مضمون کے اہم نکات
سوال:
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
کچھ اعمال اور چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ان امور کو جاننا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ ان سے بچ سکے۔ وہ درج ذیل ہیں:
① جماع کرنا
اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس دن کی قضا لازم ہوگی جس دن یہ عمل ہوا، اور اس گناہ پر کفارہ بھی واجب ہوگا:
❀✔ کفارہ کی ترتیب:
◈ ایک گردن (غلام یا لونڈی) آزاد کرے۔
◈ اگر یہ ممکن نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔
◈ اگر کسی عذر کی وجہ سے یہ بھی نہ کر سکے تو ساٹھ مساکین کو مناسب (علاقے میں رائج) کھانا کھلائے، یا ہر مسکین کو نصف صاع (ایک کلو 50 گرام) کھانا دے۔
② منی کا اخراج
اگر بوسہ لینے، چھونے، بار بار دیکھنے یا مشت زنی کی وجہ سے منی خارج ہو جائے تو روزہ فاسد اور باطل ہو جائے گا۔ جس دن یہ عمل کیا اس دن کی قضا دینا لازم ہے، تاہم کفارہ نہیں، کیونکہ کفارہ صرف جماع کی صورت میں ہوتا ہے۔ [1]۔دیکھیے المغنی والشرح الکبیر3/49۔
❀✔ البتہ اگر نیند میں احتلام ہو جائے تو نہ قضا لازم ہے اور نہ کفارہ، کیونکہ یہ اختیاری عمل نہیں؛ ہاں غسل فرض ہوگا۔
③ قصداً کھانا پینا
ارادہ کر کے کھانا پینا روزے کو فاسد کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَكُلوا وَاشرَبوا حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الخَيطُ الأَبيَضُ مِنَ الخَيطِ الأَسوَدِ مِنَ الفَجرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى الَّيلِ …﴿١٨٧﴾… سورة البقرة
"تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔” [2]۔البقرۃ:2/187۔
❀✔ لیکن اگر بھول کر کوئی کچھ کھا پی لے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ حدیث میں ہے:
"مَنْ نَسِيَ وهو صائِمٌ فَأكَلَ أو شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّما أطْعَمَهُ اللّه وَسَقَاهُ "
"جس کسی نے بھول کر کچھ کھا پی لیا تو وہ اپنا روزہ (جاری رکھ کر) مکمل کرے، کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے۔” [3]۔صحیح البخاری الصوم باب الصائم اذا کل اوشرب ناسیا حدیث 1933 وصحیح مسلم الصیام باب اکل الناسی وشربہ وجماعہ لا یفطر حدیث1155۔
④ ناک کے راستے یا رگ کے راستے غذا/خون پہنچانا
◈ ناک کے ذریعے پیٹ میں پانی وغیرہ پہنچانے (سعوط) سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔
◈ رگ کے ذریعے پیٹ تک غذا پہنچانے (ڈرِپ لگوانے) سے بھی روزہ فاسد اور ضائع ہو جاتا ہے۔
◈ اسی طرح جسم میں خون پہنچانے سے بھی روزہ فاسد ہوتا ہے۔
◈ اور غذائیت کے لیے لگایا جانے والا ٹیکہ بھی روزہ ختم کر دیتا ہے۔
بیماری وغیرہ کے علاج کے لیے لگنے والے ٹیکے کے بارے میں احتیاط بہتر ہے تاکہ روزہ شک و شبہ سے بھی محفوظ رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"دع ما يريبك إلى ما لا يريبك”
"جس چیز میں تجھے تردد اور شک ہو اسے چھوڑ کر وہ صورت اختیار کر جس میں تجھے تردد اور شک نہ ہو۔” [4]۔صحیح البخاری البیوع باب تفسیر المشبہات قبل حدیث 2052۔معلقاً وجامع الترمذی صفۃ القیامہ باب حدیث اعقلہا وتوکل حدیث 2518۔
⑤ سینگی لگوانا، فصد کروانا، یا خون نکلوانا
سینگی لگوانے، فصد کروانے، یا کسی مریض کو دینے کے لیے خون نکالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
البتہ اگر تجزیہ/ٹیسٹ کے لیے تھوڑا سا خون لیا گیا تو اس سے روزے پر اثر نہیں پڑتا اور روزہ برقرار رہتا ہے۔
اسی طرح اگر کسی ایسی حالت میں خون نکل آئے جس میں روزے دار کا اختیار نہ ہو بلکہ وہ مجبور ہو (مثلاً نکسیر پھوٹنا، زخم سے خون بہہ جانا، دانت نکلوانے سے خون آ جانا وغیرہ) تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
⑥ قصداً قے کرنا
اگر جان بوجھ کر قے لائی جائے، یعنی قصداً قے کرنے کی کیفیت پیدا کی جائے، تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
لیکن اگر خود بخود قے آ جائے تو روزہ قائم رہے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ – أي : غلبه- فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ ، وَمَنْ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ”
"جسے خود بخود قے آگئی اس پر روزے کی قضا نہیں، اور جس نے قصداً قے کی تو وہ قضا دے۔” [5]۔سنن ابی داؤد الصیام باب الصائم یستقی عامداً حدیث 2380۔وجامع الترمذی الصوم باب ماجاء فیمن استقاء عمداً حدیث 720۔واللفظ لہ۔
⑦ سرمہ/آنکھوں کے قطرے اور وضو میں احتیاط
روزے دار کو روزے کی حفاظت کے پیشِ نظر سرمہ ڈالنے اور آنکھوں میں دوائی کے قطرے وغیرہ ڈالنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ [6]۔مصنف نے اس کی کوئی دلیل پیش نہیں کی جبکہ صحیح یہی ہے کہ سرمہ دوائی ڈالنا جائز ہے۔(صارم)
وضو کرتے وقت کلی اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ نہ کیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا”
"(وضو کرتے وقت) ناک میں پانی خوب چڑھاؤ، مگر جب تم روزے کی حالت میں ہو (تو ایسا نہ کرو)۔” [7]۔سنن ابی داؤد الطہارۃ باب فی الاستشار حدیث 142وجامع الترمذی الصوم باب ماجاء فی کراھیہ مبالغہ الاستشاق للصائم حدیث788۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ناک کے راستے پانی پیٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
⑧ مسواک، گردوغبار اور مکھی وغیرہ
دن کے آغاز یا آخر میں مسواک کرنے سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، بلکہ روزے دار کے لیے مسواک کرنا مستحب اور پسندیدہ ہے۔
اگر گردوغبار یا مکھی وغیرہ اڑ کر حلق تک پہنچ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔
⑨ زبان اور اخلاق کی حفاظت
روزے دار کو جھوٹ، غیبت، چغلی، اور گالی گلوچ سے ہر صورت بچنا چاہیے۔ اگر کوئی اس سے گالی گلوچ کرے تو وہ دو مرتبہ کہہ دے: (إني صائم) یعنی "میں روزے سے ہوں”۔ [8]۔صحیح البخاری الصوم باب فضل الصوم حدیث 1894۔
کچھ لوگ کھانا پینا چھوڑنے کو آسان سمجھتے ہیں، مگر جن گندے اور ناپسندیدہ اقوال و اعمال کے عادی ہوتے ہیں انہیں چھوڑنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے؛ اسی وجہ سے بعض سلف صالحین نے فرمایا: "آسان ترین روزہ کھانے پینے کا چھوڑ دینا ہے۔”
مسلمان کو چاہیے کہ:
◈ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرے،
◈ اپنے رب کی عظمت کو پیشِ نظر رکھے،
◈ اور یہ یقین رکھے کہ وہ ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کی نگاہ میں ہے،
اور روزے کو فاسد کرنے والی، ضائع کرنے والی، اور ثواب میں کمی کرنے والی چیزوں سے خود کو پوری کوشش سے بچائے تاکہ اس کا روزہ صحیح اور مقبول ہو۔
روزے دار کو اللہ کے ذکر اور قرآنِ مجید کی تلاوت میں مشغول رہنا چاہیے، اور کثرت سے نوافل ادا کرنے چاہئیں۔ سلف صالحین کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ روزہ رکھتے تو زیادہ وقت مساجد میں گزارتے اور کہتے: "اب ہم اپنے روزوں کی حفاظت کریں گے اور کسی کی غیبت نہیں کریں گے۔”
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ”
"جس روزے دار نے روزے کی حالت میں جھوٹی باتیں کرنا اور ان پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے سے کوئی سروکار نہیں۔” [9]۔صحیح البخاری الصوم باب من لم یدع قول الزوروالعمل بہ فی الصوم حدیث1903۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ حالتِ روزہ میں صرف جائز خواہشات چھوڑ دینے سے اللہ کا قرب مکمل حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اصل قرب تب ہوتا ہے جب بندہ ان امور کو چھوڑے جو اللہ نے ہر حال میں حرام کیے ہیں، جیسے جھوٹ، ظلم، اور لوگوں کے خون، مال اور عزت میں زیادتی وغیرہ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الصائِمُ فِي عِبادَةٍ ما لَم يَغتَب مُسلِمًا أَو يُؤذِهِ”
"روزہ دار عبادت میں ہوتا ہے جب تک وہ کسی مسلمان کی غیبت نہیں کرتا یا اسے تکلیف نہیں دیتا۔” [10]۔(ضعیف) مسند الفردوس للدیلمی 2/411حدیث و ضعیف الجامع الصغیر و زیادۃ حدیث 3528۔
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ما صام من ظل يأكل لحوم الناس”
"اس نے روزہ نہیں رکھا جو (غیبت کر کے) لوگوں کا گوشت کھاتا ہے۔” [11]۔(ضعیف) ضعیف الجامع الصغیر وزیادۃ حدیث 5083۔والسلسلۃ الضعیفۃ حدیث 4451۔
لہٰذا جب روزے دار کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ روزے کی حالت میں ان چیزوں سے بچے جو عام حالت میں جائز ہیں (مثلاً کھانا، پینا، جماع)، تو جو چیزیں ہر حال میں حرام ہیں انہیں چھوڑنا بدرجۂ اولیٰ لازم ہے، تاکہ وہ ان لوگوں میں شامل ہو جو روزے کا پورا حق ادا کرتے ہیں۔
روزے کی قضا کے احکام
جس شخص نے کسی شرعی عذر کی بنا پر روزہ نہیں رکھا، یا روزہ توڑ دیا، یا کسی حرام کام (مثلاً جماع وغیرہ) کی وجہ سے روزہ فاسد کر لیا، تو اس پر قضا لازم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ…﴿١٨٥﴾… سورة البقرة
"اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے۔” [12]۔البقرۃ:2/184۔
قضا جلدی ادا کرنا مستحب ہے تاکہ ذمہ داری ختم ہو جائے۔
قضا میں تسلسل رکھنا بھی مستحب ہے، کیونکہ قضا ادا کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر فوراً ادا نہ کر سکے تو آئندہ ادا کرنے کا پختہ عزم ہونا چاہیے۔ اگر پھر بھی کسی سبب سے تاخیر ہو جائے تو حرج نہیں، کیونکہ قضا کے وقت میں وسعت ہے؛ اور جب واجب کی ادائیگی کے وقت میں گنجائش ہو تو عزم کے باوجود تاخیر کرنا جائز ہوتا ہے۔ اسی طرح قضا متفرق (الگ الگ دنوں میں) ادا کرنا بھی درست ہے۔
البتہ اگر کسی نے پورا سال قضا نہ دی یہاں تک کہ شعبان میں اتنے ہی دن باقی رہ گئے جتنے قضا تھے، تو چونکہ وقت تنگ ہو گیا، اس لیے اب تسلسل سے قضا دینا بالاتفاق لازم ہوگا۔
دوسرے رمضان کے بعد قضا جائز نہیں، مگر یہ کہ کوئی خاص شرعی عذر ہو۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:
"كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلا فِي شَعْبَانَ”
"میرے ذمے رمضان کے روزوں کی قضا ہوتی تو میں شعبان سے پہلے قضا نہیں دے سکتی تھی۔” [13]۔صحیح البخاری الصوم باب منی یقضی قضا ء رمضان حدیث 1950وصحیح مسلم الصیام باب جواز تاخیر قضاء رمضان مالم یحی رمضان اخر حدیث 1146۔
صحیح مسلم کی روایت میں راوی کے وضاحتی الفاظ ہیں:
"وَذَلِكَ لِمَكَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”
"اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہوتا تھا۔” [14]۔صحیح مسلم الصیام باب جواز تاخیر قضاء رمضان حدیث1146۔
اس سے معلوم ہوا کہ قضا میں وقت کی کافی گنجائش ہے، اور آئندہ رمضان شروع ہونے سے پہلے پہلے قضا ادا کی جا سکتی ہے۔
اگر قضا میں اتنی تاخیر ہو گئی کہ دوسرا رمضان بھی آ گیا، تو وہ پہلے موجودہ رمضان کے روزے رکھے، پھر پچھلے رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے بعد میں رکھے۔ اگر تاخیر شرعی عذر کی وجہ سے تھی تو صرف قضا دے؛ اور اگر کوئی شرعی عذر نہ تھا تو قضا بھی دے اور بطور کفارہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔ [15]۔المغنی والشرح الکبیر 4/85۔86۔یہ مسئلہ بلا دلیل ہے قضا لازم ہے مزید بطور کفارہ مساکین کو کھانا دینا لازم نہیں دیکھئے اللباب 294(ع۔د)
اگر کسی شخص کے ذمہ رمضان کے روزوں کی قضا تھی مگر اگلا رمضان آنے سے پہلے ہی وہ فوت ہو گیا تو اس کے ذمہ کچھ نہیں، کیونکہ وفات کے وقت قضا میں تاخیر جائز تھی۔
اگر وہ نئے رمضان کے بعد فوت ہوا تو:
◈ اگر قضا میں تاخیر شرعی عذر (مرض یا سفر) کی وجہ سے تھی تو اس کے ذمہ بھی کوئی روزہ نہیں۔
◈ اور اگر بغیر عذر کے نیا رمضان آ گیا تھا تو اس کے ترکہ سے ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کا کھانا بطور کفارہ لازم ہوگا۔
اگر کوئی شخص فوت ہو گیا اور اس کے ذمے کفارے کے روزے تھے، مثلاً:
◈ ظہار کے کفارے کے واجب روزے، یا
◈ حجِ تمتع میں قربانی نہ کرنے کی وجہ سے واجب روزے،
تو میت کی طرف سے روزے نہ رکھے جائیں، بلکہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا جائے، جو ترکہ سے ادا ہو؛ کیونکہ یہ ایسے روزے تھے جن میں زندگی میں نیابت نہیں ہوتی، تو موت کے بعد بھی نیابت درست نہیں۔ یہ اکثر اہلِ علم کا قول ہے۔
میت کی طرف سے نذر کے روزے
اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے نذر کے روزے ہوں تو مستحب ہے کہ اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے، کیونکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہے:
"جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : يا رسول الله إن أمي ماتت وعليها صوم نذر ، أفأصوم عنها ؟ قال : أرأيت لو كان على أمك دين فقضيتيه ، أكان يؤدّي ذلك عنها ؟ قالت : نعم . قال : فصومي عن أمك . "
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت آئی اور کہا: یا رسول اللہ! میری ماں فوت ہوگئی ہے اور اس کے ذمے نذر کے روزے تھے، تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تیری ماں پر قرض ہوتا اور تو اسے ادا کر دیتی تو کیا وہ اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟ اس نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی ماں کی طرف سے روزے رکھ۔” [16]۔صحیح البخاری الصوم باب من مات وعلیہ صوم حدیث 1953۔وصحیح مسلم الصیام باب قضا ء الصوم عن المیت حدیث 1148۔واللفظ لہ۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"میت کی طرف سے نذر کے روزے رکھے جائیں، اصلی فرض روزے نہ رکھے جائیں۔ یہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کا مسلک ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بھی یہی منقول ہے۔ علاوہ ازیں دلیل و قیاس بھی اسی کا تقاضا کرتے ہیں، کیونکہ نذر شریعت کی طرف سے شروع میں واجب نہ تھی بلکہ بندے نے خود اپنے اوپر لازم کی، جو فرض کے درجے میں آ گئی؛ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر کو قرض کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔
جبکہ روزے کو اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے فرض قرار دیا ہے جو اسلام کا ایک رکن ہے۔ اس میں نیابت کا کوئی دخل نہیں، جیسے کلمۂ شہادت اور نماز میں نیابت درست نہیں؛ ان سے مقصود یہ ہے کہ بندہ خود اطاعت کرے اور حقِ عبادت ادا کرے جس کے لیے اللہ نے اسے پیدا کیا اور حکم دیا۔ لہٰذا اسے کسی دوسرے کی طرف سے ادا نہیں کیا جا سکتا اور نہ اس کی طرف سے نماز پڑھی جا سکتی ہے۔”
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے—یہ امام احمد اور اسحاق رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کا مسلک ہے اور یہی درست ہے۔ نذر کا ذمہ اس نے خود اٹھایا ہے لہٰذا موت کے بعد اسے ولی ادا کرے۔
البتہ رمضان المبارک کے روزے عاجز و معذور شخص پر فرض نہیں، بلکہ عاجز کے لیے ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ رہی روزوں کی قضا تو وہ صرف قدرت والے شخص پر ہے، عاجز پر نہیں؛ اس لیے عاجز کی موت کے بعد ولی پر قضا بھی نہیں۔ ہاں نذر وغیرہ کے روزے احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں بالاتفاق میت کی طرف سے رکھے جائیں۔”
بڑھاپے اور دائمی بیماری میں روزے کے احکام
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر رمضان کے روزے فرض کیے ہیں۔ جو معذور نہیں، وہ وقت پر ادا کریں۔ جو معذور ہوں، وہ قضا دیں بشرطیکہ دوسرے دنوں میں قضا کی طاقت رکھتے ہوں۔
یہاں ایک تیسری قسم بھی ہے:
✔ نہ ادا کی طاقت، نہ قضا کی طاقت
مثلاً بہت زیادہ بوڑھا شخص، یا ایسا مریض جس کے صحت یاب ہونے کی امید نہ ہو۔
ان کے لیے تخفیف یہ ہے کہ وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفسًا إِلّا وُسعَها…﴿٢٨٦﴾… سورة البقرة
"اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔” [17]۔البقرۃ:2/286۔
نیز فرمایا:
﴿وَعَلَى الَّذينَ يُطيقونَهُ فِديَةٌ طَعامُ مِسكينٍ…﴿١٨٤﴾… سورة البقرة
"اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں۔” [18]۔البقرۃ:2/184۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
"اس آیت کا حکم اس بوڑھے مرد اور عورت کے لیے ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔” [19]۔صحیح البخاری التفسیر باب قولہ تعالیٰ (أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ)حدیث 4505۔
البتہ جو لوگ عارضی عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑیں—مثلاً مسافر، یا وہ مریض جس کے صحت یاب ہونے کی امید ہو، یا حاملہ، یا دودھ پلانے والی عورت جسے اپنی یا بچے کی کمزوری کا خوف ہو، یا حیض و نفاس والی عورت—ان سب پر قضا لازم ہے۔ جتنے روزے چھوڑیں، اتنے ہی دنوں میں بعد میں رکھ کر قضا دیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ وَمَن كانَ مَريضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ…﴿١٨٥﴾… سورة البقرة
"ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔” [20]۔البقرۃ:2/185۔
وہ مریض جسے روزہ رکھنے سے تکلیف ہو، یا وہ مسافر جس سفر میں اس کے لیے قصر جائز ہو—ان کے لیے روزہ چھوڑنا مسنون عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا:
﴿فَمَن كانَ مِنكُم مَريضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ …﴿١٨٤﴾… سورة البقرة
"ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔” [21]۔البقرۃ:2/185۔
یعنی وہ روزہ چھوڑ دے اور جتنے روزے چھوڑے، بعد میں اتنے دن رکھ لے۔ اسی لیے فرمایا:
﴿يُريدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ وَلا يُريدُ بِكُمُ العُسرَ …﴿١٨٥﴾… سورة البقرة
"اللہ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں۔” [22]۔البقرۃ:2/185۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آپ آسان کام اختیار کرتے۔ بخاری و مسلم میں ہے:
"ليس مِن البِرِّ الصِّيامُ في السَّفَر”
"سفر میں روزہ رکھنا نیکی کا کام نہیں۔” [23]۔صحیح البخاری الصول باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لمن ظلل علیہ حدیث 1946وصحیح مسلم الصیام باب جواز الصوم واللفطر فی شہر رمضان للمسافر حدیث 1115۔
اگر مسافر یا وہ مریض جس کے لیے روزہ مشکل ہو، پھر بھی روزہ رکھ لے تو کراہت کے باوجود روزہ درست ہوگا؛ لیکن حائضہ اور نفاس والی عورت کے لیے روزہ رکھنا حرام ہے۔
حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت جتنے روزے چھوڑے، ان کی قضا دوسرے دنوں میں دے۔ اور جس نے بچے کی پرورش کے پیش نظر روزے چھوڑے ہوں تو روزوں کی قضا کے ساتھ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا کفارہ بھی دے۔ [24]۔مؤلف کا یہ مسئلہ بلا دلیل ہے حاملہ اور مرضعہ دوسرے دنوں میں ان روزوں کی قضا دے۔ اگر اس کی طاقت نہیں رکھتی تو پھر ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے دیکھیے اللباب ص(ع۔د)
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا فتویٰ ہے: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت اگر بچوں کے بارے میں خوف محسوس کریں تو روزے چھوڑ دیں اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں، اور ان پر چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا بھی لازم ہے۔ [25]۔اعلام الموقعین :3/190۔
کسی جان کو ہلاکت سے بچانے کے لیے روزہ توڑا جا سکتا ہے، مثلاً اگر کوئی پانی میں ڈوب رہا ہو تو اسے بچانے کے لیے نہر/دریا میں کودنا وغیرہ۔
ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"روزہ چھوڑنے کے چار اسباب ہیں: (1) سفر (2) مرض (3) حیض (4) روزہ رکھنے سے کسی کی ہلاکت کا خوف، جیسے دودھ پلانے والی یا حاملہ عورت، یا غرق ہونے والے کو بچانا۔”
فرض اور نفل روزے کی نیت کے احکام
مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ فرض روزے کی نیت رات ہی کو کرے، مثلاً رمضان کا روزہ، کفارے کا روزہ، نذر کا روزہ وغیرہ۔ نیت کا طریقہ یہ ہے کہ دل میں پختہ ارادہ کرے کہ وہ صبح رمضان کا یا اس کی قضا کا روزہ رکھے گا، یا نذر/کفارے کا روزہ رکھے گا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"إِنَّمَا الأعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى”
"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق بدلہ ملے گا۔” [26]۔صحیح البخاری بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی حدیث 1۔وصحیح مسلم الامارۃ باب قولہ انما الاعمال بالنیہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ لَمْ يُجْمِعْ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلا صِيَامَ لَهُ "
"جس شخص نے طلوعِ فجر سے پہلے پہلے رات کو روزہ رکھنے کی نیت نہ کی، اس کا روزہ نہیں۔” [27]۔السنن الکبری للبیہقی 4/203۔وسنن النسائی الصیام ذکر اختلاف التاقلین لخبر حفصہ فی ذلک حدیث 2333عن حفصۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔
اس روایت کی روشنی میں فرض روزے کی نیت رات کو کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی دن چڑھے بیدار ہوا، اور اس نے طلوع فجر کے بعد کچھ نہ کھایا پیا، پھر روزے کی نیت کر لی، تو یہ طریقہ فرض روزے میں نہیں؛ البتہ نفلی روزہ اس طرح رکھا جا سکتا ہے۔
نفلی روزے کی نیت دن کے وقت ہو سکتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا:
"هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: «فَإِنِّي إِذَنْ صَائِمٌ”
"کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟ ہم نے کہا: نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میرا روزہ ہے۔” [28]۔صحیح مسلم الصیام باب جواز صوم النافلۃ بینہ من النہار قبل الزوال حدیث 1154۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے روزے کی حالت میں نہ تھے، تبھی تو کھانا پوچھا؛ اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ نفلی روزے کی نیت میں صبح کے بعد تاخیر کرنا جائز ہے۔ نیز یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جن روایات میں عدم جواز ہے، وہ فرض روزے کے ساتھ خاص ہیں۔
نفلی روزے کی نیت دن میں اسی وقت درست ہے جب نیت سے پہلے روزے کے منافی کام نہ ہوا ہو، یعنی فجرِ ثانی کے بعد کچھ کھایا پیا وغیرہ نہ کیا ہو؛ ورنہ روزہ درست نہ ہوگا۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب