مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

روزہ افطار کرنے کا صحیح وقت کیا ہے؟ احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

روزہ افطار کرنے کا صحیح وقت کیا ہے؟

جواب:

❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ
(2-البقرة:187)
روزہ رات تک مکمل کرو۔
پوری امت کا اجماع ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جوں ہی سورج غروب ہو، روزہ افطار کر دیا جائے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أقبل الليل من ها هنا، وأدبر النهار من ها هنا، وغربت الشمس فقد أفطر الصائم
جب اس (مغرب کی) طرف سے رات نمودار ہو جائے، اس (مشرق کی) طرف سے دن ختم ہو جائے اور سورج غروب ہو جائے، تو روزے دار کی افطاری کا وقت ہو جاتا ہے۔
(صحیح البخاری: 1954، صحیح مسلم: 1100)
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر
لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے، جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔
(صحیح البخاری: 1957، صحیح مسلم: 1098)
❀ علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
غروب شمس کے یقین ہو جانے کے فوراً بعد افطار کرنا بالاتفاق مستحب ہے
(إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام: 2/26)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔