رفع یدین پر حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ

عن أبى هريرة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلاة كبر ثم جعل يديه حذو منكبيه و إذا ركع فعل مثل ذلك و إذا سجد فعل مثل ذلك ولا يفعله حين يرفع رأسه من السجود وإذا قام من الركعتين فعل مثل ذلك
سیدنا أبو ہریرہ رضی الله عنه (حافظ الصحابہ، الفقیہ الإمام محبو بنا رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم جب نماز کا افتتاح کرتے تو تکبیر کہتے پھر اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک اٹھاتے جب رکوع (کا ارادہ) کرتے تو اسی طرح کرتے اور جب (رکوع سے کھڑے ہوتے اور) سجدے (کا ارادہ) کرتے تو اسی طرح کرتے اور سجدوں سے سر اٹھاتے وقت ایسا نہ کرتے تھے اور جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو اسی طرح کرتے تھے۔
(صحیح ابن خزيمة 344/1 ح 694،695 له شاہد عند الدارقطني في العلل ما في التلخيص الجير 1/219 ورجالہ ثقات)
ابن جريج نے سماع کی تصریح کر دی ہے۔
تنبیہ: اس روایت کی سند زہري کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اسے سابقہ روایات کے شاہد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
بعض لوگوں نے سیدنا أبو ہریرہ رضی الله عنه سے دو روایتیں ایسی نقل کی ہیں جن میں رکوع سے پہلے اور بعد کے رفع اليدين کا ذکر نہیں ہے۔ (نور الصباح ص 72-74) ہم ثابت کر آئے ہیں کہ عدم ذکر نفی ذکر کو مستلزم نہیں ہے۔
آگے آرہا ہے کہ سیدنا أبو ہریرہ رضی الله عنه رفع اليدين کے راوی اور فاعل تھے لہذا صریح روایت کے مقابلے میں مبہم اور غیر متعلق روایات کو پیش کرنا باطل ہے۔