مضمون کے اہم نکات
منفرد کے ساتھ نماز میں شریک ہونا:
❀ تنہا آدمی نماز پڑھ رہا ہے، دوسرا شخص آئے تو وہ اس کے ساتھ مل جائے اور پہلا جماعت شروع کرا دے، یعنی جماعت کے لیے پہلے سے امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں، جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر دائیں جانب کر دیا۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إذا لم ينو الإمام: 699۔ مسلم: 763]
جماعت میں شامل ہونے کا طریقہ:
بعد میں آنے والا شخص امام کو جس حالت میں پائے، تکبیر تحریمہ کہہ کر اسی حالت میں چلا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أتى أحدكم الصلاة والإمام على حال فليصنع كما يصنع الإمام
جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے آئے اور امام کسی حالت میں ہو تو اسے وہی کرنا چاہیے جو امام کر رہا ہو۔
[ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما ذكر في الرجل يدرك الإمام: 591۔ صحیح]
بعض لوگ آتے ہیں، امام رکوع یا سجدہ میں ہو تو وہ جماعت میں شامل ہونے کے لیے امام کے کھڑے ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں، یہ غلط ہے۔ بعض لوگ پہلے دعائے استفتاح پڑھتے ہیں پھر امام والی حالت میں منتقل ہوتے ہیں، یہ بھی جائز نہیں۔
بعض لوگوں نے جماعت میں شریک ہونے کا بڑا عجیب و غریب طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جماعت کے ساتھ بیچ میں شامل ہونے والا وہی رکعت پڑھے جو امام پڑھ رہا ہے اور جو رکعات گزر گئی ہیں وہ بعد میں ادا کرے۔ مثلاً:
● دوسری رکعت میں شریک ہونے والا اس ترتیب سے نماز ادا کرے: 2-3-4-1
● تیسری رکعت میں شریک ہونے والا اس ترتیب سے نماز ادا کرے: 3-4-1-2
● چوتھی رکعت میں شریک ہونے والا اس ترتیب سے نماز ادا کرے: 4-1-2-3
یعنی شامل ہونے والا الٹی ترتیب نماز پڑھے۔ قرآن و سنت میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
یہی صحیح ہے کہ آپ جس رکعت میں بھی جماعت میں شریک ہوں، وہ آپ کی پہلی رکعت ہوگی اور باقی نماز اسی ترتیب سے مکمل کریں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فما أدركتم فصلوا وما فاتكم فأتموا
جتنی رکعات جماعت سے مل جائیں ادا کر لو اور جو رہ جائیں بعد میں پوری کر لو۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب لا يسعى إلى الصلاة وليأتها بالسكينة والوقار: 636۔ مسلم: 602]
رکوع میں ملنے والے کی رکعت:
رکوع کی حالت میں جماعت میں شامل ہونے سے وہ رکعت شمار نہیں ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فما أدركتم فصلوا وما فاتكم فأتموا
جس قدر نماز (امام کے ساتھ) پالو وہ پڑھ لو اور نماز کا جو حصہ رہ جائے وہ (امام کے سلام پھیرنے کے بعد) پورا کرو۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب لا يسعى إلى الصلاة وليأتها بالسكينة والوقار: 636۔ مسلم: 602]
اس حدیث کی رو سے جس شخص کا قیام اور سورۃ فاتحہ فوت ہو گئی، اس پر فرض ہے کہ چھوٹی ہوئی چیز کو مکمل کرے اور مکمل نہ کرنے والے کی نماز کیونکر مکمل ہو سکتی ہے؟
❀ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا:
جس کے فرائض قراءت و قیام فوت ہو جائیں اس پر لازم ہے کہ اسے مکمل کرے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (پورا کرنے کا) حکم دیا ہے۔
[جزء القراءة للبخاري: 109]
❀ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جو شخص رکوع میں شامل ہو تو اس کا قیام اور سورۃ فاتحہ کی قراءت فوت ہو گئی، جبکہ (رکعت شمار کرنے کے لیے) یہ دونوں فرض ہیں، ان کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور حدیث رسول میں حکم دیا گیا ہے کہ جو گزر جائے اس کی قضا کی جائے اور جو رہ جائے اسے (امام کے سلام پھیرنے کے بعد) پورا کیا جائے، اور ان میں سے کسی امر کی تخصیص نص شرعی کے بغیر جائز نہیں (کہ فلاں رکن کے چھوٹنے کے باوجود نماز ہو جائے گی) اور ایسی کوئی دلیل موجود نہیں۔
[المحلى، أوقات الصلاة، مسئلة جاء المأموم إلى الصلاة والإمام راكع: 389/2]
❀ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
لا يركعن أحدكم حتى يقرأ فاتحة الكتاب
سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر کوئی شخص رکوع نہ کرے۔
[جزء القراءة للبخاري: 77]
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
لا يجزيه حتى يدرك الإمام قائما
امام کو اگر رکوع جانے سے پہلے کھڑے نہ پالو تو تمھاری وہ رکعت نہ ہوگی۔
[جزء القراءة، باب وجوب القراءة للإمام والمأموم: 20۔ علامہ الألبانی نے حسن کہا ہے]
❀ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
کوئی شخص سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر رکعت شمار نہ کرے۔
[المحلى، أوقات الصلاة، مسئلة جاء المأموم إلى الصلاة والإمام راكع: 390/2]
❀ علامہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی معروف کتاب ”جزء القراءة“ میں فرمایا ہے کہ رکوع میں ملنے سے رکعت نہیں ہوتی اور یہ ہر اس شخص کا مذہب ہے جو قراءت فاتحہ خلف الامام کو واجب سمجھتا ہے اور جمہور اہل علم چونکہ قراءت فاتحہ خلف الامام کے قائل ہیں، اس اعتبار سے رکوع میں ملنے والے کی رکعت کا نہ ہونا جمہور کا مسلک ہوا۔
[دلیل الطالب على راجح المطالب: 345]
❀ علامہ عبد الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میرے نزدیک انھی کا قول راجح ہے جو کہتے ہیں کہ جو شخص امام کو رکوع میں پائے وہ اس رکعت کو شمار نہ کرے۔
[تحفة الأحوذي، السفر، باب كراهية في الرجل يدرك الإمام ساجدا]
قائلین کے دلائل:
اب میں آپ کے سامنے ان حضرات کے دلائل ذکر کرتا ہوں جو رکوع میں ملنے سے رکعت ہو جانے کے قائل ہیں، تاکہ قارئین کے لیے فریقین کے دلائل کا موازنہ کرنا آسان ہو اور مسئلہ کی اصل حیثیت جان لیں۔
پہلی دلیل:
❀ ان کی پہلی دلیل سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث ہے:
من أدرك من الجمعة ركعة فليضف إليها أخرى
جو شخص نماز جمعہ کی ایک رکعت پالے، وہ (بعد میں) ایک رکعت اور ادا کر لے۔
[الدار قطنی، کتاب الصلاة، باب فيمن يدرك من الجمعة: 179/2]
اس روایت میں نماز جمعہ کا ذکر ہے کہ جس نے نماز جمعہ کی ایک رکعت پالی اس نے جمعہ پا لیا، لہذا وہ اس کے ساتھ ایک رکعت اور پڑھ لے۔ اس روایت میں رکوع پالینے سے رکعت پانے کا ذکر ہی نہیں ہے، بلکہ اس کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن رکوع میں ملنے سے رکعت ہونے کے قائلین نے اس حدیث سے اس طرح دلیل لی ہے کہ اس کے لفظ ”ركعة“ کو رکعت کی بجائے رکوع مراد لیا ہے، حالانکہ ”ركعة“ سے مراد رکعت ہی ہوتا ہے، رکوع نہیں اور اس کی کئی وجوہ ہیں۔
احادیث میں عام طور پر ”ركعة“ سے مراد رکعت ہوتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الوتر ركعة من آخر الليل
آخر رات میں وتر ایک رکعت ہے۔
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة الليل: 752]
❀ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
فرض الله الصلاة على لسان نبيكم فى الخوف ركعة
اللہ تعالیٰ نے تمھاری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نماز فرض کی ہے خوف میں ایک رکعت ہے۔
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة المسافرين وقصرها: 1575]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أدرك ركعة من صلاة الصبح قبل أن تطلع الشمس فقد أدرك الصبح
جس نے نماز فجر کی ایک رکعت طلوع آفتاب سے پہلے پالی اس نے نماز صبح کو (بر وقت) پالیا۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب من أدرك من الفجر ركعة: 579۔ مسلم: 608]
مندرجہ بالا احادیث میں ”ركعة“ سے مراد تمام علماء نے رکعت کی ہے، ذرا یہاں رکوع مراد لے کر دیکھیں۔ اگر یہاں ”ركعة“ سے رکوع مراد لیں تو آخری حدیث میں دوسری جگہ مسلم (609) میں ”ركعة“ کی جگہ سجدہ کا لفظ آتا ہے، تو وہاں کیا کریں گے؟ اگر وہاں سجدہ مراد لیں تو ان کا مسلک ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ اس سے معنی یہ بنے گا کہ جس نے سجدہ پالیا اس نے رکعت پالی، جبکہ رکوع سے رکعت پالینے کے قائلین اس کے ہرگز قائل نہیں ہیں۔
حقیقت شرعیہ کے ہوتے ہوئے مجاز مراد لینا اصولاً غلط ہے اور یہاں کوئی ایسا قرینہ بھی نہیں جو اس معنی کی تائید کرتا ہو۔ جمہور علماء نے اس کا معنی یہی کیا ہے کہ جس نے طلوع شمس سے پہلے صبح کی ایک رکعت پالی اس نے نماز کو بروقت پالیا۔ جبکہ ”ركعة“ کو بغیر قرینے کے رکوع کے معنی مجاز میں لے کر اس سے استدلال کرنا اپنی مطلب برآری کے سوا کچھ نہیں، جو سراسر غلط ہے۔
دوسری دلیل:
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
من أدرك ركعة من الإمام قبل أن يقيم صلبه فقد أدركها
جس نے امام کے ساتھ رکعت پالی، قبل اس کے کہ وہ (رکوع سے اٹھ کر) اپنی کمر سیدھی کرے تو اس نے اس رکعت کو پا لیا۔
[ابن خزیمہ: 2/11/2، حدیث: 1595]
❀ علامہ عبید اللہ الرحمانی اور محدث ابو جعفر عقیلی رحمہما اللہ فرماتے ہیں:
اس روایت کے الفاظ قبل أن يقيم صلبه (امام کے کمر سیدھی کرنے سے پہلے) صرف یحیی بن حمید نقل کرتا ہے، اس کے ساتھیوں میں سے کسی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے۔ اور یحیی بن حمید کو امام بخاری نے مجہول قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ قرۃ بن عبد الرحمن ہے جسے امام احمد نے منکر الحدیث، بعض نے ضعیف الحدیث اور امام ابو حاتم نے غیر قوی کہا ہے۔ ثابت ہوا کہ یہ روایت قابل حجت نہیں ہے۔
[تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو جزء القراءة: 131۔ سنن الدارقطني مع التعليق: 347/1۔ المرعاة: 98/3۔ تحفة الأحوذي: 62/3]
تیسری دلیل:
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
إذا جئتم إلى الصلاة ونحن سجود فاسجدوا ولا تعدوه شيئا، ومن أدرك الركعة فقد أدرك الصلاة
جب تم نماز کے لیے آؤ اور ہم سجدہ میں ہوں، تو تم بھی سجدہ کرو اور اسے شمار مت کرو اور جس نے رکعت پالی اس نے نماز پالی۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الرجل يدرك الإمام ساجدا كيف يصنع: 893، بعد الحدیث: 888]
یہ روایت سخت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن ابی سلیمان ہے، جسے امام بخاری نے منکر الحدیث قرار دیا ہے اور امام ابو حاتم نے کہا کہ اس کی حدیث لکھی جائے گی لیکن وہ قوی نہیں۔ اس کے علاوہ یحییٰ اور زید اور ابن المقری کے درمیان انقطاع بھی ہے۔
[جزء القراءة: 108]
اس روایت میں بھی ”ركعة“ کا لفظ ہے، جس پر تفصیل سے بات ہو چکی ہے کہ اس سے مراد رکعت ہے۔ بالفرض اگر لفظ ”ركعة“ سے رکوع ہی مراد لے لیا جائے تب بھی اس حدیث سے ان کا مدعا ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ یہاں رکعت کے پانے کی بات نہیں، نماز پانے کی ہے، یعنی جس نے رکوع پا لیا (بشرطیکہ ركعة کا معنی رکوع ہو تو) اس نے نماز باجماعت پالی، جیسا کہ دوسری روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أدرك الركعة فقد أدرك الصلاة من الصلوات فقد أدركها إلا أنه يقضي ما فاته
جس نے کسی نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پالی، بشرطیکہ جو اس سے رہ گئی ہے اسے پورا کرے۔
[نسائی، کتاب المواقيت، باب من أدرك من الصلاة: 559۔ ابن حبان: 1486]
تو اس حدیث میں رکوع (بشرطیکہ ركعة کا معنی رکوع ہو) میں ملنے والے کو، جو چھوٹ گیا ہے اسے پورا کرنے کا حکم بھی دیا جا رہا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ رکوع میں ملنے سے رکعت نہیں ہوتی، بس جماعت کا ثواب یا نماز کا وقت مل جاتا ہے۔
چوتھی دلیل:
❀ چوتھی دلیل سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کا معروف واقعہ ہے، وہ خود کہتے ہیں:
أنه انتهى إلى النبى صلى الله عليه وسلم وهو راكع، فركع قبل أن يصل إلى الصف فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: زادك الله حرصا ولا تعد
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، تو میں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا۔ پھر میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص زیادہ کرے، آئندہ ایسا نہ کرنا۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إذا ركع دون الصف: 783]
یہ روایت مذکورہ مسئلہ میں واضح نہیں، جیسا کہ امام ابن حزم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے:
رہی ابو بکرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث تو اس میں قائلین رکعت کے لیے اصلاً کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ اس میں یہ ذکر نہیں کہ انھوں نے اس رکعت کو شمار کیا تھا اور نہ یہ ہے کہ انھوں نے اسے اٹھ کر نہیں پڑھا۔ لہذا اس حدیث سے ان کا تعلق ہی ختم ہو گیا۔ الحمد للہ
قائلین کے تمام دلائل میں سے ایک بھی صحیح نہیں، اگر کوئی دلیل صحیح ہے تو اس سے ان کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ ثابت ہوا کہ یہی صحیح بات ہے کہ رکوع میں ملنے سے رکعت نہیں ہوتی اور احتیاط بھی اسی میں ہے کہ وہ رکعت بعد میں کھڑے ہو کر پڑھ لی جائے۔
اس کے علاوہ قائلین رکعت میں اس مسئلہ کی وجہ سے تین احادیث کی مخالفت در آئی ہے، میں نے خود ان کا مشاہدہ کیا ہے۔ ایک یہ کہ ان کے ہاں سورۃ فاتحہ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ دوسرا یہ کہ جب امام رکوع میں چلا جائے تو وہ دوڑ کر آتے ہیں، جبکہ احادیث میں اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور تیسرا یہ کہ امام قراءت کر رہا ہو تو پیچھے کھڑے باتیں کرتے رہتے ہیں اور جب امام رکوع میں جاتا ہے تو پھر جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں، جبکہ حدیث میں حکم دیا گیا ہے کہ امام جس حالت میں ہو اس کے ساتھ شامل ہو جاؤ۔
مزید تحقیق کے لیے ملاحظہ فرمائیں الشیخ محمد منیر قمر کی کتاب ”رکوع میں ملنے والے کی رکعت“۔
جماعت کے متفرق مسائل:
جب امام سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہہ چکے تو مقتدیوں کو اس وقت رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا ركع فاركعوا، وإذا رفع فارفعوا، وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا ربنا ولك الحمد
امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ اٹھے تو تم بھی اٹھ جاؤ اور جب وہ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہہ چکے تو تم رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہو۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إنما جعل الإمام ليؤتم به: 688۔ مسلم: 411]
❀ رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ امام اور مقتدی دونوں کہیں گے اور رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ بھی امام اور مقتدی دونوں کہیں گے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے، پھر رکوع سے اٹھتے وقت: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے، پھر سیدھے کھڑے ہو کر رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہتے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب التكبير إذا قام من السجود: 789۔ مسلم: 391]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی امام ہوتے تھے اور کبھی مقتدی اور ہمیں اسی طرح نماز پڑھنے کا حکم ہے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی، لہذا امام اور مقتدی دونوں کوسَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہنے کے بعد رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہنا چاہیے۔
❀ ہر دعا اور تسبیح، جس رکن کی ہے، اس رکن میں پہنچ کر پڑھنا شروع کریں۔ بعض لوگ کسی رکن میں پہنچنے سے پہلے ہی اس رکن کی دعائیں شروع کر دیتے ہیں، مثلاً رکوع میں پوری طرح پہنچنے سے قبل ہی رکوع کی تسبیحات، سجدہ میں سر رکھنے سے پہلے ہی سجدہ کی دعائیں، یا دوسری رکعت میں سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے ہی سورۃ فاتحہ پڑھنا شروع کر دیتے ہیں، یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔