سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص زرعی بینک میں ملازم ہے، جو سود کا کاتب ہونے کے باعث لعنتی قرار دیا گیا ہے، تو اس کے رشتہ داروں کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا وہ اس سے میل جول رکھ سکتے ہیں؟ کیا اس کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
◈ اس شخص کے رشتہ داروں کو اس سے میل جول رکھنے کی اجازت ہے۔
◈ وہ اپنی طرف سے اسے کوئی چیز تحفے کے طور پر دے سکتے ہیں۔
◈ لیکن اس سے کوئی چیز لینا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے گھر کا کھانا کھانا جائز ہے۔
وجہ
◈ اس کی آمدنی حرام ذرائع سے ہے کیونکہ وہ سودی لین دین کا کاتب ہے، اور حدیث شریف میں سود لکھنے والے پر بھی لعنت وارد ہوئی ہے۔
◈ لہٰذا اس کی کمائی حرام ہے اور اس سے استفادہ کرنا بھی ناجائز ہے۔
مزید ہدایت
◈ اس شخص کو مستقل طور پر سمجھاتے رہنا چاہیے، نصیحت کرتے رہنا چاہیے یہاں تک کہ وہ سچی توبہ کرلے اور حرام روزگار کو چھوڑ دے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب