مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

زکوٰۃ کی رقم بطور ہدیہ واپس لینے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ ارکان اسلام

اپنی ہی دی ہوئی زکوٰۃ بطور ہدیہ قبول کرنے کا حکم

سوال

جب کوئی شخص اپنی زکوٰۃ کسی مستحق کو دے دے اور وہ مستحق بعد میں اسی زکوٰۃ کی رقم کو بطور ہدیہ اسی شخص کو واپس کر دے، تو کیا وہ اس ہدیہ کو قبول کر سکتا ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کوئی شخص کسی مستحق کو زکوٰۃ ادا کرے، پھر وہ مستحق اسی رقم کو بطور تحفہ (ہدیہ) مزکی کو واپس دے دے، تو ایسی صورت میں اس تحفے کو قبول کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے، بشرطیکہ:

◈ دونوں کے درمیان اس معاملے میں پہلے سے کوئی خفیہ سازش یا منصوبہ بندی نہ ہو۔

◈ زکوٰۃ کی رقم واپس لینے کی نیت پہلے سے نہ ہو۔

تاہم زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ مزکی اس ہدیہ کو قبول نہ کرے تاکہ شبہات سے بچا جا سکے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔