روزے کی حالت میں خفیہ عادت بد کا مرتکب کفارہ دے گا؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

روزے کی حالت میں خفیہ عادت بد کا مرتکب کفارہ دے گا؟

سوال :۔

میں ایک 19 سالہ نوجوان ہوں اور ایک مشکل میں مبتلا ہوں اور وہ یہ کہ میں مشت زنی کی عادت کا شکار ہوں اور روزانہ تقریبا چار مرتبہ یہ فعل کرتا ہوں یہاں تک کہ رمضان المبارک کے دوران بھی میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا، تو کیا اس وجہ سے میرے اوپر کوئی کفارہ لازم ہے یا نہیں؟

فتوی :۔

ہم آپ کو صبر کرنے کی اور صبر کی مشق کرنے کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ یہ فعل شریعت کے حکم کی رو سے حرام ہے۔ مگر یہ زنا سے کم درجے کا گناہ ہے۔ بعض علماء سلف نے ایسے شخص کے لئے جس سے زنا یا لواطت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اس کی گنجائش رکھی ہے جب کہ اس کی شہوت کسی اور طریقے سے نہ ٹوٹ رہی ہو۔ ورنہ ہم آپ کو روزے رکھنے کی نصیحت کرتے ہیں جن کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نوجوانوں کی رہنمائی فرمائی ہے جو نکاح کی ذمہ داری اٹھانے کی فی الحال طاقت نہیں رکھتے۔ پھر ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ آپ شادی کرنے کی کوشش کریں کیونکہ وہ نگاہ کو پست رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے میں مددگار ہے تو آپ جتنی طاقت رکھتے ہیں وہ ساری شادی کرنے کے لئے صرف کریں۔ عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو اس عادت بد سے چھٹکارا عطا فرمائے گا۔ جہاں تک رمضان المبارک کے دوران اس بری عادت کے ارتکاب کا تعلق ہے تو یہ روزہ کو خراب کرنے والی تو ہے مگر اس کے باعث کفارہ لازم نہیں آتا۔ پس تمہیں چاہیے کہ ان ایام کے روزوں کی قضا کر لیں جن کو آپ نے اس بری عادت سے پچھلے سال اور اس سال خراب کیا ہے اور پچھلے سال کے روزوں کی قضا کے ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلائیں اور اللہ سے سچی توبہ کریں کیونکہ توبہ پہلے تمام گناہوں کو مٹادیتی ہے۔