سوال:
روزے کی حالت میں سرمہ لگانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
روزے کی حالت میں سرمہ لگانے میں کوئی قباحت نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی روزہ دار اپنی آنکھ یا کان میں دوا کے قطرے ڈالے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، چاہے اسے حلق میں اس دوا کا ذائقہ محسوس ہو۔
- ان تمام چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ یہ چیزیں:
- نہ تو کھانے پینے میں شامل ہیں
- نہ ہی کھانے پینے کے مفہوم میں آتی ہیں
اور ممانعت صرف کھانے پینے سے ہے، لہٰذا ایسی چیزیں جو ان معنوں میں نہ ہوں، انہیں کھانے پینے کے ساتھ ملایا نہیں جا سکتا۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف:
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اسی موقف کو اپنایا ہے، اور درست بات بھی یہی ہے۔
ناک میں دوا ڈالنے کا حکم:
البتہ اگر کوئی شخص ناک میں دوا کے قطرے ڈالے اور وہ دوا معدے (پیٹ) تک پہنچ جائے، تو ایسی صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔
اس کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
«بَالِغْ فِی الْاِسْتِنْشَاقِ اِلاَّ اَنْ تَکُوْنَ صَائِمًا»
(سنن ابي داؤد، الطهارة، باب فی الاستنثار، ح: ۱۴۲، وسنن النسائی، الطهارة، باب المبالغة فی الاستنثاق، ح: ۸۷)
ترجمہ:
"ناک میں پانی چڑھانے میں خوب مبالغہ کرو، سوائے اس کے کہ تم روزہ دار ہو۔”
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب