زرعی بینک ملازم سے میل جول اور کھانے پینے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: احکام و مسائل، خرید و فروخت کے مسائل، جلد 1، صفحہ 389

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص زرعی بینک میں ملازم ہے، جو سود کا کاتب ہونے کے باعث لعنتی قرار دیا گیا ہے، تو اس کے رشتہ داروں کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا وہ اس سے میل جول رکھ سکتے ہیں؟ کیا اس کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

◈ اس شخص کے رشتہ داروں کو اس سے میل جول رکھنے کی اجازت ہے۔
◈ وہ اپنی طرف سے اسے کوئی چیز تحفے کے طور پر دے سکتے ہیں۔
لیکن اس سے کوئی چیز لینا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے گھر کا کھانا کھانا جائز ہے۔

وجہ

◈ اس کی آمدنی حرام ذرائع سے ہے کیونکہ وہ سودی لین دین کا کاتب ہے، اور حدیث شریف میں سود لکھنے والے پر بھی لعنت وارد ہوئی ہے۔
◈ لہٰذا اس کی کمائی حرام ہے اور اس سے استفادہ کرنا بھی ناجائز ہے۔

مزید ہدایت

◈ اس شخص کو مستقل طور پر سمجھاتے رہنا چاہیے، نصیحت کرتے رہنا چاہیے یہاں تک کہ وہ سچی توبہ کرلے اور حرام روزگار کو چھوڑ دے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب