مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

روزے میں کلی یا ناک میں پانی سے پیٹ میں پانی جانے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام

سوال

اگر روزہ دار کلی کرتے وقت یا ناک میں پانی ڈالتے وقت پانی پیٹ میں چلا جائے، تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کوئی روزہ دار وضو یا غسل کرتے وقت کلی کرے یا ناک میں پانی ڈالے اور اس دوران بے ارادہ طور پر پانی اس کے پیٹ میں چلا جائے، تو اس سے اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عمل اس کی نیت اور ارادے کے بغیر ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:
وَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ فيما أَخطَأتُم بِهِ وَلـكِن ما تَعَمَّدَت قُلوبُكُم…﴿٥﴾… سورة الأحزاب

’’اور جو بات تم سے غلطی کے ساتھ ہوگئی ہو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں لیکن جو قصد دل سے کرو اس پر مواخذہ ہے۔‘‘

لہٰذا جب کوئی فعل نادانستہ یا بے ارادہ ہو، تو اس پر شریعت میں مواخذہ نہیں ہے، اور نہ ہی اس سے روزہ ٹوٹتا ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔