روزہ رکھنا اور چھوڑنا اقامت والے شہر کے تابع ہوگا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

روزہ رکھنا اور چھوڑنا اقامت والے شہر کے تابع ہوگا :۔

سوال :۔

میں مشرقی ایشیا سے تعلق رکھتا ہوں۔ ہمارے ہاں ہجری مہینہ سعودی عرب کی مملکت سے ایک دن بعد ہوتا ہے اور ہم طالب علم اس سال رمضان کے مہینہ میں اپنے وطن کو سفر کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : چاند دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند دیکھ کر ہی ختم کرو تا آخر حدیث۔ اور ہم نے مملکت سعودیہ میں روزے شروع کئے۔ پھر ہم ماہ رمضان میں اپنے ملک کو جائیں گے اور یہ ممکن ہے کہ ہم رمضان کے آخر تک اکتیس دن روزے رکھیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے روزوں کے متعلق کیا حکم ہے اور ہم کتنے دن روزے رکھیں؟

فتوی :۔

آپ سعودی عرب میں یا کسی اور جگہ روزے رکھیں، پھر باقی ماہ کے روزے اپنے ملک رکھیں تو جب وہاں کے لوگ روزے چھوڑیں تب آپ بھی چھوڑیں، خواہ یہ تیس دن سے زیادہ ہو جائیں۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
الصوم يوم تصومون، والإفطار يوم تفطرون
”جس دن تم روزے شروع کرو وہ روزہ کا دن ہے اور جس دن روزے چھوڑو وہ افطار کا دن ہے۔“ تاہم اگر تم انتیس دن روزے پورے نہ کر سکو تو تمہارے لئے تیسویں دن کا روزہ ضروری ہے۔ کیونکہ قمری مہینہ 29 دن سے کم کا نہیں ہو سکتا۔
(مسند بزار : 1/486، مسند طیالسی: 349، ابن خزیمہ: 3/231)