رمضان کی رات میں بیوی سے ملاقات کی رخصت
✿ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
«أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ۗ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ ۖ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ» [البقرة: 187]
”تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے، وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے۔ الله کو معلوم ہو گیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے، مگر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں سے ملاقات کرو اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اسے حاصل کرو۔“
❀ «عن البراء بن عازب رضى الله عنه قال: لما نزل صوم رمضان كانوا لايقربون النساء رمضان كله، وكان رجال يخونون أنفسهم، فأنزل الله ﴿عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ ﴾ »
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان المبارک کے روزے فرض کیے گئے تو لوگ پورے رمضان رات کو بھی اپنی عورتوں سے الگ رہا کرتے، البتہ بعض لوگ چپکے سے اپنے آپ سے خیانت کر جاتے (یعنی اپنی بیوی سے ملاقات کر بیٹھتے)، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: « عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ » یعنی اللہ کو معلوم ہو گیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے، مگر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ [صحيح بخاري 4508]