رمضان کے روزوں کی فرضیت، حکمت اور اوقات کا مکمل بیان

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل روزوں کے مسائل:جلد 01: صفحہ 315
مضمون کے اہم نکات

سوال:

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
رمضان کے روزوں کی فرضیت اور وقت کا بیان

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رمضان المبارک کے روزے اسلام کے ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک قطعی فرض ہے، جو دینِ اسلام میں واضح اور بدیہی طور پر معلوم ہے۔

رمضان کے روزوں کی فرضیت پر:
◈ کتاب اللہ کی نصوص
◈ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
◈ اور اجماعِ امت

سب دلالت کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٨٣﴾ أَيّامًا مَعدود‌ٰتٍ فَمَن كانَ مِنكُم مَريضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذينَ يُطيقونَهُ فِديَةٌ طَعامُ مِسكينٍ فَمَن تَطَوَّعَ خَيرًا فَهُوَ خَيرٌ لَهُ وَأَن تَصوموا خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ ﴿١٨٤﴾ شَهرُ رَمَضانَ الَّذى أُنزِلَ فيهِ القُرءانُ هُدًى لِلنّاسِ وَبَيِّنـٰتٍ مِنَ الهُدىٰ وَالفُرقانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ فَليَصُمهُ وَمَن كانَ مَريضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ يُريدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ وَلا يُريدُ بِكُمُ العُسرَ وَلِتُكمِلُوا العِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ ﴿١٨٥﴾… سورة البقرة [البقرۃ:2/183۔185۔]

"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ یہ چند گنے ہوئے دن ہیں، پھر تم میں سے جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں (لیکن نہ رکھیں) وہ ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ دیں۔ پھر جو کوئی خوشی سے نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے، اور تمہارا روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے والی واضح نشانیاں رکھتا ہے۔ پس تم میں سے جو اس مہینے کو پائے وہ اس کا روزہ رکھے، اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا، تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اس ہدایت پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تمہیں دی، اور تاکہ تم شکر گزار بنو۔”

لفظ (كُتِبَ) کا معنیٰ ہے "فرض کیا گیا”۔
اسی طرح (فَلْيَصُمْهُ) میں حکم کا صیغہ ہے جو فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے…” اور ان میں رمضان کے روزے کو بھی ذکر فرمایا۔ [صحیح البخاری الایمان باب دعاؤ کم ایمانکم حدیث 8 وصحیح مسلم الایمان باب ارکان الاسلام ودعائمہ العظام حدیث :16۔]

◈ رمضان کے روزوں کی فرضیت پر کثیر صحیح احادیث وارد ہیں۔
◈ تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے۔
◈ اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔

روزے کی مشروعیت کی حکمت

روزہ نفس کے تزکیہ اور اخلاق کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے انسان اپنے اندر موجود برے خیالات اور کمزور اخلاق سے پاک ہوتا ہے۔ اس سے شیطان کے اثرات کم ہوتے ہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَىَ الدَّم”
"بے شک شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔” [صحیح البخاری الاعتکاف باب ھل یدر المعتکف عن نفسہ ؟ حدیث 2039۔]

زیادہ کھانے پینے سے خواہشات بڑھتی ہیں اور عبادت میں سستی آتی ہے، جبکہ روزہ اس کے برعکس کیفیت پیدا کرتا ہے۔

✔ دنیا کی خواہش کم ہوتی ہے
✔ آخرت کی طرف رغبت بڑھتی ہے
✔ مساکین کے دکھ درد کا احساس پیدا ہوتا ہے

عربی میں روزے کو "صوم” کہتے ہیں، جس کا شرعی مفہوم یہ ہے کہ نیت کے ساتھ کھانے، پینے اور جماع سے رکنا، اور اسی کے ساتھ بے حیائی اور نافرمانی کی باتوں اور اعمال سے بھی اجتناب کرنا۔

روزے کا وقت

روزے کی ابتدا صبح صادق کے طلوع سے ہوتی ہے اور اس کا اختتام سورج غروب ہونے پر ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَالـٔـٰنَ بـٰشِروهُنَّ وَابتَغوا ما كَتَبَ اللَّهُ لَكُم وَكُلوا وَاشرَبوا حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الخَيطُ الأَبيَضُ مِنَ الخَيطِ الأَسوَدِ مِنَ الفَجرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى الَّيلِ … ﴿١٨٧﴾… سورة البقرة [البقرۃ:2/187۔]

"پس اب تم اپنی بیویوں سے مباشرت کر سکتے ہو اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اسے طلب کرو، اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے، پھر رات تک روزہ مکمل کرو۔”

رمضان کے آغاز کے طریقے

① چاند دیکھنا

﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ فَليَصُمهُ …﴿١٨٥﴾… سورة البقرة [البقرۃ:2/185۔]

"پس تم میں سے جو اس مہینے کو پائے وہ اس کا روزہ رکھے۔”

"صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ”
"چاند دیکھ کر روزہ رکھو۔” [صحیح البخاری الصوم باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم (اذا رایتم الحلال فصو مواواذارایتموہ فانظرو) حدیث 1909]

② معتبر شخص کی گواہی

"تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلالَ , فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِّي رَأَيْتُهُ , فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ "
"لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے، تو آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔” [سنن ابی داؤد الصیام باب فی شہادۃ الواحد علی رویہ حلال رمضان حدیث2342۔]

③ شعبان کے تیس دن مکمل ہونا

"إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ، فَلا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ "
"مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے، پس جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھو افطار نہ کرو، اگر بادل ہوں تو تیس دن پورے کر لو۔” [صحیح مسلم الصیام باب وجوب صوم رمضان لرویہ الحلال حدیث1080۔] [صحیح مسلم الصیام باب وجوب صوم رمضان لرویہ الحلال حدیث1081۔]

اتباعِ سنت کی تاکید

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَسولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كانَ يَرجُوا اللَّهَ وَاليَومَ الءاخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثيرًا ﴿٢١﴾… سورةالاحزاب [الاحزاب:33۔21۔]

"یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔”

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ روزے کے مسائل سیکھے تاکہ وہ مسنون طریقے کے مطابق روزہ رکھے، اس کا عمل درست ہو اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب