مضمون کے اہم نکات
سوال
تزکیہ نفس اور تربیت اخلاق کا بہترین نصاب
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
(رمضان المبارک کے روزے)
اخلاقیات کے ماہرین اور روحانی پیشوا یعنی علمائے اخلاق اور اللہ والے سب اس بات پر متفق ہیں کہ نفس کی پاکیزگی اور روح کی بالیدگی کے لئے چار بنیادی ریاضتیں لازمی ہیں:
➊ کم خوری
➋ کم گوئی
➌ کم آمیزی
➍ کم خوابی
کم خوری
◄ کم کھانے سے انسان کا نفس زندہ، چاق و چوبند اور توانا رہتا ہے۔
◄ پر خوری سستی اور کاہلی پیدا کرتی ہے۔
کم گوئی
◄ کم بولنے سے انسان سنجیدہ، متین اور ذمہ دار بنتا ہے۔
◄ بسیار گوئی دل کو مردہ بنا دیتی ہے۔
کم خوابی
◄ کم سونا روح کو بیدار اور دل کو روشن کرتا ہے۔
◄ نیند کی زیادتی قلب و نظر پر حجابات ڈال دیتی ہے۔
کم آمیزی
◄ کم میل جول سے انسان فضولیات اور بے ہودگیوں سے محفوظ رہتا ہے۔
◄ زیادہ اختلاط خرابیوں اور گمراہیوں کا سبب بنتا ہے۔
◄ علمائے اخلاق کے نزدیک دنیا میں پیدا ہونے والی بیشتر خرابیاں غیر ضروری میل جول کا نتیجہ ہیں۔
روزہ اور ان ریاضتوں کا تعلق
روزے میں یہ تمام ریاضتیں ایک جامع اور بہترین انداز میں سمو دی گئی ہیں۔
◄ صبح صادق سے غروب آفتاب تک نہ صرف کھانے پینے سے روک دیا گیا ہے بلکہ عیش و عشرت، تن آسانی اور تنعم کی بھی سخت ممانعت ہے۔
◄ روزے کی عبادت کو صبح سے شام اور شام سے صبح تک اس طرح تقسیم کیا گیا ہے کہ روزہ دار عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ وقت جاگتا اور کم وقت سوتا ہے۔
✿ رات کو طویل تراویح کی ادائیگی
✿ سحری کی تیاری کے لئے صبح صادق سے پہلے بیداری
یہ سب دراصل کم خوابی کی تربیت کے لئے ہے۔
◄ روزہ رکھنے والا بہت زیادہ بولنے سے بچتا ہے تاکہ اس کی زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ نکلے جو روزے کو نقصان پہنچائے۔
◄ وہ اپنی زبان کو زیادہ تر ان اعمال میں مشغول رکھتا ہے:
✿ تلاوت قرآن کریم
✿ نوافل کی ادائیگی
✿ ذکر و فکر
◄ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کی عبادت کو اختیار کرتا ہے جو میل جول کو کم کرنے اور خلوت نشینی کی بہترین مشق ہے۔
نتیجہ
یوں روزہ تزکیہ نفس اور تربیت اخلاق کے لئے ایک مکمل اور جامع نصاب ہے۔
ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب