رمضان المبارک اور خیرات :۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
كان النبى أجود الناس بالخير وكان أجود ما يكون فى رمضان حين يلقاه جبريل… فإذا لقيه جبريل كان أجود بالخير من الريح المرسلة
”نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان المبارک میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبریل علیہ السلام کی ملاقات ہوتی تو رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے۔“
(بخاری: 1902 ، مسلم : 2308)
لہذا ہمیں بھی رمضان المبارک میں صدقہ و خیرات کثرت سے کرنا چاہیے۔ مجاہدین، مدارس اسلامیہ، فقراء و مساکین، یتیم و بیواؤں، محتاج و تنگ دست، افلاس زدہ، خستہ حال، کم مایہ، مفلوک الحال، برہنہ پا، قلاش و بے نوا افراد کی بھر پور مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں اور عید الفطر کی خوشیوں میں بآسانی شرکت کر سکیں۔