سوال:
اگر کوئی پاگل اقرار کرے کہ میں نے زنا کیا ہے، تو کیا اس پر حد قائم کی جائے گی؟
جواب:
مجنون اگر حالت جنون میں زنا کا اقرار کرے، تو یہ اقرار معتبر نہ ہوگا، اس بنا پر اس پر حد قائم نہیں ہوگی۔
سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے: اللہ کے رسول! مجھے پاک کر دیجیے۔ انہوں نے چار بار یہی بات دوہرائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: میں تمہیں کس چیز سے پاک کروں؟ انہوں نے عرض کیا: زنا سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا اسے پاگل پن تو لاحق نہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ وہ پاگل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے شراب پی رکھی ہے؟ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس کا منہ سونگھا، لیکن شراب کی بو محسوس نہ کی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم نے زنا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا۔
(صحیح مسلم: 1695)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مجنون کا اقرار معتبر نہیں، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ماعز مجنون تو نہیں؟
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:
بين فى هذا أنه قصد إسقاط إقراره بالسكر، كما قصد إسقاط إقراره بالجنون، فدل أن لا حكم لقوله
اس حدیث میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح جنون میں کیے گئے اقرار کو کالعدم قرار دینے کا ارادہ فرمایا، اسی طرح نشے میں کیے گئے اقرار کو بھی کالعدم کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نشے کی حالت میں کہی گئی بات پر شرعی حکم لاگو نہیں ہوگا۔ (السنن الكبرى: 359/9)
❀ قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) فرماتے ہیں:
إن إقرار المجنون فى حال جنونه لا يلزم، وأن الحدود عنه حينئذ ساقطة، وهو مما أجمع عليه العلماء
اگر کوئی پاگل حالت جنون میں اقرار کرے، تو اس پر حد لازم نہ ہوگی، نیز اس سے حدود ساقط ہو جائیں گی، اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔
(إكمال المعلم: 510/5)