سوال:
زنا کا بچہ کس کی طرف منسوب ہوگا؟
جواب:
اگر عورت شادی شده ہے تو بچہ اسی کی طرف منسوب ہوگا جس کے عقد میں زانی عورت اس وقت موجود ہے۔
❀ سیده عائشہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں:
عقبه بن ابی وقاص (کافر) نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی الله عنه کو وصیت کی تھی کہ زمعه کی لونڈی کا بچہ میرے نطفه سے ہے، آپ اس کو اپنی نگہداشت میں لے لینا۔ فتح مکه کے سال سعد رضی الله عنه نے وہ بچہ اٹھا لیا اور دعوى کیا کہ یہ بچہ میرے بھائی عقبه کا ہے۔ عبد بن زمعه نے احتجاج کیا کہ یہ بچہ تو میرے باپ زمعه کی لونڈی سے میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے، لہذا میرے باپ کی اولاد ہے۔ جھگڑا رسول الله صلی الله علیه وسلم کے حضور پیش ہوا۔ سعد رضی الله عنه کہنے لگے: الله کے رسول! یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے، انہوں نے مجھے وصیت کی تھی کہ اسے اپنی پرورش میں لے لوں۔ عبد بن زمعه کہنے لگے: یہ میرے باپ کی لونڈی کا بچہ ہے اور اس نے میرے باپ کے بستر پر جنم لیا ہے، لہذا یہ میرے باپ زمعه ہی کا بیٹا ہے۔ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: عبد بن زمعه! یہ لڑکا آپ کے پاس رہے گا، پھر فرمایا: بچہ اس کا ہوگا جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی رجم ہوگا۔ نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے محسوس کیا کہ اس لڑکے کی مشابہت عقبه کے ساتھ ہے، اس لیے ام المومنین سیده سودہ رضی الله عنها جو زمعه کی بیٹی تھیں اور اس لڑکے کی بہن تھیں، سودہ رضی الله عنها کو دیکھ نہیں سکا۔
(صحيح البخاري: 2053، صحیح مسلم: 1457)
ذرا غور فرمائیں کہ اس مشابہت کے باوجود نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے نومولود کو زمعه کا بیٹا قرار دیا، حالانکہ اس کی مشابہت عقبه کے ساتھ تھی، مقصود یہ قاعده سمجھانا تھا کہ بچہ اس کی طرف منسوب ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو، البتہ زانی کو کوڑے ضرور لگیں گے۔