زوال کے بعد شوال کا چاند دیکھنے کی گواہی اور اس کا حکم
عبید اللہ طاہر حفظ اللہ

زوال کے بعد دو اشخاص کا شوال کا چاند دیکھنے کی گواہی دینا
❀ «عن رجل من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم قال: اختلف الناس فى آخر يوم من رمضان، فقدام أعرابيان، فشهدا عند النبى صل الله عليه وسلم بالله لأهلا الهلال أمس عشية، فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس أن يفطروا. زاد خلف فى حديثه،: وأن يغدوا إلى مصلاهم). »
ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں میں رمضان کے آخری دن کے سلسلے میں اختلاف واقع ہو گیا (یعنی کچھ لوگ تیس رمضان کہتے تھے اور کچھ یکم شوال)، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو دیہاتی حاضر ہوئے اور اللہ کا نام لے کر گواہی دی کہ ہم نے کل شام چاند دیکھا ہے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو روزہ کھول دینے کا حکم دیا۔ خلف نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی حکم دیا کہ کل کو سب لوگ عید گاہ میں (نماز ادا کرنے کے لیے) چلیں۔ [سنن ابو داود 3339، صحيح]

❀ «عن أبى عمير بن أنس، عن عمومة له من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، أن ركبا جاءوا إلى النبى صلى الله عليه وسلم يشهدون أنهم رأوا الهلال بالأمس، فأمرهم أن يفطروا، وإذا أصبحوا أن يغدوا إلى مصلاهم»
ابو عمیر بن انس نے اپنے چچاؤں سے سنا جو کہ صحابہ میں سے تھے کہ چند سوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گواہی دی کہ گزشتہ رات انہوں نے چاند دیکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ کھول دیں اور کل صبح کو عید گاہ چلیں۔ [سنن ابوداود 1157، سنن نسائي 1557، سنن ابن ماجه 1653، حسن]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1