مضمون کے اہم نکات
رمضان المبارک اور قرآن مجید کا گہرا تعلق
اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں میں سب سے افضل کتاب قرآن مجید کو مہینوں میں سب سے افضل مہینہ رمضان المبارک میں نازل فرمایا۔ بلکہ اسی مبارک مہینے کی سب سے افضل رات لیلۃ القدر میں اسے لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر یکبارگی نازل کر کے بیت العزۃ میں رکھا گیا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٍ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْقَانِ﴾ (سورة البقرة:185)
ترجمہ: “رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے باعثِ ہدایت ہے، اور اس میں ہدایت کی واضح نشانیاں اور حق و باطل میں فرق کرنے والی دلیلیں ہیں۔”
اور فرمایا:
﴿ إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ ﴾ (سورة القدر:1)
ترجمہ: “بے شک ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل کیا۔”
ان آیات سے معلوم ہوا کہ قرآن اور رمضان کا تعلق بہت مضبوط ہے، لہٰذا اس مبارک مہینے میں قرآن مجید کی تلاوت زیادہ سے زیادہ کرنی چاہئے۔
رمضان میں رسول اللہ ﷺ کا قرآن کا خصوصی اہتمام
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں قرآن کے ساتھ خاص اہتمام فرماتے اور ہر رات حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ… يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ… ) (صحيح البخاري:1902)
ترجمہ: “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ خیر کرنے والے تھے، اور رمضان میں سب سے زیادہ خیر کرتے جب جبریل علیہ السلام آپ سے ملتے۔ جبریل علیہ السلام رمضان کی ہر رات آپ سے ملتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں قرآن سناتے۔ جب جبریل علیہ السلام آپ سے ملتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیر کے کاموں میں تیز ہوا سے بھی زیادہ بڑھ جاتے۔”
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلامِ مبین ہے
قرآن کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ اللہ رب العالمین کا نازل کردہ کلام ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿١٩٢﴾ نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلْأَمِينُ ﴿١٩٣﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُنذِرِينَ ﴿١٩٤﴾ بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِينٍ ﴿١٩٥﴾ وَإِنَّهُۥ لَفِى زُبُرِ ٱلْأَوَّلِينَ ﴿١٩٦﴾ (سورة الشعراء:192تا196)
ترجمہ: “یقیناً یہ (قرآن) رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ اسے روح الامین لے کر آپ کے دل پر اترا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوں۔ یہ واضح عربی زبان میں ہے، اور اس کا ذکر پہلے صحیفوں میں بھی موجود ہے۔”
اور فرمایا:
﴿تَبَارَكَ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِۦ لِيَكُونَ لِلْعَٰلَمِينَ نَذِيرًا ﴾ (سورة الفرقان:1)
ترجمہ: “بہت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ تمام جہان والوں کے لیے ڈرانے والا بن جائے۔”
اور اللہ تعالیٰ ستاروں کے محل وقوع کی قسم اٹھا کر فرماتے ہیں:
﴿فَلَآ أُقْسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ ﴿٧٥﴾ وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ﴿٧٦﴾إِنَّهُۥ لَقُرْءَانٌ كَرِيمٌ ﴿٧٧﴾ فِى كِتَٰبٍ مَّكْنُونٍ ﴿٧٨﴾ لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُطَهَّرُونَ ﴿٧٩﴾ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ﴿٨٠﴾
ترجمہ: “پس میں ستاروں کے مقام کی قسم کھاتا ہوں، اور اگر تم جانتے تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔ بے شک یہ ایک معزز قرآن ہے، ایک پوشیدہ کتاب میں (محفوظ) ہے، اسے پاکیزہ لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا۔ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔”
قرآن مجید بے مثال کتاب ہے
قرآن مجید فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے ایسی بے مثال کتاب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ جن و انس سب مل کر بھی اس جیسا قرآن نہیں لا سکتے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿قُل لَّئِنِ ٱجْتَمَعَتِ ٱلْإِنسُ وَٱلْجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأْتُوا۟ بِمِثْلِ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِۦ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ﴿٨٨﴾ (سورة الإسراء:88)
ترجمہ: “کہہ دیجئے: اگر تمام انسان اور جن اس قرآن جیسا لانے کے لیے جمع ہو جائیں تو بھی اس جیسا نہیں لا سکتے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔”
قرآن مجید سیدھا راستہ دکھلاتا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَهْدِى لِلَّتِى هِىَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا ﴿٩﴾ (سورة الإسراء:9)
ترجمہ: “یقیناً یہ قرآن اس راستے کی رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے، اور نیک اعمال کرنے والے مومنوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے۔”
اور فرمایا:
﴿ قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌ وَكِتَٰبٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾ يَهْدِى بِهِ ٱللَّهُ مَنِ ٱتَّبَعَ رِضْوَٰنَهُۥ سُبُلَ ٱلسَّلَٰمِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذْنِهِۦ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾ (سورة المائدة:15تا16)
ترجمہ: “تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آ چکی ہے۔ اللہ اس کے ذریعے ان لوگوں کو سلامتی کے راستے دکھاتا ہے جو اس کی رضا کی پیروی کرتے ہیں، اور انہیں اپنے حکم سے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے، اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے۔”
قرآن مجید باطل سے پاک اور شک سے بالا تر ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِٱلذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ ۖ وَإِنَّهُۥ لَكِتَٰبٌ عَزِيزٌ ﴿٤١﴾ لَّا يَأْتِيهِ ٱلْبَٰطِلُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِۦ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ ﴿٤٢﴾ (سورة فصلت:41تا42)
ترجمہ: “جن لوگوں نے ذکر (قرآن) کے آنے کے بعد اس کا انکار کیا، حالانکہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ اس میں باطل نہ آگے سے داخل ہو سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ یہ حکمت والے، تعریف کے لائق (اللہ) کی طرف سے نازل کردہ ہے۔”
اور فرمایا:
﴿ ذَٰلِكَ ٱلْكِتَٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ﴾ (سورة البقرة:2)
ترجمہ: “یہ وہ کتاب ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔”
قرآن کی حفاظت اللہ کے ذمہ ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ ﴾ (سورة الحجر:9)
ترجمہ: “بے شک ہم نے ہی ذکر (قرآن) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے دوران جلدی یاد کرنے کے لیے زبان حرکت دیتے تو اللہ تعالیٰ نے تسلی دی:
﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِۦ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِۦٓ ﴿١٦﴾ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُۥ وَقُرْءَانَهُۥ ﴿١٧﴾ فَإِذَا قَرَأْنَٰهُ فَٱتَّبِعْ قُرْءَانَهُۥ ﴿١٨﴾ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُۥ ﴿١٩﴾ (سورةالقيامة:16تا19)
ترجمہ: “اور (اے محمد ﷺ) وحی کے ساتھ جلدی کرنے کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں۔ اسے جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمے ہے۔ پس جب ہم اسے پڑھیں تو آپ اس کی قراءت کی پیروی کریں۔ پھر اس کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے۔”
پھر قرآن صحابہ کے سینوں میں محفوظ ہوا، کاتبینِ وحی کے ذریعے لکھا گیا، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے متفرق صحیفوں کو جمع کیا، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک مصحف پر امت کو جمع کر کے اس کے نسخے پھیلا دیے، اور آج پوری دنیا میں ایک ہی قرآن بلا اختلاف محفوظ ہے۔
قرآن مجید میں شفا ہے
قرآن مجید محض تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ یہ دلوں اور بدنوں دونوں کے لیے شفا ہے۔ دل کی اعتقادی بیماریوں مثلاً کفر، شرک، نفاق اور اخلاقی بیماریوں مثلاً حسد، بغض، کینہ، حرص و لالچ کے لیے بھی شفا ہے، اور اللہ کے حکم سے جسمانی بیماریوں کے لیے بھی شفا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِى ٱلصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ﴾ (سورة يونس:57)
ترجمہ: “اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ چکی ہے، اور دلوں میں (پیدا ہونے والے) امراض کی شفا، اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت (بھی) ہے۔”
اسی طرح فرمایا:
﴿قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ هُدًى وَشِفَآءٌ﴾ (سورة فصلت:44)
ترجمہ: “کہہ دیجئے: یہ (قرآن) ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے۔”
اور فرمایا:
﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارًا ﴿٨٢﴾ (سورة الإسراء:82)
ترجمہ: “اور ہم قرآن میں سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے، اور ظالموں کے خسارے میں تو (یہ) اضافہ ہی کرتا ہے۔”
معوذات پڑھ کر دم کرنے کی سنت
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
(أنَّ رَسولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ كانَ إذا اشْتَكَى يَقْرَأُ علَى نَفْسِهِ بالمُعَوِّذاتِ ويَنْفُثُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وجَعُهُ كُنْتُ أقْرَأُ عليه وأَمْسَحُ بيَدِهِ رَجاءَ بَرَكَتِها.) (صحيح البخاري:5016)
ترجمہ: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کرتے اور پھونک مارتے۔ پھر جب آپ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو میں آپ پر پڑھتی اور آپ کے ہاتھ ہی سے آپ پر مسح کرتی، آپ کے ہاتھ کی برکت کی امید رکھتے ہوئے۔”
یہ حدیث معوذات کے ساتھ دم کرنے کی واضح دلیل ہے۔
سورۃ الفاتحہ سے دم اور اس کی برکت
سورۃ الفاتحہ پڑھ کر مریض پر دم کرنا بھی سنت سے ثابت ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے شفا کا ذریعہ بنتا ہے۔
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایک قبیلے کے پاس آئے، انہوں نے مہمان نوازی نہ کی۔ پھر ان کے سردار کو بچھو نے ڈس لیا، علاج سے فائدہ نہ ہوا تو وہ صحابہ کے پاس آئے۔ ایک صحابی نے کہا: میں دم کر سکتا ہوں مگر تم نے مہمان نوازی نہیں کی، اس لیے جب تک معاوضہ نہ دو دم نہیں کروں گا۔ انہوں نے بکریوں کا وعدہ کیا۔ پھر اس صحابی نے سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا اور ہلکا سا تھوک کیا تو سردار ٹھیک ہو گیا۔ پھر صحابہ نے بکریوں کے بارے میں آپس میں مشورہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(قدْ أَصَبْتُمْ، اقْسِمُوا، وَاضْرِبُوا لي معكُمْ سَهْمًا.) (صحيح البخاري:2276)
ترجمہ: “تم نے درست کیا، اب بکریاں تقسیم کر لو اور میرا حصہ بھی رکھو۔”
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سورۃ الفاتحہ سے دم مشروع ہے اور شفا کا سبب بنتا ہے۔
سورۃ الفاتحہ قرآن کی عظیم ترین سورت
حضرت ابو سعید المعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ)
ترجمہ: “کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے عظیم سورت نہ سکھا دوں؟”
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ) (صحيح البخاري:5006)
ترجمہ: “وہ (سورت) ‘الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ’ یعنی سورۃ الفاتحہ ہے، اور یہی ‘سبع مثانی’ ہے، اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا۔”
تلاوتِ قرآن مجید کی فضیلت
ہر حرف پر دس نیکیاں
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(منْ قرأَ حرفًا من كتابِ اللهِ فله به حسنةٌ، والحسنةُ بعشرِ أمثالِها لا أقولُ آلم حرفٌ، ولَكِن ألِفٌ حرفٌ، ولامٌ حرفٌ، وميمٌ حرفٌ)
(سنن الترمذي:2910: حسن صحيح غريب: وصححه الألباني)
ترجمہ: “جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھے، اس کے لیے ایک نیکی ہے، اور ایک نیکی دس گنا کے برابر ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ‘الم’ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔”
قرآن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(اقْرَؤُوا القُرْآنَ فإنَّه يَأْتي يَومَ القِيامَةِ شَفِيعًا لأَصْحابِهِ) (صحيح مسلم:804)
ترجمہ: “قرآن پڑھتے رہا کرو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے ساتھیوں (یعنی پڑھنے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں) کی شفاعت کرے گا۔”
سورۃ البقرہ کی تلاوت سے شیطان بھاگتا ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقابِرَ، إنَّ الشَّيْطانَ يَنْفِرُ مِنَ البَيْتِ الذي تُقْرَأُ فيه سُورَةُ البَقَرَةِ.) (صحيح مسلم:780)
ترجمہ: “اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بے شک شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے۔”
قرآن سیکھنے اور سکھانے والے سب سے بہتر
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(خَيْرُكُمْ مَن تَعَلَّمَ القُرْآنَ وعَلَّمَهُ.) (صحيح البخاري:5027)
ترجمہ: “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور (پھر) دوسروں کو سکھایا۔”
دوسری روایت:
(إنَّ أفْضَلَكُمْ مَن تَعَلَّمَ القُرْآنَ وعَلَّمَهُ.) (صحيح البخاري:5028)
ترجمہ: “یقیناً تم میں سب سے افضل وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔”
اور نافع بن عبد الحارث کی روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ آیا کہ انہوں نے فرمایا:
(إنَّه قَارِئٌ لِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وإنَّه عَالِمٌ بالفَرَائِضِ)
ترجمہ: “وہ اللہ کی کتاب کا قاری ہے اور فرائض (وراثت) کا عالم بھی ہے۔”
پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بیان کیا:
(إنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بهذا الكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ به آخَرِينَ.) (صحيح مسلم:817)
ترجمہ: “اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بعض لوگوں کو بلند کرتا ہے اور بعض کو نیچا کر دیتا ہے۔”
اہلِ قرآن اللہ کے خاص بندے ہیں
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(إنَّ للهِ أهلين من النَّاسِ)
ترجمہ: “لوگوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے خاص بندے ہیں۔”
صحابہ نے پوچھا: وہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(هم أهلُ القرآنِ , أهلُ اللهِ وخاصَّتُه) (صحيح ابن ماجه:179)
ترجمہ: “وہ اہلِ قرآن ہیں؛ وہ اللہ کے (قریب) اور اس کے خاص بندے ہیں۔”
حافظِ قرآن کی فضیلت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(يقالُ لصاحِبِ القرآنِ: اقرأ، وارتَقِ، ورتِّل كَما كُنتَ ترتِّلُ في الدُّنيا، فإنَّ منزلتَكَ عندَ آخرِ آيةٍ تقرأُ بِها) (صحيح الترمذي:2914)
ترجمہ: “صاحبِ قرآن (حافظ اور عمل کرنے والے) سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ، (جنت کے درجات پر) چڑھتے جاؤ، اور ترتیل کے ساتھ پڑھو جیسے تم دنیا میں پڑھتے تھے۔ تمہارا مقام وہاں ہوگا جہاں تم آخری آیت پڑھ کر ختم کرو گے۔”
اور فرمایا:
(الْماهِرُ بالقُرْآنِ مع السَّفَرَةِ الكِرامِ البَرَرَةِ، والذي يَقْرَأُ القُرْآنَ ويَتَتَعتَعُ فِيهِ، وهو عليه شاقٌّ، له أجْرانِ.) (صحيح مسلم:798)
ترجمہ: “قرآن کا ماہر معزز اور نیک فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو قرآن پڑھتا ہے اور (پڑھنے میں) اٹکتا ہے اور اسے مشقت ہوتی ہے، اسے دو اجر ملتے ہیں۔”
نماز میں قرآن پڑھنے کی فضیلت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(فَثَلاثُ آياتٍ يَقْرَأُ بهِنَّ أحَدُكُمْ في صَلاتِهِ، خَيْرٌ له مِن ثَلاثِ خَلِفاتٍ عِظامٍ سِمانٍ.) (صحيح مسلم:802)
ترجمہ: “تم میں سے کوئی اپنی نماز میں تین آیات پڑھ لے، یہ اس کے لیے تین موٹی تازی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہے۔”
اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:
(أَفلا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إلى المَسْجِدِ… آيَتَيْنِ … خَيْرٌ له مِن نَاقَتَيْنِ… ) (صحيح مسلم:803)
ترجمہ: “کیا تم میں سے کوئی صبح مسجد نہیں جاتا کہ دو آیات سیکھے یا پڑھے، یہ دو اونٹنیوں سے بہتر ہے؛ تین تین سے، چار چار سے، اور پھر ہر آیت اتنے اونٹوں کے برابر (سے بہتر) ہے۔”
قابلِ رشک لوگ کون؟
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لا حَسَدَ إلَّا في اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتاهُ اللَّهُ القُرْآنَ فَهو يَقُومُ به آناءَ اللَّيْلِ، وآناءَ النَّهارِ، ورَجُلٌ آتاهُ اللَّهُ مالًا، فَهو يُنْفِقُهُ آناءَ اللَّيْلِ، وآناءَ النَّهارِ.) (صحيح مسلم:815)
ترجمہ: “رشک (جائز) صرف دو آدمیوں پر ہے: ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ رات دن کے اوقات میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے، اور دوسرا وہ جسے اللہ نے مال دیا اور وہ رات دن کے اوقات میں خرچ کرتا ہے۔”
تلاوت کے وقت رحمت اور فرشتوں کا نزول
حضرت براء رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا کہ ایک شخص سورۃ الکہف پڑھ رہا تھا، بادل سا چھا گیا، گھوڑا بدکنے لگا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(تِلكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ.) (صحيح مسلم:795)
ترجمہ: “یہ سکینت (رحمت) قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی تھی۔”
اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کے واقعے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(تِلكَ المَلائِكَةُ دَنَتْ لِصَوْتِكَ، ولو قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَنْظُرُ النَّاسُ إلَيْها، لا تَتَوارَى منهمْ.) (صحيح البخاري:5018)
ترجمہ: “یہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز کے قریب آ گئے تھے، اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح لوگ بھی انہیں دیکھ لیتے اور وہ ان سے چھپ نہ سکتے۔”
قرآن کیوں نازل کیا گیا؟
➊ حقِ تلاوت کے ساتھ پڑھنے کے لیے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَتْلُونَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِۦ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ ﴿١٢١﴾ (سورة البقرة:121)
ترجمہ: “جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے، یہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو اس کا انکار کرے وہی خسارہ پانے والے ہیں۔”
حقِ تلاوت یہ ہے کہ قرآن کو اسی طرح پڑھا جائے جیسے نازل ہوا، اور جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَقُرْءَانًا فَرَقْنَٰهُ لِتَقْرَأَهُۥ عَلَى ٱلنَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍ وَنَزَّلْنَٰهُ تَنزِيلًا ﴿١٠٦﴾ (سورة الإسراء106)
ترجمہ: “اور ہم نے قرآن کو (حصہ حصہ) جدا جدا کر کے نازل کیا تاکہ آپ اسے لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنائیں، اور ہم نے اسے بتدریج نازل کیا۔”
اور فرمایا:
﴿وَرَتِّلِ ٱلْقُرْءَانَ تَرْتِيلًا ﴾ (سورة المزمل:4)
ترجمہ: “اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھئے۔”
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
(كانَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ يقطِّعُ قراءتَهُ…) (صحيح الترمذي:2927)
ترجمہ: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت کو ایک ایک آیت کر کے پڑھتے، ‘الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ’ پڑھتے پھر ٹھہرتے، پھر ‘الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ’ پڑھتے پھر ٹھہرتے، پھر ‘مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ’ پڑھتے تھے۔”
➋ قرآن کو خوبصورت آواز سے پڑھنا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
(ما أذِنَ اللَّهُ لِشيءٍ ما أذِنَ للنبيِّ أنْ يَتَغَنَّى بالقُرْآنِ) (صحيح البخاري:5024، صحيح مسلم:792)
ترجمہ: “اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اس نبی کو سنتا ہے جو قرآن خوش الحانی سے پڑھتا ہے۔”
اور فرمایا:
(زَيِّنوا القُرآنَ بأصواتِكم.) (سنن أبي داود:1468، وابن ماجه:1342، وأحمد:18517)
ترجمہ: “اپنی آوازوں کے ساتھ قرآن کو مزین کرو۔”
اور فرمایا:
(ليس مِنَّا من لم يتغنَّ بالقرآنِ) (صحيح البخاري:7527)
ترجمہ: “وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش الحانی کے ساتھ نہ پڑھے۔”
➌ تدبر اور غور و فکر
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ إِلَيْكَ مُبَٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوٓا۟ ءَايَٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ ﴿٢٩﴾ (سورة ص:29)
ترجمہ: “یہ بابرکت کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں۔”
اور فرمایا:
﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَآ ﴿٢٤﴾ (سورة محمد:24)
ترجمہ: “کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟”
قرآن کی تاثیر اور دلوں پر اثر
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ٱللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ ٱلْحَدِيثِ… تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ…﴾ (سورة الزمر:23)
ترجمہ: “اللہ نے بہترین کلام نازل کیا جو ایسی کتاب ہے کہ اس کے مضامین ملتے جلتے اور بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ اس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی جلدیں اور دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ یہی اللہ کی ہدایت ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے، اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کوئی ہادی نہیں۔”
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(اقْرَأْ عَلَيَّ القُرْآنَ)
ترجمہ: “مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔”
پھر جب میں نے سورۃ النساء کی یہ آیت پڑھی:
﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةِۭ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ شَهِيدًا ﴿٤١﴾
ترجمہ: “پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے؟”
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
(صحيح البخاري:4582، صحيح مسلم:800)
اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُۥ خَٰشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ ٱللَّهِ…﴾ (سورة الحشر:21)
ترجمہ: “اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم اسے دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا۔ اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔”
پھر یہ بھی بتایا گیا کہ بعض اوقات ہمارے دل سخت ہو جاتے ہیں، قرآن کے کئی ختم ہو جاتے ہیں مگر ایمان میں اضافہ نہیں ہوتا، اور ہم عمل سے دور رہتے ہیں؛ حالانکہ قرآن دشمنوں تک کو متاثر کر دیتا تھا، جیسا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا واقعہ، اور سعد بن معاذ و اسید بن حضیر کے اسلام لانے کا واقعہ ذکر کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى ٱلسَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ ﴿٣٧﴾ (سورة ق:37)
ترجمہ: “یقیناً اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جس کے پاس (زندہ) دل ہو، یا جو حاضر دل ہو کر کان لگائے۔”
قرآن پر عمل اور اسے دستورِ حیات بنانا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ مُبَارَكٌ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿١٥٥﴾ (سورة الأنعام:155)
ترجمہ: “اور یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے نازل کی ہے، پس اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔”
کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَكُم بُرْهَٰنٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا ﴿١٧٤﴾ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱعْتَصَمُوا۟ بِهِۦ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِى رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَٰطًا مُّسْتَقِيمًا ﴿١٧٥﴾ (سورة النساء174تا175)
ترجمہ: “اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آ چکی ہے، اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور (قرآن) نازل کیا ہے۔ پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اسے مضبوطی سے تھام لیا، اللہ انہیں اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور انہیں اپنی طرف آنے والی سیدھی راہ دکھائے گا۔”
حجۃ الوداع کے خطبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(وقد ترَكْتُ فيكم ما لَنْ تضِلُّوا بعدَه إنِ اعتصَمْتُم به: كتابَ اللهِ،) (صحيح ابن حبان:3944)
ترجمہ: “میں تم میں ایک ایسی چیز چھوڑ رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھام لو تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے: کتاب اللہ۔”
اور دوسری روایت میں آیا:
(فاعقلوا أيها الناس قولي… كتاب الله وسنة رسوله صلى عليه الله وسلم) (السنة للمروزي:68)
ترجمہ: “اے لوگو! میری بات اچھی طرح سمجھ لو، میں نے پیغام پہنچا دیا، اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑ رہا ہوں کہ اگر اسے مضبوطی سے تھام لو تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت۔”
اور فرمایا:
(فإنَّ هذا القرآنَ سببُ طرفِه بيدِ اللهِ ، و طرَفُه بأيدِيكم ، فتمَسَّكوا به ، فإنكم لن تَضِلُّوا و لن تَهلِكوا بعده أبدًا) (السلسلة الصحيحة:713)
ترجمہ: “یہ قرآن ایک مضبوط رسی ہے، اس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھوں میں، پس اسے مضبوطی سے تھام لو، تم اس کے بعد نہ کبھی گمراہ ہو گے اور نہ ہلاک ہو گے۔”
اور عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی؟ انہوں نے کہا:
(أَوْصٰى بِكتَابِ اللّٰه)
ترجمہ: “آپ نے کتاب اللہ کی وصیت کی تھی۔”
قرآن سے دوری اور رسول ﷺ کی شکایت
افسوس کہ اس تاکید کے باوجود امت میں قرآن سے دوری پیدا ہو گئی۔ اگر ہم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو قیامت کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری شکایت فرمائیں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَقَالَ ٱلرَّسُولُ يَٰرَبِّ إِنَّ قَوْمِى ٱتَّخَذُوا۟ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ مَهْجُورًا ﴿٣٠﴾ (سورة الفرقان:30)
ترجمہ: “اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کہیں گے: اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔”
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے {مہجورا} کی تفسیر میں “قرآن کو چھوڑنے” کی متعدد صورتیں ذکر کیں:
❀ قرآن کو توجہ سے سننا اور اس پر ایمان لانا چھوڑ دینا۔
❀ پڑھنا تو، مگر عمل چھوڑ دینا اور حلال و حرام کی پابندی نہ کرنا۔
❀ دین کے اصول و فروع میں اسے فیصل نہ ماننا۔
❀ تدبر اور اللہ کی مراد سمجھنے کی کوشش چھوڑ دینا۔
❀ دل کی بیماریوں کا علاج قرآن سے نہ کرنا اور اس سے علاج ترک کر دینا۔
یہ سب صورتیں اسی آیت میں داخل ہیں۔
نتیجہ
قرآن مجید ہماری زندگی کا نور، ہدایت، شفا اور نجات کا راستہ ہے۔ یہ صرف پڑھنے کی کتاب نہیں، بلکہ سمجھنے، دل میں اتارنے اور زندگی میں نافذ کرنے کی کتاب ہے۔ ہمیں رمضان میں اور رمضان کے بعد بھی قرآن سے مضبوط تعلق قائم رکھنا چاہیے: تلاوت، حفظ، ترجمہ و تفسیر، تدبر اور عمل—یہ سب قرآن کے حقوق میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کا حق ادا کرنے، اسے مضبوطی سے تھامنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین