زنا کے ثبوت کیلئے ایک اقرار یا چار؟ فقہی اختلاف اور تحقیق

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

اس کا ایک مرتبہ اقرار کرنا بھی کافی ہے اور مختلف واقعات میں جو تکرار کا ذکر ہے وہ صرف جرم کی تحقیق کے مقصد سے تھا
اس کے دلائل حسب ذیل ہیں ۔
➊ حدیث نبوی ہے کہ :
واغد يا أنيس إلى امرأة هذا فإن اعترفت فارجمها
”اے انیس ! صبح کو اس کی بیوی کے پاس جانا اور اگر وہ اعتراف (زنا) کر لے تو اسے رجم کر دینا ۔“
[بخاري: 2147 ، كتاب الوكالة: باب الوكالة فى الحدود]
➋ غامد یہ عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے صرف ایک مرتبہ اقرار کے ساتھ ہی رجم کر دیا ۔
[مسلم: 1695 ، كتاب الحدود: باب من اعترف على نفسه بالزني]
➌ خالد بن لجلاج اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اس کے صرف ایک مرتبہ اقرار کرنے پر ہی رجم کر دیا ۔
[حسن: صحيح ابو داود: 3728 ، كتاب الحدود: باب رجم ماعز بن مالك ، أبو داود: 4435 ، احمد: 379/3]
➍ ایک عورت نے کسی مرد کے خلاف اپنے ساتھ جبراََ زنا کا دعوی کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کا حکم دے دیا پھر ایک دوسرے آدمی نے کھڑے ہو کر اعتراف کر لیا کہ میں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے کہا کہ جاؤ تمہیں اللہ تعالیٰ نے بخش دیا ہے اور پہلے آدمی کو اچھی بات کہہ کر رخصت کر دیا اور اعتراف کرنے والے کو رجم کرنے کا حکم دے دیا ۔
[حسن: صحيح ترمذي: 1175 ، كتاب الحدود: باب ما جآء فى المرأة إذا استكرهت على الزنا ، ترمذي: 1454 ، ضعيف ترمذي: 243 ، ابو داود: 4379 ، بيهقي: 284/8 ، شيخ البانيؒ نے آخري رجم كے حكم كے علاوه باقي حديث كو حسن قرار ديا هے۔]
(ابو حنیفہ ، احمدؒ ) چار مرتبہ زنا کا اقرار کرنا شرط ہے ورنہ حد ساقط ہو جائے گی ۔
(شافعیؒ ، مالکؒ) ایک مرتبہ اقرار ہی کافی ہے ۔
[الأم للشافعي: 133/6 ، المبسوط: 91/9 ، المغنى: 354/12]
(صدیق حسن خانؒ) ایک مرتبہ اقرار کافی ہے ۔
[الروضة الندية: 580/2]
(نوویؒ) ماعز أسلمی سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیے وہ محض تحقیق و تفتیش کے لیے تھے ۔
[شرح مسلم: 215/6]
(شوکانیؒ) ایک مرتبہ اقرار کافی ہے ۔ اور جن احادیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز اسلمی سے بار بار دریافت کیا وہ محض معاملے کی تحقیق پر مبنی ہیں ۔ وہ سوال اس لیے نہیں تھے کہ ان سے تکرار کا شرط ہونا ثابت ہو جائے اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غامدیہ عورت کو ایک مرتبہ اقرار پر کبھی رجم نہ کرتے ۔
[نيل الأوطار: 545/4]
(راجح) امام شوکانیؒ کا موقف برحق ہے کیونکہ چار مرتبہ اقرار اگر شرط ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا خود بھی کرتے اور اس کا حکم بھی دیتے ۔
ماعز اسلمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں سوال کیے تھے۔
هل بك جنون؟
”کیا تو پاگل ہے ۔“
[بخاري: 5271 ، كتاب الطلاق: باب الطلاق فى الإغلاق والكره والسكران والمجنون وأمرهما]
أشرب خمرا؟
”کیا اس نے شراب پی رکھی ہے؟ ۔“
[مسلم: 1695 ، كتاب الحدود: باب من اعترف على نفسه بالزني]
لعلك قبلت أو غمزت أو نظرت؟
”شاید تونے بوسہ لیا ہو یا اشارہ کیا ہو یا محض دیکھا ہی ہو؟ ۔“
[بخاري: 6824 ، كتاب الحدود: باب هل يقول الإمام للمقر لعلك لمست أو غمزت ، احمد: 238/1]
چار گواہوں کا ہونا ضروری ہے ، اور یہ بھی ضروری ہے کہ اقرار اور شہادت میں ایک شرمگاہ کے دوسری شرمگاہ میں دخول کی صراحت موجود ہو
➊ ارشاد باری تعالی ہے کہ :
وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِن نِّسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا [النساء: 15]
”تمہاری عورتوں میں سے جو بے حیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو ، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو حتٰی کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے ۔“
➋ ایک اور آیت میں ہے کہ :
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ………….. الخ [النور: 4]
”جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں انہیں اسی (80) کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو کیونکہ یہ فاسق لوگ ہیں ۔“
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل تحقیق کے لیے ماعز اسلمی سے سوال کیا تھا کہ :
لعلك قبلت أو غمزت أو نظرت
”شاید تو نے بوس و کنار کیا ہو یا ہاتھا پائی کی ہو یا محض دیکھا ہی ہو؟“
اس نے کہا، نہیں اے اللہ کے رسول ! آپ نے دریافت کیا ، کیا تو نے اس سے جماع کیا ہے؟ آپ کنایۃ نہیں کہہ رہے تھے ۔ اس نے اثبات میں جواب دیا پھر آپ نے اسے رجم کا حکم دیا ۔
[احمد: 238/1 ، بخاري: 6824 ، ابو داود: 4427]
➋ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ماعز أسلمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ کے پاس آئے تو انہوں نے چار مرتبہ اعتراف زنا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ ہی منہ پھیر لیا ۔ جب انہوں نے پانچویں مرتبہ اقرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو نے اس سے جماع کیا ہے اس نے کہا ہاں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ :
كما يغيب المرود فى المكحلة والرشاء فى البثر
”جیسے سرمہ دانی میں سلائی اور کنوئیں میں رسی ہوتی ہے“
تو اس نے کہا ہاں پھر اسے رجم کرنے کا حکم دیا گیا ۔
[ضعيف: ضعيف ابو داود: 952 ، كتاب الحدود: باب رجم ماعز بن مالك ، إرواء الغليل: 2354 ، الضعيفة: 2957 ، ابو داود: 4428 ، بخارى فى الأدب المفرد: 737 ، نسائي: 276/4 ، دار قطني: 196/3 ، ابن الجارود: 814 ، ابن حبان: 1513 ، بيهقي: 227/8]
اگرچہ یہ روایت کمزور ہے لیکن مذکورہ مسئلہ دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہو جاتا ہے جیسا کہ پہلی صحیح بخاری کی حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے ۔