سوال:
زانیہ کی کمائی کا کیا حکم ہے؟
جواب:
زنا بالا جماع حرام ہے، اس کی کمائی بھی حرام ہے۔
❀ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الكلب، ومهر البغي، وحلوان الكاهن
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی کمائی، زانیہ کی اجرت اور کاہن کی کمائی سے منع کیا ہے۔
(صحيح البخاري: 2237، صحیح مسلم: 1567)
❀ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثمن الكلب خبيث، ومهر البغي خبيث، وكسب الحجام خبيث
کتے کی کمائی خبیث ہے، زانیہ کی اجرت خبیث ہے اور سینگی لگانے کی مزدوری بھی خبیث ہے۔
(صحيح مسلم: 1568)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل ثمن الكلب، ولا حلوان الكاهن، ولا مهر البغي
کتے کی کمائی حلال نہیں ہے، اسی طرح کاہن کی کمائی اور زانیہ کی اجرت بھی حلال نہیں ہے۔
(سنن أبي داود: 3484، صحيح أبي عوانة: 5273، وسنده حسن)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔
(فتح الباري: 426/4)
❀ حافظ ابن دقیق العید رحمہ اللہ (702ھ) فرماتے ہیں:
الإجماع قائم على تحريم هذين
زانیہ اور کاہن کی کمائی کے حرام ہونے پر اجماع قائم ہو چکا ہے۔
(إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام: 125/2)
❀ علامہ ابن عطار رحمہ اللہ (724ھ) فرماتے ہیں:
الإجماع قائم فى تحريم ذلك
زانیہ کی کمائی کے حرام ہونے پر اجماع ہے۔
(العدة في شرح العمدة: 1119/2)