مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

روزہ دار کے لیے خوشبو سونگھنے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام

روزے کی حالت میں خوشبو سونگھنے کا حکم

سوال:

روزہ دار کے خوشبو سونگھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

روزہ دار کے لیے خوشبو سونگھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ چاہے وہ خوشبو تیل کی شکل میں ہو یا بخور (اگر بتی یا لوبان) کی صورت میں۔

خوشبو اگر تیل کی شکل میں ہو: تو اسے سونگھنے میں کسی قسم کی ممانعت نہیں۔

خوشبو اگر بخور (دھواں) کی صورت میں ہو: تو ایسی حالت میں روزہ دار کو چاہیے کہ وہ اس کا دھواں نہ سونگھے، کیونکہ بخور کے دھوئیں میں باریک ذرات ہوتے ہیں، جو ناک کے ذریعے پیٹ میں داخل ہوسکتے ہیں۔

✿ جب یہ ذرات پیٹ میں چلے جاتے ہیں تو وہی حکم لگے گا جو پانی یا اس جیسی دیگر اشیاء کے پیٹ میں پہنچنے پر لگتا ہے، یعنی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

صرف خوشبو سونگھنے کی حد تک: اگر خوشبو ناک میں کھینچے بغیر سونگھی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور روزہ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔