زکوٰۃ کے پیسے سے مدرسہ بنا کر مسجد تعمیر کرنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، جلد 1، صفحہ 312
مضمون کے اہم نکات

سوال

پلاٹ رقبہ اس نیت سے خریدا گیا تھا کہ یہاں مدرسہ قائم ہو، بچے تعلیم حاصل کریں، اور ضرورت کے وقت عید کی نماز اور جلسے وغیرہ بھی منعقد ہوں۔ یہ پلاٹ زکوٰۃ کی رقم سے خریدا گیا اور اس پر تعمیر بھی زیادہ تر زکوٰۃ کی رقم سے ہوئی۔ اس کے علاوہ قربانی کے مویشیوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بھی اسی پر خرچ کی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ:
کیا اس عمارت کو گرا کر یہاں مسجد تعمیر کی جا سکتی ہے؟ براہِ کرم اس کا فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت کے ساتھ بیان کریں۔ مزید یہ بھی بتائیں کہ یہ مسئلہ پاکستان اور بیرون ملک دونوں جگہوں کے لیے یکساں ہے یا مختلف؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

◄ چونکہ یہ پلاٹ زکوٰۃ کی رقم سے خریدا گیا اور اس کی تعمیر بھی اسی مد سے ہوئی ہے، لہٰذا اس پر مسجد تعمیر نہیں ہونی چاہیے۔
◄ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد سے امیر و غریب سبھی فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ زکوٰۃ صرف انہی لوگوں پر خرچ کی جا سکتی ہے جو اس کے مستحق ہیں۔ اغنیاء (مالدار افراد) چونکہ زکوٰۃ کے مستحق نہیں، اس لیے اس مصرف پر زکوٰۃ خرچ کرنا درست نہیں۔

بعض اہلِ علم کی رائے

◄ بعض علماء نے مسجد کو "فی سبیل اللہ” کے مصرف میں شامل کر کے اس کے جواز کا قول کیا ہے۔
◄ لیکن حقیقت میں یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی۔
◄ اگر "فی سبیل اللہ” کا مفہوم اتنا وسیع ہوتا کہ ہر خیر کے کام کو شامل کر لیتا، تو قرآن میں دیگر مصارف کو الگ الگ بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ رہتی۔

احادیث کی روشنی

سنن ابو داؤد وغیرہ میں مروی روایات کی بنیاد پر علماء کی ایک جماعت نے "مصرف فی سبیل اللہ” کو صرف جہاد اور حج و عمرہ تک محدود قرار دیا ہے۔

موجودہ صورتِ حال کا حل

◄ اگر اس مقام پر مسجد بنانا انتہائی ناگزیر ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے:

➊ اس موجودہ عمارت کی بازاری قیمت لگائی جائے۔
➋ اس قیمت سے مدرسہ کسی دوسری جگہ تعمیر کیا جائے۔
➌ پھر اس جگہ پر مسجد بنائی جا سکتی ہے۔

◄ یا پھر یہ قیمت لے کر مستحقینِ زکوٰۃ پر تقسیم کر دی جائے۔

مقام کی حیثیت

◄ یہ مسئلہ خواہ پاکستان میں ہو یا بیرون ملک، دونوں کے لیے یکساں ہے۔
◄ کیونکہ شریعت کے احکام زمان و مکان کی تبدیلی سے تبدیل نہیں ہوتے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب