رمضان المبارک سے متعلق چالیس صحیح الاسناد احادیث

فونٹ سائز:
تحریر: شیخ جمشید عالم عبدالسلام سلفی
مضمون کے اہم نکات

حدیث نمبر:1

رمضان سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت و حکمت

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:((لا يتقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين، إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذلك اليوم)) متفق عليه.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھے، الا یہ کہ کوئی ایسا شخص ہو جو پہلے سے کسی مخصوص دن کا روزہ رکھتا ہو، تو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے ۔

(صحیح بخاری:1914، صحیح مسلم:1082)

حدیث کی تشریح:

رمضان سے ایک یا دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی حکمت:

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ رمضان سے ایک یا دو دن پہلے شک کی بنیاد پر یارمضان کے استقبال کے طور پر روزہ رکھنا درست نہیں ہے۔ نبی ﷺنے رمضان سے بالکل پہلے روزہ رکھنے سے اس لیے منع فرمایا تاکہ فرض روزوں اور غیر ضروری احتیاطی روزوں کے درمیان فرق باقی رہے ۔ البتہ اگر کوئی شخص پہلے سے کسی مخصوص دن کے روزے کا عادی ہو۔ جیسے وہ پابندی کے ساتھ پیر یا جمعرات کا روزہ رکھتا ہو اور اتفاق سے وہ دن رمضان سے ایک یا دو دن پہلے آجائے، تو ایسے روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

اس ممانعت کی اصل وجہ یہ ہے کہ عبادت میں ایسی چیز شامل نہ کی جائے جو اس کا حصہ نہ ہو، لیکن جو روزہ پہلے سے کسی مستقل سبب کی بنا پر رکھا جا رہا ہو، وہ رمضان کے لیے بطور احتیاط رکھے گئے روزے میں شامل نہیں ہو گا، اسی لیے اس کی اجازت دی گئی ہے۔

رمضان کے استقبال کا صحیح طریقہ:

رمضان اسلام میں نہایت مقدس اور اہم مہینہ ہے۔ اس کا صحیح استقبال یہ ہے کہ ہم جسمانی، ذہنی اور روحانی طور پر اس کی تیاری کریں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں رمضان کا استقبال درج ذیل طریقوں سے کیا جا سکتا ہے:

توبہ اور اصلاح:

رمضان سے پہلے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں اور اپنی زندگی سنوار نے کا پختہ ارادہ کریں۔ یہ مہینہ نفس کی اصلاح اور روح کی پاکیزگی کا بہترین موقع ہے۔

فرائض اور نوافل کی پابندی:

پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کریں اور سنن و نوافل ادا کرنے کی عادت ڈالیں۔

تہجد اور اشراق کی نماز ادا کرنے کی کوشش کریں۔ کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کریں اور اس کے معانی سمجھنے کی کوشش کریں۔

ذکر الہی تسبیح و تحمید اور دعاؤں کو اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔

روزے کی تیاری:

روزے کی حکمت اور اہمیت کو سمجھیں۔

سحری اور افطار کی سنتوں کو اپنائیں۔

جسم کو روزے کا عادی بنانے کے لیے ماہِ شعبان میں نفل روزے رکھیں، خصوصا پیر اور جمعرات کے روزے۔

زکاۃ اور صدقہ کی منصوبہ بندی:

رمضان میں نیکیوں کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس لیے پہلے سے زکاۃ اور صدقات نکالنے کا منصوبہ بنائیں۔ محتاجوں کی مدد کریں، غریبوں پر دل کھول کر خرچ کریں اور ان کی دعوت لیں۔

ماحول کو رمضانی بنانا:

اپنے گھر اور خاندان میں رمضان کی اہمیت کو اجاگر کریں۔

بچوں کو رمضان کے بارے میں بتائیں ، اس کے فضائل کو سمجھائیں اور انھیں روزے کی ترغیب دیں۔

ٹی وی، موبائل اور فضول مشاغل سے بیچ کر منظم شیڈول کے مطابق اپنی توانائی عبادت اور نیک اعمال میں صرف کریں۔

رمضان کا صحیح استقبال صرف روزہ رکھنے کا نام نہیں، بلکہ دل و جان سے اس مہینے کو قبول کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

حاصل کلام:

①رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھنا درست نہیں ، الا یہ کہ وہ کسی خاص معمول کا حصہ ہو۔

② یہ ممانعت اس لیے ہے تاکہ فرض روزوں میں شک یا اضافہ نہ ہو۔

③ رمضان کی تیاری توبہ واستغفار ، عبادت، قرآن کریم کی تلاوت اور صدقہ کے ذریعے کرنی چاہیے۔

④ رمضان کا حقیقی استقبال مکمل طور پر اللہ کی عبادت میں مشغول ہونے سے ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی صحیح تیاری کرنے اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:2

چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کی ہدایت:

عن أبي هريرة رضي الله عنه يقول : قال النبي صلى الله عليه وسلم، أو قال: قال أبو القاسم صلى الله عليه وسلم: (صوموا لرؤيته، وأفطروا لرؤيته، فإن غبي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين)) متفق عليه.

سیدنا ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے ،کہ نبی ﷺنے فرمایا، یا انھوں نے کہا کہ ابو القاسم ﷺنے فرمایا: چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ ختم کرو۔ اگر بادلوں کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر لو ۔ “

(صحیح بخاری:1909، صحیح مسلم:1081)

حدیث کی تشریح:

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ روزہ شروع کرنے اور ختم کرنے کی بنیاد چاند کا نظر آنا ہے۔ جب رمضان کا نیا چاند نظر آئے تو روزہ رکھنا شروع کرو اور جب شوال کا چاند نظر آئے تو عید مناؤ۔ اگر موسم کی خرابی یا بادلوں کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے پورے تیس دن شمار کر کے رمضان کا روزہ رکھنا چاہیے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر شخص کے لیے خود چاند دیکھنا ضروری ہے، بلکہ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری (فرض کفایہ) ہے۔ یعنی اگر چند معتبر لوگ چاند دیکھ لیں اور اس کی تصدیق کر دیں تو اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ اس اصول کی تائید دیگر احادیث سے بھی ہوتی ہے، جہاں نبی ﷺنے معتبر گواہی قبول کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں رمضان اور عید کے آغاز کے لیے ایک منظم اور مستند طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں مہینوں کی ابتدا اور عبادات کا تعین چاند دیکھنے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، نہ کہ صرف فلکیاتی حساب (حساب نجوم) پر۔ شریعت نے روزہ رکھنے اور عید منانے کے لیے چاند دیکھنے کو بنیاد بنایا ہے، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بھی یہی حکم ملتا ہے :

لا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له.

جب تک چاند نہ دیکھو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھو روزہ رکھنا بند نہ کرو۔ اگر چاند چھپ جائے تو اس کی گنتی پوری کرو۔

(صحیح بخاری:1906، صیح مسلم:1081)

بعض لوگوں نے حدیث میں وارد لفظ ”فاقدروا له” تو اس کی گنتی پوری کرو“ کا مطلب فلکیاتی حساب اختیار کرنا، لیا ہے، لیکن یہ مفہوم درست نہیں ، کیوں کہ سیدنا  ابو ہریرہ رضی اللہ عنی کی حدیث میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے، کہ اگر چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کیے جائیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے حساب کے بجائے براہ راست چاند دیکھنے کو ترجیح دی ہے۔ چنانچہ اس حدیث اور اس سے متعلق دیگر دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رمضان اور عید کا آغاز صرف فلکیاتی حساب پر مبنی نہیں ہو سکتا، بلکہ شریعت نے اسے چاند دیکھنے کے ساتھ وابستہ کیا ہے، لہذا مسلمانوں کو اسی بنیاد پر عمل کرنا چاہیے اور چاند نظر آنے پر ہی روزہ رکھنا اور عید منانی چاہیے۔

اسلامی شریعت کے مطابق ہر علاقے کے لوگ اپنے مقامی چاند دیکھنے کی بنیاد پر رمضان کی ابتدا کریں گے اور عید منائیں گے ۔ دور دراز علاقوں میں نظر آنے والے چاند پر عمل کرنا لازم نہیں ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں دن اور رات کا فرق ہوتا ہے۔ جب مکہ اور مدینہ میں دن ہوتا ہے تو امریکہ کے بعض حصوں میں رات ہوتی ہے ، اس لیے یہ ضروری نہیں کہ پوری دنیا کے مسلمان ایک ہی دن روزہ رکھیں اور ایک ہی دن عید منائیں ۔ جناب کریب رحمہ اللہ کی حدیث میں آتا ہے کہ جب انھوں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ انھوں نے اور شام کے اکثر لوگوں نے جمعہ کے دن چاند دیکھا تھا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ  نے بھی اسی کے مطابق روزہ رکھا تھا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:

((لكنا رأيناه ليلة السبت، فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين، أو نراه، هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم))

ہم نے تو ہفتہ کے دن چاند دیکھا تھا اور ہم اسی کے مطابق روزے رکھیں گے، یہاں تک کہ ہم خود چاند دیکھ لیں یا شعبان کے تیس دن پورے ہو جائیں ۔ پھر انھوں نے فرمایا: رسول اللہﷺنے ہمیں اسی طرح حکم دیا تھا۔

صحیح مسلم:1087

اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رمضان اور عید کا تعین مقامی چاند دیکھنے کی بنیاد پر ہو گا، نہ کہ کسی دور دراز مقام پر نظر آنے والے چاند کی بنیاد پر، لہذا ہر علاقہ اپنے چاند کے مطابق عمل کرے گا اور اسلام کی اس آسان اور عملی ترتیب کو اختیار کرے گا۔ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ پوری دنیا کے مسلمان ایک ہی دن روزہ رکھیں اور ایک ہی دن عید منائیں ۔

حاصل کلام:

①رمضان اور عید کا آغاز چاند دیکھنے پر مبنی ہے، نہ کہ فلکیاتی حساب پر۔

②اگر بادلوں کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کیے جائیں گے ۔

③ہر علاقہ اپنے مقامی چاند دیکھنے کے مطابق رمضان شروع کرے گا اور عید منائے گا۔

④ پوری دنیا میں ایک ہی دن روزہ اور عید ہونا ضروری نہیں۔

⑤اسلام کی یہ ترتیب نہایت آسان اور عملی ہے ، جس پر تمام مسلمان سہولت کے ساتھ عمل کر سکتے ہیں۔

اللہ ہمیں کتاب وسنت کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے۔ آمین!

حدیث نمبر:3

رمضان اور ذوالحجہ : فضیلت اور اجر کے لحاظ سے کامل مہینے:

عن أبي بكرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((شهران لا ينقصان، شهرا عيد: رمضان وذو الحجة)) متفق عليه.

سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: دو مہینے کبھی کم نہیں ہوتے۔ عید والے مہینے: رمضان اور ذوالحجہ۔

(صحیح بخاری:1912، صحیح مسلم:1089)

حدیث کی تشریح:

رمضان اور ذوالحجہ کی اہمیت کا بیان:
اس حدیث میں ان دونوں مہینوں کی خصوصیت بیان کی گئی ہے۔ یہ بات معروف ہے کہ اسلامی قمری مہینہ کبھی 29دن کا ہوتا ہے اور کبھی30 دن کا، لیکن رمضان اور ذوالحجہ کی دینی اور روحانی اہمیت ہمیشہ مکمل رہتی ہے ، چاہے ان کے دن کم ہوں یا پورے ہوں۔

اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ ان مہینوں کی دینی عظمت کبھی کم نہیں ہوتی اور ان میں کی جانے والی عبادات کا پورا ثواب ملتا ہے ، چاہے چاند کی گنتی کے اعتبار سے دن کم ہو جائیں ۔

“کم نہ ہونے“ کا مفہوم:

کم نہ ہونے سے مراد یہ نہیں کہ ان مہینوں کے دن ہمیشہ30 ہی ہوں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی فضیلت اور ثواب کبھی کم نہیں ہوتا۔ چاہے مہینہ29 دن کا ہو یا30 دن کا، ان مہینوں میں کی جانے والی عبادات کا پورا اجر ملتا ہے۔

رمضان اور ذوالحجہ کی خصوصیات:

رمضان کو روزوں، قرآن کے نزول اور لیلتہ القدر کی وجہ سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

ذو الحجہ کو حج، یوم عرفہ اور عید الاضحی(قربانی) کی وجہ سے خاص مقام حاصل ہے۔

“عید کے مہینے“ کہنے کی وجہ:

رمضان کو “عید کا مہینہ“ اس لیے کہا گیا کہ اس کے ختم ہوتے ہی عید الفطر آتی ہے۔

ذو الحجہ کو “عید کا مہینہ“ اس لیے کہا گیا کہ اس میں عید الاضحی کا دن ہوتا ہے۔ پھر خود نبی کریم ﷺنے وضاحت فرمادی کہ یہ دونوں مہینے رمضان اور ذوالحجہ ہیں۔

حاصل کلام:

①رمضان اور ذوالحجہ کی دینی حیثیت و عظمت ہمیشہ مکمل رہتی ہے، چاہے دنوں کی تعداد29ہو یا30۔

②ان دونوں مہینوں میں کی جانے والی عبادات (روزه، قیام اللیل،حج،قربانی وغیرہ) کا پورا اجر ملتا ہے۔

③رمضان اور ذوالحجہ کو “عید کے مہینے“ کہا جاتا ہے، کیونکہ ان مہینوں میں دو بڑی عیدیں آتی ہیں۔

④یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ شرعی اعتبار سے ان مہینوں کی فضیلت کبھی کم نہیں ہوتی۔

⑤اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں ، اس لیے ان کے علاوہ کسی اور دن کو عید منانا بدعت ہو گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان دونوں مہینوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور دونوں عید کی حقیقی خوشیاں عطا فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:4

رمضان کی خصوصی برکتیں:

عن أبي هريرة رضي الله عنه يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((إذا دخل رمضان فتحت أبواب الجنة، وغلقت أبواب جهنم، وسلسلت الشياطين)) متفق عليه.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے ۔

(صحیح بخاری:3277/1899، صحیح مسلم:1079)

حدیث کی تشریح:

جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں:
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت اور جنت کی طرف جانے والے راستے کھول دیے جاتے ہیں اور اس مہینے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ نیز رمضان میں عبادت کرنے سے جنت میں داخل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

بعض روایات میں“آسمان کے دروازے“(دیکھیے: صحیح بخاری:1899) اور بعض میں“رحمت کے دروازے“(دیکھیے:صحیح مسلم:1079) کا ذکر آیا ہے اور یہ سب ایک ہی معنی میں ہیں، کیوں کہ جنت آسمان میں ہے اور وہ اللہ کی رحمت کی علامت ہے۔

جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں:

اس مہینے میں دوسرا کام یہ ہوتا ہے کہ جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مہینے میں اپنے بندوں کو گناہوں سے بچانے کے لیےخاص مدد فرماتا ہے۔ جہنم کے دروازے بند ہونے کا یہ اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس مہینے میں گناہوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ جو شخص رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھا کر گناہوں سے بچتا ہے، وہ جہنم سے نجات پاسکتا ہے۔

شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے:

زنجیروں میں جکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں میں بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں، تاکہ وہ انسانوں کو بہکانے پر قادر نہ رہیں۔ اسی طرح شیطانوں کا اثر، لوگوں کو گمراہ کرنے کی طاقت اور ان کی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں۔

ایک دوسری صحیح روایت میں آیا ہے کہ “سرکش شیطانوں“ کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ (دیکھیے:سنن ترمذی:682، سنن نسائی:2106، صحیح) اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے بڑے اور زیادہ خطرناک شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور چھوٹے چھوٹے شیاطین کھلے رہتے ہیں۔

اللہ کے نبی ﷺکی بیان کردہ یہ تمام باتیں برحق ہیں، جو آپ ﷺنے اپنی امت کی خیر خواہی، نیکی کی ترغیب اور برائی سے خبر دار کرنے کے لیے فرمائی ہیں۔

شیطانوں کے باندھے جانے کے باوجود لوگ گناہ کیوں کرتے ہیں؟

رمضان میں بھی لوگ گناہ کرتے ہیں ، لیکن اس کی وجہ صرف شیطان نہیں ہوتے ، بلکہ نفس(انسان کی اپنی خواہشات اور لالچ)،بری عادتیں، پرانے گناہوں کی لت، برے دوست اور خراب ماحول بھی گناہوں کا سبب بنتے ہیں۔ تاہم ان کے باوجود بھی اور مہینوں کی بنسبت رمضان میں گناہوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور نیکیوں کی طرف رغبت بڑھ جاتی ہے، کیوں کہ روزہ رکھنے سے انسان میں ضبط نفس اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ بڑے وسوسوں سے بچ سکتا ہے۔

اس حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق:

یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت اور شفقت کو ظاہر کرتی ہے، کیونکہ وہ رمضان میں اپنے بندوں پر خصوصی رحمت اور مغفرت نازل فرماتا ہے۔

اس مہینے میں اللہ تعالیٰ نیک اعمال پر بھر پور اجر عطا فرماتا ہے اور برائیوں سے بچنے کا موقع دیتا ہے۔

رمضان میں شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ روزہ داروں کی عبادت کو نقصان نہ پہنچا سکیں اور اس طرح انھیں عبادت کا بہترین موقع میسر آتا ہے۔

شیطانوں کا وجود حقیقی ہے اور ان کے جسم ہیں جنھیں زنجیروں میں جکڑا جا سکتا ہے۔

جو شخص رمضان میں گناہوں سے بچتا ہے اور عبادت میں مشغول رہتا ہے، اس کے لیے جنت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔

اس مہینے میں انسان کو زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے اور اس کی برکتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے، کیوں کہ اس میں نیکیوں کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

حاصل کلام:

①رمضان ایک ایسا بابرکت مہینہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خصوصی فضل و کرم فرماتا ہے۔

②اس مہینے میں گناہوں سے بچنا اور عبادت میں مشغول رہنا آسان ہو جاتا ہے، کیوں کہ شیطانوں کا اثر کمزور ہو جاتا ہے۔

③اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگی کو نیکیوں سے بھر لیں اور جہنم سے بچنے کی بھر پور کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی برکتوں سے مکمل فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !

حدیث نمبر:5

عاشوراء کے روزے میں رخصت اور رمضان کے روزوں کی فرضیت:

عن عائشة رضي الله عنها ، أن قريشا كانت تصوم يوم عاشوراء في الجاهلية، ثم أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بصيامه، حتى فرض رمضان، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((من شاء فليصمه، ومن شاء أفطر)) متفق عليه.

سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش قبیلے کے لوگ زمانہ جاہلیت میں یوم عاشوراء (دس محرم) کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺنے بھی اس روزے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے تو اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ۔

(صحیح بخاری:1893، صحیح مسلم:1125)

حدیث کی تشریح:

رمضان کے روزوں کی فرضیت:
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ رمضان کے روزے فرض ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی اس کا حکم دیا ہے، فرمایا:

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ.

اے ایمان والو ! تم پر روزہ فرض کر دیا گیا ہے، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ ۔

 [البقرة:183]

رمضان کے روزے رکھنا اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا:

((بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله ، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والحج، وصوم رمضان))

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺاللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، حج کرنا اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا۔

 صحیح بخاری:8، صحیح مسلم:16

روزہ (صوم) کا معنی اور اس کی فرضیت:

عربی زبان میں ”صوم “ یا صیام“ کے معنی رکھنے اور باز رہنے کے ہیں۔

اسلام میں روزہ شعبان سن 2/ ہجری میں فرض کیا گیا۔

شریعت اسلامیہ میں روزہ ہر عاقل و بالغ مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ روزے کا مطلب یہ ہے کہ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک روزے کی نیت سے کھانے، پینے، جماع کرنے اور روزہ توڑنے والی دیگر چیزوں سے رک جانا۔

روزہ توڑنے والی چیزوں کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے:

①جان بوجھ کر کھانا یا پینا۔

②رمضان میں دن کے وقت جان بوجھ کرقے کرنا۔

③رگوں کے ذریعے غذائیت فراہم کرنے والے انجکشن لگوانا۔

④رمضان میں دن کے وقت خود لذتی یعنی مشت زنی کرنا۔

⑤رمضان میں جان بوجھ کر روزہ توڑنے کا ارادہ کرنا۔

◈اس صورت میں قضا لازم ہے اور دن کے باقی حصے میں کھانے پینے سے رکے رہنا بھی ضروری ہے۔

⑥ایسی چیز نگلنا جو کھانے کے قابل نہ ہو، جیسے سکہ ، پتھر ، دھاگا وغیرہ۔

⑦کسی بھی قسم کی ڈائلیسس (Dialysis) کروانا اور سینگی لگوانا یا لگانا۔

◈دانتوں کے درمیان پھنسی ہوئی چیز کو نگل لینا، جب کہ اسے تھوکنا ممکن ہو۔

⑧روزے کی حالت میں سگریٹ یا کسی بھی قسم کی تمباکو نوشی کرنا۔

⑨حیض یا نفاس کا خون آجانا۔

◈ایسی عورتوں پر دن کے باقی حصے میں روزہ جاری رکھنا لازم نہیں ہوتا۔

⑩بیوی سے لپٹنے، بوسہ لینے یا چھونے کی وجہ سے انزال ہو جانا۔

◈اس صورت میں صرف قضا لازم ہے ، کفارہ نہیں۔

⑪رمضان کے دن میں جان بوجھ کر ازدواجی تعلق قائم کرنا۔

◈اس صورت میں قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہے۔ کفارہ یہ ہے :

  1. ایک غلام آزاد کرنا۔
  2. اگر یہ ممکن نہ ہو تو مسلسل ساٹھ دن کے روزے رکھنا۔
  3. اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔

⑫غروب آفتاب کے بارے میں شک کے باوجود کھا پی لینا، پھر بعد میں معلوم ہو کہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا۔

عاشوراء (دس محرم) کے روزے کی حیثیت:

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں عاشوراء کا روزہ فرض تھا، لیکن جب رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے تو عاشوراء کا روزہ نفل ہو گیا، یعنی جو چاہے رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔

حاصل کلام:

①رمضان کے روزے فرض ہیں، جب کہ عاشوراء کا روزہ نفل ہے۔

②روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ پر ہیز گاری اور ضبط نفس کی تربیت ہے۔

③روزے کا اصل مقصد اللہ کے حکم کی اطاعت اور تقویٰ حاصل کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ماہ رمضان کے روزوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:6

روزہ کے لیے نیت لازمی شرط:

عن حفصة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:((من لم يجمع الصيام قبل الفجر فلا صيام له)) رواه أبوداود، والترمذي، والنسائي، وابن ماجه.

نبی کریم ﷺکی زوجہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: جو شخص فجر طلوع ہونے سے پہلے روزے کی نیت نہ کرے، اس کا روزہ نہیں ہو گا۔

(سنن ابی داود:2454، سنن ترمذی:730، سنن نسائی: 2333، سنن ابن ماجہ: 1700؛ اس حدیث کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔)

حدیث کی تشریح:

نیت کی اہمیت:
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ روزہ اسی وقت صحیح ہو گا جب اس کی نیت فجر الله سے پہلے کر لی جائے، جیسا کہ ایک دوسری مشہور حدیث میں نبی ﷺکا فرمان ہے:

((إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى …))

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا، جس کی اس نے نیت کی ہے …

 (صحیح بخاری:1، صحیح مسلم:1907)

فرض اور نفل روزوں میں فرق:

رمضان کے روزے، قضا (چھوٹے ہوئے روزوں کی تلافی) اور نذر (منت) کے روزوں کے لیے فجر سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے۔

لیکن نفل (اختیاری) روزے میں دن کے دوران بھی نیت کی جاسکتی ہے، بشرط یہ کہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں :کہ ایک دن نبی ﷺتشریف لائے اور فرمایا: کیا تمھارے پاس (کھانے کے لیے )کچھ ہے؟ہم نے عرض کیا نہیں۔ تو آپﷺ نے فرمایا: تو پھر میں روزے سے ہوں ۔

(صحیح مسلم:1154)

نیت دل سے ہونی چاہیے، زبان سے کہنا ضروری نہیں:

نیت کا مطلب دل میں پختہ ارادہ کرنا ہے، زبان سے الفاظ ادا کرنا نہیں۔ زبان سے نیت کے الفاظ کہنا شرعا ثابت نہیں ۔

اس لیے “ نويت الصوم “( میں نے روزے کی نیت کی ) یا“أصوم غدا لك“(میں کل تیرے لیے روزہ رکھوں گا)جیسے الفاظ کہنا شرعاً درست نہیں ہے ، جنھیں بعض لوگوں نے خود گھڑ لیا ہے۔

صحیح نیت یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں یہ طے کر لے کہ وہ کل روزہ رکھے گا۔

رمضان کے روزوں کی نیت ہر رات کرنا ضروری ہے:

رمضان کے ہر روزے کی نیت فجر سے پہلے ہر رات کرنا ضروری ہے۔

صرف پہلے دن نیت کر لینا کافی نہیں، بلکہ ہر دن کے لیے الگ نیت ہونی چاہیے۔ تاہم بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ رمضان کے روزوں کے لیے ماہ کے آغاز میں یہ نیت کر لینا کافی ہے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے جائیں گے۔

حاصل کلام:

①روزے کی نیت ایک ضروری شرط ہے، جو رمضان، قضا اور نذر کے روزوں کے لیے فجر سے پہلے کرنی ہوتی ہے۔

②نفل روزے میں دن کے دوران بھی نیت کی جاسکتی ہے، بشرط یہ کہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔

③نیت دل سے ہونی چاہیے، زبان سے کہنا لازم نہیں۔

④رمضان کے ہر روزے کی نیت علیحدہ کرنی چاہیے۔

اللہ ہمیں صحیح نیت کے ساتھ روزہ رکھنے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

حدیث نمبر:7

روزہ داروں کے لیے خصوصی عنایت:

عن سهل بن سعد رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((إن في الجنة بابا، يقال له: الريان، يدخل منه الصائمون يوم القيامة، لا يدخل منه أحد غيرهم، يقال: أين الصائمون؟ فيقومون لا يدخل منه أحد غيرهم، فإذا دخلوا أغلق فلم يدخل منه أحد)) متفق عليه.

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ”ر یان“ کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن صرف روزہ دار ہی اس دروازے سے داخل ہوں گے ، ان کے سوا کوئی اور اس سے داخل نہیں ہو گا ۔( اس دن ) کہا جائے گا: روزہ دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہوں گے اور ان کے سوا کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ سب داخل ہو جائیں گے تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا، پھر کوئی اور اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔

(صحیح بخاری:1896، صحیح مسلم: 1152)

حدیث کی تشریح:

روزہ داروں کا خصوصی اعزاز:
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ روزہ داروں کے لیے جنت میں خاص درجہ اور خصوصی عزت رکھی گئی ہے۔ یہ مقام اور اجر صرف انہی لوگوں کو ملے گا جو دنیا میں اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھتے ہیں۔

“ریان“دروازے کی خصوصیت:

ریان کا معنی ہے “سیرابی“ یا ” پیاس بجھانے والا “یہ نام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے لیے بھوکے پیاسے رہے، انھیں جنت میں ایسی سیرابی نصیب ہوگی، جو دوسروں کو حاصل نہیں ہوگی۔

اس دروازے سے صرف روزہ داروں کو بلایا جائے گا، اور جب وہ داخل ہو جائیں گے تو دروازہ بند کر دیا جائے گا۔

فرض اور نفل روزوں کی اہمیت:

فرض روزے (رمضان کے روزے)رکھنے والے اس خصوصی اعزاز کے حق دار ہوں گے۔

نفل روزے، جیسے پیر اور جمعرات کے روزے، ایام بیض کے روزے، شعبان کے روزے، عاشورا کا روزہ اور ذی الحجہ کے ابتدائی نو دنوں کے روزے رکھنے والوں کو بھی اس دروازے سے داخلے کی سعادت حاصل ہوگی۔

روزے کا اجر و ثواب:

روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ صبر، تقویٰ (پرہیز گاری) اور اللہ کی بندگی کی ایک آزمائش ہے۔

دنیا میں روزے دار جو مشقتیں برداشت کرتے ہیں، قیامت کے دن انھیں اس کا بہترین بدلہ عطا کیا جائے گا۔

حاصل کلام:

①روزہ رکھنے والوں کے لیے جنت میں ایک خاص دروازہ (ریان ) ہے۔

②صرف روزہ دار ہی اس دروازے سے داخل ہوں گے اور جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ بند کر دیا جائے گا۔

③روزہ صبر اور تقویٰ کی آزمائش ہے اور اس کا اجر جنت میں ملے گا۔

④فرض اور نفل دونوں قسم کے روزے رکھنے والوں کو اس خصوصی دروازے سے داخلے کی سعادت حاصل ہوگی ۔

اللہ ہمیں جنت الفردوس کا مکین بنائے اور ریان دروازے سے جنت میں داخل ہونے کا شرف بخشے ۔ آمین!

حدیث نمبر:8

روزے کا مقام اور عظیم اجر:

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((يقول الله عزوجل : الصوم لي، وأنا أجزي به، يدع شهوته وأكله وشربه من أجلي، والصوم جنة، وللصائم فرحتان: فرحة حين يفطر، وفرحة حين يلقى ربه، ولخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك)) متفق عليه

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: عظمت و بزرگی والا اللہ فرماتا ہے:روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ وہ میری خاطر اپنی خواہشات اور کھانے پینے کو چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ ایک ڈھال ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ اور محبوب ہے۔

 (صحیح بخاری:7492، صحیح مسلم:1151، یہ الفاظ صیح بخاری کے ہیں۔)

حدیث کی تشریح:

روزے کی خصوصیت اور اس کا اجر:
روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزے کا بدلہ خود اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا اور اس کا اجر بہت زیادہ، بے مثال اور لامحدود ہوگا۔ اسلام میں تمام نیک اعمال کے اجر کا بیان آیا ہے، لیکن روزے کے بارے میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اس کا بدلہ میں خود دوں گا۔اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ روزہ دار اللہ کی خاطر صبر کرتا ہے۔

روزہ اور صبر کا تعلق:

روزے میں صبر کی تینوں قسمیں پائی جاتی ہیں:

عبادت پر صبر: روزہ دار اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اپنی خواہشات پر قابو رکھتا ہے۔

گناہوں سے بچنے کا صبر: روزہ دار بڑی باتوں، جھوٹ، غیبت، غصے اور ناجائز خواہشات سے خود کو بچاتا ہے۔

تکالیف پر صبر: بھوک، پیاس اور کمزوری کو برداشت کرتا ہے، خاص طور پر گرمی کے موسم میں۔

چوں کہ روزہ ان تینوں طرح کے صبر کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، اس لیے روزہ دار کو صبر کا عظیم اجر بھی حاصل ہو گا۔ صبر کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

إِنَّمَا يُوَفَّى ٱلصَّـٰبِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍۢ.

یقینا صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا۔

 (سورۃ الزمر:10)

روزہ ایک ڈھال ہے:

“روزہ ایک ڈھال ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ روزہ گناہوں اور جہنم کی آگ سے بچانے والا ہے۔

انسان کی خواہشات اکثر اسے گناہوں کی طرف لے جاتی ہیں، لیکن روزہ رکھنے سے وہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے اور اللہ کی عبادت میں مشغول رہتا ہے۔

جہنم کی آگ خواہشات اور نفسانی میلانات سے گھری ہوئی ہے، لیکن روزہ رکھنے سے انسان ان پر قابو پاتا ہے اور جہنم سے محفوظ رہتا ہے۔

روزہ دار کے لیے دو خوشیاں:

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ روزہ دار کو دو خاص خوشیاں ملتی ہیں:
①افطار کے وقت کی خوشی: جب روزہ دار افطار کرتا ہے تو اسے خاص خوشی اور راحت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اللہ نے اسے روزہ مکمل کرنے کی توفیق دی۔

②اپنے رب سے ملاقات کی خوشی: جب انسان آخرت میں اللہ سے ملاقات کرے گا اور دیکھے گا کہ روزوں کے بدلے اسے کتنا عظیم اجر دیا گیا ہے ، تو اسے بے پناہ خوشی حاصل ہوگی۔

دنیا میں افطار کے وقت حاصل ہونے والی خوشی، آخرت میں ملنے والی اصل خوشی کی محض ایک جھلک ہے۔

روزہ دار کے منہ کی بو کا خصوصی مقام:

جب انسان روزہ رکھتا ہے تو دن بھر بھوکا پیاسا رہنے کی وجہ سے اس کے منہ کی بو بدل جاتی ہے۔ یہ بو اگر چہ انسانوں کے لیے ناگوار ہو سکتی ہے، لیکن اللہ کے نزدیک یہ مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ محبوب اور پاکیزہ ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بو اللہ کی عبادت اور اطاعت کی علامت ہے۔

حاصل کلام:

①روزہ محض ایک عبادت نہیں بلکہ عظیم بندگی اور صبر کی علامت ہے۔

②روزہ انسان کو گناہوں سے بچانے اور جہنم سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے۔

③روزہ دار کو دو عظیم خوشیاں نصیب ہوتی ہیں۔ ایک دنیا میں اور دوسری آخرت میں ۔

④اللہ کے لیے سچی بندگی کی نشانی کے طور پر روزہ دار کے منہ کی بو بھی اللہ کے نزدیک نہایت محبوب ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صبر و استقامت کے ساتھ روزہ رکھنے کی توفیق دے اور اپنی رضا اور خوش نودی نصیب فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:9

روزے میں نفسانی خواہشات پر قابو:

عن عائشة رضي الله عنها قالت : ((كان النبي صلى الله عليه وسلم يقبل ويباشر وهو صائم، وكان أملككم لإربه)) متفق عليه.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: نبی ﷺروزے کی حالت میں اپنی بیوی کو بوسہ دیتے تھے اور محبت سے چھوتے تھے اور آپ ﷺتم سب میں اپنی خواہشات پر سب سے زیادہ قابورکھنے والے تھے۔

 (صحیح بخاری:1927، صحیح مسلم:1106)

حدیث کی تشریح:

روزے کی حالت میں بیوی سے محبت آمیز برتاؤ کی اجازت:
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رمضان کے دن میں روزے کی حالت میں آدمی اپنی بیوی کو بوسہ دے سکتا ہے اور محبت سے چھو سکتا ہے، بشرط یہ کہ یہ عمل جماع یا منی (نطفہ) کے انزال تک نہ پہنچے۔

”مباشرت” کا معنی و مطلب:

حدیث میں آنے والا لفظ ”مباشرت“ (یعنی چھونا) صرف بوسہ دینے تک محدود نہیں، بلکہ اس میں وہ تمام محبت آمیز جسمانی افعال شامل ہیں جو جماع کے علاوہ ہوں، لہذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ محبت آمیز برتاؤ کرے، لیکن اپنی خواہشات پر قابورکھے اور انزال کا اندیشہ نہ ہو، تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں۔

نبی ﷺکا اپنی خواہشات پر مضبوط قابو:

حدیث میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ اپنی خواہشات پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺاپنے جذبات اور خواہشات کو پوری طرح قابو میں رکھ سکتے تھے، اسی لیے آپ ﷺکا اپنی بیوی کے ساتھ محبت آمیز برتاؤ کبھی بھی روزہ ٹوٹنے کا سبب نہیں بنا۔

خواہشات پر قابونہ ہونے کی صورت میں احتیاط:

ہر شخص کے ارادے کی قوت یکساں نہیں ہوتی۔ جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ وہ اپنی خواہشات پر قابو نہیں رکھ سکتا اور بوسہ لینے یا چھونے سے معاملہ جماع تک پہنچ جائے گا یا پھر انزال ہونے کا اندیشہ ہو، تو اسے اس سے بچنا چاہیے، کیوں کہ اسلام میں یہ اصول ہے کہ ذرائع کا حکم مقاصد کے تابع ہوتا ہے، یعنی جو چیز آگے چل کر کسی ممنوع کام تک پہنچا دے، اس سے بھی اجتناب ضروری ہے۔

حاصل کلام:

①رمضان میں روزے کی حالت میں یا عام دنوں میں نفل روزوں کی حالت میں میاں بیوی کا محبت آمیز برتاؤ جائز ہے ، جب تک کہ وہ برتاؤ جماع یا انزال تک نہ پہنچے۔

②جس شخص کو اپنی خواہشات پر پورا قابو ہو اور جماع یا انزال کا اندیشہ نہ ہو، اس کے لیے اس میں کوئی قباحت نہیں۔

③جسے اپنی خواہشات پر قابو نہ ہو اور جماع یا انزال کا اندیشہ ہو، اسے اس سے بچنا چاہیے۔

④اس سے معلوم ہوا کہ اسلام انسان کی فطری کمزوریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اعتدال اور توازن کا راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اعتدال و توازن کے ساتھ اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے۔ آمین!

حدیث نمبر:10

روزے کی حالت میں بھول کر کھانے پینے کی رخصت:

عن أبي هريرة رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((إذا نسي فأكل وشرب فليتم صومه؛ فإنما أطعمه الله وسقاه)) متفق عليه.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:جو شخص روزے کی حالت میں ہو اور بھول کر کھالے یا پی لے، تو وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیوں کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔

(صحیح بخاری:1933، صحیح مسلم:1155)

حدیث کی تشریح:

اسلام کی آسانی اور رحمت:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک آسان اور رحمت والا دین ہے۔

شریعت میں انسان کی کمزوری اور بھول چوک کا لحاظ رکھا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ انسان پر وہ ذمہ داری نہیں ڈالتا جو اس کی طاقت سے باہر ہو۔

بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا:

اگر کوئی شخص بھول کر کچھ کھالے یا پی لے، تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا، کیوں کہ اس کا ارادہ روزہ توڑنے کا نہیں تھا، بلکہ یہ کام لا علمی اور بھول چوک میں ہوا۔

اسلام میں عبادت کا دار و مدار نیت (ارادے) پر ہے۔

اللہ کی مہربانی:

نبی کریم ﷺنے اس واقعے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے اسے کھلایا اور پلایا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی خاص رحمت اور عنایت ہے کہ اس نے اپنے بندے کوبھوک اور پیاس سے محفوظ رکھا۔

بھول کر دیگر افعال کرنے کا حکم:

اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں بھول کر کوئی اور روزہ توڑنے والا کام کر بیٹھے ، مثلاً:

  • غسل کے دوران غلطی سے پانی نگل لے۔
  • بھول کر کوئی دوا کھائے۔
  • بھول کر بیوی سے ہم بستری کرلے۔
  • اسی طرح کسی چیز کا ذائقہ چکھے اور بے ارادہ نگل جائے وغیرہ۔

◈تو ان تمام صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹے گا، بلکہ اسے پوراکرنا ہوگا۔

جان بوجھ کر کھانے پینے کا حکم:

اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کچھ کھالے یا پی لے، تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔

اس پر اس دن کے روزے کی قضا لازم ہوگی، یعنی اس کے بدلے رمضان کے بعد ایک اور روزہ رکھنا ہو گا اور اللہ سے توبہ بھی کرنی ہوگی۔

روزہ دار کے لیے جائز امور :

اس کے علاوہ بھی روزہ دار کے لیے بعض کام جائز ہیں، جن کا مختصر بیان درج ذیل ہے:
①اگر کوئی شخص جنبی ہو جائے یعنی بیوی سے ہم بستری کرلے یا عورت حیض سے پاک ہوجائے، تو وہ فجر کی نماز تک غسل میں تاخیر کر سکتے ہیں۔

②منہ میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا ، لیکن زیادہ اندر تک نہ لے جانا۔

③روزہ دار کا غسل کرنا اور ٹھنڈے پانی سے جسم کو ٹھنڈک پہنچانا۔

④ضرورت کے وقت کھانے کا ذائقہ چکھنا، بشرط یہ کہ اسے نگلا نہ جائے۔

⑤بیوی کو بوسہ دینا اور جسمانی قربت اختیار کرنا، بشرط یہ کہ انسان اپنے نفس پر قابورکھے۔

⑥مذی کا نکلنا۔ (مدی وہ چیچپا پانی ہے ، جو شہوانی خیالات یا بوس و کنار کے وقت شرم گاہ سے نکلتا ہے۔)

⑦عورت کو استحاضہ کا خون آنا۔ (استحاضہ وہ خون ہے جو حیض کے مقررہ ایام کے علاوہ آئے۔)

⑧عطر لگانا، خوشبو سونگھنا اور دھونی یا بخور کا استعمال کرنا۔

◈مسواک، ٹوتھ پیسٹ اور دیگر دندان سازی کے سامان کا استعمال کرنا، بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہوں اور پیٹ کے اندر نہ جائیں ۔

⑨کاجل اور سرمہ لگانا۔

⑩آنکھوں کی دوا ( آئی ڈراپس) استعمال کرنا۔

⑪کانوں کی دوا ( ایئر ڈراپس) استعمال کرنا۔

◈یہ تمام کام روزے کی حالت میں جائز ہیں اور ان سےروزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

حاصل کلام:

①بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

②یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شفقت کی واضح دلیل ہے۔

③اگر روزہ توڑنے والے امور بغیر ارادے کے ہوں تو ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

④جان بوجھ کر روزہ توڑنے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے اور اس کی قضا واجب ہوتی ہے۔

⑤روزہ دار کے لیے جائز امور کا جاننا ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلامی تعلیمات کو صحیح طور پر سمجھنے اور ان پر درست طریقے سے عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

حدیث نمبر:11

غسل جنابت میں تاخیر اور روزہ:

عن عائشة وأم سلمة رضي الله عنهما: ((أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدركه الفجر وهو جنب من أهله، ثم يغتسل ويصوم)) متفق عليه.

سیدہ عائشہ اور سیدہ  ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ بیان کرتی ہیں: کبھی ایسا ہوتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں سے ہم بستری کی وجہ سے جنابت (ناپاکی) کی حالت میں ہوتے اور فجر کی نماز کا وقت ہو جاتا، پھر اس کے بعد آپ غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔

(صحیح بخاری:1925، صحیح مسلم:1109)

حدیث کی تشریح:

جنابت کی حالت میں فجر ہو جائے تو روزہ صحیح رہتا ہے:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص رات میں جماع کرے اور غسل جنابت کیے بغیر سو جائے اور صبح فجر کا وقت ہو جائے، تو اس کا روزہ صحیح ہو گا۔

روزہ رکھنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ فجر سے پہلے ہی غسل کر لیا جائے ، بلکہ فجر کے بعد غسل کر لینا بھی کافی ہے، جیسا کہ نبی ﷺ ہی کا عمل تھا۔

رمضان اور غیر رمضان میں حکم ایک جیسا ہے:

چاہے رمضان کا روزہ ہو یا کسی اور دن کا نفل (اختیاری) روزہ، یہ حکم دونوں کے لیے برابر ہے۔

اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نے روزے کو آسان اور قابلِ عمل عبادت بنایا ہے۔

دن کے وقت جان بوجھ کر جماع کرنے کا حکم:

اگر کوئی شخص روزے کی حالت میں دن کے وقت جان بوجھ کر اپنی بیوی سے جماع کر لے، تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس پر کفارہ بھی لازم ہو گا، نیز اس دن کے روزےکی قضا بھی ضروری ہوگی جس دن جماع ہوا۔ ساتھ ہی اسے اللہ تعالیٰ سے توبہ اور معافی مانگنی چاہیے۔ اس کا کفارہ یہ ہے :

  1. ایک مسلمان غلام آزاد کرنا۔
  2. اگر اس کی طاقت نہ ہو تو مسلسل دو مہینے کے روزے رکھنا۔
  3. اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔

◈لیکن اگر یہ عمل رات میں ہوا ہو اور فجر تک غسل نہ کیا ہو، تو روزہ درست رہے گا اور اسے پورا کرنا ہو گا۔

غسل جنابت کا طریقہ:

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں غسل جنابت کا طریقہ بھی بیان کر دیا جائے:

غسل جنابت کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے جائیں ، پھر شرم گاہ اور جنابت سے آلودہ حصے کو دھویا جائے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا جائے، پھر بالوں میں انگلیاں ڈال کر سر پر تین لپ پانی ڈالا جائے، یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر پورے جسم کو دھو لیا جائے۔

(دیکھیے صحیح بخاری:248، صحیح مسلم:316)

حاصل کلام:

①اگر کوئی شخص رات میں جماع کر کے بغیر غسل کیسے سو جائے اور صبح فجر کے وقت روزے کی حالت میں ہو، تو اس کا روزہ صحیح ہوگا۔

②فجر کے بعد غسل کرنا روزے پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

③اگر دن کے وقت روزے کی حالت میں جماع کر لیا جائے، تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور کفارہ لازم ہوگا۔

④اسلام ایک آسان اور عملی دین ہے، جو انسان کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت کے احکام کو صحیح طور پر سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:12

رمضان میں قیام اللیل کی فضیلت:

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه)) متفق عليه.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام کیا (یعنی تراویح وغیرہ کی نماز پڑھی )، تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

(صحیح بخاری:37، صحیح مسلم:759)

حدیث کی تشریح:

رمضان کی راتوں میں قیام کرنے کی فضیلت:
اس حدیث میں تراویح اور رات کی دیگر عبادات کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔

رمضان کی راتوں میں ایمان اور ثواب کی نیت سے نماز پڑھنے سے انسان کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

“ایمان اور ثواب کی نیت“ کا مطلب:

اس حدیث میں دو شرطوں کا ذکر ہے:

①ایمان: آدمی کو یہ یقین ہو کہ وہ اللہ کے حکم کی اطاعت کر رہا ہے اور اس کا ایمان و عقیدہ درست ہو۔

②ثواب کی امید: محض عادت کے طور پر نہ پڑھے، بلکہ اللہ کی رضا اور اجر کی امید کے ساتھ عبادت کرے۔

گناہوں کی معافی کا مفہوم:

حدیث میں آیا ہے کہ رمضان کی راتوں میں قیام کرنے سے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ علماء کے صحیح قول کے مطابق اس سے مراد چھوٹے گناہ (صغیرہ) ہیں، کیوں کہ بڑے گناه (کبائر) صرف سچی توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔ اسی طرح بندوں کے حقوق سے متعلق گناہ اسی وقت معاف ہوتے ہیں جب حق دار معاف کرے۔

تاہم اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت و فضل سے یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ بڑے گناہ بھی معاف ہو جائیں، جیسا کہ حدیث کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے۔

تراویح کی خصوصیت:

رمضان کی راتوں میں پڑھی جانے والی تراویح کی نماز اس حدیث کی نمایاں مثال ہے۔ یہ نماز نبی ﷺ کی سنت ہے اور پوری امت اس پر عمل کرتی ہے۔

تراویح کو جماعت کے ساتھ مسجد میں پڑھنا زیادہ افضل ہے، لیکن اگر کوئی اکیلا بھی پڑھے تو وہ بھی اس فضیلت کو پا سکتا ہے۔

عورتیں بھی تراویح کی نماز جماعت سے پڑھ سکتی ہیں، اگر ان کے لیے مناسب انتظام ہو۔

حاصل کلام:

①رمضان کی راتوں میں تراویح اور دیگر عبادات کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔

②یہ معافی بنیادی طور پر چھوٹے گناہوں کے لیے ہے، جب کہ بڑے گناہوں کے لیے سچی توبہ ضروری ہے۔

③روزہ اور نماز میں نیت صرف اللہ کی رضا اور ثواب کی ہونی چاہیے۔

④رمضان میں تراویح پڑھنا نبی ﷺ کی سنت ہے اور پورے مہینے اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی راتوں میں عبادت کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے گناہوں کو معاففرمائے ۔ آمین!

حدیث نمبر:13

رمضان میں قیام اللیل اور نبی صلی الم کا معمول:

عن عائشة رضي الله عنها ، قالت:((ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة)) متفق عليه.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ  رمضان میں اور رمضان کے علاوہ دوسرے دنوں میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے ۔

 (صحیح بخاری:1147، صحیح مسلم:738)

حدیث کی تشریح:

رمضان اور دیگر مہینوں میں رات کی نماز :

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی رات کی نماز (تہجد اور تراویح) کا طریقہ رمضان اور دیگر مہینوں میں یکساں تھا، جیسا کہ اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہ نے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ عام طور پر گیارہ رکعت پڑھتے تھے ، خواہ رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ۔

رات کی نماز کی کیفیت:

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہ نے آگے نبی ﷺ کی کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: يصلي أربعا فلا تسأل عن حسنهن وطولهن، ثم يصلي أربعا فلا تسأل عن حسنهن وطولهن، ثم يصلي ثلاثا))

آپ ﷺ پہلے چار رکعت ایسی پڑھتے کہ ان کی خوب صورتی اور لمبائی کے بارے میں مت پوچھو، پھر چار رکعت اسی طرح پڑھتے کہ ان کی خوب صورتی اور لمبائی کے بارے میں سوال نہ کرو، پھر تین رکعت پڑھتے تھے۔

اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ کی پہلے چار چار رکعت پڑھتے تھے، پھر تین رکعت وتر ادا کرتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے، پھر آخر میں وتر پڑھتے تھے، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کی وضاحت اپنی ایک دوسری حدیث میں فرمائی ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے ۔ وہ کہتی ہیں:

((كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فيما بين أن يفرغ من صلاة العشاء وهي التي يدعو الناس العتمة إلى الفجر إحدى عشرة ركعة، يسلم بين كل ركعتين، ويوتر بواحدة))

رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے ، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔

(صحیح مسلم:736)

اور ایک دوسری حدیث میں آیا ہے:

((صلاة الليل مثنى مثنى)) رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔

(بخاری:990، مسلم:749)

◈اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی ﷺ کی رات کی نماز نہایت خوب صورت اور طویل ہوتی تھی، جس میں قراءت ، رکوع اور سجدے کا خاص اہتمام ہوتا تھا اور یہ دیگر نمازوں کے مقابلے میں زیادہ طویل ہوتی تھی۔ یہی تراویح اور رات کی نماز کی خصوصیت ہے۔

و ترکی نماز:

مذکورہ حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وتربیک وقت ایک سلام کے ساتھ تین رکعت میں ادا کیے جاتے تھے۔

تاہم عائشہ رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث کے مطابق وتر پڑھنے کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ﷺ کو پہلے دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرتے ، پھر ایک رکعت الگ سے ادا کرتے تھے۔

علماء نے دونوں طریقوں کو درست قرار دیا ہے، لیکن دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرنا اور پھر ایک رکعت الگ پڑھنا زیادہ مناسب ہے۔

نبی ﷺ کی نیند اور دل کی بیداری:

اس حدیث کے آخر میں آتا ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی  اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے پوچھا:کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ((يا عائشة! إن عيني تنامان ولا ينام قلبي)) اے عائشہ ! میری آنکھیں تو سوتی ہیں، مگر میرا دل نہیں سوتا۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی نیند عام انسانوں جیسی نہیں تھی، بلکہ آپ کا دل بیدار رہتا تھا، اور آپ وحی وغیرہ کو محسوس فرماتے تھے۔

نماز تراویح اور ہماری ذمہ داری:

تراویح کی نماز محض وقتی جوش کے ساتھ نہیں، بلکہ پورے رمضان اہتمام اور تسلسل کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔ ابتدا کا شوق آخر تک باقی رہے اور سستی یا بے توجہی سے بچا جائے۔

یہ نماز سکون، خشوع اور توجہ کے ساتھ پڑھی جائے، قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر صاف اور واضح پڑھا جائے، اس قدر تیزی سے نہیں کہ الفاظ اور مفہوم سمجھ میں نہ آئیں۔

اپنے معمولات منظم رکھیں، فضول مشاغل سے بچیں، گھر والوں کو بھی ترغیب دیں اور تراویح کو ذکر و دعا اور تلاوت قرآن کے ساتھ ایک بامقصد عبادت بنا دیں۔

حاصل کلام:

①رسول اللہ ﷺ رات میں عموماً و ترسمیت گیارہ رکعت ادا فرماتے تھے۔

②آپ ﷺ کی رات کی نماز رمضان اور دیگر مہینوں میں یکساں ہوتی تھی۔

③آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے اور آخر میں ایک رکعت وتر ادا کرتے تھے۔

④آپ ﷺ کی رات کی نماز نہایت طویل اور خوب صورت ہوتی تھی، جس میں قراءت، رکوع اور سجدے کو خاص اہمیت حاصل تھی۔

⑤آپ ﷺ کی نیند عام انسانوں کی طرح نہیں تھی، بلکہ آپ ﷺ کا دل ہمیشہ بیدار رہتا تھا۔

اللہ تعالی ہمیں رات کی نماز اور وتر نبی ﷺ کی سنت کے مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:14

روزے کا مقصد: زبان اور اعمال کی حفاظت:

عن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:(من لم يدع قول الزور والعمل به، فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه.) رواه البخاري.

سیدنا  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص جھوٹی باتیں اور ان پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا، تو اللہ کو اس کی بھوک اور پیاس چھوڑ نے یعنی روزہ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

(صحیح بخاری:1903)

حدیث کی تشریح:

روزے کا اصل مقصد:

روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ اس کا اصل مقصد انسان کو بری عادتوں اور بڑے کاموں سے روکنا ہے۔

اگر کوئی شخص جھوٹ ، سب وشتم، دھوکہ، غیبت (چغلی) اور دیگر غلط کام کرتا رہتا ہے، تو اس کا روزہ محض ایک رسم بن کر رہ جاتا ہے اور اللہ کو ایسے روزے کی کوئی پروانہیں۔

حدیث میں وارد زجر و تنبیہ کا مقصد یہ ہے کہ روزہ دار روزے کی حالت میں  اپنے آپ کو ہر قسم کی معصیت سے بچائے، تاکہ وہ روزے کے کامل اور پورے ثواب کا مستحق بن سکے ۔

اس سے ہر گز یہ مراد نہیں کہ وہ رمضان میں کھانا پینا شروع کر دے۔

جھوٹ اور بڑے کاموں سے بچنے کی تاکید:

اسلام میں جھوٹ بولنا ایک بڑا  گناہ ہے۔ حدیث میں جھوٹ کے ساتھ ساتھ اس پر “عمل کرنے“ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، یعنی:جھوٹے کام کرنا۔ (اس میں دھوکہ دہی، بے ایمانی، جھوٹی تہمت لگانا، جھوٹی گواہی دینا وغیرہ امور شامل ہیں۔)

جھوٹے وعدے کرنا اور وعدہ پورا نہ کرنا۔

چغلی اور غیبت کرنا۔

کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ بولنا۔

مذکورہ تمام امور سے بچنا ہی روزے کی اصل روح ہے۔

روزے کی حقیقت:

یہ حدیث اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ روزے کا اصل مقصد جسم کے ساتھ ساتھ روح کی بھی پاکیزگی ہے۔ اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی غلط کاموں سے نہیں بچتا، تو اسے روزے کا پورا ثواب نہیں ملے گا۔

اللہ کو بھوک پیاس سے کوئی مطلب نہیں:

اللہ کو کسی کے روزے کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ انسان کے لیے ایک آزمائش اور اصلاح کا ذریعہ ہے۔ روزہ ہمارے اندر تقویٰ (پرہیز گاری) کی صفت پیدا کرنے کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ.

اے ایمان والو! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے ، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پر ہیز گار بن جاؤ۔

 (سورۃ البقرۃ:183)

جھوٹ اور بُری عادتوں سے بچنے کی ترغیب:

اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:

ہم روزے کے دوران جھوٹ، غیبت، جھوٹی گواہی، دھوکا دہی اور دیگر تمام برے کاموں سے بچیں۔

غصہ ، بحث اور جھگڑا کرنے سے بھی بچیں، کیوں کہ یہ بھی روزے کی روحانیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

صرف کھانا پینا چھوڑ دینا ہی روزہ نہیں، بلکہ اچھے اخلاق کو اپنانا اور تقویٰ اختیار کرنا ہی اصل روزہ ہے۔

حاصل کلام:

①روزے کا مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں، بلکہ اپنی زبان اور اعمال کو بھی درست رکھنا ہے۔

②جھوٹ، دھوکہ، غیبت اور برے کاموں سے روزہ بے اثر ہو سکتا ہے۔

③روزہ ہمیں اللہ کا تقویٰ اور اچھے اخلاق سکھانے کے لیے ہے۔

④اگر روزے کے باوجود انسان بری عادتیں نہیں چھوڑتا، تو ایسا روزہ اللہ کی نظر میں بے قدر ہو سکتا ہے۔

اللہ ہمیں سچے دل سے روزہ رکھنے ، جھوٹ اور بری عادتوں سے بچنے کی توفیق دے۔ آمین!

حدیث نمبر:15

روزے اور قیام کی اصل روح:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((رب صائم حظه من صيامه الجوع والعطس، ورب قائم حظه من قيامه السهر)) أخرجه أحمد، واللفظ له، وابن ماجه، والنسائي في السنن الكبرى.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ  سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:بہت سے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جنھیں اپنے روزے سے صرف بھوک اور پیاس ہی حاصل ہوتی ہے اور بہت سے رات میں قیام (عبادت) کرنے والے ایسے ہوتے ہیں جنھیں اپنے قیام سے صرف جاگنا ہی نصیب ہوتا ہے۔

(مسند احمد:8856 ، سنن ابن ماجہ: 1690 ، سنن کبری: 8386، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔ )

حدیث کی تشریح:

روزے کا اصل مقصد:

اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام روزہ نہیں۔ جو شخص جھوٹ، غیبت (چغلی)، بری باتوں اور غلط کاموں سے نہیں بچتا، اس کا روزہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے برابر رہ جاتا ہے۔

روزے کا اصل مقصد نفس کو رذائل اور بری عادات و اعمال سے بچانا اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی اپنی زبان ، آنکھ ، کان اور دوسرے اعضاء کو گناہوں سے نہیں بچاتا، تو اس کا روزہ نامکمل رہ جاتا ہے۔

رات کی عبادت (قیام اللیل) کا اصل مقصد:

اس حدیث میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ رات میں تراویح وغیرہ پڑھتے ہیں، مگر انھیں صرف جاگنے کی تکلیف ملتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر عبادت میں دل سے اللہ کی یاداور سچی نیت نہ ہو تو وہ بے فائدہ ہو جاتی ہے۔ دکھاوے کے لیے ، عادت کے طور پر، یا کسی غلط مقصد سے عبادت کرنے والوں کو اس کا کوئی ثواب نہیں ملتا۔ ایسے لوگوں کی عبادت اللہ کے یہاں قبول نہیں ہوتی۔

اللہ کی رضا اور باطنی اصلاح:

اس حدیث میں ہمیں یہ اہم تعلیم دی گئی ہے کہ ہر عبادت کا اصل مقصد اللہ کی رضا اور باطنی اصلاح ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص صرف جسم کو تھکانے اور لوگوں کو دکھانے کے لیے عبادت کرتا ہے تو اسے کوئی اجر نہیں ملتا۔ روزہ اور دیگر عبادات اسی وقت فائدہ دیتی ہیں جب وہ انسان کے کردار کو سنواریں، اس کے رویے کو درست کریں اور اسے اللہ کے قریب لے آئیں ۔ یعنی عبادت صرف ظاہری نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس میں سچی نیت اور روح کی پاکیزگی بھی ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنی عبادتوں کو ظاہری ہی نہیں بلکہ باطنی طور پر بھی سنوارنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر سکیں۔

حاصل کلام:

یہ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عبادت کا مقصد محض جسمانی مشقت برداشت کرنا نہیں بلکہ روح کو پاک کرنا اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ اگر کوئی روزہ رکھ کر بھی جھوٹ، غیبت اور برے کاموں سے نہیں بچتا تو اس کا روزہ بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی رات میں نماز پڑھتا ہے ، مگر اس کی نیت درست نہیں ہوتی تو اسے صرف جاگنے کی تھکن ہی ملتی ہے، لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی عبادت سچی نیت اور اللہ کی اطاعت کے ساتھ کریں تاکہ وہ ہمارے لیے واقعی فائدہ مند ہو۔

اللہ ہمیں سچی نیت کے ساتھ روزہ رکھنے اور عبادت کرنے کی توفیق دے۔ آمین !

حدیث نمبر:16

ماہ رمضان میں عمرہ کرنے کی فضیلت:

عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: لما رجع النبي صلى الله عليه وسلم من حجته قال لأم سنان الأنصارية:((فإذا كان رمضان اعتمري فيه؛ فإن عمرة في رمضان حجة)). متفق عليه.

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: جب نبی ﷺ حجۃ الوداع سے واپس آئے تو،،ام سنان،،نامی ایک انصاری عورت سے جس نے آپ کے ساتھ حج نہیں کیا تھا۔ فرمایا: جب رمضان کا مہینہ آئے تو تم عمرہ کر لینا، کیوں کہ رمضان میں کیا گیا عمرہ حج کے برابر ہوتا ہے ۔

صحیح بخاری: 1782/1863، صیح مسلم:1256)

حدیث کی تشریح:

رمضان میں عمرہ کرنے کی اہمیت:

یہ حدیث رمضان میں عمرہ کرنے کی فضیلت و عظمت کو بیان کرتی ہے۔

رمضان ایک بابرکت مہینہ ہے جس میں ہر نیک عمل کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے خاص طور پر ،،ام سنان رضی اللہ عنہ،، کو رمضان میں عمرہ کرنے کا حکم دیا، جس سے رمضان میں عمرہ کرنے کی فضیلت اور خود ،،ام سنان رضی اللہ عنہ،، کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ تاہم رمضان میں عمرہ کرنے کی یہ فضیلت دیگر احادیث میں بھی بیان ہوئی ہے، جو ہر ایک کے لیے عام ہے یعنی یہ فضیلت مخصوص صحابیہ کے لیے خاص نہیں ہے۔

حج اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے، جو زندگی میں صرف ایک مرتبہ مال دار مسلمانوں پر فرض ہے اور یہ ماہ ذی الحجہ میں ادا کیا جاتا ہے، جب کہ عمرہ کسی بھی مہینے میں ادا کیا جا سکتا ہے اور احادیث میں اس کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ ماہ رمضان میں عمرہ کرنا فرض تو نہیں ہے، لیکن اگر اللہ توفیق دے تو ماہ رمضان میں ضرور عمرہ کرنا چاہیے۔

رمضان میں عمرہ کا حج کے برابر ہونے کا مفہوم:

اس حدیث میں فرمایا گیا کہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ عمرہ کرنے سے حج کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی اس عبادت کا اجر اتناعظیم عطا فرماتا ہے جتناحج کا اجر ہوتا ہے۔

لہذا رمضان میں عمرہ کر لینے سے کوئی شخص حج کی فرضیت سے بری الذمہ نہیں ہو جاتا۔

وقت اور مقام کے اعتبار سے ثواب میں اضافہ:

اسلام میں نیکیوں کا اجر وقت اور مقام کے اعتبار سے بڑھ جاتا ہے۔

رمضان کا مہینہ نہایت بابرکت ہے اور مکہ مکرمہ میں کیا گیا ہر نیک عمل دیگر مقامات کے مقابلے میں زیادہ ثواب کا باعث ہوتا ہے۔ اس لیے رمضان کے دوران مکہ میں عمرہ کرنا بہت بڑی نیکی اور اجر کا سبب بنتا ہے۔

حاصل کلام:

①رمضان میں عمرہ کرنا بہت زیادہ ثواب والا عمل ہے، لیکن یہ حج کا بدل نہیں بن سکتا۔

②جو شخص استطاعت رکھتا ہوا سے رمضان میں عمرہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

③رمضان اللہ کی رحمت، مغفرت اور نیکیوں میں اضافے کا مہینہ ہے ، اس لیےہمیں اس مہینے کو عبادت میں گزارنا چاہیے۔

اللہ ہمیں رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے اور اس حدیث پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین !

حدیث نمبر:17

سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت:

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فرأى زحاما ورجلا قد ظلل عليه ، فقال : ما هذا؟)) فقالوا: صائم. فقال:((ليس من البر الصوم في السفر)) متفق عليه.

سیدنا جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: کہ اللہ کے رسول ﷺ ایک سفر میں تھے کہ آپ نے ایک ہجوم دیکھا، جہاں ایک شخص کے لیے سایہ کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ روزے دار ہے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی کا کام نہیں ہے۔

(صحیح بخاری:1946، صحیح مسلم:1115)

حدیث کی تشریح:

سفر میں روزہ رکھنے کی شرائط اور رخصت:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر کے دوران روزہ رکھنا لازم عبادت نہیں ، بلکہ اس میں رخصت (چھوٹ ) دی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:

أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ اخر…

گنے ہوئے چند دن ہیں، پھر تم میں سے جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے…

(سورۃ البقرۃ:184)

اللہ کی دی ہوئی رخصت کو اختیار کرنا بھی نیکی ہے:

اسلام ہمیں مشقت میں ڈالنے کے بجائے آسانی عطا کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص سفر میں روزہ چھوڑتا ہے تو بعد میں اس کی قضا کرنا ہوگی۔

روزہ چھوڑنے کا اختیار اللہ کی طرف سے عطا کردہ سہولت ہے، جسے اختیار کرنا گناہ نہیں بلکہ راحت ہے۔

اگر سفر آسان ہو تو روزہ رکھنا بھی جائز ہے:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

(إن شئت فصم وإن شئت فأفطر)

اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

 (صحیح بخاری:1943، صحیح مسلم:1121)

روزہ رکھنے والے اور نہ رکھنے والے دونوں درست ہیں:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ (کچھ لوگ روزہ رکھتے تھے اور کچھ نہیں رکھتے تھے)، لیکن روزے دار، بے روزہ دار پر، اور بے روزہ دار، روزے دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے۔

(صحیح بخاری:1947، صحیح مسلم:1118)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا یا نہ رکھنا، دونوں ہی جائز ہیں۔

حاصل کلام:

اسلام میں سفر کے دوران روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ اگر کوئی سفر میں اپنے آپ کو مضبوط محسوس کرے تو روزہ رکھ سکتا ہے اور اگر کمزوری محسوس کرے تو اللہ کی دی ہوئی رخصت سے فائدہ اٹھائے اور بعد میں اس کی قضا ادا کرے۔

اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کی توفیق دے ۔ آمین !

حدیث نمبر:18

افطار میں جلدی کرنے کی فضیلت:

عن سهل بن سعد رضي الله عنه ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر)) متفق عليه.

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے جب تک وہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے ۔

(صحیح بخاری:1957، صحیح مسلم:1098)

حدیث کی تشریح:

سورج غروب ہوتے ہی فورا افطار کرنا سنت ہے:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جیسے ہی سورج غروب ہو جائے، روزہ افطار کر لینا چاہیے۔

افطار میں بلاوجہ تاخیر کرنا سنت کی خلاف ورزی ہے۔

افطار کا درست وقت سورج غروب ہونے کی تصدیق ہوتے ہی ہے، خواہ وہ آنکھوں سے دیکھ کر ہو یا کسی معتبر شخص کی اطلاع سے۔

جلدی افطار کرنے میں بھلائی ہے:

حدیث میں مذکور ”بھلائی“ سے مراد سنت کی پیروی اور اسلامی احکام کی پابندی ہے۔

بلا عذر افطار میں تاخیر کرنا بھلائی سے دوری کی علامت ہو سکتا ہے۔

اللہ کے احکام کی اطاعت ہر طرح کی بھلائی کی بنیاد ہے۔

روزه دار دن بھر بھوکا پیاسا رہتا ہے، اس لیے فوراً افطار کرنا اللہ کی طرف سے آسانی ہے۔

جلدی افطار کرنے سے جسم کو فوراً توانائی ملتی ہے اور عبادت میں تازگی آتی ہے۔

اہل کتاب کے طریقے سے امتیاز:

یہودیوں اور عیسائیوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ افطار میں تاخیر کرتے تھے۔

نبی ﷺ  نے افطار میں جلدی کرنے کو مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان امتیاز قرار دیا۔

اسلام میں اہلِ کتاب کے طریقوں کی مشابہت سے بچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

گمراہ فرقوں کی غلطی:

بعض فرقے، جیسے شیعہ ، افطار میں بلا وجہ تاخیر کرتے ہیں، جو صحیح احادیث کے خلاف ہے۔

یہودیوں کی عادت تھی کہ ستارے ظاہر ہونے تک افطار نہیں کرتے تھے۔

اسلام میں یہ طریقہ نبی ﷺ کی سنت کے خلاف ہے۔

افطار کے وقت کی دعا:

“ بسم الله“ پڑھ کر افطار کرنی چاہیے اور افطار کے بعد یہ دعا پڑھنی چاہیے:

(( ذَهَبَ الظَّمَأُ، وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ))

پیاس بجھ گئی ، رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا۔

(أبو داود:2357 حسن)

افطار کے وقت خصوصی طور پر کثرت سے دعائیں کرنی چاہیے، کیوں کہ افطار کے وقت کی دعا رد نہیں ہوتی ہے ۔

(سنن ابن ماجہ:1753 حسن)

حاصل کلام:

جلدی افطار کرنا سنت اور بھلائی کا کام ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے جو ہمیں یہودیوں اور عیسائیوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ہمیں سنت کی پیروی کرتے ہوئے سورج غروب ہوتے ہی روزہ کھولنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور بھلائی میں رہیں۔

اللہ ہمیں درست طریقے سے روزہ رکھنے اور سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

حدیث نمبر:19

لیلۃ القدر کی عظمت اور روزہ رکھنے کا ثواب:

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((من قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفرله ما تقدم من ذنبه، ومن صام رمضان إيمانا واحتسابا غفرله ما تقدم من ذنبه.)) متفق عليه.

سیدنا  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ لیلتہ القدر میں قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے ، اس کے بھی پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

 (صحیح بخاری:1901، صحیح مسلم:760)

حدیث کی تشریح:

لیلتہ القدر کی عظمت :

اس مبارک رات میں عبادت کرنے کا عظیم فائدہ یہ ہے کہ بندے کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

اسی عظیم رات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید نازل فرمایا۔ فرمانِ الہی ہے:

إِنَّا أَنزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ

”بے شک ہم نے اسے لیلتہ القدر میں اتارا۔

(سورۃ القدر:1)

اس رات کی عبادت قبولیت اور قرب الہی کے لحاظ سے ہزار مہینوں ( تراسی سال سے زائد ) کی عبادت سے بہتر ہے۔ اللہ نے فرمایا:

لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ

لیلۃ القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے ۔

(سورۃ القدر:3)

لیلتہ القدر میں پڑھی جانے والی مسنون دعا:

((اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي))

اے اللہ ! بے شک تو بہت معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند فرماتا ہے، پس مجھے بھی معاف فرمادے۔

(سنن ترمذی:3513، سنن ابن ماجه:3850)

اس رات فرشتے اور جبرئیل علیہ السلام اپنے رب کے حکم سے آسمان سے زمین پر اترتے ہیں اور ان کے پاس آئندہ سال سے متعلق اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور احکام ہوتے ہیں،

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ

اس میں فرشتے اور روح (جبرئیل علیہ السلام) اپنے رب کے حکم سے ہر امر کے متعلق اترتےہیں۔

(سورۃ القدر:4)

اور اسی رات ہر مضبوط اور قطعی معاملے کا فیصلہ کیا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ

اس رات میں ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

(سورۃ الدخان:4)

لیلتہ القدر کی پہچان:

ليلة القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کسی ایک رات میں ہوتی ہے، یعنی29,27,25,23,21ویں رات۔

اس لیے اس عظیم رات کو پانے کے لیے آخری عشرے کی طاق راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ((تحروا ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من رمضان))

لیلۃ القدر کورمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

(صحیح بخاری:2017)

یہ رات شام سے فجر تک سراسر سلامتی اور خیر و برکت والی ہوتی ہے۔ فرمانِ الہی ہے:

سَلَـٰمٌ هِىَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ ٱلْفَجْرِ

وہ رات فجر ہونے تک سراسر سلامتی ہے ۔

 (سورۃ القدر:5)

رمضان کے روزوں کی فضیلت:

جو شخص پورے رمضان ایمان اور ثواب کی نیت سے روزے رکھتا ہے، اس کے بھی پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ دل، زبان اور جسم کو گناہوں سے بچانے کا نام ہے۔

ایمان اور ثواب کی شرط:

اس حدیث میں گناہوں کی معافی کے لیے دو شرطیں بیان کی گئی ہیں:

ایمان: بندہ اس یقین کے ساتھ عبادت کرے کہ وہ اللہ کے حکم کی اطاعت کر رہا ہے اور اس کا عقیدہ درست ہو۔

ثواب  کی نیت: عبادت محض عادت یا دکھاوے کے لیے نہ ہو، بلکہ اللہ کی رضا اور اجر کی امید کے ساتھ ہو۔

کون سے گناہ معاف ہوتے ہیں؟

اہل علم کے مطابق یہاں صغیرہ (چھوٹے) گناہوں کی معافی مراد ہے۔

کبیرہ (بڑے)گناہوں کی معافی کے لیے سچی توبہ ضروری ہے۔

اور جو گناہ بندوں کے حقوق سے متعلق ہوں، وہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک حق دار خود معاف نہ کر دے۔

اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی ترغیب:

لیلۃ القدر اور رمضان کے روزے گناہوں کی معافی کے عظیم ترین مواقع ہیں، اس لیے ان راتوں میں نماز، قرآن کی تلاوت، دعا اور توبہ واستغفار میں مشغول رہنا چاہیے اور ان قیمتی اوقات کو فضول مشاغل میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

اعمال کی قبولیت کا اصول:

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رمضان کے روزے اور تمام نیک اعمال اسی وقت اللہ کے ہاں قبول ہوتے ہیں، جب وہ خالص نیت کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے جائیں۔

حاصل کلام:

①لیلتہ القدر میں عبادت اور رمضان کے روزے پچھلے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہیں۔

②یہ معافی صغیرہ گناہوں کے لیے ہے ، جب کہ کبیرہ گناہوں کے لیے سچی توبہ ضروری ہے۔

③ليلة القدر کو پانے کے لیے آخری عشرے کی طاق راتوں میں خصوصی طور پر عبادات وغیرہ کا اہتمام کرنا چاہیے۔

④رمضان کی عبادات میں اخلاص، ایمان اور ثواب کی نیت ہونی چاہیے، نہ کہ ریا کاری کی نیت۔

اللہ تعالی ہمیں لیلۃ القدر نصیب فرمائے اور رمضان کے روزے درست طریقے سے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر :20

رمضان میں اعتکاف کی فضیلت:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:((كان النبي صلى الله عليه وسلم يعتكف في كل رمضان عشرة أيام، فلما كان العام الذي قبض فيه اعتكف عشرين يوما))رواه البخاري

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺہر رمضان میں دس دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے، لیکن جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے بیس دن اعتکاف کیا۔

(صحیح بخاری:2044)

حدیث کی تشریح:

اعتکاف کا معنی اور مقصد:

اعتکاف کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کے لیے مسجد میں ٹھہرنا اور دنیا کے جھمیلوں سے الگ ہو کر مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ ہونا۔

یہ روحانی پاکیزگی اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

نبی ﷺکا اعتکاف:

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺہر سال رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، لیکن جس سال آپﷺکی وفات ہوئی، اس سال آپ نے بیس دن اعتکاف کیا، تاکہ زیادہ عبادت کی جاسکے اور اللہ کی زیادہ قربت حاصل ہو۔

لیلتہ القدر کی تلاش میں اعتکاف:

ابتدا میں نبی کریم ﷺرمضان کے درمیانی دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ لیلتہ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہوتی ہے تو آپ ﷺآخری دس دنوں میں اعتکاف کرنے لگے ، جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتےہیں: کہ رسول اللہ ﷺرمضان کے درمیانی دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے۔ ایک سال آپ نے اعتکاف کیا، یہاں تک کہ جب اکیسویں روزے کی رات آئی (جس کی صبح آپ کو اعتکاف سے نکلنا تھا)تو آپ ﷺنے فرمایا:

((من كان اعتكف معي،فليعتكف العشر الأواخر،وقد أريت هذه الليلة، ثم أنسيتها،وقد رأيتني أسجد في ماء وطين من صبيحتها، فالتمسوها في العشر الأواخر، والتمسوها في كل وتر))

جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری دس دنوں کا بھی اعتکاف کرے، کیوں کہ مجھے وہ رات دکھائی گئی تھی پھر بھلا دی گئی۔ میں نے اس رات کی صبح کو دیکھا کہ میں پانی اور مٹی پر سجدہ کر رہا ہوں۔ پس اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرو اور اسے ہر طاق رات میں تلاش کرو۔

(صحیح بخاری:2027، صحیح مسلم:1167)

نبی ﷺنے اپنی زندگی میں دو مرتبہ بیس دن کا اعتکاف:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺہر سال رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، لیکن ایک سال آپ ﷺنے اعتکاف نہیں کیا، تو اگلے سال اس کی قضا کے طور پر بیس دن اعتکاف فرمایا۔

 (سنن ترمذی:803 صحیح)

◈زیر مطالعہ حدیث اور اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺنے دو مرتبہ بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ اس کی وجہ ہمیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے معلوم ہوتی ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺہر سال رمضان کے آخری دس دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے، لیکن ایک سال آپ سفر میں تھے ، تو اگلے سال بیس دن اعتکاف فرمایا۔

 (صحیح سنن ابو داود:2463، سنن ابن ماجه:1770، مسند احمد:8435) گویا ایک سال بطور قضا ہیں دن کا اعتکاف فرمایا اور دوسرے جس سال آپ ﷺکی وفات ہوئی اس سال بھی آپ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔

◈سفر کی وجہ سے جس سال آپ ﷺنے بیس دن اعتکاف فرمایا، وہ ہجرت کا تیسرا یانواں سال ہو سکتا ہے، کیوں کہ غزوہ بدر ہجرت کے دوسرے سال رمضان میں پیش آیا تھا، اور فتح مکہ رمضان 8/ ہجری میں ہوئی تھی اور ان کے علاوہ کوئی اور سفر ماہ رمضان میں آپ نے کیا ہی نہیں ۔ تاہم ہجرت کا نواں سال زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔

اعتکاف سنت ہے، فرض نہیں:

اعتکاف کرنا سنت ہے، فرض نہیں البتہ اگر کوئی شخص نذر مان کر اسے اپنے اوپر لازم کرلے تو پھر اس کا پورا کرنا واجب ہو جاتا ہے۔

صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! میں نے زمانہ جاہلیت میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی۔ تو نبی کریم ﷺنے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو۔

(صحیح بخاری:6697)

اعتکاف کے چند اہم آداب و مسائل:

①اعتکاف کی حالت میں بیوی سے مباشرت جائز نہیں اور بوس و کنار کی بھی اجازت نہیں ، البتہ ملاقات اور بات چیت جائز ہے۔ اسی طرح بیوی اپنے شوہر کی خدمت بھی کر سکتی ہے ، جیسا کہ بعض ازواج مطہرات کا مسجد میں رسول اللہ ﷺسے ملاقات کرنا اور خدمت کرنا ثابت ہے۔ [صحیح بخاری:2030، 2031، 2035، صحیح مسلم:2175]

②اعتکاف کی حالت میں مسجد سے باہر نکلنا جائز نہیں، سوائے ایسی مجبوری اور ضرورت کے جس کے بغیر چارہ نہ ہو ، حتی کہ بیمار کی تیمار داری اور جنازے میں شرکت بھی معتکف کے لیے جائز نہیں۔

③اگر معتکف بیوی سے مباشرت کرلے یا بغیر مجبوری کے مسجد سے باہر نکلے تو اس کا اعتکاف باطل ہو جائے گا۔

④اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: (وَلَا تُبَـٰشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَـٰكِفُونَ فِى ٱلْمَسَـٰجِدِ) اور عورتوں سے مباشرت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔[البقرة:187]

مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف کے لیے مسجد شرط ہے، اس لیے اعتکاف گھر میں نہیں ہو گا بلکہ مسجد ہی میں ہو گا، خواہ مرد ہو یا عورت۔ نبی کریم ﷺکی بیویاں بھی مسجد ہی میں اعتکاف کرتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2034 ،2033]

مذکورہ آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف ہر مسجد میں ہو سکتا ہے۔ رہی وہ روایت جس میں آیا ہے کہ:تین مسجدوں کے سوا اعتکاف نہیں۔ تو وہ محققین حدیث کے نزدیک منکر ہے۔ اسی لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے غیر ثابت ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ باب قائم کیا: (الإعتكاف في المساجد كلها) یعنی تمام مسجدوں میں اعتکاف کے جائز ہونے کا بیان۔

⑤عورتوں کے اعتکاف کے لیے ضروری ہے کہ ان کے لیے مسجد میں مردوں سے بالکل الگ اور محفوظ انتظام ہو تا کہ کسی قسم کا اختلاط نہ ہو، لہذا جب تک مسجد میں مناسب، محفوظ اور الگ انتظام نہ ہو، عورتوں کو مسجد میں اعتکاف بیٹھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور نہ انھیں اس پر اصرار کرنا چاہیے۔

حاصل کلام:

①اعتکاف اللہ کی عبادت اور روحانی پاکیزگی کا بہترین ذریعہ ہے۔

②نبی کریم ﷺہر رمضان میں آخری دس دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔

③لیلتہ القدر کی تلاش کے لیے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا زیادہ افضل ہے۔

④اگر کوئی شخص سفر یا کسی عذر کی وجہ سے اعتکاف نہ کر سکے تو بعد میں اس کی قضا کر سکتا ہے۔

⑤اعتکاف سنت ہے، لیکن نذرمان لینے کی صورت میں لازم ہو جاتا ہے۔

اللہ ہمیں رمضان کے دنوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے اور اعتکاف کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!

حدیث نمبر:21

سحری میں برکت اور اس کے فوائد:

عن أنس رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((تسحروا فإن في السحور بركة)) متفق عليه.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: تم سحری کیا کرو، کیوں کہ سحری میں برکت ہے۔

 (صحیح بخاری:1923، صحیح مسلم:1095)

حدیث کی تشریح:

سحری کرنے کی ہدایت اور اس کی اہمیت:

اس حدیث میں نبی ﷺنے سحری کرنے کا حکم دیا ہے، اور اس کی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس میں برکت (اللہ کی رحمت اور بھلائی) ہے، جس میں دنیا وآخرت کے تمام فوائد شامل ہیں۔

سحری کرنا روزے کی تیاری کا حصہ ہے اور اسلامی تعلیمات کا ایک اہم جزء ہے۔

سحری میں برکت اور اس کے فوائد:

سحری کرنے سے دن بھر روزہ رکھنے کے لیے جسمانی طاقت اور توانائی حاصل ہوتی ہے، جس سے روزے کے دوران بھوک اور پیاس برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

روزوں کی پابندی میں سہولت ملتی ہے، لہذا جو شخص سحری کرتا ہے اسے روزے میں کمزوری اور مشقت کم محسوس ہوتی ہے اور اسے دوبارہ روزہ رکھنے میں دشواری پیش نہیں آتی۔

اللہ کے رسول ﷺکی اتباع اور اہل کتاب کی مخالفت کا ثواب ملتا ہے، کیوں کہ مسلمانوں اور اہل کتاب (یہودی و عیسائی) کے روزوں میں فرق سحری کرنا ہے۔سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:

((فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر))

ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق سحری کھانا ہے۔

 (صحیح مسلم:1096)

یہودی اور عیسائی رات ہی میں کھانا کھا لیتے ہیں اور سحری نہیں کرتے، جب کہ مسلمان سحری کرتے ہیں۔

سحری کی سنت اور اس کے ثمرات:

سحری کرنا سنت ہے، واجب نہیں، اس لیے اگر کبھی کوئی سحری کے لیے بیدار نہ ہو سکے تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے، بشرط یہ کہ وہ روزہ رکھنے کی نیت سے سویا ہو۔

سحری کا وقت نہایت با برکت اور قبولیت دعا کا وقت ہے۔ اس وقت بیدار ہونے سے فجر کی نماز پڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔ انسان قرآن کی تلاوت کر سکتا ہے، صدقہ و خیرات کر سکتا ہے اور اللہ تعالی سے خشوع و خضوع کے ساتھ دعا و استغفار کر سکتا ہے۔

سحری میں تاخیر اور اعتدال کی تعلیم:

نبی ﷺ نے سحری فجر کے قریب کرنے کی ہدایت دی، تاکہ اس کے بعد سو جانے سے نماز چھوٹنے کا اندیشہ نہ رہے۔

سحری کرتے وقت اگر کبھی اذان ہونے لگے تو آپ ﷺکے فرمان کے مطابق فوراً کھانا پینا نہیں چھوڑنا چاہیے، بلکہ اسے ختم کر کے ہی اٹھنا چاہیے۔

حاصل کلام:

اسلامی شریعت میں سحری کرنا مشروع اور سنت ہے اور یہ محض کھانے پینے کا عمل نہیں بلکہ روحانی اور جسمانی اعتبار سے فائدہ مند عبادت بھی ہے۔ یہ روزے کو آسان بناتی ہے ، عبادت کی ترغیب دیتی ہے اور اہل کتاب سے مسلمانوں کو ممتاز کرتی ہے۔ ہمیں سحری کی سنت کو اپنانا چاہیے تاکہ اس کی برکتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سحری کرنے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:22

رمضان کے علاوہ مسلسل روزہ رکھنے کی ممانعت:

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما ، قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوصال. قالوا: إنك تواصل؟ قال: ((إني لست مثلكم، إني أطعم وأسقى)) متفق عليه. وفي رواية أبي سعيد الخدري رضي الله عنه: ((فأيكم إذا أراد أن يواصل فليواصل حتى السحر)) رواه البخاري.

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے مسلسل روزہ رکھنے (صوم وصال) سے منع فرمایا۔ لوگوں نے عرض کیا۔ لیکن آپ تو مسلسل روزہ رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تم جیسا نہیں ہوں، مجھے (اللہ کی طرف سے)کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری:1962،صحیح مسلم:1102) اورسیدنا  ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: تم میں سے جو کوئی مسلسل روزہ رکھنا چاہے تو وہ سحری کے وقت تک رکھے۔ (صحیح بخاری:1963)

حدیث کی تشریح:

صوم وصال ( افطار کے بغیر مسلسل روزہ) کی ممانعت اور اس کی وجہ:

اسلام ایک آسان اور رحمت والا دین ہے۔ اس میں حد سے زیادہ مشقت اور انتہا پسندی کی اجازت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالا۔ اسی لیے اسلام میں کوئی ایسا عمل پسندیدہ نہیں جو جسم کو حد سے زیادہ تکلیف دے۔ اللہ نے روزے کو بھی ایک متوازن عبادت بنایا ہے ، نہ کہ جسم کو اذیت دینے کا ذریعہ اسی وجہ سے افطار کے بغیر مسلسل روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ یہ جسم کو کمزور کر سکتا ہے، جس سے عبادت اور دیگر ذمہ داریاں ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

جب انسان تھکن اور کمزوری محسوس کرتا ہے تو عبادت میں دل نہیں لگ پاتا اور عبادت میں کمی آسکتی ہے۔

جہاں آسانی ہو وہاں عمل زیادہ دیر تک جاری رہتا ہے۔

اسلام توازن سکھاتا ہے، نہ بہت سختی اور نہ بہت نرمی۔

صحابہ کی رغبت اور نبی ﷺ کا جواب:

جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہمنے دیکھا کہ نبی ﷺ  مسلسل روزہ رکھتے ہیں تو وہ بھی ایسا کرنا چاہتے تھے، لیکن نبی ﷺ نے انھیں بتایا کہ آپ اُن کی طرح نہیں ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ آپ کو کھلاتا اور پلاتا ہے، جس سے آپ کو بھوک اور پیاس محسوس نہیں ہوتی۔

اگر کوئی شخص واقعی مسلسل روزہ رکھنا چاہے اور اس کی طاقت بھی رکھتا ہو، تو اسے سحری تک روزہ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے اور نفلی روزوں میں سب سے افضل روزہ صوم داود ہے، یعنی ایک دن روزہ رکھا جائے اور ایک دن چھوڑ دیا جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:((أحب الصيام إلى الله صيام داود، كان يصوم يوما ويفطر يوما)) اللہ کے نزدیک سب سے محبوب روزہ(داؤد علیہ السلام) کا روزہ ہے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔

(صحیح بخاری:3420، صحیح مسلم: 1159)

حاصل کلام:

①اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک متوازن دین ہے جو نہ حد سے زیادہ سختی کو پسند کرتا ہے اور نہ بے جانرمی کو۔

②اسلام میں صوم وصال یعنی مسلسل روزے رکھنا ممنوع ہے۔

اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور شریعت کے مطابق درست طریقے سے عبادت کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

حدیث نمبر:23

روزے کے ابتدائی احکام اور روزہ داروں کے لیے عظیم رخصت:

عن البراء رضي الله عنه ، قال : ” كان أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم ، إذا كان الرجل صائما فحضر الإفطار فنام قبل أن يفطر ، لم يأكل ليلته ولا يومه حتى يمسي، وإن قيس بن صرمة الأنصاري كان صائما ، فلما حضر الإفطار أتى امرأته ، فقال لها : أعندك طعام ؟ قالت : لا ، ولكن أنطلق فأطلب لك ، وكان يومه يعمل فغلبته عيناه ، فجاءته امرأته ، فلما رأته ، قالت: خيبة لك ، فلما انتصف النهار غشي عليه ، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم ، فنزلت هذه الآية : أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم سورة البقرة آية 187 ، ففرحوا بها فرحا شديدا ، ونزلت : وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود سورة البقرة آية 187. رواه البخاري.

سیدنا براء رضي اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: محمد ﷺ کے صحابہ کا یہ حال تھا کہ اگر کوئی شخص روزے سے ہوتا اور افطار کا وقت آجاتا، لیکن افطار سے پہلے سو جاتا، تو اسے اگلے دن غروب آفتاب تک کچھ بھی کھانے پینے کی اجازت نہ ہوتی۔ سیدناقیس بن صرمہ انصاری رضی اللہ عنہ  ایک دن روزے سے تھے۔ جب افطار کا وقت ہوا تو انھوں نے اپنی بیوی سے پوچھا: کیا تمھارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ انھوں نے کہا: نہیں، لیکن میں جاکر لے آتی ہوں۔ چوں کہ وہ پورا دن کھیت میں کام کرتے رہے تھے ، اس لیے تھکن کے باعث ان کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئے۔ جب ان کی بیوی واپس آئی اور انھیں سوتا ہوا پایا تو کہا: یہ تمھارے لیے نقصان دہ ہو گیا! (کیوں کہ اب وہ اگلے دن تک نہیں کھا سکتے تھے۔) اگلے دن جب دو پہر ہوئی تو وہ شدید کمزوری کے باعث بے ہوش ہو گئے۔ جب یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو یہ آیت نازل ہوئی :((أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ)) تمھارے لیے روزے کی رات میں اپنی عورتوں سے ہم بستری حلال کر دی گئی ہے ۔اس آیت کے نازل ہونے پر صحابہ بہت خوش ہوئے اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ﴾ اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمھارے لیے فجر کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے نمایاں ہو جائے۔ (صحیح بخاری:1915)

حدیث کی تشریح:

اسلام میں روزے کے ابتدائی احکام:

اسلام کے ابتدائی دور میں رمضان کے روزے کا یہ حکم تھا کہ روزہ افطار کرنے کے بعد عشاء کی نماز یا سونے تک کھانے پینے اور بیوی سے تعلق قائم کرنے کی اجازت تھی اور اگر کوئی شخص افطار سے پہلے سو جاتا تو اسے اگلے دن غروب آفتاب تک کھانے پینے اور بیوی سے تعلق کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

یہ حکم بعض اوقات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے مشکل ہو جاتا تھا، خاص طور پر محنت کش لوگوں کے لیے جو دن بھر سخت محنت اور مشقت کرتے تھے۔

سیدنا قیس بن صرمہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ:

سیدنا قیس بن صرمہ رضی اللہ عنہ پورا دن کھیتوں میں کام کرنے کے بعد بہت تھک چکے تھے۔ افطار کے وقت ان کی بیوی کھانا لینے گئیں، اسی دوران وہ سو گئے۔ چوں کہ حکم کے مطابق اب وہ اگلے دن تک کچھ نہیں کھا سکتے تھے ، اس لیے دوسرے دن ابھی آدھا دن ہی گزرا تھا کہ کمزوری کے باعث وہ بے ہوش ہو گئے۔

اللہ کی رحمت اور نیا حکم:

جب یہ واقعہ نبی ﷺ تک پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے روزے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے نیا حکم نازل فرمایا۔

اب مسلمانوں کو رمضان کی راتوں میں فجر سے پہلے تک کھانے پینے اور اپنی بیویوں سےتعلق قائم کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنابت کی حالت میں روزہ رکھا جا سکتا ہے، کیوں کہ فجر تک اللہ نے مذکورہ امور کی اجازت دی ہے۔

یہی نیا حکم روزے کے موجودہ اسلامی طریقے کی بنیاد بنا۔

اسلام نے ایسا حکم دیا جو انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔

نیا حکم آنے کے بعد صحابہ کرام رضي اللہ عنہم بہت خوش ہوئے، کیوں کہ اب روزہ رکھنا آسان ہو گیا تھا۔

حاصل کلام:

اسلام کے ابتدائی ایام میں روزے کے احکام سخت تھے، لیکن اللہ کی رحمت سے نیا حکم نازل ہوا جس سے رمضان کے روزے آسان بنا دیے گئے۔ اب مسلمان رات میں فجر تک کھاپی سکتے ہیں اور اپنی بیویوں سے تعلق قائم کر سکتے ہیں۔

اللہ ہمیں روزے کے صحیح آداب کو سمجھنے اور اس کی برکتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!

حدیث نمبر:24

رمضان کے آخری عشرہ کی خصوصی فضیلت:

عن عائشة رضي الله عنها ، قالت:((كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دخل العشر، أحيا الليل، وأيقظ أهله، وجد وشد المئزر)) متفق عليه، واللفظ لمسلم.

سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: جب رمضان کے آخری دس دن آتے تو رسول اللہ ﷺ راتوں کو جاگتے ، اپنے گھر والوں کو جگاتے ، خوب عبادت کرتے اور کمر کس لیتے تھے۔(صحیح بخاری:2024، صحیح مسلم:1174)

حدیث کی تشریح:

رمضان کے آخری دس دنوں کی خصوصیت:

رمضان کے آخری دس دن نہایت اہم ہوتے ہیں، کیوں کہ انہی دنوں میں شب قدر آتی ہے ، جس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ ان دنوں میں عبادت کا خاص اہتمام فرماتے ، پوری رات عبادت میں گزارتے اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی بیدار کرتے تھے۔

”راتوں کو جاگتے”  اس سے کیا مراد ہے؟

اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ پوری رات نماز ، دعا، ذکر، تلاوت قرآن اور توبہ واستغفار میں مشغول رہتے تھے۔

اگر کوئی شخص پوری رات بیدار نہ رہ سکے تو کم از کم تراویح اور کچھ دیر قرآن مجید کی تلاوت ضرور کرنی چاہیے۔

”اپنے گھر والوں کو جگاتے“۔ اہلِ خانہ کو عبادت کی ترغیب:

اس حدیث سے ہمیں یہ اہم سبق ملتا ہے کہ اپنے ساتھ، اپنے اہلِ خانہ کو بھی عبادت کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔

رمضان صرف انفرادی عبادت کا مہینہ نہیں، بلکہ پورے خاندان کو اللہ کی طرف متوجہ کرنے کا بہترین موقع ہے۔

“کمر کس لیتے“۔ عبادت میں مکمل انہماک:

اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ پوری سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ عبادت میں مشغول ہو جاتے تھے، اور ان دنوں میں اپنی ازواج سے الگ رہتے، اور مکمل طور پر عبادت میں لگ جاتے تھے۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ مگر ہمارا کیا حال ہے:

رمضان کے آخری دس دنوں کو خاص طور پر گناہوں سے بچتے ہوئے عبادت میں گزارنا چاہیے۔ تراویح کے ساتھ تلاوتِ قرآن، دعا اور استغفار کو معمول بنانا چاہیے اور لیلتہ القدر کو پانے کے لیے اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔

اپنے اہل خانہ کو بھی عبادت کی ترغیب دینی چاہیے، تاکہ پورے گھر کا ماحول نیکیوں سے بھر جائے۔

مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ان قیمتی ایام کو بھی خریداری اور عید کی تیاری کے نام پر غیر ضروری کاموں میں گزار دیتے ہیں اور شب قدر میں بھی عبادت کے بجائے صرف رت جگا کرتے ہیں۔

عبادت میں وہ محنت، سنجیدگی اور اہتمام نظر نہیں آتا جو سنت نبوی کا تقاضا ہے، نہ خود پوری توجہ ہوتی ہے اور نہ گھر والوں کو اس کی خاص فکر کی جاتی ہے۔

حاصل کلام:

①رمضان کے آخری دس دن دنیا سے کنارہ کش ہو کر مکمل طور پر اللہ کی طرف رجوع کرنے کا وقت ہے۔

②ہمیں ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت، ذکر، تلاوت، تراویح اور دعا کا اہتمام کرنا چاہیے اور اپنے گھر والوں کو بھی اس نیکی میں شامل کرنا چاہیے۔

اللہ ہمیں اس حدیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور رمضان کے آخری دس دنوں کی برکتوں سے نوازے۔ آمین !

حدیث نمبر:25

ایک رمضان دوسرے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ:

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: ((الصلوات الخمس، والجمعة إلى الجمعة، ورمضان إلى رمضان مكفرات ما بينهن إذا اجتنب الكبائر) رواه مسلم.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے:پانچ نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک، اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرط یہ کہ بڑے گناہوں سے بچا جائے۔

 (صحیح مسلم:233)

حدیث کی تشریح:

پانچ وقت کی نمازوں کی اہمیت:

اللہ تعالیٰ نے ہم پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں تاکہ وہ ہمیں گناہوں سے بچائیں اور جو چھوٹے گناہ سرزد ہو جائیں ان کے لیے مغفرت کا ذریعہ بنیں۔

جس طرح جسم سے میل کچیل دور کرنے کے لیے ہم دن میں کئی بار غسل یا صفائی کرتے ہیں، اسی طرح پنج وقتہ نمازیں روح کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کرتی ہیں۔

جمعہ کی نماز کی خصوصی فضیلت:

جمعہ کی نماز پورے ہفتے کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے، بشرط یہ کہ آدمی بڑے گناہوں سے بچتار ہے۔

جمعہ کی نماز صرف ایک فرض عبادت ہی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کی معافی حاصل کرنے کا ایک عظیم موقع ہے۔

رمضان کا عظیم اجر:

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور اس مہینے کی عبادت پچھلے گناہوں کو مٹانے کا سبب بنتی ہے۔

اس حدیث میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر انسان رمضان کو صحیح طریقے سے گزارے تو اس کے پچھلے چھوٹے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

چھوٹے اور بڑے گناہوں میں فرق:

اس حدیث میں شرط لگائی گئی ہے کہ بڑے گناہوں سے بچا جائے ، تب ہی چھوٹے گناہوں کی معافی ہوتی ہے۔

بڑے گناہوں سے مراد وہ گناہ ہیں جن پر دنیا میں کوئی شرعی حد مقرر ہو، یا آخرت میں سزا یا اللہ کی ناراضی کا ذکر آیا ہو، یا ان کے کرنے پر وعید سنائی گئی ہو، یا کرنے والے پر لعنت کی گئی ہو۔

چھوٹے گناہ: مثلاً بلا وجہ غصہ کرنا کسی سے معمولی تکرار کر لینا، نگاہوں کی حفاظت نہ کرنا وغیرہ۔

بڑے گناہ: جیسے شرک، قتل، چوری، زنا، شراب نوشی، جھوٹی گواہی دینا، والدین کی نافرمانی کرنا، سود لینا دینا اور کسی بے گناہ پر جھوٹا الزام لگانا۔

چھوٹے گناہ نماز، جمعہ اور رمضان کے ذریعے معاف ہو جاتے ہیں، لیکن بڑے گناہوں کے لیے سچی توبہ ضروری ہے۔

حاصل کلام:

①یہ حدیث اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت اور مغفرت کو ظاہر کرتی ہے۔

②اللہ نے ہمیں نماز جمعہ اور رمضان جیسی عبادات کے ذریعے گناہوں کو مٹانے کا آسمان راستہ عطا فرمایا ہے۔

③ہمیں چاہیے کہ پابندی سے نماز ادا کریں، جمعہ کی نماز کا اہتمام کریں اور رمضان کی برکتوں سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔

④بڑے گناہوں سے بچیں اور سچے دل سے توبہ کریں تاکہ ہماری آخرت سنور جائے۔

اللہ ہمیں اس حدیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے ۔ آمین!

حدیث نمبر:26

زبان کی حفاظت اور لایعنی امور سے اجتناب:

عن أبي هريرة رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((والصيام جنة، وإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب، فإن سابه أحد أو قاتله، فليقل: إني امرؤ صائم))متفق عليه.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: روزہ ایک ڈھال ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو نہ فحش بات کرے، نہ جھگڑا کرے اور نہ شور مچائے۔ اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑنے پر آمادہ ہو، تو وہ کہہ دے : میں روزے سے ہوں۔

(صحیح بخاری: 1894/1904، صحیح مسلم:1151)

حدیث کی تشریح:

“روزہ ایک ڈھال ہے“ کا مفہوم:

“روزہ ایک ڈھال ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ روزہ انسان کے لیے برائیوں سے بچاؤ کی ایک حفاظتی ڈھال ہے۔

یہ روزہ دار کو گناہوں سے بچاتا ہے، نیکیوں کی عادت ڈالتا ہے اور اللہ کے عذاب سے حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔

جس طرح ڈھال دشمن کے وار سے بچاتی ہے، اسی طرح روزہ انسان کو شیطان اور اس کی برائیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

کامل روزہ کسے کہتے ہیں؟

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رک جانے کا نام نہیں، بلکہ روزہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب انسان درج ذیل امور سے بچے۔ مثلاً:

روزہ توڑنے والی چیزیں: جیسے کھانا، پینا، جماع اور ان سے متعلق امور ۔

روزے کی روح کے خلاف امور: جیسے فحش گفتگو، جھگڑا، فساد، جھوٹ، گالی گلوچ اور بد زبانی۔

روزے میں جھگڑالڑائی سے بچنے کا طریقہ:

اگر کوئی شخص آپ کو گالی دے یا لڑنے پر آمادہ ہو جائے تو اس سے بحث یا جھگڑا نہ کریں، بلکہ نرمی اور سکون سے کہہ دیں: (میں روزے سے ہوں)۔

اس جملے سے سامنے والے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ اخلاقی ضبط اور صبر کا نام ہے۔

روزے کے آداب:

اس حدیث سے روزے کے چند اہم آداب معلوم ہوتے ہیں:

فحش اور فضول باتوں سے پر ہیز کرنا۔

لڑائی جھگڑے اور غیر ضروری بحث و مباحثہ سے بچنا۔

گالی یا زیادتی کے جواب میں صبر اور برداشت سے کام لینا۔

برائی کے بدلے بھلائی اور تحمل و نرم دلی کا مظاہرہ کرنا۔

حاصل کلام:

①روزہ انسان کے لیے اخلاقی اور روحانی تربیت کا ذریعہ ہے۔

②روزہ نہ صرف جسمانی خواہشات پر قابو سکھاتا ہے بلکہ زبان ، دل اور کردار کی بھی حفاظت کرتا ہے۔

اللہ تعالی ہمیں روزے کی حقیقت کو سمجھنے اور اس کے آداب کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:27

رمضان کی بے قدری کرنے والوں کے لیے شرعی و عید:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((رغم أنف رجل دخل عليه رمضان، ثم انسلخ قبل أن يغفر له)) حسن صحيح رواه الترمذي، وأحمد في مسنده.

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی ناک مٹی سے بھر جائے (یعنی وہ سخت نقصان میں ہے) جس کے پاس رمضان آیا، پھر گزر گیا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی۔

(سنن ترمذی:3545، مسند احمد:7451)( حسن صحیح)

حدیث کی تشریح:

رمضان مغفرت کا مہینہ:

رمضان کا مہینہ اللہ کی رحمت ، فضل، برکت اور مغفرت سے بھرا ہوا ہے۔ یہ ایک قیمتی موقع ہے جس میں اللہ اپنے بندوں کو ان کے گناہوں سے نجات پانے کا سنہرا موقع عطا فرماتا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں بھی اللہ سے مغفرت حاصل نہ کر سکا، وہ حقیقت میں بہت بڑے خسارے میں ہے۔

“ناک مٹی سے بھر جائے“ کا کیا مطلب ہے؟

یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے، جو کسی شخص کی ذلت ، نقصان اور بد نصیبی کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جسے رمضان جیسا قیمتی موقع ملا اور اس نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا، وہ حقیقت میں بہت بڑا نقصان اٹھا چکا ہے۔

رمضان کو ضائع کرنے والے لوگ:

وہ لوگ جو رمضان میں روزہ تو رکھتے ہیں، مگر گناہوں سے نہیں بچتے۔

جو اس پاک مہینے میں بھی نماز، قرآن کریم کی تلاوت، دعا واذکار اور صدقہ وخیرات سے دوری اختیار کیے رہتے ہیں۔

جو رمضان کی راتیں عبادت میں گزارنے کے بجائے فضول باتوں اور بے کار مشاغل میں گزار دیتے ہیں۔

جنھیں اللہ نے اس مہینے میں بخشش کا موقع دیا، مگر انھیں توبہ کی توفیق نہ مل سکی۔

جو لوگ ذکر واذکار اور عبادت کے بجائے اپنا بیش تر قیمتی وقت سوشل میڈیا پر صرف کر دیتے ہیں۔

آج کل بعض ٹی وی چینلز ”رمضان اسپیشل “ کے نام پر ایسے پروگرام نشر کرتے ہیں، جو عبادت کے اس مقدس مہینے میں لہو ولعب اور غیر ضروری مشاغل کو فروغ دیتے ہیں اور رمضان کو عبادت کے بجائے تفریح کا مہینہ بنا دیتے ہیں۔ یہ چیزیں قیمتی اوقات کو ضائع کرنے کا سبب بنتی ہیں، لہذا ان سے بچنا ضروری ہے۔

رمضان سے فائدہ اٹھانے کا صحیح طریقہ:

روزے کا صحیح حق ادا کرنا۔ صرف بھوکا پیاسا رہنا ہی نہیں، بلکہ گناہوں کو چھوڑ دینا بھی۔

پانچ وقت کی نماز کی پابندی کرنا اور تلاوت قرآن کا اہتمام کرنا۔

زیادہ سے زیادہ توبہ اور استغفار (مغفرت کی دعا) کرنا۔ گناہوں سے معافی اور توبہ اللہ کو راضی کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے اور اس کی بنیادی شرائط درج ذیل ہیں:

①گناہ فوراً چھوڑ دیا جائے۔

②دل سے شرمندہ ہوا جائے۔

③انسان پکا ارادہ کرے کہ آئندہ وہ گناہ نہیں کرے گا۔

◈اور اگر گناہ کسی انسان کا حق مارنے سے متعلق ہو تو مزید یہ شرط بھی ہے:

④اس کا حق واپس کیا جائے اور اس سے معافی مانگی جائے۔

اللہ سے کثرت کے ساتھ دعا کرنا کہ وہ ہمارے پچھلے گناہوں کو معاف فرمادے اور ہمیں نیکی کے راستے پر چلائے۔

آخری دس دنوں میں خاص طور پر لیلتہ القدر کی راتوں کی تلاش کرنا اور اپنے آپ کو عبادت میں مشغول رکھنا۔

حسب وسعت و توفیق زیادہ سے زیادہ روزہ داروں کو افطار کرانا، کیوں کہ کسی روزے دار کو افطار کرانا ایک عظیم نیکی ہے یعنی روزہ افطار کرانے والے کو روزے دار کے برابر ثواب ملے گا، جیسا کہ سیدنا  زید بن خالد جہنی رضی اللہ  عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((من فطر صائما كان له مثل أجره غير أنه لا ينقص من أجر الصائم)) جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اسے بھی اس کے برابر ثواب ملے گا، لیکن روزے دار کے ثواب میں کچھ کمی نہیں ہوگی ۔

[سنن ترمذی:807 صحیح، سنن ابن ماجہ:1746]

حاصل کلام:

رمضان ایک انوکھا اور نایاب موقع ہے جو ہر سال آتا ہے، مگر کسی کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ اگلا رمضان دیکھ سکے، اس لیے اس مہینے کو فضول باتوں اور غفلت میں ضائع کرنا بہت بڑی نادانی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس مہینے میں سچے دل سے توبہ کریں، اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور نیکیوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کریں۔

اللہ ہمیں رمضان کا صحیح حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری مغفرت فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:28

وضو کرتے وقت ناک میں پانی ڈالنے میں احتیاط:

عن لقيط بن صبرة رضي الله عنه قال، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((أسبغ الوضوء وخلل بين الأصابع وبالغ في الاستنشاق ، إلا أن تكون صائما))رواه أبو داود وصححه الألباني.

سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: وضو کو کامل طریقے سے کرو، اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو (یعنی اچھی طرح ان کے درمیان پانی پہنچاؤ ) اور اگر روزے سے نہ ہو تو ناک میں پانی ڈال کر اچھی طرح ناک صاف کرو۔

 (سنن ابی داود:142 صحیح)

حدیث کی تشریح:

،،اسباغ الوضوء،، وضو کو اچھی طرح کرنا:

فرض اسباغ: وضو کے ہر عضو کو صحیح طریقے سے دھونا تاکہ کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے۔

مستحب اسباغ: جن اعضاء کو دھلنا ضروری ہے انھیں زیادہ اہتمام سے دھونا، مثلاً ہر عضو کو تین مرتبہ دھونا (حالاں کہ ایک مرتبہ فرض ہے)، یا وضو کے فرض اعضاء کے علاوہ دیگر حصوں کی بھی صفائی کرنا۔

خصوصی توجہ اور احتیاط سے وضو کرنا ضروری ہے، کیوں کہ اعضائے وضو میں سے اگر کوئی حصہ خشک رہ جائے تو وضو نہیں ہو گا۔

تکلیف اور دشواری کے باوجود ہر موسم میں صحیح طریقے سے وضو کرنے پر اللہ تعالیٰ بندے کی خطائیں معاف کر دیتا ہے اور اس کے درجات بلند فرماتا ہے۔ [دیکھیے صحیح مسلم:251]

انگلیوں کے درمیان خلال کرنا:

یعنی ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کو الگ الگ کر کے دھونا تا کہ پانی ہر جگہ پہنچے اور مکمل طہارت حاصل ہو اور انگوٹھی پہنے ہوں تو اسے نکال کر اچھے سے دھلنا۔

،،استنشاق،، ناک میں پانی ڈالنا:

یہ وضو کا ایک اہم حصہ ہے ، جس سے اندرونی صفائی ہوتی ہے۔

اگر روزے کی حالت ہو تو ناک میں زیادہ زور سے پانی کھینچنے سے بچنا چاہیے، تاکہ غلطی سے پانی اندر نہ چلا جائے اور روزہ ٹوٹ جائے۔

حاصل کلام:

یہ حدیث اسلام میں طہارت اور صفائی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے اور ساتھ ہی شریعت کی آسانی اور احتیاط دونوں کو نمایاں کرتی ہے۔ جیسے روزے کی حالت میں ناک میں زیادہ پانی کھینچنے سے پرہیز کی تاکید۔

اللہ ہمیں اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

کامل وضو کرنے اور اس کے بعد درج ذیل مسنون دعا پڑھنے والے کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہ جس دروازے سے چاہے گا جنت میں داخل ہوگا:

(( أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ ))

دیکھیے صحیح مسلم: 234، سنن ترمذی:55 ، دعا میں اضافہ والی ترمذی کی روایت کو اضطراب و انقطاع کی وجہ سے ضعیف قرار دیا گیا ہے، مگر شیخ البانی رحمہ اللہ و غیرہ نے شواہد کی بنیاد پر اس اضافہ کو ثابت مانتے ہوئے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ دیکھیے: ارواء الغلیل :135 /1رقم الحديث:96، هداية الرواة: 180/1]

 

حدیث نمبر:29

رمضان میں بوڑھوں اور مریضوں کے لیے رخصت:

عن ابن عباس رضي الله عنهما ، قال : ((رخص للشيخ الكبير أن يفطر، ويطعم عن كل يوم مسكينا، ولا قضاء عليه)) رواه الدارقطني واللفظ له، وأصله في صحيح البخاري

عبد اللہ بن عباس رضي اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: بوڑھے شخص کو ( روزے کے معاملے میں) رخصت دی گئی ہے کہ وہ روزہ چھوڑ دے اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین (غریب) کو کھانا کھلا دے اور اس پر (روزے کی) قضا (بعد میں رکھنے کی ضرورت) نہیں ہے۔

(اسے دار قطنی نے اپنی سنن(2380)میں انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے، جب کہ اس کا اصل ماخذ صحیح بخاری(حدیث نمبر :4505) میں موجود ہے۔)

حدیث کی تشریح:

اسلام میں آسانی اور رخصت کا اصول:

اسلام دین سہولت ہے، جو لوگوں کی طاقت اور حالات کو پیش نظر رکھتا ہے۔

روزہ اسلام کا ایک اہم رکن ہے، لیکن اگر کسی کے لیے اسے رکھنا دشوار ہو جائے تو شریعت میں رخصت دی گئی ہے۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ بوڑھا شخص ( جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا) روزہ چھوڑ سکتا ہے۔

اس حکم میں لاعلاج (دائی ) بیمار شخص بھی شامل ہے ، جیسا کہ قرآن میں اللہ نے فرمایا:

((… وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ …))

اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (اتنی ہی تعداد) پوری کرے۔ اللہ تمھارے لیے آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔“ (البقرۃ: 185)

بیمار اور مسافر اگر روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں تو ان کے لیے روزہ رکھنا ہی بہتر ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

((… وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ.))

اور تمھارا روزہ رکھنا تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو ۔ (البقرة:184)

لیکن اگر کسی کو معمولی بیماری ہو جو روزے پر اثر انداز نہ ہوتی ہو، جیسے ہلکاز کام ، سر درد، دانت کا در دو غیرہ، تو اس کے لیے روزہ چھوڑنا جائز نہیں۔

روزہ نہ رکھ پانے والوں کے لیے فدیہ:

بوڑھا شخص (جو انتہائی ضعیف ہو اور روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو) روزہ چھوڑ سکتا ہے۔

لاعلاج بیمار، جس کے صحت یاب ہونے کی امید نہ ہو، وہ بھی روزہ چھوڑ سکتا ہے۔

لیکن اس کے بدلے ہر چھوٹے ہوئے روزے کے عوض ایک غریب کو کھانا کھلانا ہوگا، یعنی فدیہ دینا ہو گا، جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

… وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِين …. اور جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ان پر فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔ ۔ (البقرۃ:184)

اور زیادہ نیکی کے لیے ایک سے زیادہ مسکینوں کو بھی کھلا سکتے ہیں۔ اللہ آگے فرماتا ہے: .. فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ …

پس جو شخص خوش دلی سے نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے۔ (البقرۃ:184)

قضا کا حکم:

جن لوگوں کے صحت یاب ہونے کی امید ہو (جیسے عارضی بیمار)، انھیں رمضان کے بعد چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنی ہوگی۔

لیکن جو لوگ ہمیشہ کے لیے روزہ رکھنے کے قابل نہیں (جیسے بہت بوڑھے یا لاعلاج بیمار )، ان پر قضا لازم نہیں، بلکہ صرف فدیہ دینا ہو گا۔

مسافر کو بھی اپنے چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا کرنی ہوگی۔

حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کا حکم:

اگر حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت کو اندیشہ ہو کہ روزہ رکھنے سے اس کی یا بچے کی صحت پر برا اثر پڑے گا تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے۔ شریعت میں حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو ایسے بیمار کے مشابہ قرار دیا گیا ہے جس کا صحت یاب ہونا ممکن نہ ہو، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

الحامل والمرضع تفطر ولا تقضي

حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت روزہ افطار کرے گی اور قضا نہیں دے گی۔

صحیح سنن دار قطنی: 198/3 رقم 2385، سنن ابو داود:2318، الإرواء الغلیل:913)

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی حاملہ بیوی کے پوچھنے پر ان سے فرمایا:

أفطري وأطعمي عن كل يوم مسكينا ولا تقضي

تم روزہ چھوڑ دو اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دو اور ( بعد میں ) اس کی قضا نه دو (صحیح سنن دار قطنی:3/198 رقم :2388)

بعض اہلِ علم کا قول ہے کہ وہ صرف روزہ چھوڑیں گی اور بعد میں قضا کریں گی، تاہم جو عورتیں قضا کی استطاعت نہ رکھتی ہوں وہ صرف فدیہ دے سکتی ہیں۔

سیدنا  انس بن مالک الکعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((إن الله تعالى وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة، وعن الحامل أو المرضع الصوم))

اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور آدھی نماز معاف کر دی ہے نیز حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت سے بھی روزہ کو معاف کر دیا ہے۔

(حسن صحیح سنن ترمذی: 715، سنن ابو داود:2408، سنن نسائی:2317، سنن ابن ماجہ: 1667)

اس حدیث میں نبی ﷺ نے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو مسافر کے حکم میں رکھا ہے۔ مسافر پر صرف قضا ہوتی ہے ، کفارہ نہیں ، کیوں کہ یہ شرعی عذر ہے۔

مذکورہ دونوں موقف میں سے پہلا موقف فطرت، مزاج شریعت اور سنت کے زیادہ قریب ہے۔ صحابہ میں سے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بھی یہی فتویٰ ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی بھی صحابی سے بسند صحیح ان کی مخالفت ثابت نہیں ہے۔

حاصل کلام:

①اسلام ہر انسان کے حالات کا خیال رکھتا ہے اور کسی کو مشقت میں ڈالنا اس کا مقصد نہیں۔

②انتہائی بوڑھا اور لاعلاج بیمار فدیہ دے سکتا ہے۔

③مسافر اور عارضی بیمار بعد میں قضا کرے گا۔

④حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کے لیے بھی خصوصی رخصت ہے۔

⑤روزہ انہی پر فرض ہے جو اس کی طاقت رکھتے ہوں، لہذا جن کے لیے روزہ رکھنا ممکن نہ ہو، شریعت نے انھیں رخصت دی ہے۔

اللہ ہمیں اسلامی تعلیمات کی صحیح سمجھ اور ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:30

صدقۃ الفطر کی فرضیت اور مقدار:

عن ابن عمر رضي الله عنهما ، قال : فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد والحر، والذكر والأنثى، والصغير والكبير من المسلمين، وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة)) متفق عليه، والسياق للبخاري.

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے رسول ﷺ نے ہر آزاد اور غلام، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر زکاۃ الفطر ایک صاع کھجور یا جو فرض قرار دی ہے اور آپ نے حکم دیا کہ اسے لوگوں کے عید کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے ۔

(صحیح بخاری: 1503، صحیح مسلم:984)

حدیث کی تشریح:

زكاة الفطر / صدقہ فطر کا فرض ہونا:

رسول اللہ ﷺ نے ہر مسلمان پر ۔ چاہے وہ بچہ ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام ایک صاع صدقہ فطر ادا کرنا فرض کیا ہے۔

یہ ان لوگوں پر واجب ہے جن کے پاس اپنی بنیادی ضروریات سے زائد ایک صاع کھانے کی چیز موجود ہو۔

ایک صاع موجودہ پیمائش کے مطابق تقریبا پونے تین کلو سے 3 کلوگرام کے درمیان ہوتا ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے خوش حال لوگ ضرورت مندوں کی مدد کریں اور باہمی ہمدردی کی فضا قائم ہو۔

گھر کا سربراہ اپنے گھر کے تمام افراد کی طرف سے یہ صدقہ ادا کرے گا اور اگر گھر میں کوئی غلام یا خادم ہو تو اس کی طرف سے بھی مالک صدقہ فطر ادا کرے گا۔

اگر کوئی بچہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہو تو اس کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب نہیں، البتہ اگر دے دیا جائے تو یہ مستحب عمل ہے۔

صدقہ فطر ادا کرنے کا درست وقت:

صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا چاہیے۔

اگر عید کی نماز کے بعد دیا جائے تو وہ صدقہ فطر نہیں رہے گا بلکہ عام صدقہ شمار ہو گا۔

غذائی اجناس دینا لازم ہے:

صدقه فطر ان غذائی اشیاء میں سے دیا جا سکتا ہے جو عام طور پر انسان کھاتے ہوں، چاہے ان کی قیمتوں میں فرق ہو۔

حدیث میں خاص طور پر گندم، جو، کھجور کشمش اور پنیر کا ذکر آیا ہے، کیوں کہ اس دور میں یہی عام غذا ئیں تھیں۔

ہر زمانے اور علاقے کے مطابق رائج غذائی اجناس سے بھی صدقہ فطر ادا کیا جا سکتا ہے۔

غذائی اجناس کے بدلے رقم دینا:

جمہور علماء کے نزدیک صدقہ فطر غذائی اجناس کی صورت میں ہی دینا چاہیے۔

رقم دینا زكاة الفطر کے لیے کافی اور مقبول نہیں سمجھا جاتا، کیوں کہ اس کا مقصد غریبوں کو عید کے دن کھانے پینے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

حاصل کلام:

صدقہ فطر ایک اہم فرض صدقہ ہے جو ہر صاحب استطاعت مسلمان پر لازم ہے۔ اس کا مقصد روزے دار کی کوتاہیوں کی تلافی اور معاشرے کے غریب و ضرورت مند افراد کی مدد کرنا ہے، تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ اسے عید کی نماز سے پہلے ادا کر ناضروری ہے تاکہ اس کا صحیح فائدہ حاصل ہو۔

اللہ ہمیں صدقہ فطر صحیح طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!

حدیث نمبر:31

صدقۃ الفطر کا مقصد اور ادائیگی کا وقت:

عن ابن عباس رضي الله عنهما ، قال : فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين، من أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة، ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات)) حسن رواه أبوداود، وابن ماجة.

سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:اللہ کے رسول ﷺ نے زکاۃ الفطر کو فرض قرار دیا، تاکہ یہ روزے دار کے لیے رمضان میں ہونے والی لغو اور ناپسندیدہ باتوں سے پاکیزگی (طہارت) کا ذریعہ بنے اور غریبوں و محتاجوں کے لیے کھانے کا انتظام ہو۔ جس نے اسے عید کی نماز سے پہلے ادا کر دیا، تو وہ مکمل طور پر قبول ہونے والی زکاۃ ہے اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا، تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ شمار ہو گا۔

 (سنن ابوداود:1609 حسن، سنن ابن ماجہ: 1827)

حدیث کی تشریح:

زكاة الفطر نفس کی پاکیزگی اور خیر خواہی کا ذریعہ:

اس حدیث میں زکاۃ الفطر کی فرضیت اور اس کے مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے اسے روزے دار کے لیے پاکیزگی کا ذریعہ قرار دیا، تاکہ رمضان کے دوران سر زد ہونے والی ہلکی پھلکی لغزشوں اور ناپسندیدہ باتوں سے تطہیر ہو سکے۔

یہ غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے کھانے کا وسیلہ بنتی ہے ، تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

زكاة الفطر ادا کرنے کا درست وقت:

عید کی نماز سے پہلے اس کا ادا کرنا لازم ہے، اگر اس طرح ادا کی جائے تو وہ پوری طرح قبول ہوتی ہے اور مکمل اجر ملتا ہے۔

عید کی نماز کے بعد دینے کی صورت میں وہ زکاۃ الفطر نہیں رہتی بلکہ عام صدقہ شمار ہوتی ہے یعنی صدقہ فطر ادا نہیں ہوتا ہے۔

حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ تاخیر کرنے والا گویا صحیح وقت میں ادانہ کرنے کی وجہ سے اس کے مقصود سے محروم رہ جاتا ہے۔

زکاۃ الفطر کب نکالی جا سکتی ہے؟

زكاة الفطر نکالنے کا افضل وقت عید کی نماز سے پہلے ہے۔

تاہم عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی نکالی جا سکتی ہے، جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیا کرتےتھے ۔

 (دیکھیے: صحیح بخاری:1511)

زکاۃ الفطر کی تقسیم میں احتیاط:

صدقه فطر صرف مستحق مسلمان کو دینا چاہیے، کیوں کہ یہ زکاۃ کی طرح ایک عبادت ہے ، جس کا مخصوص مصرف ہے۔ غیر مسلموں یا ہر ایرے غیرے اور پیشہ ور بھکاریوں کو دینا درست نہیں ، اس لیے تحقیق کر کے صحیح حق دار تک پہنچانا ضروری ہے۔

حاصل کلام:

①زکاۃ الفطر ہر فرد کی طرف سے مقررہ وقت پر ادا کر ناضروری ہے۔

②اسے عید کی نماز سے پہلے دینا چاہیے تاکہ روزے کی پاکیزگی اور غریبوں کی مدد کا اصل مقصد پورا ہو سکے۔

اللہ ہمیں زکاۃ الفطر کو صحیح وقت پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

حدیث نمبر:32

رمضان میں صدقہ و خیرات کرنے کی فضیلت:

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: ((كان النبي صلى الله عليه وسلم أجود الناس بالخير، وكان أجود ما يكون في رمضان حين يلقاه جبريل، وكان جبريل عليه السلام يلقاه كل ليلة في رمضان حتى ينسلخ، يعرض عليه النبي صلى الله عليه وسلم القرآن، فإذا لقيه جبريل عليه السلام كان أجود بالخير من الريح المرسلة)) متفق عليه.

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ بھلائی کرنے میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے، خاص طور پر رمضان کے مہینے میں، جب جبرئیل آپ سے ملاقات کرتے تو آپ کی سخاوت اور بڑھ جاتی تھی۔ جبرئیل علیہ السلام  رمضان کی ہر رات آپ سے ملاقات کرتے، حتی کہ رمضان ختم ہو جاتا اور نبی ﷺ ان کے سامنے قرآن کی تلاوت پیش کرتے۔ جب جبرئیل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے، تو آپ صدقہ دینے میں تیز آندھی سے بھی زیادہ تیز ہو جاتے۔

(صحیح بخاری:1902، صحیح مسلم:2308)

حدیث کی تشریح:

نبی ﷺ کی سخاوت:

اللہ کے رسول ﷺ فطرت سے ہی نہایت سخاوت والے تھے۔

رمضان میں آپ کی سخاوت خاص طور پر بڑھ جاتی تھی، کیوں کہ یہ مہینہ بھلائی اور نیکی کا ہے۔

رمضان میں اللہ اپنے بندوں پر خصوصی رحمت نازل فرماتا ہے، اس لیے اہل استطاعت کو چاہیے کہ وہ دوسروں کی مدد کریں۔

جبرئیل علیہ السلام اور قرآن کریم کا دور:

رمضان المبارک کی ہر رات جبرئیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس آتے اور آپ کے ساتھ قرآن کریم کا دور کرتے تھے۔

یہ قرآن کو یاد رکھنے اور دل میں محفوظ کرنے کا ذریعہ تھا۔

قرآن کی تلاوت اور اس کی تکرار سے اس کا ثواب بڑھتا ہے اور علم مضبوط ہوتا ہے۔

بھلائی اور صدقہ و خیرات میں تیزی:

نبی ﷺ صدقہ دینے میں تیز آندھی سے بھی زیادہ تیز ہو جاتے تھے۔

یعنی ضرورت مند کو دیکھ کر فوراً اور بلا تاخیر مدد فرماتے تھے۔

یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ نیکی اور صدقہ میں سستی یا تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

رمضان میں نیکیوں کو بڑھانے کی ترغیب:

رمضان میں زیادہ سے زیادہ قرآن کی تلاوت کرنا مستحب ہے۔

نیک اور صالح لوگوں کے ساتھ رہنا اور ان سے بھلائی کے اعمال سیکھنا چاہیے۔

علماء اور طلبہ کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ علم کی تکرار کریں تاکہ علم ضائع نہ ہو اور یادر ہے۔

حاصل کلام:

①رمضان صرف روزہ رکھنے کا مہینہ نہیں بلکہ صدقہ، قرآن کی تلاوت اور نیکی بڑھانے کا بہترین موقع ہے۔

②ہمیں چاہیے کہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ عبادت، صدقہ، پرہیز گاری اور ضرورت مندوں کی مدد کریں۔

③یہ حدیث ہمیں نبی کریم ﷺ کی سخاوت اور بھلائی کے اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی رمضان میں سخاوت اور نیک کام کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

 

حدیث نمبر:33

بلا عذر روزہ توڑنے والوں کے لیے شرعی و عید:

عن أبي أمامة رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ((بينا أنا نائم إذ أتاني رجلان فأخذا بضبعي)) وساق الحديث، وفيه قال: ((ثم انطلقا بي، فإذا قوم معلقون بعراقيبهم، مشققة أشداقهم تسيل أشداقهم دما،قلت: من هؤلاء؟ قال : هؤلاء الذين يفطرون قبل تحلة صومهم)) رواه النسائي في السنن الكبرى وصححه الألباني في الصحيحة.

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں سویا ہوا تھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے اور انھوں نے مجھے بغلوں سے پکڑ لیا۔ پھر آپ نے حدیث کا باقی حصہ بیان فرمایا۔ اس میں آگے یہ بھی آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ” وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے ، تو میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ اپنی ایڑیوں کے بل الٹے لٹکائے گئے تھے ، ان کے جبڑے پھٹے ہوئے تھے اور ان میں سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ لوگ کون ہیں؟ تو جواب ملا: یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ پورا ہونے کے وقت سے پہلے ہی افطار کر لیا کرتے تھے۔

(السنن الكبرى للنسائي:3273 صحیح، سلسلة الاحاديث الصحيحة:3951)

حدیث کی تشریح:

وقت سے پہلے روزہ توڑنے والوں کے لیے شرعی و عید:

اس حدیث میں ان لوگوں کے عذاب کا بیان ہے جو روزہ تو رکھتے ہیں ، مگر جان بوجھ کر افطار کے مقررہ وقت سے پہلے ہی اسے توڑ دیتے ہیں۔

جب وقت سے پہلے روزہ توڑنے والوں کا یہ حال ہو گا، تو ان لوگوں کا کیا انجام ہوگا جو سرے سے روزہ ہی نہیں رکھتے؟ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دنیا اور آخرت میں سلامتی اور بھلائی عطا فرمائے۔

جان بوجھ کر روزہ چھوڑنے کا حکم:

رمضان کا روزہ رکھنا فرض ہے اور یہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔ کسی شرعی عذر کے بغیر جان بوجھ کر رمضان کے کسی دن کا روزہ چھوڑنا اسلام میں جائز نہیں۔

اگر کوئی شخص جان بوجھ کر رمضان کے کسی دن کا روزہ چھوڑ دے تو علماء کے نزدیک اس پر اس روزے کی قضا لازم ہے۔ بعض علماء نے اس پر اجماع کا بھی ذکر کیا ہے۔

البتہ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اگر رمضان کا روزہ جان بوجھ کر چھوڑ دیا جائے تو اس کی قضا نہیں ، کیوں کہ یہ وقت کے ساتھ مخصوص عبادت ہے اور وقت گزر جانے کے بعد وہ قبول نہیں ہوتی۔

لیکن زیادہ صحیح اور راجح قول یہ ہے کہ اس دن کی قضا ضروری ہے، کیوں کہ یہ عبادت ایک ذمہ داری تھی اور اسے ادا کیے بغیر انسان اس فرض سے بری الذمہ نہیں ہوتا۔

صحیح وقت پر افطار کرنا ضروری ہے:

بعض لوگ صرف فلکیاتی حساب پر مقرر کیے گئے وقت سے پہلے اذان دینے والے مؤذنوں پر اعتماد کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی مرتبہ لوگ وقت سے پہلے ہی افطار کر لیتے ہیں، کیوں کہ بعض مؤذن جلدی اذان دے دیتے ہیں اور بعض تاخیر سے۔

اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ شرعی طور پر معتبر اذان کی پیروی کریں، کیوں کہ جغرافیائی اعتبار سے اذان کے اوقات مختلف ہو سکتے ہیں۔

عبادات کو صحیح شرعی وقت پر ادا کر نالازم ہے۔

اور یہ بات بھی یاد رہے کہ سورج غروب ہوتے ہی جلدی افطار کرنا افضل اور اجر کے اعتبار سے زیادہ کامل ہے۔

حاصل کلام:

①یہ حدیث ہمیں روزے کی حرمت اور اسے صحیح وقت تک پورا کرنے کی اہمیت سکھاتی ہے۔ جان بوجھ کر روزہ توڑنا یا وقت سے پہلے افطار کرنا بہت بڑا گناہ ہے ، جس کا انجام نہایت خوفناک ہو سکتا ہے۔

②یہ حدیث ان لوگوں کے لیے سخت تنبیہ ہے جو غفلت کے ساتھ روزے کے احکام کی پابندی نہیں کرتے۔

③ہمیں چاہیے کہ روزے کو اس کی مکمل شرائط اور صحیح وقت کے ساتھ پورا کریں، تاکہ اللہ کی رحمت اور برکت حاصل ہو۔

④افطار اور اذان کے اوقات میں شرعی درستی کا خاص خیال رکھنا بھی ضروری ہے، تاکہ کسی قسم کی غلطی نہ ہو۔

اللہ تعالی ہمیں سیدھے راستے پر چلنے، اپنی عبادات کو درست طریقے سے ادا کرنے اور روزے کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

 

 

حدیث نمبر:34

قیامت کے دن روزہ اور قرآن کی سفارش:

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((الصيام والقرآن يشفعان للعبد يوم القيامة، يقول الصيام : أي رب منعته الطعام والشهوات بالنهار، فشفعني فيه، ويقول القرآن : منعته النوم بالليل، فشفعني فيه قال: ((فيشفعان))

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضي اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے سفارش کریں گے ۔ روزہ کہے گا: اے میرے پروردگار ! میں نے اس شخص کو دن بھر کھانے اور خواہشات سے روکے رکھا، لہذا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے اس شخص کو رات میں سونے سے روکے رکھا، لہذا میری سفارش بھی قبول فرما۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ( روزہ اور قرآن ) دونوں کی سفارش قبول فرمالے گا۔

[أخرجه أحمد:(6626) ، وابن المبارك في الزهد:114، والطبراني88، والحاكم:2036، والديلمي في الفردوس:3813، باختلاف يسير. وصححه الألباني في صحيح الجامع:3882)]

(اسے امام احمد، ابن المبارک، طبرانی، حاکم اور دیلمی نے روایت کیا ہے اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ )

حدیث کی تشریح:

نیک اعمال کی آخرت میں سفارش:

اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نیک اعمال صرف دنیا میں ہی فائدہ نہیں دیتے بلکہ آخرت میں بھی نفع پہنچاتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے نیک عمل کرنے والوں کو آخرت میں بھی ان کا بدلہ ملے گا۔

قرآن کی تلاوت اور روزہ رکھنا ایسے ہی اہم اعمال میں شامل ہیں۔

روزہ کی سفارش:

اس سے مراد رمضان کے فرض روزے ہیں، تاہم اس کا اطلاق نفلی روزوں پر بھی ہوتا ہے۔

روزہ انسان کو کھانے پینے ، دنیوی لذتوں اور نفسانی خواہشات سے روک دیتا ہے، اسی لیےوہ اللہ کے سامنے اس کے حق میں سفارش کرے گا۔

قرآن کی سفارش:

قرآن کی سفارش کے مستحق وہ افراد ہوں گے، جو اس کی تلاوت کرتے ہیں اور رات کی عبادتوں میں اسے پڑھتے ہیں۔

جو شخص قرآن سے تعلق مضبوط رکھے گا، اس کے معانی و مفاہیم پر غور کرے گا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرے گا تو یقینا وہ آخرت میں اس کے ثمرات سے بہرہ مند ہو گا۔

رات میں قرآن کی تلاوت کرنا خاص طور پر اجر و ثواب کا باعث ہے، کیوں کہ یہ انسان کو نیند چھوڑ کر اللہ کی طرف متوجہ ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔

روزہ اور قرآن کی گواہی:

قیامت کے دن روزہ کہے گا:اے میرے پروردگار ! میں نے اسے پورے دن کھانے پینے اور خواہشاتِ نفس سے روکے رکھا، لہذا میری سفارش قبول فرما۔

قرآن کہے گا: اے میرے پروردگار ! میں نے اسے رات میں سونے سے روکے رکھا تھا، لہذا میری سفارش قبول فرما۔

اللہ تعالیٰ ان دونوں کی سفارش قبول فرمائے گا اور بندے کو ان کا فائدہ پہنچے گا۔

حاصل کلام:

①روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے سفارش کریں گے ۔

②اللہ تعالیٰ ان دونوں نیک اعمال کی سفارش قبول فرمائے گا۔

③رمضان میں صرف روزے ہی نہیں بلکہ رات میں قرآن کی تلاوت اور تراویح کی بھی خاص اہمیت ہے۔

جو شخص قرآن سے دوستی رکھے گا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرے گا، اسے آخرت میں اس کا فائدہ لازمی طور پر ملے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں روزہ اور قرآن سے محبت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

حدیث نمبر:35

بچوں کو نماز اور روزے کی تاکید:

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:((مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم أبناء عشر، وفرقوا بينهم في المضاجع )) رواه أبوداود وأحمد وصححه الألباني.

عمرو بن شعیب اپنے والد کے شعیب کے واسطے سے اپنے دادا عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کی ہو جائیں اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں (اور نماز میں کوتاہی کریں) تو انھیں تادیبی طور پر مارو اور ان کے درمیان سونے کے بستروں کو الگ کر دو۔

(سنن ابوداود:495 صحیح، مسند احمد:6689)

حدیث کی تشریح:

بچوں کو نماز کا حکم دیا:

نبی کریم ﷺ نے والدین کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سات سال کی عمر سے ہی نماز کی تعلیم دینا شروع کریں اور انھیں باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کی عادت ڈالیں۔

اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب بچہ سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچ جائے اور نما پڑھے ، تو اس کی نماز صحیح شمار ہوگی۔

دس سال کی عمر میں تادیب:

اگر بچہ دس سال کی عمر میں بھی نماز میں سستی اور کو تاہی کرے تو اسے تادیبی سزادی جاسکتی ہے اور والدین کو اس پر عمل بھی کرنا چاہیے۔

یہ سزا ہلکی ہونی چاہیے، محض تربیتی مقصد کے لیے، نہ کہ جسمانی و ذہنی اذیت کے لیے۔

بستر الگ کرنے کی ہدایت:

شریعت نے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوو نما کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ حکم دیا ہے کہ دس سال کی عمر کے بعد ان کے بستر الگ کر دیے جائیں، تاکہ وہ حیا، پردہ اور اخلاقی پاکیزگی کو سمجھ سکیں۔

بچوں کو روزے کی عادت ڈالنا:

بالغ ہونے سے پہلے بچوں کو نماز کے ساتھ ساتھ روزے کی بھی تربیت دینی چاہیے، جیسا کہ سلف صالحین کیا کرتے تھے۔

ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں: "عاشوراء کے دن کی صبح اللہ کے رسول ﷺ نے مدینہ کے انصار کے محلوں میں پیغام بھیجا اور فرمایا: جس نے دن کا آغاز روزے کے ساتھ کیا ہے وہ اپنا روزہ پورا کرے اور جس نے بغیر روزے کے دن کا آغاز کیا ہے وہ باقی دن کھانے پینے سے رکا ر ہے۔ اس کے بعد ہم خود بھی اس دن روزہ رکھتے تھے اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے۔ ہم ان کے لیے اون کے کھلونے بنا دیتے تھے اور جب وہ بھوک کی وجہ سے رونے لگتے تو ہم انھیں وہ کھلونا دے دیتے، یہاں تک کہ افطار کا وقت ہو جاتا۔

 (صحیح بخاری:1960،صحیح مسلم:1136)

امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ نے رمضان میں نشے کی حالت میں پائے جانے والے ایک شخص سے فرمایا:

تجھ پر افسوس! ہمارے بچے تک روزہ رکھ رہے ہیں! پھر انھوں نے اسے سزادی۔ (امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ”باب صوم الصبیان“ کے تحت معلق روایت کے طور پر ذکر کیا ہے۔)

بچوں کو روزے کی عادت ڈالنے کے طریقے:

روزے کی اہمیت سمجھانا:

بچوں کو بتایا جائے کہ روزہ جنت میں داخلے کے اہم اسباب میں سے ہے اور جنت میں،، ریان،، نامی دروازہ ہے جس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں گے، وغیرہ۔

شعبان کے چند دن روزہ رکھوانا:

ماہ شعبان میں بھی بطور تربیت و مشق ایک دو دن کا روزہ رکھوائیں تاکہ رمضان سے پہلے ذہنی اور جسمانی تیاری ہو جائے۔

بتدریج مشق کرانا:

ابتدائی طور پر پہلے آدھے دن کا روزہ رکھوانے کی عادت ڈالیں ، پھر آہستہ آہستہ پورے دن کا روزہ رکھوائیں۔

سحری دیر سے کرانا:

آخری وقت میں سحری کرائیں تاکہ دن میں بھوک کم لگے اور روزہ آسانی سے پورا ہو۔

انعام دینا اور حوصلہ افزائی کرنا:

روزہ پورا کرنے پر انعام دیں، افطار اور سحری کے وقت خوب تعریف کریں۔

روزے کو مقابلے کی شکل دینا:

تمام بچوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب دیں اور ان کے درمیان نیک اعمال میں سبقت لے جانے کا جذبہ پیدا کریں۔

توجہ ہٹانے کے لیے کھیل اور آرام:

بھوک لگنے پر کھیل یا دوسری سرگرمی میں مشغول کرنا۔ کوشش کریں کہ بچے قرآن اور دیگر دینی کتابوں کے مطالعہ میں اپنا وقت گزاریں۔

افطار کے بعد پسندیدہ چیزیں دینا:

مثلاً مٹھائیاں ، پھل، جوس یا ہلکی سی سیر ، وغیرہ۔

قابل توجہ باتیں:

اگر بچہ بہت زیادہ تھک جائے تو اس پر روزہ پورا کرنے کا زور نہ دیا جائے۔

محبت اور سمجھ داری سے ترغیب دی جائے، سختی نہ کی جائے۔

روزے کو بچوں کے لیے خوشی اور شوق کا موقع بنایا جائے، تاکہ وہ اسے خوش دلی سے اپنائیں۔

بچوں کی اخلاقی تربیت پر توجہ:

①والدین کی ذمہ داری:

والدین کو چاہیے کہ بچوں کو صحیح اسلامی عقیدہ کا پابند بنائیں اور انھیں اُن چیزوں سے بچائیں جو ان کے دل میں شبہات اور غلط خواہشات پیدا کر سکتی ہیں، خصوصا بلوغت کے زمانے میں ان کی نگہداشت اور مکمل رہنمائی فرمائیں۔

②جسمانی پردے کی تعلیم:

والد کو چاہیے کہ بچوں کو اور ماں کو چاہیے کہ بچیوں کو یہ سمجھائیں کہ جسم کے پوشیدہ اعضاء کو ظاہر کرنا اسلام میں حرام ہے۔

③سونے کا انتظام:

بچوں کے بستر الگ کرنے کی ہدایت ان کی اخلاقی تربیت اور پردے کی حفاظت کے لیے ہے۔ اگر ممکن ہو تو ہر بچے کے لیے الگ کمرہ مقرر کیا جائے، تاکہ وہ باوقار زندگی اور اسلامی آداب سیکھ سکیں۔

حاصل کلام:

①یہ حدیث اسلام میں بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

②اسلام والدین کو بچوں کی صحیح پرورش، عبادت کی عادت ڈالنے اور اخلاق کی حفاظت کی ذمہ داری دیتا ہے۔

③نماز اور روزے کی تعلیم کے ذریعے بچے آہستہ آہستہ دینی نظم وضبط کے عادی بنتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اچھے انسان اور سچے مسلمان بنتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بچوں کو صحیح اسلامی تربیت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:36

فجر میں دو اذانوں کی مشروعیت:

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((إن بلالا ينادي بليل، فكلوا واشربوا حتى ينادي ابن أم مكتوم)) متفق عليه.

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:بلاشبہ بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، لہذا تم ابن ام مکتوم کی اذان سننے تک کھاتے پیتے رہو۔

(صحیح بخاری:620، صحیح مسلم:1092)

حدیث کی تشریح:

نبی ﷺ کے دو مؤذن:

رسول الله ﷺ کے دو مشہور مؤذن تھے:

①سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ

②سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ، جو نا بینا تھے۔

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان:

وہ فجر کا وقت داخل ہونے سے پہلے اذان دیتے تھے۔

اس اذان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ سونے والے بیدار ہو جائیں، عبادت میں مشغول لوگ متنبہ ہو جائیں ، روزہ دار سحری کر لیں اور فجر کی نماز کی تیاری کر سکیں ۔ نبی کریم ﷺ نے

اس اذان کے مقصد کے بارے میں فرمایا:

((ليرجع قائمكم ولينبه نائمكم))

تا کہ قیام کرنے والے (یعنی تہجد پڑھنے والے) فارغ  ہو جائیں اور سونے والے بیدار ہو جائیں ۔ (صحیح بخاری:621، صحیح مسلم:1093)

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ روزہ دار کے لیے فجر کے طلوع ہونے سے پہلے آخری وقت تک کھانا پینا جائز ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان:

وہ دوسری اذان دیتے تھے، جب واقعی فجر کا وقت داخل ہو جاتا تھا۔

یہ اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ اب سحری کا وقت ختم ہو گیا ہے اور روزہ شروع ہونے والا ہے۔

اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نابینا شخص بھی دینی ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے اور ایسے شخص کو اذان دینے کے لیے بھی مقرر کیا جا سکتا ہے اور اگر اس سے وقت پر اذان دینے میں معمولی قسم کی تاخیر بھی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

سحری اور روزے سے متعلق حکم:

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ پہلی اذان کے بعد بھی کھانا پینا جائز ہے، جب تک دوسری اذان نہ ہو جائے یعنی فجر طلوع ہونے تک آدمی کھا پی سکتا ہے۔

جو شخص روزہ رکھنا چاہتا ہو، اس کے لیے دوسری اذان تک کھانے پینے کی اجازت ہے۔

فجر کی اذان سے متعلق فقہی مسئلہ:

اہل علم کے نزدیک فجر کی پہلی اذان اطلاع اور تنبیہ کے لیے ہوتی ہے، جب کہ وقت داخل ہونے پر دوسری اذان دینا ضروری ہوتا ہے۔

دیگر نمازوں کے لیے وقت سے پہلے اذان دینا جائز نہیں، سوائے فجر کی پہلی اذان کے۔

ضروری تنبیہ:

◈ہمارے برصغیر (ہند و نیپال وغیرہ) میں سحری کے وقت پہلی اذان کا عام طور پر رواج نہیں ، اس لیے لوگوں کو بیدار کرنے کے لیے مساجد سے اعلانات کیے جاتے ہیں۔ یہ یاد دہانی یقینا مفید ہے، لیکن موجودہ دور میں موبائل اور دیگر سہولیات کے ہوتے ہوئے مائک پر بلا ضرورت بلند آواز سے مسلسل اعلانات یا اشعار کے ذریعے شور و ہنگامہ کرنا مناسب نہیں۔

◈سحری کے وقت جگانا ایک خیر کا کام ہے، مگر یہ اعتدال اور حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ بے جاشور اور تکراری اعلانات سے اجتناب کیا جائے، کیوں کہ یہ وقت دعا اور عبادت کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بہتر ہے کہ ماحول پر سکون رکھا جائے اور ذکر و دعا میں مشغول رہا جائے۔

حاصل کلام:

①اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلامی شریعت نے لوگوں کی سہولت اور منظم زندگی کے لیے واضح ہدایات دی ہیں۔

②روزے کے آغاز کے لیے صحیح وقت کا علم ہونا ضروری ہے۔

③فجر کی پہلی اذان بیداری اور تیاری کے لیے ہوتی ہے، جب کہ دوسری اذان اصل وقت کے داخل ہونے کی علامت ہوتی ہے۔

④یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں عبادات کو منظم اور ترتیب کے ساتھ ادا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

⑤فجر طلوع ہوتے ہی روزے دار کو کھانے پینے سے رک جانا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور دینی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

حدیث نمبر:37

اللہ کے نزدیک دوام اعمال کی فضیلت:

عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((أحب الأعمال إلى الله تعالى أدومها وإن قل)) متفق عليه.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جس پر ہمیشہ پابندی کے ساتھ عمل کیا جائے ، اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

(صحیح بخاری:6465،صحیح مسلم:783)

حدیث کی تشریح:

مسلسل عمل کی اہمیت:

جو شخص کسی بھی نیک عمل کو پابندی کے ساتھ کرتا ہے اور اس پر قائم رہتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ہر نیکی کے کام کو باقاعدگی کے ساتھ کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے، چاہے وہ بظاہر تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔

یه ترغیب فرائض یا واجب اعمال کے لیے نہیں ہے، کیوں کہ وہ تو بہر حال ہمیشہ ادا کیے ہی جائیں گے، اور ان میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ بلکہ یہ ترغیب سنن، نوافل اور دیگر اعمال صالحہ کے بارے میں ہے کہ بندہ جو بھی نیکی کا عمل کرے، اگر چہ وہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو، اسے پابندی اور تسلسل کے ساتھ انجام دے۔

استطاعت کے مطابق عبادت:

دیگر احادیث میں بھی رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی ہے کہ انسان وہی عمل کرے جس پر وہ ہمیشہ قائم رہ سکے، تاکہ بغیر مشقت کے اسے جاری رکھا جا سکے۔

اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عبادت اور نیک اعمال میں تسلسل زیادہ اہم ہے، اس کے مقابلے میں کہ ایک مرتبہ بہت زیادہ کیا جائے اور پھر چھوڑ دیا جائے۔

رمضان اور مسلسل نیکی:

ماه رمضان المبارک گویا ٹریننگ اور مشق کا مہینہ ہے ، اس لیے اس ماہ میں کیے جانے والے نیک اعمال کو صرف رمضان تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ انھیں اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔

رمضان کے حوالے سے زیر حدیث سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

  • عبادت میں پابندی
  • رمضان کے آغاز ہی میں نہیں ، بلکہ پورے مہینے اور اس کے بعدبھی نیک اعمال کو جاری رکھنا چاہیے۔
  • تھوڑا مگر مسلسل کیا گیا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے۔

استقامت کی اہمیت:

  • بہت سے لوگ رمضان میں عبادت، قرآن کی تلاوت اور دعا کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن رمضان کے بعد ان عادتوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔
  • یہ حدیث ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ رمضان کے بعد بھی عبادت کوجاری رکھا جائے۔

استطاعت کے مطابق عمل :

  • رمضان میں اپنی طاقت اور برداشت کے مطابق عبادت کرنی چاہیے، تاکہ اس پر دوام ممکن ہو۔
  • حد سے زیادہ نوافل یا کوئی کام کرنے کی کوشش تھکن کا باعث بن سکتی ہے، جس کے بعد عمل چھوڑ دینے کا خدشہ رہتا ہے۔

رمضان کی تعلیمات کو طرز زندگی بنانا:

  • اگر اس حدیث پر عمل کیا جائے تو رمضان میں سیکھی گئی اچھی عادتیں جیسے نماز، روزہ، صدقہ اور قرآن کی تلاوت پورے سال کی زندگی کا حصہ بن سکتی ہیں۔

چھوٹے مگر مستقل اعمال کی قدر :

  • رمضان میں چھوٹے مگر مستقل اعمال، مثلاً روزانہ تھوڑا قرآن پڑھنا، صدقہ دینا یا کسی کی مدد کرنا، اس کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہیں کہ کوئی بڑا عمل کیا جائے اور پھر چھوڑ دیا جائے۔

حاصل کلام:

①رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو نیکی اور بھلائی سے بھر دیں، لیکن اصل کامیابی یہ ہے کہ رمضان کے بعد بھی ان اچھی عادتوں کو بر قرار رکھا جائے۔

②اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہی ہے جس پر پابندی کے ساتھ ہمیشہ عمل کیا جائے ، اگر چہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نیک اعمال میں پابندی اور استقامت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:38

میت کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا:

عن عائشة رضي الله عنها، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((من مات وعليه صيام صام عنه وليه) متفق عليه.

سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی موت اس حال میں ہو کہ اس پر (فرض) روزے باقی ہوں، تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے گا۔

(صحیح بخاری:1952، صحیح: مسلم1147)

حدیث کی تشریح:

میت پر قرض کے طور پر روزوں کی ذمہ داری:
اس حدیث کے مطابق اگر کوئی شخص فرض روزے، جیسے کفارہ، منت یارمضان کے روزے پورے کیے بغیر وفات پا جائے، تو اس کے قریبی رشتہ دار (ولی) اس کی طرف سے روزے رکھیں گے، کیوں کہ یہ ایک قسم کا قرض ہے جو میت کے ذمے باقی تھا۔

وارثوں کی ذمہ داری:

جو شخص میت کی طرف سے روزہ رکھے گا، وہ اس کا ”ولی“ہو گا۔ اس سے مراد وہ وارث ہے جس نے میت کے چھوڑے ہوئے مال سے فائدہ اٹھایا ہو، لہذا اس کے ذمے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے حق ( جیسے روزوں ) کی قضا ادا کرے۔ اگر وارث ایک سے زیادہ ہوں تو وہ آپس میں روزے تقسیم کر کے رکھ سکتے ہیں، یہاں تک کہ میت پر باقی تمام قرض (چھوٹے ہوئے روزے) پورے ہو جائیں۔

جو شخص روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو اس کی طرف سے قضا ضروری نہیں :

اگر کسی شخص کی وفات اس حالت میں ہو کہ وہ روزوں کی قضا ادا کرنے پر قادر ہی نہ تھا، تو اس کے وارثوں پر قضا روزے رکھنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی ، البتہ فدیہ دینا ضروری ہوگا۔

نفل روزوں کی قضا نہیں:

میت کی طرف سے صرف فرض روزوں کی قضا ر کھی جائے گی، نفل (نفلی / اختیاری ) روزوں کی قضا ادا نہیں کی جائے گی۔

حاصل کلام:

یہ حدیث ہمیں میت کے ساتھ بھلائی کرنے اور اس کی باقی رہ جانے والی دینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اگر کسی شخص پر قضا روزے باقی ہوں تو اس کے وارثوں کو چاہیے کہ وہ یہ ذمہ داری ادا کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ اس کی قبر کو نور اور سکینت سے بھر دے اور وہ اللہ کی رحمت کا مستحق بنے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور دوسروں کے لیے بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:39

عید کے دن کی سنت اور چند اہم آداب:

عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال: ((كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى يأكل تمرات)) وفي رواية : ((ويأكلهن وترا)) رواه البخاري.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن اس وقت تک گھر سے (عید گاہ کی طرف) نہیں نکلتے تھے ، جب تک کچھ کھجوریں نہ کھا لیتے تھے ۔اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ: آپ ﷺ کھجوریں طاق عدد میں (ایک،تین، پانچ،سات وغیرہ) کھاتے تھے۔

(صحیح بخاری:953)

حدیث کی تشریح:

عید کے دن کھجور کھانے کو کیوں پسند کیا گیا؟

یہ نبی ﷺ کی سنت ہے کہ آپ عید الفطر کی نماز کے لیے جانے سے پہلے کھجوریں تناول فرماتے تھے۔

کھجور کھانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ رمضان میں انسان دن بھر بھوکا پیاسا رہتا ہے اور اب جب کھانے کی اجازت ملی ہے تو صبح سویرے ہی اس کی نعمت سے لطف اندوز ہوا جائے۔ اور اس لیے بھی، کیوں کہ عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، جیسا کہ سیدناعمر رضي اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

((هذان يومان نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صيامهما:يوم فطركم من صيامكم، واليوم الآخر تأكلون فيه من نسككم))

یہ دو دن ایسے ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے: ایک روزوں کے بعد افطار (یعنی) عید الفطر کا دن اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو (یعنی) عید الاضحی کا دن۔

(صحیح بخاری:1990،صحیح مسلم:1137)

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں دن خوشی اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے دن ہیں، اس لیے ان دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے۔

اس سنت پر عمل کرنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ رمضان ختم ہو چکا ہے اور اب کھانے پینے کی اجازت ہے۔

کھجور معدے کے لیے زیادہ مفید اور جلد ہضم ہونے والی غذا ہے۔

نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے طاق عدد (1، 3، 5، 7 وغیرہ) میں کھجور کھانی چاہیے۔

اگر کوئی شخص گھر سے نکلنے سے پہلے کھجور نہ کھا سکا ہو تو اسے راستے میں یا عید گاہ میں کھانے کی کوشش کرنی چاہیے، کیوں کہ عید کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا نا پسندیدہ سمجھا گیا ہے۔

عید کے دن کے چند اہم آداب:

غسل کرنا، صاف ستھرے کپڑے پہننا اور خوشبوا لگانا:

مرد و عورت ہر ایک کے لیے غسل کرنا، صاف ستھرے کپڑے پہننا اور مردوں کے لیے خوشبو لگانا مستحب ہے ، البتہ عورتوں کو خوشبو دار عطرسے بچنا چاہیے۔

تکبیر کہنا:

فجر کی نماز سے لے کر عید کی نماز تک ،،الله اكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله اكبر، الله أكبر، ولله الحمد،، پڑھنا سنت ہے۔

عورتوں اور بچوں کو عید گاہ لے جانا:

سیدہ ام عطیہ رضي اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا:ہم عید کے دن کنواری لڑکیوں اور پردہ نشین عورتوں کو بھی عید گاہ لے جائیں اور حیض والی عورتوں کو بھی عید گاہ لے جانے کا حکم دیا، تاکہ وہ تکبیر اور دعا میں شریک ہو سکیں۔ (صحیح بخاری:971، صحیح مسلم:890)

عید گاہ پیدل جانا اور واپسی پر راستہ بدلنا:

سیدنا جابر بن عبداللہ رضي اللہ عنہما سے روایت ہے : نبی ﷺعید کے دن (عید گاہ جانے اور واپس آنے کے لیے) مختلف راستے اختیار فرمایا کرتے تھے۔

(صحیح بخاری:986)

ایک دوسرے کو مبارک باد دینا:

آپس میں مبارک باد دینا جائز ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  ایک دوسرے کو یہ دعا دیا کرتے تھے: ” تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكُمْ ”یعنی”اللہ ہماری اور آپ کی عبادتیں قبول فرمائے۔

(دیکھیے: تمام المنہ:354)

گلے شکوے دور کرنا اور خوشی کا اظہار کرنا:

عید کے دن مسلمانوں کو چاہیے کہ آپس کے اختلافات اور گلے شکوے ختم کر لیں۔

یہ دن خوشی، بھائی چارے اور میل ملاپ کا دن ہے، لیکن اسے فضول خرچی، حرام کاموں، ناچ گانے یاد کھاوے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔

حاصل کلام:

①عید کی نماز سے پہلے کھجور کھانا سنت ہے ، خصوصا طاق عدد میں ۔

②عید کے دن روزہ رکھنا منع ہے ، کیوں کہ یہ خوشی اور اللہ کی نعمتوں کا دن ہے۔

③کھجور صحت کے لیے مفید اور جلد ہضم ہونے والی غذا ہے۔

④عید گاہ جانے سے پہلے تکبیر کہنا، صاف ستھرے کپڑے پہنا اور پیدل جانا سنت ہے۔

⑤عید کے دن گلے شکوے دور کر کے خوشی کا اظہار کرنا چاہیے، لیکن اسلامی حدود کی پابندی کے ساتھ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

حدیث نمبر:40

شوال کے چھ روزوں کی فضیلت:

عن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((من صام رمضان وأتبعه ستا من شوال. كان كصيام الدهر)) أخرجه مسلم.

سیدنا ابو ایوب انصاری  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے ، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے ، تو یہ پورے سال روزے رکھنے کے برابرہے۔

(صحیح مسلم:1164)

حدیث کی تشریح:

شوال کے چھ روزوں کی فضیلت:
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رمضان کے بعد شوال کے مہینے میں چھ روزے رکھنا نہایت فضیلت والا عمل ہے۔

ان روزوں کا ثواب پورے سال روزہ رکھنے کے برابر قرار دیا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں ہر نیکی کا اجر دس گنا دیا جاتا ہے۔ چنانچہ رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہو جاتے ہیں اور شوال کے چھ روزے دو مہینوں کے برابر ، اس طرح پورے سال کے روزوں کا ثواب مکمل ہو جاتا ہے، جیسا کہ نبی کریمﷺنے اس کی وضاحت اپنے فرمان کے ذریعے فرمائی:

((من صام ستة أيام بعد الفطر كان تمام السنة، من جاءبالحسنة فله عشر أمثالها))

جس نے عید الفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھے تو اس کو پورے سال کے روزے کا ثواب ملے گا (اللہ فرماتا ہے) جو ایک نیکی کرے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔

(صحیح سنن ابن ماجہ:1715، مسند احمد:22412)

اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے:

((صيام رمضان بعشرة أشهر ، وصيام الستة أيام بشهرين، فذلك صيام السنة((يعني رمضان وستة أيام بعده ))

رمضان کے مہینے کا روزہ دس مہینوں کے برابر ہے اور چھ دن کا روزہ دو مہینوں کے برابر ہے ، یعنی رمضان اور اس کے بعد کے چھ دنوں کا روزہ۔

(صیح ابن خزیمہ:2115)

شوال کے چھ روزے کب اور کیسے رکھے جائیں؟

حدیث میں”پھر اس کے بعد“ کا ذکر آیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے رمضان کے روزے مکمل کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی کے رمضان کے کچھ روزے رہ گئے ہوں تو بہتر یہ ہے کہ پہلے ان کی قضا ادا کی جائے، پھر شوال کے روزے رکھے جائیں ۔

لیکن اگر رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا ادا کیے بغیر بھی شوال کے چھ روزے رکھ لیے جائیں تب بھی درست ہو گا اور بیان کی گئی فضیلت حاصل ہوگی۔ ان شاء اللہ

شوال کے چھ روزے عید کے بعد شوال کے مہینے میں کسی بھی وقت رکھے جاسکتے ہیں۔

ان روزوں کو مسلسل چھ دن رکھنا بھی جائز ہے اور الگ الگ دنوں میں رکھنا بھی درست ہے۔

البتہ ماہ شوال کے بعد ان روزوں کو قضا کے طور پر رکھنا درست نہیں ، کیوں کہ یہ روزے خاص طور پر شوال کے مہینے کے ساتھ مخصوص ہیں۔

شوال کے روزے رکھنے کے فوائد:

رمضان کے روزوں میں ہونے والی کو تاہیوں کی تلافی کا موقع ملتا ہے۔

پورے سال روزے رکھنے کا عظیم ثواب حاصل ہوتا ہے۔

رمضان کے بعد بھی عبادت کی پابندی اور تسلسل قائم رہتا ہے۔

تقویٰ اور پرہیز گاری میں اضافہ ہوتا ہے، کیوں کہ روزہ دل کی پاکیزگی اور نفس کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔

حاصل کلام:

①رمضان کے روزوں کے بعد شوال میں چھ روزے رکھنا نہایت فضیلت والا عمل ہے اور ان روزوں کا ثواب پورے سال کے روزوں کے برابر ہے۔

②ان روزوں کو مسلسل یا الگ الگ کسی بھی صورت میں رکھا جا سکتا ہے۔

③بہتر یہ ہے کہ پہلے رمضان کے فوت شدہ روزوں کی قضا ادا کی جائے، پھر شوال کے روزے رکھے جائیں ۔

④شوال کے روزے صرف شوال کے مہینے میں ہی رکھے جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان روزوں کی فضیلت کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

اے اہلِ ایمان! رمضان المبارک نیکیوں کی طرف راغب کرنے والا بابرکت مہینہ ہے۔ یہ مومن کے لیے سال بھر کی روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس میں بندہ صبر کرتا ہے، صدقہ و خیرات کی عادت ڈالتا ہے، قرآن کریم سے تعلق مضبوط کرتا ہے، گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور اللہ سے اپنا رشتہ مضبوط بناتا ہے۔ نیز غریبوں اور مسکینوں کی خبر گیری سے ہمدردی اور ایثار کا جذبہ پیدا کرتا ہے، لہذا رمضان کے بعد بھی ہماری زندگی دین سے وابستہ رہنا چاہیے۔ عبادات، تقویٰ اور حسن اخلاق کو صرف ایک مہینے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انھیں پوری زندگی کا حصہ بنائیں۔ محاسبہ نفس کے ذریعے خود کو سنوارتے رہیں اور آخرت کی تیاری جاری رکھیں۔

آئیے ہم عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ، اس کے رسولﷺاور دین اسلام سے مضبوطی سے جوڑے رکھیں گے اور رمضان کی تربیت کو سال بھر جاری رکھیں گے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے اعمال کو قبول فرمائے اور ہمیں دین پر استقامت عطا کرے۔ آمین!