مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

رکوع و سجدہ میں مسنون دعاؤں کے 2 شرعی احکام

فونٹ سائز:
فتاویٰ علمیہ، جلد 1، کتاب الصلاة، صفحہ 374

رکوع اور سجدے میں مختلف دعائیں پڑھنے کا حکم

سوال:

رکوع اور سجدے میں صرف ایک ہی دعا پڑھنی چاہیے یا متعدد دعائیں بھی اکٹھی پڑھی جا سکتی ہیں؟ مثلاً "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ” اور "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ…” کو ایک ساتھ پڑھنا جائز ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رکوع اور سجدے میں مسنون دعائیں پڑھنا جائز ہے، خواہ وہ ایک ہو یا متعدد دعائیں اکٹھی۔

دلائل:

رسول اللہ ﷺ نے تشہد کی دعا کے متعلق فرمایا:

"ثم ليختر من الدعاء أعجبه إليه فيدعو”
پھر وہ جس دعا کو زیادہ پسند کرے، اسے اختیار کرکے پڑھے۔
(صحیح بخاری: 835)

خلاصہ:

رکوع اور سجدے میں ایک سے زائد مسنون دعائیں اکٹھی پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ ثابت شدہ دعائیں ہوں۔ انسان کو اجازت ہے کہ وہ جو دعا چاہے، پسند کرے اور پڑھے۔
(شہادت، اگست 2000)
ھٰذا ما عندی، واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔