رمضان المبارک کے احکام و مسائل — از مبشر احمد ربانی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہر سال اہل اسلام کو نصیب ہوتا ہے جس کی برکات سے کروڑوں مسلمان مستفید ہوتے ہیں۔ اپنی بخشش کا سامان ہر کوئی اپنی اپنی بساط و ہمت کے مطابق جمع کرتا ہے۔ نیکیوں کے حصول کے طریقے مختلف ہیں۔ عبادات و ریاضات، صدقہ و خیرات، اسلامی لٹریچر کی اشاعت وغیرہ، یہ سب نیکی کے کام ہیں جن پر اجر کی امید کی جاتی ہے۔ رمضان المبارک کی برکات سے فائدہ اٹھانے کی خاطر یہ مختصر کتابچہ ترتیب دیا ہے جس میں رمضان المبارک اور عید الفطر کے احکام و مسائل کو بڑے مختصر انداز میں جمع کیا ہے۔ تمام مسائل قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے اخذ کیے گئے ہیں۔ کسی ضعیف یا کمزور روایت کو اس میں جگہ نہیں دی گئی۔ ہمارے خطباء و واعظین عام طور پر اس بات کا لحاظ نہیں رکھتے بلکہ ہر قسم کی رطب و یابس روایات کو بیان کر دیتے ہیں، حالانکہ دینی مسائل میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے اور جو بات مضبوط و پختہ ہو اسے ہی لکھنا اور بیان کرنا چاہیے۔ رمضان المبارک کے حوالے سے کئی احکامات مختصر طور پر ذکر کر کے ان کی مختصر تخریج کر دی گئی ہے تاکہ قارئین مسئلے کے حکم سے بھی واقف ہو سکیں اور اگر وہ مفصل حدیث دیکھنا چاہیں تو مذکورہ کتاب کی طرف باآسانی مراجعت بھی کر سکیں اور اس کو کتاب و سنت کی اشاعت کا مثالی ادارہ ”دار البلاغ“ شائع کر رہا ہے۔ یہ رسالہ ہر خاص و عام کے لیے ان شاء اللہ مفید ثابت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس مختصر سی کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور اسے میرے لیے، میرے والدین، میری اولاد اور دیگر احباب کو جنہوں نے اس کی اشاعت میں تعاون کیا، اجر جزیل عطا فرمائے اور تمام مسلمانوں کے لیے نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمين يا رب العالمين

مؤمن مسائل رمضان کے متعلق بہت محتاط ہوتا ہے :۔

جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی ان میں سے ایک روزہ ہے۔ جب رمضان المبارک کا مہینہ آجائے تو ہر عاقل بالغ مسلمان پر اس کے روزے رکھنا فرض ہے۔ گویا کہ کسی شخص کے اسلام کے دعوے ”میں مسلمان ہوں“ کی بنیاد روزہ رکھنے پر ہے۔ یعنی اگر تو وہ قرآن و حدیث کی بتائی گئی حدود و قیود میں رہ کر اس ماہ کے مکمل روزے رکھتا ہے تو اس کا اسلام معتبر ہے۔ اگر وہ روزوں کا اہتمام نہیں کرتا بلکہ اس کو پامال کرتا ہے تو اس کے اسلام کا دعویٰ کوئی معنی نہیں رکھتا وہ نام کا تو مسلمان ہے لیکن عمل کا غیر مسلم۔
روزہ چونکہ اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے اور اس کی اہمیت کے پیش نظر اللہ کریم نے اس کے عظیم الشان اجر و ثواب کو روزہ دار کو خود دینے کا وعدہ کیا ہے۔ روزہ دار سے اللہ کریم کس قدر محبت کرتا ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ اللہ کریم خود فرماتا ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو مجھے کستوری کی مہک سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ روزہ داروں کے جنت میں داخلہ کے لیے اللہ کریم نے خصوصی طور پر ایک دروازہ بنایا ہے کہ جس میں سے صرف اللہ کریم کی رضا کی خاطر روزہ رکھنے والے ہی ایک نرالی شان سے جنت میں داخل ہو سکیں گے۔ مزید یہ کہ رمضان کے مہینے میں اللہ کریم روزہ داروں کے نیک اعمال کا اجر پہلے دنوں کی نسبت کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ بلکہ اگر وہ اپنے بندے کے عمل کو پسند کر لے تو اسے ایک سے بڑھا کر سات سو گنا تک کر دیتا ہے۔ یعنی بندہ اگر ایک روپیہ خرچ کرتا ہے تو اللہ اس کو سات سو روپیہ خرچ کرنے کا ثواب عطا فرماتا ہے۔ جبکہ عام دنوں میں اس کو ایک کے بدلے میں دس روپے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔
انہی فضائل کی بناء پر ہر مؤمن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے روزے میں کسی قسم کی کوئی کمی کوتاہی نہ رہے۔ روزہ ٹھیک ٹھیک قرآن و حدیث کی فراہم کردہ ہدایات اور حدود و قیود میں رہ کر رکھنا چاہیے، یعنی بالکل ایسے کہ جیسے اللہ کریم اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ روزہ ایسے رکھو۔ اس جذبے کا یہ اثر ہوتا ہے کہ مؤمن بندہ جب روزہ رکھتا ہے تو وہ ہر بات سے جس کے متعلق شک پڑ جائے، رک جاتا ہے۔ اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور رمضان میں روزہ رکھ کر ہر کیا جانے والا عمل قرآن و حدیث کے مطابق بنانا چاہتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ کہیں کسی کام کو کر کے وہ اپنے روزے کے اجر کو ضائع نہ کر بیٹھے، کوئی ایسا عمل نہ کر بیٹھے کہ جس سے روزہ فاسد ہو جائے، وہ کوئی ایسا عمل بھی نہ کر بیٹھے کہ جس سے وہ ثواب کی بجائے الٹا عذاب کا مستحق ٹھہرے، اللہ کو راضی کرنے کی بجائے ناراض کر بیٹھے۔
وہ پورے رمضان میں کیے جانے والے اعمال کی تکمیل اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق چاہتا ہے۔ وہ روزوں سے متعلق ہر معاملہ میں خواہ وہ سحری کھانے کا مسئلہ ہو یا افطاری کا مسئلہ، تلاوت کا مسئلہ ہو یا نماز کا، ہر مسئلہ میں قرآن پاک اور حدیث مبارکہ کا حکم جاننا چاہتا ہے کہ وہ اس معاملہ میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں تاکہ وہ اس کے مطابق عمل کر کے ماہِ رمضان المبارک کو نیکیوں کا موسمِ بہار بنا سکے اور خوب خوب اللہ کی رحمتوں کو لوٹ سکے۔ وہ رمضان اور روزوں کے مسائل کے متعلق پیش آنے والے خدشات و معاملات کے صحیح حل دریافت کرنے کے لیے علماء کے پاس بار بار جاتا ہے، بار بار پوچھتا ہے تاکہ اپنے روزے کے اجر کو زیادہ سے زیادہ کر کے اللہ کریم کی رحمتوں، محبتوں اور برکتوں کا حقدار بن سکے۔
فضیلۃ الشیخ مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی جماعت کے نوجوان عالم باعمل ہیں جن کو اللہ کریم نے چھوٹی عمر میں ہی علم و عمل کا وافر حصہ عطا فرما دیا ہے کہ اب بڑے بڑے شیوخ اور مقتدر علماء بھی بعض حل طلب مسائل میں ان سے رجوع کرتے ہیں۔ ذٰلك فضل الله يؤتيه من يشاء پاکستان میں ان کا فتویٰ جو قرآن و حدیث کی روشنی میں ہوتا ہے، ایک سند مانا جاتا ہے۔ انہوں نے لوگوں کے روز مرہ مسائل کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کرنے کے لیے چار جلدوں میں کتاب ”آپ کے مسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں“ لکھی ہے جو یقیناً پاکستان کی معروف و مقبول کتابوں میں سے ایک ہے۔
رمضان المبارک کے متعلق بھی انہوں نے چند سال قبل ایک مختصر مگر جامع کتابچہ ”احکام رمضان اور مسائل عید الفطر“ لکھا جو وسیع تعداد میں لوگوں میں تقسیم ہوا اور ان کی رہنمائی کا باعث بنا۔ پھر وقتاً فوقتاً ان کے جو بعض فتاویٰ ہفت روزہ غزوہ، ماہنامہ مجلہ الدعوۃ، اخوۃ اور دوسرے جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں جن کو اب دار الاندلس نے ”احکام و مسائل“ میں شائع کر دیا ہے۔ اس کتاب کو مرتب کرتے وقت ہم نے آخر میں عرب علماء کے فتاویٰ جات جو روزہ داروں کو پیش آنے والے جدید مسائل کا احاطہ بڑی خوبصورتی سے کرتے ہیں، کا اضافہ بھی کر دیا ہے۔
اس کے لیے ہم نے فتاویٰ علماء بلد الحرام کے علاوہ فتاویٰ اسلامیہ، فتاویٰ الصیام اور فتاویٰ ابن باز رحمہ اللہ اور فتویٰ دار الافتاء سعودی عرب شائع کردہ دار السلام لاہور سے خاص طور پر استفادہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے اپنے محترم دوست محمد اختر صدیق (فاضل مدینہ یونیورسٹی) کا مضمون ”روزہ داروں کی غلطیاں“ بھی کتاب کے آخر میں شامل کر دیا ہے جو یقیناً روزہ داروں کو ماہِ صیام میں کی جانے والی دانستہ یا نانادانستہ غلطیوں سے بچائے گا۔ ان شاء الله
اب یہ کتاب ہر روزہ دار کے لیے ایک راہنما کتاب، ایک مفتی اور ایک راہبر کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ ہم نے اس میں اس دور میں لوگوں کو پیش آنے والے جدید فقہی و عصری مسائل کے متعلق رہنمائی فراہم کرنے کی خصوصی کوشش کی ہے۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ اس کاوش کو قبول فرمائے اور فاضل نوجوان عالم باعمل مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کے درجات کو بلند کرے اور اس کتاب کو ان کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی کا ذریعہ بنائے اور لوگوں کو اس رہنمائی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے۔ آمين