رفع یدین کی احادیث 10 سے زائد صحابہ سے مروی ہونے کیوجہ سے متواتر ہیں

یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

اثبات رفع اليدين عند الركوع وبعد الرفع منه

حدیث نمبر ➊ :

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام فى الصلاة رفع يديه حتى تكونا حذو منكبيه وكان يفعل ذلك حين يكبر للركوع ويفعل ذلك إذا رفع رأسه من الركوع، ويقول: سمع الله لمن حمده ولا يفعل ذلك فى السجود
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھاتے اور جب آپ رکوع کے لیے تکبیر کہتے تو ایسا ہی کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو ایسا ہی کرتے اور سمع الله لمن حمده کہتے تھے اور سجدوں میں آپ یہ عمل نہیں کرتے تھے۔ (صحیح بخاری102/1 ح 736 صحیح مسلم168/1ح 390)
اس حدیث کے ایک راوی امام علی بن عبد اللہ المدینی رحمہ اللہ (متوفی 234ھ) فرماتے ہیں: مسلمانوں پر یہ حق (لازمی) ہے کہ اس حدیث کی وجہ سے وہ نمازوں میں رفع الیدین کریں۔ [بخاری درسی 102/1 ہامش]
اس حدیث کے راوی ابن عمر رضی اللہ عنہما اب بھی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع الیدین کرتے تھے۔ (صحیح بخاری ص 102 ح 397 شرح السنة للبغوی 21/3 وقال: هذا حدیث صحیح)
بلکہ آپ اگر کسی شخص کو دیکھتے کہ رفع الیدین مذکور نہیں کرتا تو اسے کنکریاں مارتے تھے۔ جزء رفع الیدین البخاری ص 53 : 15، اسے امام نووی نے المجموع شرح المہذب 405/3 میں صحیح کہا ہے۔

حدیث نمبر ➋ :

مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع الیدین نقل کیا ہے۔ (صحیح بخاری102/1 ح 737 صحیح مسلم ص 168ح 391)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ کا یہی عمل تھا۔ (حوالہ مذکورہ)

حدیث نمبر ➌ :

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ (9ھ )کو مسلمان ہوئے۔ (عمدۃ القاری للعینی 274/5)
آپ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع الیدین بیان کرتے ہیں۔ صحیح مسلم173/1 ح 401
ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ درج ذیل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع الیدین مذکور کو روایت کیا ہے۔

حدیث نمبر ➍ :

ابو حميد الساعدي رضى الله عنه فى عشرة من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم
(سنن ترمذی68/1 ح 304 وقال: هذا حديث حسن صحیح صحیح ابن خزیمہ 297/1 ح 587 صحیح ابن حبان الاحسان171/3 ح 1864 صحیح ابن الجارود ص 74،75 ح 192 وصحه البخاری وابن تیمیہ وابن قیم وغیر ہم)

حدیث نمبر ➎ :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (سنن ابی داود108/1 ح 738 صحیح ابن خزیمہ 695،694 وصححہ الحافظ ابن حجر كما تقدم)

حدیث نمبر ➏ :

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
(السنن الکبری للبیہقی ج 2 ص 73 وقال: رواته ثقات واقره الذہبی وابن حجر وسندہ صحیح)

حدیث نمبر ➐ :

عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما [ایضا]

حدیث نمبر ➑ :

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
(سنن ترمذی180/2 ح 3423 وقال: هذا حدیث حسن صحیح صحیح ابن خزیمہ294/1 ، 296 ح 584صحیح ابن حبان كما في العمدة للعینی 277/5 وصححہ احمد بن حنبل وابن تیمیه وغیر ہم)

حدیث نمبر ➒ :

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ( سنن دارقطنی 292/1 ح 1111 درجالہ ثنا كما في التلخیص الحبیر219/1 ح 328 وسندہ صحیح)

حدیث نمبر ➓ :

جابر بن عبد اللہ سنن ابن ماجه ص 62 ح 868، ابوالزبیر کے سماع کی تصریح مسند السراج قلمی ص 25 و مطبوع ح 92 پر موجود ہے اور اس کی سند حسن ہے۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مثلا عمر رضی اللہ عنہ انس رضی اللہ عنہ وغیرہما سے رفع الیدین مذکور مروی ہے۔
اشرف علی تھانوی دیوبندی فرماتے ہیں: والحديث إذا روى من عشرة فهو متواتر على القول المختار (كما فى تدريب الراوي) (بوادر النوادر ص 136)
یعنی جب حدیث دس صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہو تو وہ قول راجح میں متواتر ہوتی ہے جیسا کہ تدریب الراوی میں لکھا ہوا ہے۔ تدریب کے حوالہ کے لیے دیکھئے 2/177 وفيه: وقال الأصطخري: أقله عشرة وهو المختار ، لأنه أول جموع الكثرة
لہذا ثابت ہوا کہ رفع الیدین کے اثبات والی حدیث متواتر ہے۔ اسی لیے متعدد علماء نے رفع الیدین کو متواتر لکھا ہے مثلاً السیوطی، الکتانی، ابن الجوزی، ابن حجر اور الزبیدی رحمہم اللہ وغیر ہم

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے