زمین کی تقسیم اور وراثت کا شرعی فیصلہ – مولابخش کے 16 ایکڑ کے دعویٰ پر فتویٰ

ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 578

سوال

➊ … کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سومر نے اپنی زندگی میں ہی 1960ء میں اپنی زمین اپنے تین بیٹوں ملوک، سلیمان اور گلن میں تقسیم کردی تھی۔ ہر بیٹے کو 43 ایکڑ زمین ملی۔ اس کے بعد ملوک کا انتقال ہوگیا اور 1974ء میں زمین کے کھاتے بیٹوں کے نام پر درج ہوئے۔ بعد میں محمد ملوک کا بیٹا مولابخش یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس زمین میں اس کا بھی حصہ ہے، کیونکہ اس نے الگ سے 16 ایکڑ خرید کر اپنے دادا سومر خان کے نام لگوائی تھی۔ چونکہ یہ کھاتہ اس کے دادا کے نام تھا، اس لیے یہ زمین اسے نہیں ملی۔ دوسری طرف دونوں فریقین کا کہنا ہے کہ یہ زمین دادا سومر کی ملکیت ہے۔ یہ بیانات دونوں فریقین کی موجودگی میں لیے گئے ہیں۔

➋ … میاں مولابخش دارالعلوم سے جو تحریر لے کر آیا ہے، اس میں صرف ایک فریق کا سوال ذکر کیا گیا ہے۔ جب دوسرا فریق سامنے آیا تو پھر سوال کی وضاحت ہوئی۔ اب وضاحت کے ساتھ بتائیں کہ شریعتِ محمدی کے مطابق ان 16 ایکڑ کا اصل حق دار کون ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

➊ … معلوم ہونا چاہیے کہ جب سومر خان نے 1960ء میں اپنی زمین اپنے بیٹوں میں تقسیم کردی تھی، اس وقت اگر مولابخش کے نام کوئی زمین ہوتی تو وہ اپنے دادا سے الگ لے لیتا، لیکن اس نے اس وقت بھی زمین نہیں لی۔ جب کہا گیا کہ گواہ لاؤ تو اس نے گواہ بھی پیش نہیں کیے۔ پھر جب 1960ء میں زمین تقسیم ہوگئی اور 1974ء میں کھاتے درج ہوگئے، اگر مولابخش کا کوئی حق ہوتا تو اتنے عرصے تک وہ خاموش کیوں رہا؟ اپنا حق کیوں نہ طلب کیا؟ پھر جب ورثاء نے باقاعدہ دستخط وغیرہ کیے، تبھی کھاتے درج ہوئے۔ اگر مولابخش کا حق ہوتا تو وہ دستخط نہ کرتا بلکہ گواہ پیش کرتا۔

مزید یہ کہ جس زمین کا کھاتہ درج ہے، وہ دوسری زمین ہے جو کسی دوسرے کے حصے میں آئی تھی۔ اس صورت میں اگر اس کی زمین ہے تو اسے اپنے کھاتے میں درج کروانا چاہیے تھا۔ لیکن اس زمین کا کھاتہ اس کے نام سے نہیں بنتا۔

➋ … مولابخش نے جو تحریر مدرسہ دارالعلوم سے لکھوائی ہے، اس میں سوال صرف اپنے حق اور فائدے کے مطابق لکھوایا ہے اور یہ سوال بالکل غلط ہے۔ جب سوال ہی غلط ہوگا تو اس پر دیا جانے والا جواب بھی غلط ہوجائے گا۔

نتیجہ

مذکورہ وجوہات کی بنا پر مولابخش کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ شریعتِ محمدی کے مطابق مولابخش 16 ایکڑ زمین کا حق دار نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے