رمضان کے ثبوت کے لیے ایک شخص کی گواہی کافی ہے
❀ « عن عبد الله بن عمر رضي الله عنها قال: تراءى الناس الهلال، فاخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم، أني رأيته، فصامه وأمر الناس بصيامه»
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کو شش کی، تو میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے، چنانچہ آپ نے خود روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی رکھنے کا حکم دیا۔ [سنن ابو داود 2342، صحيح]
❀ «عن ابن عباس، قال: جاء اعرابي إلى النبى صلى الله عليه وسلم، فقال: إني رايت الهلال، يعني هلال رمضان، فقال: اتشهد ان لا إله إلا الله؟ قال: نعم، قال: اتشهد ان محمدا رسول الله؟ قال: نعم، قال:” يا بلال، اذن فى الناس فليصوموا غدا”.»
حضرت عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: میں نے چاند (یعنی رمضان کا چاند دیکھا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ؟“ اس نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل سے روزہ رکھیں۔“ [سنن ابو داود 2340، سنن ترمذي 691، سنن نسائي 2113، سنن ابن ماجه 1652، حسن]