مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

زکوٰۃ کمزور ایمان والوں کو دی جا سکتی ہے؟ مکمل وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام

سوال

کیا کسی کمزور ایمان والے شخص کے ایمان کو تقویت پہنچانے کے لیے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، خواہ اس کو اپنی قوم کی سرداری نہ بھی حاصل ہو؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس بارے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، مگر میری نظر میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ایسے کمزور ایمان والے شخص کو، اگرچہ وہ اپنی قوم کا سردار نہ بھی ہو، زکوٰۃ دی جا سکتی ہے تاکہ اس کا دل اسلام کی طرف مائل ہو اور اس کا ایمان مضبوط ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف میں "مؤلفة القلوب” کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ جیسے ہم کسی فقیر کو اس کی جسمانی ضروریات پوری کرنے کے لیے زکوٰۃ دیتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی شخص کمزور ایمان کا شکار ہے تو اس کے ایمان کو تقویت دینے کے لیے زکوٰۃ دینا بھی جائز ہے، کیونکہ انسانی زندگی میں ایمان کی مضبوطی، جسمانی غذا سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔