رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے روزے رکھنا جائز نہیں :۔
سوال :۔
میں نے دیکھا ہے کہ لوگ رجب اور شعبان میں مسلسل روزے رکھتے ہیں اور پھر رمضان کے بھی روزے رکھتے ہیں۔ اس مدت میں روزہ ترک نہیں کرتے۔ کیا اس بارے میں کوئی حدیث وارد ہے اگر ہے تو اس حدیث کے الفاظ کیا ہیں؟
فتوی :۔
کسی صحیح حدیث میں یہ نہیں آیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب کا پورا مہینہ یا شعبان کا پورا مہینہ روزے رکھے ہوں۔ نہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے ایسا عمل ثابت ہے۔ بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان کے سوا کسی بھی مہینے کے تمام ایام کے روزے رکھنا ثابت نہیں۔ صحیح حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول لا يفطر ويفطر حتى نقول لا يصوم فما رأيت رسول الله صتكمل صيام شهر إلا رمضان وما رأيته أكثر صياما منه فى شعبان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روزے رکھتے تھے حتی کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں چھوڑیں گے اور مسلسل افطار کرتے بغیر روزے کے رہتے حتیٰ کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے سوا کسی مہینہ میں پورا مہینہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔
(بخاری کتاب الصوم باب صوم رمضان : 1969 ، مسلم کتاب الصیام باب صیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم : 1152/175)
یہ حدیث بخاری اور مسلم رحمہ اللہ عنہم نے روایت کی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
ما صام النبى صلى الله عليه وسلم شهرا كاملا قط غير رمضان وكان يصوم حتى يقول القائل لا والله لا يفطر، ويفطر حتى يقول القائل لا والله لا يصوم
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روزے رکھتے تھے حتی کہ یہ کہنے لگتا اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس مہینہ میں روزہ چھوڑیں گے ہی نہیں اور روزہ چھوڑے رکھتے حتی کہ کہنے والا یہ کہنے لگتا اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اس مہینہ میں روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔“
(بخاری کتاب الصوم باب ما يذكر من صوم النبی صلی اللہ علیہ وسلم وافطارہ : 1971، مسلم کتاب الصیام باب صیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم : 1157)
لہذا پورا ماہ رجب نفلی روزے رکھنا یا پورا ماہ شعبان نفلی روزے رکھنا روزہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور اسوہ کے خلاف ہے۔ اس لئے یہ بدعت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :
من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
”جس نے ہمارے اس دین میں وہ کام نکالا جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ قابل رد ہے۔“
(بخاری کتاب الصلح باب اذا اصطلحوا على صلح جور : 2297 ، مسلم کتاب الأقضية باب نقض الاحکام الجاہليہ : 1718)