لفظ (فی) کو مد نظر رکھیں تو مسافروں کے لئے ہر قسم کی ضروریات (مثلا) سڑکوں اور آرام گاہوں اور پانی وغیرہ کے انتظام پر صدقات کی اس مد میں سے خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے صرف ان مسافروں کے ساتھ خاص کرنا جو دوران سفر فقیر کے حکم میں ہوں لفظ کے عموم کو بلا دلیل محدود کرتا ہے۔
جہاد فی سبیل اللہ کی اہمیت:
اس بات میں کسی شخص کو اختلاف کی گنجائش نہیں، کہ جہاد فی سبیل اللہ کی جتنی صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ان میں سب سے ضروری مسلمانوں کے ان علاقوں کو آزاد کروانا ہے۔ جو کفار کے قبضے میں میں خواه وہ کشمیر و هندوستان ہو یا فلسطین و ترکستان اندلس ہو یا فلپائن وشیشان اس کے لئے ہمیں ہر اس قوت سے لڑنا ہو گا، جو ہماری ایک بالشت بلکہ ایک انچ پر بھی قابض ہے، اور ہمارے مسلمان بھائیوں پر ظلم کر رہی ہے یا اس میں شریک ہے ۔ خواہ وہ یہودی ہوں یا ہندو عیسائی ہوں یا لادین جمہوری یا کمیونسٹ۔ اللہ کا حکم ہے:
وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ.
مسلمانو! ان (لڑنے والے کافروں) کو جہاں پاؤ قتل کرو اور جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے وہاں سے انہیں نکالو۔
[البقرۃ:191]
اور اس وقت تک کفار سے لڑتے رہنے کا حکم ہے جب تک تمام دنیا میں کفر مغلوب اور ایک اللہ کا دین غالب نہ ہو جائے ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ.
اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہوجائے
[الانفال:39]
صدقات کے جو مصارف اللہ تعالی نے بیان فرمائے ہیں، ان تمام میں بقدر ضرورت زکاۃ و عشر کو خرچ کرنا چاہئے ۔ مگر حالات کے مطابق جس مد میں زیادہ ضرورت ہو اس کا زیادہ خیال رکھنا چاہئے۔
اہل علم کا اتفاق ہے کہ جب کفار سے جہاد شروع ہو اس وقت مجاہدین کی ضروریات کا خیال رکھنا ہر ضرورت سے زیادہ ضروری ہے، کیونکہ اللہ نہ کرے اگر ان کو شکست ہوئی یا پسپائی اختیار کرنا پڑی تو فقرا ء و مساکین اور دوسرے مستحقین کو ان کے فقر و مسکنت کے باوجود آزادی کی جو نعمت میسر ہے وہ بھی چھن جائے گی۔
زکاۃ الفطر یا صدقہ فطر
صدقہ فطر کے متعلقہ چند ایک احادیث:
فطر کا معنی روزہ کھولنا یا روزہ نہ رکھنا ہے۔ ماہ رمضان کے روزے پورے ہونے پر ہر مسلمان کی طرف سے ایک صاع غلہ صدقہ کرنا فرض ہے۔ اس لئے اسے زکاۃ الفطر یا زکاۃمضان کہا جاتا ہے۔ اس کے متعلق چند احادیث اور ان کے بعد ان سے ثابت ہونے والے مسائل درج کئےجاتے ہیں:
① عن ابن عباس ، قال:فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين، من أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة، ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ،رسول اللہﷺ نے صدقہ فطر صائم کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے، لہٰذا جو اسے (عید کی) نماز سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہو گا اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا۔
[سنن ابی داؤد:1609]
② عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال:فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد, والحر, والذكر, والأنثى, والصغير, والكبير من المسلمين، وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ، رسول اللہ ﷺ نے فطر کی زکوٰۃ (صدقہ فطر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دی تھی۔ غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر۔ آپﷺ کا حکم یہ تھا کہ نماز (عید) کے لیے جانے سے پہلے یہ صدقہ ادا کر دیا جائے۔
[صحیح البخاری:1503]
وفي رواية قال ابن عمر: فجعل الناس عدله مدين من حنطة.
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو لوگوں نے گندم کے دو مد اس (جو) کے ایک صاع کے برابر قرار دے لیے۔
[صحیح المسلم:984]
③ قال اءت السمراء يبلماء کا قول یہی ہےاور امام مالک کے مذہب کا حاصل بھی یہی ہے۔عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: كنا نعطيها في زمان النبي صلى الله عليه وسلم صاعا من طعام أو صاعا من تمر أو صاعا من شعير أو صاعا من زبيب، فلما جاء معاوية وجاءت السمراء، قال: أرى مدا من هذا يعدل مدين.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ، نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں صدقہ فطر ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو یا ایک صاع زبیب (خشک انگور یا خشک انجیر) نکالتے تھے۔ پھر جب معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں آئے اور گیہوں کی آمدنی ہوئی تو کہنے لگے میں سمجھتا ہوں اس کا ایک مد دوسرے اناج کے دو مد کے برابر ہے
[صحیح البخاری:1508]
④ عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: وكلني رسول الله صلى الله عليه وسلم بحفظ زكاة رمضان، فأتاني آت فجعل يحثو من الطعام، فأخذته، فقلت: لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقص الحديث، فقال:إذا أويت إلى فراشك فاقرأ آية الكرسي.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ، رسول اللہﷺ نے مجھے صدقہ فطر کی حفاظت پر مقرر فرمایا۔ پھر ایک شخص آیا اور دونوں ہاتھوں سے (کھجوریں) سمیٹنے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں تجھے رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا ۔ پھر انہوں نے یہ پورا قصہ بیان کیا (مفصل حدیث اس سے پہلے کتاب الوکالۃ میں گزر چکی ہے) (جو صدقہ فطر چرانے آیا تھا) اس نے کہا کہ جب تم رات کو اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ تو آیت الکرسی پڑھ لیا کرو،
[صحیح البخاری:5010]
صدقہ فطر کن لوگوں پر فرض ہے:
صدقہ فطر مسلمانوں کےہر آزاد و غلام،مرد و عورت اور چھوٹے پر فرض ہے۔حتی کہ عید سےپہلے جو بچہ پیدا ہو اس کی طرف سے بھی فرض ہے ۔ غیر مسلم کی طرف سے یہ صدقہ فرض نہیں خواہ وہ کسی مسلمان کا باپ ہو یا بیٹا یا بیوی یا غلام ۔ (دیکھئے:حدیث نمبر 2)
گھر کا ذمہ دار اپنے زیر کفالت تمام افراد کی طرف سے صدقہ ادا کرے، جن کی خوراک اس کے ذمے ہے۔اس میں اس کے ملازم شامل نہیں وہ اپنا صدقہ خود ادا کریں گے۔
بعض لوگ صدقہ فطر فرض ہونے کے لئے شرط لگاتے ہیں، کہ آدمی اتنے مال کا مالک ہو جو زکاۃکے نصاب کو پہنچتا ہو، مگر صحیح بات یہ ہے کہ جس شخص کے پاس گھر کے افراد کے خوردونوش سے زائد غلہ موجود ہو وہ صدقہ ضرور دے ، دوسرے لوگ اسے صدقہ دیں گے، تو اس کی مسکنت کا حل بھی ہو جائے گا۔ اس کی دلیل (حدیث نمبر 2) ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر مسلمان پر یہ صدقہ فرض فرمایا ہے۔ اور ہر مسلمان کو ضرورت ہے کہ اس کے روزے لغو اور رفث سے پاک ہو جائیں ۔ ہاں اگر خود فاقے سے ہو اور کوئی اسے صدقہ بھی نہ دے جس سے وہ صدقہ ادا کر سکے تو معافی ہے۔ (ولا يُكلف الله نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا) اللہ تعالیٰ کسی پر اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔
صدقہ فطر کا مقصد:
صدقہ فطر کا مقصد یہ ہے کہ روزے دار سے کوئی نا مناسب یا بیہودہ بات ہوگئی ہو تو اس صدقے کے ذریعے معاف ہو جائے ۔اور مساکین کے کھانے پینے اور ضرورتوں کا انتظام ہو جائے۔ تا کہ وہ بھی عید کی خوشی میں شریک ہوسکیں، اور کم از کم عید کے دن انہیں کسی کے سامنے سوال کے لئے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ (دیکھئے حدیث نمبر:1)
صدقہ فطر کب ادا کیا جائے؟
صدقہ فطر کا ادا کر نا عید کی نماز پر جانے سے پہلے پہلے ضروری ہے، اگر نماز کے بعد ادا کرے گا تو صدقہ فطر ادا نہیں ہوگا ۔ (دیکھئے حدیث نمبر :1/2) بہتر یہ ہے کہ عید سے کچھ دن پہلے جمع کروا دیا جائے، تا کہ جمع کرنے والے حضرات مساکین کو پہنچا سکیں اور وہ اپنی ضرورت کی چیز یں خرید سکیں۔ رسول اللہﷺ کے زمانے میں ایسا ہی ہوتا تھا۔جیسا کہ (حدیث نمبر:4) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو زکاۃ رمضان کی حفاظت پر مقرر فرمایا اور تین راتیں شیطان چوری کے لئے آتا رہا اس سے ظاہر ہے کہ صدقہ اس سے پہلے جمع ہونا شروع ہو چکا تھا۔
صدقہ فطر ایک جگہ جمع کرنا چاہئے:
رسول اللہﷺ کا طریقہ یہی تھا کہ صدقہ فطر مسجد میں جمع ہوتا تھا اور مستحقین میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ اب بھی یہ حکومت اسلامیہ کا فریضہ ہے۔ (دیکھئےحدیث نمبر:4) اگر یہ نعمت میسر نہ ہو تو اجتماعیت کی جو صورت بھی ممکن ہو اختیار کرنی چاہئے، اور محلہ کی مسجد میں جمع کر کے عید سے پہلے پہلے صدقہ تقسیم کر دینا چاہئے۔ اگر نہ ہو سکے تو خود ہی صدقہ فطر مساکین کو دے دے۔
صدقہ الفطر کن چیزوں سے دیا جائے:
جو جنس لوگ بطور خوراک استعمال کرتے ہیں اس میں سے صدقہ الفطر ادا کیا جا سکتا ہے ۔ رسول اللہﷺ کے زمانے میں لوگ عموما جو، کھجور، منقی اور پنیر کھاتے تھے۔ اس لئے آپﷺ نے صحابہ کرام کو انہی اجناس سے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں فطر کے دن طعام کا ایک صاع دیا کرتے تھے، اور اس وقت ہمارا طعام جو کھجور منقی اورپنیر تھا۔
[صحیح بخاری:1510]
معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کے لئے آئے تو منبر پر لوگوں سے گفتگو فرمائی اور فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ شام کی گندم کے دو مد (آدھا صاع) کھجور کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تو ہمیشہ اسی طرح نکالتا رہوں گا۔ جیسے رسول اللہﷺ کے زمانے میں (ایک صاع) نکالتا تھا۔
[صحیح مسلم:985]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک صاع کھجور کے مقابلے میں آدھا صاع گندم معاویہ رضی اللہ عنہ کا اجتہاد ہے ۔ورنہ وہ یا کوئی اور صحابی رسول اللہﷺ سے یہ بات ضرور نقل فرماتے اس لئے ابو سعید خدری اور ابن عمر ہر جنس میں سے صدقہ ایک صاع ہی سمجھتے تھے۔ اور گندم کے آدھے صاع کو لوگوں کی اپنی رائے قرار دیتے تھے۔ (دیکھئے شروع میں حدیث: 3)
سنن کی بعض احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے ہر دو آدمیوں کی طرف سے گندم کا ایک صاع دینے کا ذکر بھی آیا ہے اگر چہ بعض اہل علم نے انہیں صحیح فرمایا ہے۔ مگر اکثر اہل علم کے نزدیک وہ صحیح نہیں۔
امام بیہقی فرماتے ہیں: نبیﷺ سے ایک صاع گندم دینے کی احادیث بھی آئی میں اور نصف صاع دینے کی بھی، مگر ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں۔ میں نے ان میں سے ہر ایک کی علت الخلافیات میں بیان کر دی ہے۔ اور ہمیں ابو سعید خدری اور ابن عمر رضی اللہ عنھم سے روایت پہنچی ہے کہ گندم کے نصف صاع کو جو کے صاع کے برابر نبی ﷺ کے بعد قرار دیا گیا ہے۔
[السنن الكبرى البيهقي ط العلمية:4/284 ح:7715]
مولانا عبید اللہ رحمانی نے بھی نصف صاع کی تمام مرفوع احادیث کو اہل العلم بالحدیث کے نزد یک مدخول قرار دیا ہے۔
[دیکھئے: مرعاة المفاتيح رقم حديث:1031]
اس لئے بہتر یہی ہے کہ گندم میں سے بھی ایک صاع ہی صدقہ دیا جائے۔خصوصا اس لئے کہ صحابہ نے یا اگر ثابت ہو تو رسول اللہ ﷺ نے گندم کا نصف صاع اس لئے مقرر کیا تھا۔ کہ مدینہ میں گندم کھجور سے بہت مہنگی تھی۔ ہمارے ہاں وہ کھجور سے کہیں سستی ہے اس لئے (صاعا من طعام) کے مطابق جو جنس بھی لوگوں کا طعام ہو اس میں سے ایک صاع صدقہ فطر دینا چاہئے خواہ گندم ہو یا ،جو، یا مکئی ہو یا چاول یا چنے ہوں یا جوار باجرہ وغیرہ۔
صاع کی مقدار:
صاع تولنے کا پیمانہ نہیں بلکہ ماپنے کا پیمانہ ہے جسے پنجابی میں (ٹو پہ) کہتے ہیں ۔ ایک صاع میں چار ،مد، ہوتے ہیں، پنجابی میں ،مد،کو پڑوپی کہا جاتا ہے۔ ظاہر ہے صاع سے ماپی جانے والی ہر جنس کا وزن ایک نہیں ہوسکتا، بلکہ جو جنس بھاری ہوگی وہ زیادہ آئے گی جیسا کہ گندم یا چاول ہیں اور جو ہلکی ہوگی وہ کم آئے گی مثلاً جو یا مکئی ہے ۔ ،،رسالہ الزکاۃ،، کے مصنف ڈاکٹر عبداللہ بن محمد الطیار نے اپنا تجربہ لکھا ہے ،کہ گندم اور جو کے وزن میں (23:28) کی نسبت ہوتی ہے۔
کتب احادیث میں رسول اللہﷺ کے صاع کا اندازہ پانچ رطل اور ایک رطل کا تیسرا حصہ بیان ہوا ہے، جو اگرچہ عام طور پر ڈھائی کلو مشہور ہے۔ مگر تحقیق یہ ہے کہ وہ گندم میں سے دو کلو سے زیادہ نہیں، کیونکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ ایک صاع میں چار ،مد، ہوتے ہیں ۔
(مَدَّ يَمُدُّ مَدًّا) کا معنی پھیلانا ہے ،عربی لغت کی معروف و معتبر کتاب قاموس میں لکھا ہے:
"الصاع أربعة أمداد، كل مد رطل وثلث، والرطل في:قال الداوودي: معياره الذي لا يختلف: أربع حفنات بكفي الرجل الذي ليس بعظيم الكفين ولا صغيرهما، إذ ليس كل مكان يوجد فيه صاع النبي، صلى الله عليه وسلم. انتهى. وجربت ذلك فوجدته صحيحا،
یعنی، صاع کے چار مد ہوتے ہیں۔ ہر مد ایک رطل اور تہائی رطل ہوتا ہے (صاع پانچ رطل اور تہائی رطل) داودی نے فرمایا: کہ اس کا معیار جو مختلف نہیں ہوتا ایسے آدمی کے دونوں ہاتھوں کی چار لپیں ہیں، جس کی ہتھیلیاں نہ بڑی ہوں نہ چھوٹی ، کیونکہ ہر ایک جگہ میں رسول اللہﷺ کا صاع نہیں مل سکتا۔ صاحب قاموس فرماتے ہیں:میں نے اس کا تجربہ کیا تو اسے صحیح پایا (یعنی ایسی چار لپیں پانچ رطل اور تہائی رطل کے برابر ہوتی ہیں)۔
[القاموس المحيط:ص:739]
اسلام دین فطرت ہے اور اس کے مقرر کردہ پیمانے بھی سادہ اور فطری ہیں ۔ سعودی عرب کے مشہور مفتی شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ اور انکے ساتھ کبار العلماء کے اراکین نے یہی فرمایا ہے کہ صدقہ فطر ادا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ معتدل ہاتھوں والا آدمی دونوں ہاتھوں کی لپیں چار دفعہ بھر کر دے دے۔
یہ مقدار ہمارے تجربہ کے مطابق گندم میں سے دو کلو ہے۔ ہر شخص خود بھی تجربہ کر سکتا ہے۔ ملکی جنسوں کا وزن اس سے بھی کم ہوگا۔ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔
صدقہ الفطر میں غلہ کی بجائے قیمت ادا کرنا:
رسول اللہﷺ نے صدقہ فطر طعام میں سے ایک صاع مقرر فرمایا ہے۔ جس طرح بکریوں میں سے بکریاں اور اونٹوں سے اونٹ مقرر فرمائے ہیں۔ اس لئے جس شخص کے پاس گندم، چاول، آٹا مکئی یا کوئی بھی جنس موجود ہو، جو اس کی خوراک ہے اسے اس جنس میں سے ہی صدقہ فطر ادا کرنا چاہئے۔ اس کی قیمت نہیں دینی چاہئے کیونکہ رسول اللہﷺ کا حکم یہی ہے، کہ طعام کا ایک صاع صدقہ فطر دیا جائے۔
البتہ اگر کسی کے گھر میں طعام کی جنس موجود نہ ہو تو جو جنس وہ بطور خوراک استعمال کرتا ہے مثلا گندم ،چاول وغیرہ اس کی قیمت ادا کر دے۔ اس کیلئے خرید کر دینا ضروری نہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس شخص کے ذمے بنت لبون (دو سالہ اونٹنی) صدقے میں دینا ہو مگر اس کے پاس بنت مخاض (ایک سالہ اونٹنی) ہو تو اس سے وہی لے لی جائے، اور وہ اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں ادا کر دے ۔
[صحیح بخاری:1453]
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے،،باب العرض في الزكاة،، میں زکاۃ قیمت کی صورت میں ادا کرنے کے اور دلائل بھی ذکر فرمائے ہیں۔
صدقہ الفطر کن لوگوں کو دیا جائے:
جیسا کہ حدیث: (1) میں گزرا ہے: (زَكَاةُ الفِطْرِ طُعْمَةٌ لِلْمَسَاكِينِ) ہے اس لئے یہ مساکین میں ہی تقسیم کرنا چاہئے، مسکین کے متعلق رسول اللہﷺ نے فرمایا:
ليس المسكين الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان، ولكن المسكين الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن به فيتصدق عليه ولا يقوم فيسأل الناس۔
مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
[صحیح بخاری:1479]
اگر دیکھا جائے تو ہمارے گرد و پیش ایسے بے شمار سفید پوش لوگ موجود ہیں، جن کی یہ حالت ہے اس لئے صدقہ فطر ا نہی لوگوں کا حق ہے۔ پھر ان میں سے بھی ان فقراء کا حق سب سے زیادہ ہے، جو اللہ کی راہ میں طلب علم اور جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف ہیں۔ اور اس مصروفیت کی وجہ سے کوئی کاروبار نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا..
(یہ صدقات) ان محتاجوں کے لیے ہیں جو اللہ کے راستے میں روکے گئے ہیں، زمین میں سفر نہیں کرسکتے، ناواقف انھیں سوال سے بچنے کی وجہ سے مال دار سمجھتا ہے، تو انھیں ان کی علامت سے پہچان لے گا، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے،
[البقرۃ:273]
زکاۃ اورعشر کے علاوہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہئے:
یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ زکاۃ وعشر ادا کر دینے کے بعد بھی آدمی کے مال میں کچھ حقوق باقی رہتے ہیں، جن کا ادا کرنا ضروری ہے۔ مثلاً اگر کسی شخص کے پاس مال ہے، اور اس کے والدین ضرورت مند ہیں، تو اس پر ان کی ضروریات پوری کرنا فرض ہے۔ اسی طرح مہمان کی ضیافت فرض ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں زکاۃ ادا کر چکا ہوں، اس لئے مجھ پر والدین کی خدمت یا مہمان کی مہمان نوازی لازم نہیں ہے ۔ والدین کے علاوہ رشتہ داروں ، مسکینوں ،یتیموں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
اگر اس کا ہمسایہ بھوکا ہے، اور اس کے پاس مال موجود ہے تو اس کے لئے سیر ہو کر کھانا جائز نہیں خواہ وہ زکاۃ ادا کر ہی چکا ہو ۔
کفار سے لڑائی کے وقت اگر مجاہدین کو ضرورت ہو تو اسے پورا کرنا ہر اس مسلمان پر لازم ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔
مال مویشیوں والے لوگوں پر زکاۃ کے علاوہ حاجت مندوں کو کچھ نہ کچھ دودھ وغیرہ دے دینا بھی ان کے مال میں اللہ کا حق ہے۔
باغات اور فصلوں میں سے آنے جانے والوں اور مساکین کو کچھ نہ کچھ دے دینا اللہ کا حق ہے۔
سورہ قلم میں اللہ تعالی نے ایک باغ والوں کا قصہ ذکر فرمایا ہے، جو مساکین کو کچھ دینے سے بخل کرتے ہوئے علی الصبح پھل توڑنے کے ارادے سے چلے جب وہاں پہنچے اور دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے آسمانی آفت کے ذریعے پہلے ہی سارا باغ نیست و نابود کر دیا تھا۔ اس لئے صحابہ کرام اپنی کھجوروں کے پھلوں میں سے ایک آدھ خوشہ مسجد میں لاکر لٹکا دیتے تھے تا کہ فقراء مہاجرین تازہ پھل کھا لیں۔
اس لئے ہمیں زکاۃ و عشر ادا کرنے کے بعد بھی اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے رہنا چاہئے ۔ کیونکہ ہمارا حقیقی مال وہی ہے جو ہم نے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا۔
اور ہم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے اس سے ہمارے مال میں دنیا میں اضافہ ہو گا،اور آخرت میں بھی وہ ہمارے لئے ذخیرہ بنے گا۔ اس سلسلہ کی آیات واحادیث عام معروف ہیں۔