مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

زمانہ رسالت میں صحابہ کرام کی تنخواہ کا معاملہ

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ علمائے حدیث، کتاب الصلاۃ، جلد 1، ص 171

سوال

کیا زمانہ رسالت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ملکی اور مذہبی خدمات (جس میں امامت کا کام بھی شامل تھا) کے لیے بیت المال سے تنخواہ دی جاتی تھی؟

جواب

زمانہ رسالت میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، جنہیں کسی علاقے میں عامل (گورنر یا امیر) بنا کر بھیجا جاتا تھا، ان کو بیت المال سے ان کی ضروریات کے مطابق خرچ فراہم کیا جاتا تھا۔ یہ خرچ ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہوتا تھا، اور اس میں کوئی خاص شرط یا تنخواہ کی تعیین نہیں ہوتی تھی۔ انہیں اتنا ہی ملتا تھا جس سے ان کا گزارا ہو سکے، اور یہ رقم کسی خاص معاوضے یا تنخواہ کی شکل میں نہیں ہوتی تھی جیسا کہ آج کے نظام میں ہوتا ہے۔

یہ بات اس خیال کے برخلاف ہے کہ صحابہ کو امامت یا ملکی امور کی ذمہ داریوں کے عوض مخصوص تنخواہ دی جاتی تھی۔ ان کو ضرورت کے تحت بیت المال سے خرچ ملتا تھا تاکہ وہ اپنے فرائض ادا کر سکیں۔

حوالہ: (مولانا عبید اللہ رحمانی، المحدث دہلی، جلد نمبر ۱، شمارہ نمبر ۳)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔