زکوٰۃ کا مال مسجد کے اخراجات میں خرچ کرنا کیسا؟

ماخوذ : فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 190

سوال

کیا مالِ زکوٰۃ کو مسجد کے کاموں میں خرچ کیا جا سکتا ہے؟
کیا مالِ زکوٰۃ سے مسجد کے لیے جائیداد خریدنا، عمارت تعمیر کرنا، امام و مؤذن کو تنخواہ یا انعام دینا، یا روزہ داروں کو کھانا کھلانا جائز ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  • ✿ زکوٰۃ کا مال مسجد کے کسی بھی کام پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔
  • ✿ اس مال سے اذان دینے والے یا امام کو اجرت یا انعام دینا بھی درست نہیں۔
  • ✿ اسی طرح، مالدار روزہ داروں کو اس مال سے افطار کرانا بھی جائز نہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے