مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

روزے کی حالت میں بھول کر کچھ کھانا پینا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

روزہ میں بھول کر کھانا پینا
سوال : جس شخص نے روزے کی حالت میں بھول کر کچھ کھا پی لیا اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : ایسے شخص پر کچھ حرج نہیں اور اس کا روزہ صحیح ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
«رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِيْنَا أَوْ أَخْطَأْنَا» [البقرة : 286]
”اے ہمارے رب ! ہم اگر بھول گئے یا غلطی کر بیٹھے تو ہماری گرفت نہ کر۔“
نیز ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”جس نے روزہ کی حالت میں بھول کر کچھ کھا لیا یا پی لیا، وہ اپنا روزہ پورا کر لے، کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔“
[بخاري كتاب الصوم : باب الصائم إذا أكل أو شرب ناسيا 1933، مستدرك حاكم 430/1]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے :
”جس نے رمضان میں بھول کر روزہ توڑ دیا تو اس پر نہ قضا ہے نہ کفارہ۔“
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ میں جماع اور دیگر تمام مفطرات شامل ہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔