مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

زنا کی تہمت پر شوہر کے لیے حد قذف

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

شوہر کو حد قذف
اگر شوہر تہمت کے بعد گواہ نہیں لاتا تو اس پر حد واجب ہو گی لیکن اگر لعان کر لیتا ہے تو حد ساقط ہو جائے گی جیسا کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
البينة و الاحد فى ظهرك
گواہ لاؤ ورنہ حد لگے گی۔“
لیکن پھر جب آیات لعان نازل ہوئیں اور اس نے لعان کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے حد ساقط کر دی ۔
[بخاري: 4747 ، ابو داود: 2256 ، أحمد: 238/1]
(جمہور) اسی کے قائل ہیں۔
(ابو حنیفہؒ) اگر شوہر اپنی بیوی کو تہمت لگائے تو اس پر صرف لعان ہی لازم ہے۔
[الحاوى للماوردي: 11/11 ، المبسوط: 39/7 ، نيل الأوطار: 371/4]
(راجح) جمہور کا قول راجح ہے۔
[اللباب فى علوم الكتاب: ”تفسير القرآن“ : 303/14]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔