رفع یدین کرنے پر کتنا ثواب ملتا ہے، صحیح احادیث کی روشنی میں وضاحت

مرتب کردہ: محمد ندیم ظہیر بلوچ
مضمون کے اہم نکات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

رفع الیدین کرنے کا اجر

1= قال عقبه بن عامر رضي الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يُكتَبُ في كلِّ إشارةٍ يُشيرُ الرجلُ [بيده] في صلاتِه عشرُ حسناتٍ؛ كلُّ إصبعٍ حسنةٌ

ترجمہ:
سیدنا عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
” نماز میں جو شخص رفع الیدین کرتا ہے تو اس کے لیے ہر ایک اشارے کے بدلے ایک انگلی پر ایک نیکی یا درجہ ملتا ہے۔ “

حوالہ:
[الـفـوائـد للبحيرى ق2/39۔ مسند الفردوس، للديلمي: 344/4ـ معجم كبير، للطبراني: 297/7 ـ مجمع الزوائد: 103/2۔ سلسلة الصحيحة: رقم: 3286.]

2= سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
” آدمی اپنی نماز میں اپنے ہاتھ کے ساتھ جو اشارہ کرتا ہے اس کے عوض اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، ہر انگلی کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے۔ “
[طبراني كبير: 297/17 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 3286]

3= سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین نماز کی زینت ہے، ایک مرتبہ رفع الیدین کرنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں ، ہر انگلی کے بدلے ایک نیکی۔
[طحاوي: 152/1]

رفع الیدین کرنے کے متعلق حدیث ہیں ملاحظہ فرمائیں:

1 = قال عبد الله بن عمر رضي الله عنه رَأَيْتُ رَسولَ اللَّهِ ﷺ إذا قامَ في الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حتّى يَكونا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وكانَ يَفْعَلُ ذلكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ، ويَفْعَلُ ذلكَ إذا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ويقولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَن حَمِدَهُ، ولا يَفْعَلُ ذلكَ في السُّجُودِ.

ترجمہ:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب اپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے اور اسی طرح دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے جب رکوع کرتے اور اسی طرح دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے جب رکوع سے سر اٹھاتے اور سمیع اللہ لمن حمدہ کہتے ہیں اور رکوع میں اس طرح نہیں کرتے تھے

حوالہ:

البخاري، صحيح البخاري (٧٣٦) • [صحيح] • أخرجه مسلم (٣٩٠)

2= حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ ، وَرَفَعَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز میں داخل ہوتے تو پہلے تکبیر تحریمہ کہتے اور ساتھ ہی رفع یدین کرتے۔ اسی طرح جب وہ رکوع کرتے تب اور جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تب بھی دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور جب قعدہ اولیٰ سے اٹھتے تب بھی رفع یدین کرتے۔ آپ نے اس فعل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا۔ ( کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔

حوالہ:
صحیح البخاری: رقم الحدیث739

3 = حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الحُوَيْرِثِ «إِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ»، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ هَكَذَا

ترجمہ:
ابوقلابہ کہتے ہیں مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب وہ نماز شروع کرتے تو تکبیر تحریمہ کے ساتھ رفع یدین کرتے، پھر جب رکوع میں جاتے اس وقت رفع یدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی کرتے اور انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔

حوالہ:
، صحيح البخاري (٧٣٧) • [صحيح] • أخرجه ابن خزيمة (٥٨٥)، وابن حبان (١٨٧٣)، والبيهقي (٢٥٥٠)

4= حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ

ترجمہ:
سیدنا وائل بن حجر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا : میں بالضرور رسول اللہ ﷺ کی نماز دیکھوں گا کہ آپ ﷺ کیسے پڑھتے ہیں ۔ انہوں نے بیان کیا : چنانچہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے ، قبلے کی طرف رخ کیا اور «الله اكبر» کہا ، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے حتیٰ کہ آپ کے کانوں کے برابر آ گئے ، پھر آپ نے اپنے بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیا ، جب رکوع کرنا چاہا تو اپنے دونوں ہاتھ پہلے کی طرح اٹھائے اور پھر انہیں اپنے گھٹنوں پر رکھا ۔ جب رکوع سے سر اٹھایا تو دونوں ہاتھوں کو اسی طرح اٹھایا ( یعنی رفع یدین کیا )

حوالہ:
ابوداؤد رقم الحدیث 726، حکم الحدیث صحیح

رفع یدین میں ہاتھ کہاں تک اٹھانے چاہیے ؟

ہاتھوں کو کندھوں کے برابر یا کان کے نرم ہڈی کے برابر اٹھانے چاہیے۔

حدیث ملاحظہ فرمائیں:

 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ أُذُنَيْهِ

ترجمہ:
سیدنا وائل بن حجر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے جب نماز شروع کی تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھایا ۔

حوالہ:

ابوداؤد رقم الحدیث 728، حکم الحدیث صحیح

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) حتیٰ کہ آپ کے کندھوں کے برابر آ جاتے

حوالہ:
ابوداؤد رقم الحدیث 721، حکم الحدیث صحیح

ضعیف حدیث اور  اس کی تحقیق:

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكَادَ إِبْهَامَاهُ تُحَاذِي شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نے نماز شروع فرمائی تو اپنے ہاتھ اٹھائے حتی کہ قریب تھا، آپ کے انگوٹھے کانوں کی لوؤں (نچلے کنارے) کے برابر ہوجاتے۔

حوالہ:
نسائی حدیث نمبر 880

حکم الحدیث:

اس روایت کو امام البانی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے

ضعف کی وجہ:

اس روایت میں فطر بن خلیفہ الحناط ضعیف راوی ہیں۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے