کیا مجاہدین روزہ چھوڑ دیں؟
سوال :۔
وہ لوگ جو دشمن سے جنگ کر رہے ہوں کیا ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ رمضان میں روزے نہ رکھیں اور پھر بعد میں ان کی قضا دے لیں؟
فتوی :۔
جب کافروں سے جنگ کرنے والے مسلمان مسافر ہوں کہ ان کے لیے نماز قصر کرنا جائز ہو تو پھر ان کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ رمضان میں روزے نہ رکھیں اور رمضان کے بعد ان کی قضا دے لیں اور اگر وہ مسافر نہ ہوں بایں طور کہ دشمن نے ان کے شہروں پر حملہ کر دیا ہو تو اس صورت میں جہاد کے ساتھ ساتھ جس شخص کو روزہ رکھنے کی بھی استطاعت ہو تو اس کے لیے روزہ رکھنا واجب ہے اور جو شخص روزے اور جہاد جبکہ یہ فرض عین ہو… دونوں سے بیک وقت عہدہ برآ ہونے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کے لیے یہ جائز ہے کہ روزے نہ رکھے اور رمضان کے بعد اتنے دنوں کے روزوں کی قضا دے جتنے دن اس نے روزے نہیں رکھے۔