رویت ہلال کے احکام — از مبشر احمد ربانی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

رویت ہلال کے احکام :۔

چاند دیکھنا اور پھر روزہ رکھنا :۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له
بخاری کتاب الصوم : باب قول النبى اذا رايتم الهلال فصوموا (1906) ، مسلم کتاب الصیام باب وجوب صوم رمضان الرؤية الهلال (1080)
”تم روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو اور افطار نہ کرو حتیٰ کہ چاند دیکھ لو۔ اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی پوری کر لو۔“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته، فإن غمي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين
بخاری کتاب الصوم : باب قول النبى اذا رايتم الهلال فصوموا (1909) ، مسلم : (حوالہ سابق) (1081)
”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر افطار کرو اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو شعبان کی گنتی کے تیس (30) دن پورے کر لو۔“
یعنی شعبان کی انتیس تاریخ کو چاند دیکھو، اگر نظر آجائے تو دوسرے دن روزہ رکھو اور اگر نظر نہ آئے یا مطلع ابر آلود ہو تو شعبان کی گنتی پوری کرو۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
من صام اليوم الذى يشك فيه فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه وسلم
ابن ماجه کتاب الصيام: باب ما جاء في صيام يوم الشك (1640) ابو داؤد کتاب الصيام باب اذا اغمى الشهر (2334) ترمذی (686) نسائی (2190)، دارمی (1982)
”جس شخص نے اس دن (یعنی شک کے دن) کا روزہ رکھا اس نے یقیناً ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔“
واضح رہے کہ رویت ہلال کے لیے عادل و قابل اعتماد ایک شخص ہی کی گواہی کافی ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ :
تراءى الناس الهلال فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم أني رأيته فصامه وأمر الناس بصيامه
ابوداؤد کتاب الصوم : باب شهادة الواحد على رؤية هلال رمضان (2342) دارمی کتاب الصيام : باب الشهادة على رؤية هلال رمضان (2342) دار قطنی (2/156) بیهقی (4/212) ابن حبان (871)، حاکم (1/423) التلخيص الحبير (2/187)
”لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھ لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔“
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان کے چاند کی رویت کے بارے میں ایک عادل مسلمان کی گواہی کفایت کر جاتی ہے۔ اس کی تائید میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک حدیث یوں بیان کرتے ہیں :
جاء أعرابي إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقال: إني رأيت الهلال – يعني رمضان – فقال: أتشهد أن لا إله إلا الله؟ قال: نعم، قال: أتشهد أن محمدا رسول الله؟ قال: نعم، قال: يا بلال، أذن فى الناس فليصوموا غدا
ابو داؤد، کتاب الصيام : باب في شهادة الواحد على رؤية هلال رمضان (2340)، ترمذی : كتاب الصوم باب ما جاء في الصوم بالشهادة (691) نسائى كتاب الصيام باب قبول شهادة الرجل الواحد (2111) ابن ماجه كتاب الصيام، باب ما جاء في الشهادة على رؤية الهلال (1652) المنتقى لابن الجارود (379)
”ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے رمضان المبارک کا چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔“

رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے ایک فرد کی گواہی :۔

رمضان کی رویت ہلال کے لیے ایک عادل اور قابل اعتماد شخص کی گواہی کافی ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
تراءى الناس الهلال فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم أني رأيته فصامه وأمر الناس بصيامه
ابوداؤد کتاب الصوم : باب في شهادة الواحد على رؤية هلال رمضان (2342) سنن الدارمی (1698) ابن حبان (871)
”لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔“
یہ روایت نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، ابن حبان، دار قطنی، مستدرک حاکم اور طحاوی میں بھی موجود ہے لیکن اس کی سند میں سماک بن حرب از عکرمہ از ابن عباس کے طریق سے مروی ہے اور اس سند میں اضطراب ہے۔ بہر کیف میں نے بطور تائید اس کو ذکر کیا ہے وگرنہ یہ مسئلہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان المبارک کے چاند کی رویت کے بارے میں ایک مسلمان عادل شخص کی گواہی کافی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی گواہی پر خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ اس مسئلہ کی تائید ایک اور روایت سے بھی ہوتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھ لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔ لہذا ایک عادل کی گواہی پر بھی روزہ رکھ لیا جائے۔“

چاند دیکھنے کی دعا :۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب چاند دیکھتے تو کہتے :
الله أكبر، اللهم أهله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام والتوفيق لما تحب ربنا وترضى، ربنا وربك الله
سنن دارمی کتاب الصوم : باب ما يقال عند رؤية الهلال (4461)
”اللہ سب سے بڑا ہے۔ اے اللہ! تو اسے ہم پر امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع کر اور اس چیز کی توفیق کے ساتھ جس سے تو محبت کرتا ہے اے ہمارے رب اور جسے تو پسند کرتا ہے، (اے چاند) ہمارا اور تیرا رب اللہ ہے۔“
یہ روایت کثرتِ شواہد کی بنا پر صحیح ہے ملاحظہ ہو : سلسله الاحاديث الصحيحة