رفع یدین کا ثبوت نبیﷺ کی وفات سے چند ماہ پہلے تک

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

➍ عن وائل بن حجر أنه رأى النبى صلى الله عليه وسلم رفع يديه حين دخل فى الصلوة كبر، وصف همام حيال أذنيه ثم التحف بثوبه ثم وضع يده اليمنى على اليسرى فلما أراد أن يركع أخرج يديه من الثوب ثم رفعهما ثم كبر فركع فلما قال سمع الله لمن حمده رفع يديه فلما سجد سجد بين كفيه.
(سیدنا) وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نماز میں داخل ہوئے، جب تکبیر کہی رفع یدین کیا۔ ہمام (راوی) نے کانوں تک بیان کیا۔ پھر کپڑا لپیٹ لیا اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ دیا اور جب رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے دونوں ہاتھ کپڑے سے نکالے اور رفع الیدین کیا۔ پھر تکبیر کہی اور رکوع کیا اور سمع الله لمن حمدہ کہا (رکوع سے کھڑے ہوئے) تو رفع الیدین کیا۔ پس جب سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا۔
(صحیح مسلم مع شرح النووی 114/4 ح 401)
رکوع سے پہلے اور بعد کے رفع الیدین کے مفہوم کے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث مختلف سندوں کے ساتھ درج ذیل کتابوں میں بھی ہے:
صحیح ابن خزیمہ (346/1 ح 697) صحیح ابن حبان (167/3، 168 ح 1857) صحیح ابی عوانه (97/2)

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ

حافظ ابن حبان کہتے ہیں کہ آپ یمن کے عظیم بادشاہ تھے اور بادشاہوں کی اولاد میں سے تھے۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے آنے سے تین دن پہلے ہی آپ کی بشارت دے دی تھی۔ (کتاب الثقات لابن حبان 425،424/3، کتاب مشاہیر علماء الامصار لا بن حبان ص 44 رقم: 276)
حافظ ابن کثیر الدمشقی نے سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی آمد کا ذکر ان وفود میں کیا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس 9ھ میں آئے تھے۔ [البدایہ والنہایہ ج 5 ص 71]
عینی حنفی نے کہا کہ وائل بن حجر ( رضی اللہ عنہ ) 9 ہجری کو مدینہ میں مسلمان ہوئے تھے۔
(عمدۃ القاری ج 5 ص 274 تحت ح 735)
اس کے بعد آپ سردیوں میں (اگلے سال 10ھ) دوبارہ آئے تھے۔
(صحیح ابن حبان 169/3 ح 1857)
اس سال بھی آپ نے رفع الیدین کا ہی مشاہدہ فرمایا۔ (سنن ابی داود: 727 و اسنادہ صحیح) [یار رہے نبیﷺ کی وفات 11 ہجری میں ہوئی)۔
بعض لوگوں نے سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر دو اعتراض کئے ہیں:
● وائل اعرابی (بدو) تھے،شریعت اسلامی سے ناواقف تھے۔
● انھوں نے نبی صلی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک مرتبہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
اوپر ذکر کردہ دلائل کی روشنی میں یہ دونوں اعتراضات باطل اور جھوٹ ہیں۔ یہ اعتراضات اپنے کہنے والے کی جہالت کا واضح و نا قابل تردید ثبوت ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام بہت بلند ہے اور کسی دفاع کا محتاج نہیں ہے۔ نیز اس موضوع پر یہ مضمون بھی ملاحظہ کریں۔