مضمون کے اہم نکات
رفع الیدین کرنا ضروری ہے
دلیل نمبر 1:
رفع الیدین کرنے والی روایات صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہما میں ہیں اور نہ کرنے کی ایک روایت بھی صحیح نہیں ہے لہذا رفع الیدین کرنا ہی ثابت ہے۔
دلیل نمبر 2:
رفع الیدین کا نہ کرنا (ترک رفع الیدین) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، نہ صحیح سند کے ساتھ اور نہ حسن سند کے ساتھ۔
نہ کرنے کی جملہ روایات ضعیف و معلول ہیں۔
دلیل نمبر 3:
بعض صحابہ نے رفع یدین کرنے کا حکم دیا ہے۔ (دیکھئے سنن الدار قطنی 292/1 ح 1111 وسندہ صحیح]
دلیل نمبر 4:
رفع الیدین کرنے کی احادیث متواتر ہیں۔
دلیل نمبر 5:
بے شمار صحابہ سے رفع الیدین کرنا باسند صحیح وحسن ثابت ہے اور نہ کرنا کسی ایک صحابی سے بھی ثابت نہیں۔
دلیل نمبر 6:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رفع الیدین نہ کرنے والے کو کنکریوں سے مارتے تھے رفع الیدین کرنے پر کسی صحابی نے کسی کو بھی نہیں مارا۔
دلیل نمبر 7:
متعدد علماء نے رفع الیدین کو نماز کی زینت قرار دیا ہے۔ کسی ایک عالم نے بھی ترک رفع الیدین کو نماز کی زینت نہیں کہا۔
دلیل نمبر 8:
اہل السنۃ والجماعۃ کے مستند علماء نے رفع الیدین کے کرنے پر کتابیں لکھی ہیں مثلاً امام بخاری وغیرہ۔ کسی قابل اعتماد عالم نے ترک رفع الیدین پر کوئی کتاب نہیں لکھی۔
دلیل نمبر 9:
ہر رفع الیدین کے ساتھ ہر انگلی پر ایک نیکی یا درجہ ملتا ہے۔
امام طبرانی فرماتے ہیں:
حدثنا بشر بن موسى: ثنا أبو عبدالرحمن المقري عن ابن لهيعة: حدثني ابن هبيرة أن أبا المصعب مشرح بن هاعان المعافري حدثه أنه سمع عقبة بن عامر الجهني يقول: إنه يكتب فى كل إشارة يشيرها الرجل بيده فى الصلوة بكل إصبع حسنة أو درجة
(سیدنا) عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نماز میں جو شخص اشارہ کرتا ہے اسے ہر (مسنون) اشارے کے بدلے ایک انگلی پر ایک نیکی یا درجہ ملتا ہے۔ (المعجم الکبیر 297/17 ح 819 وسندہ حسن]
◈سند کی تحقیق
عقبہ بن عامر مشہور صحابی ہیں رضی اللہ عنہ۔
آپ مصر کے والی اور فقیہ فاضل تھے۔ [تقریب التہذیب: 4641]
◈مشرح بن ہاعان کا تعارف
➊ یحیی بن معین نے کہا: ثقہ ہے۔ (تاریخ الداری عن ابن معین: 755، کتاب الجرح والتعدیل 432/8]
➋ احمد بن حنبل نے کہا: معروف ہے۔ [الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 432/8 وسنده حسن]
➌ ابن القطان نے ثقہ قرار دیا۔ (بیان الوهم والا یہام ج 3 ص 504 فقره: 1277، نصب الرایة ج 3 ص 240]
➍ ذہبی نے کہا: صدوق (میزان الاعتدال 117/4]
اور کہا: ثقة [الكاشف للمذہبی ج 3 ص 129]
➎ ترمذی نے اس کی ایک روایت کو حسن غریب کہا۔ جامع الترمذی 615/5 ح3686، کتاب المناقب، باب فی مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، یہ توثیق ہے۔
➏ عبد الحق اشبیلی نے اس کی بیان کردہ حدیث کو إسناده حسن کہا۔ (الاحکام الوسطی 156/3 157 باب فی المحلل)
➐ ابن عدی نے کہا: أرجو أنه لا بأس به [الكامل لابن عدی ج 6 ص 2460، تہذیب التہذیب ج 10 ص 141]
➑ حافظ ہیثمی نے اس کی حدیث کو حسن کہا۔ (مجمع الزوائد 103/2]
➒ حاکم نے اس کی حدیث کو صحیح الاسناد کہا۔ [المستدرک 199،198/2 ح 2804]
➓ ابن تیمیہ نے مشرح بن ہاعان کی حدیث کو حسن کہا۔ (ابطال الحیل 105-106 بحوالہ ارواء الغلیل 310/6 ح 1897]
تنبیہ: ابن حبان نے اسے کتاب الثقات (452/5 وقال: يخطي ويخالف ) اور کتاب الضعفاء (المجروحين 28/3 وقال: يروي عن عقبة بن عامر أحاديث مناكير لا يتابع عليها ) دونوں میں ذکر کیا ہے لہذا ان کے دونوں قول ساقط ہو گئے۔ [دیکھئے میزان الاعتدال ج 2 ص 552]
ابن حبان نے مشرح بن ہاعان کی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت صحیح ابن حبان میں درج کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کی جرح منسوخ ہے۔ (دیکھئے الاحسان 605 دوسر نسخہ 6086]
◈دوسرا رخ
➊ حافظ المنذری نے لا يحتج به کہا (؟)
اس کے برعکس حافظ المنذری نے مشرح بن ہاعان کی روایت کو بإسناد جيد کہا۔ الترغيب والترهيب 306/4 ح 5064]
یہ ان کی طرف سے مشرح کی توثیق ہے۔ لہذا ان کا لا يحتج به والا قول منسوخ اور ساقط ہو گیا۔
➋ حافظ الدارمی نے ليس بذلك وهو صدوق کہا۔ [تاریخ عثمان الدارمی: 755]
معلوم ہوا کہ محدثین کی بہت بڑی اکثریت کے نزدیک وہ ثقہ ہے اور جرح مردود ہے۔
◈کعبہ پر نصب منجنیق کا مسئلہ
یہ واقعہ جعلی اور بے اصل ہے۔ موسیٰ بن داود نے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے۔ (بلغنی) کہ یہ حجاج کے لشکر میں تھا اور کعبہ پر منجنیق سے حملہ کیا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ (دیکھئے کتاب الضعفاء للعقیلی ج 4 ص 222 تہذیب التہذیب 10 ص 141)
موسیٰ بن داود نے یہ نہیں بتایا کہ اسے یہ بات کس طرح اور کس ذریعے سے پہنچی ہے جب سند ہی انھوں نے ذکر نہیں کی تو ان کی بات سے استدلال باطل ہوا۔
دین کا دار و مدار سندوں پر ہے۔ حافظ ذہبی نے بھی اس روایت کے مردود ہونے کی طرف میزان الاعتدال میں قيل لکھ کر اشارہ کر دیا ہے۔
کیا اس قسم کے بے سند اقوال سے کسی ثقہ کو ضعیف قرار دیا جا سکتا ہے؟
معلوم ہوا کہ مشرح بن ہاعان مکہ پر حملے کے الزام سے بری و بے گناہ ہے۔ اسی لئے تو اسماء الرجال کے جلیل القدر امام ابن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔
➌ عبد اللہ بن ہبیرہ ثقہ تھے۔ [تقریب التہذیب: 3678)
➍ عبد الله بن لہیعہ المصری مختلف فیہ راوی ہیں۔ ان کی بعض روایات صحیح مسلم میں بطور استشہاد موجود ہیں۔ بعض نے انھیں صدوق متقن وثقہ قرار دیا اور بعض نے ضعیف لا يحتج به وغیرہ کہا۔ آپ مدلس بھی تھے اور آخری عمر میں بقول بعض اختلاط کا شکار بھی ہو گئے تھے، مگر امام عبد الغنی بن سعید الازدی نے کہا:
إذا روى العبادلة عن ابن لهيعة فهو صحيح ابن المبارك وابن وهب والمقري
جب ابن لہیعہ سے عبد الله بن المبارک (عبداللہ بن یزید) المقری اور عبداللہ بن وہب روایت کریں تو صحیح ہوتی ہے۔ (تہذیب التہذیب ج 5 ص 330]
یہی بات امام الساجی اور امام الفلاس نے بھی کہی ہے۔ (دیکھئے میزان الاعتدال ج 2 ص 477)
یہ تعدیل مفسر ہے جو جرح مہم پر مقدم ہے۔
یاد ر ہے کہ المقری کی روایت کو کسی نے بھی ضعیف نہیں کہا۔
➎ ابو عبد الرحمن عبد الله بن یزید المقری ثقہ فاضل تھے۔ (التقریب: 3715]
➏ بشر بن موسیٰ ثقہ امین تھے۔ [تاریخ بغداد 86/7 ت 3523]
انھیں امام دار قطنی نے ثقہ امین قرار دیا۔ [تاریخ بغداد 87/7 وسندہ صحیح)
معلوم ہوا کہ یہ سند قوی ہے۔
حافظ نورالدین الہیثمی نے اس سند کے بارے میں فرمایا:
رواه الطبراني وإسناده حسن اسے طبرانی نے روایت کیا اور اس کی سند حسن ہے۔ (مجمع الزوائد ج 2 ص 103)
سرفراز خان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں:
اور اپنے وقت میں اگر علامہ ہیثمی رحمہ اللہ کو صحت اور سقم کی پرکھ نہیں تو اور کس کو تھی؟( احسن الکلام ج 1 ص 233 حاشیه ط بار دوم]
◈اس حدیث کا مفہوم
➊ امام بیہقی نے کہا:
أخبرنا أبو عبدالله الحافظ قال: حدثني محمد بن صالح بن هاني قال: ثنا أحمد بن سلمة قال: حدث إسحق بن إبراهيم قال ….. صلى الله قال إسحاق: وقال عقبة بن عامر الجهني صاحب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم إذا رفع يديه عند الركوع وعند رفع رأسه من الركوع فله بكل إشارة عشر حسنات
(امام) الحق (ابن راہویہ) نے کہا:
عقبہ بن عامر صحابی ( رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا: جب رکوع سے پہلے اور بعد رفع الیدین کیا جائے تو ہر اشارے کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں۔ (معرفة السنن والآثار البیہقی ج 1 ص 225 قلمی وسندہ صحیح لی اسحاق بن راہویہ]
➋ امام احمد بن حنبل نے رفع الیدین کی بحث میں کہا:
يروى عن عقبة بن عامر أنه قال فى رفع اليدين فى الصلوة: له بكل اشارة عشر حسنات
عقبہ بن عامر سے روایت کیا گیا ہے کہ انھوں نے نماز میں رفع الیدین کے بارے میں کہا: رفع الیدین کرنے والے کو ہر اشارے کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں۔ [مسائل احمد روایتہ عبد اللہ 1/237، التلخیص الحبیر ج 1 ص220]
امام احمد بن حنبل کی یہ روایت پوری سند کے ساتھ مسائل احمد بروایت صالح بن احمد بن حنبل صفحہ 174 قلمی پر موجود ہے۔
➌ حافظ ہیثمی نے بھی یہ قول رفع الیدین کے باب میں ذکر کیا ہے۔
ان ائمہ کے مقابلے میں صرف علی متقی ہندی (حنفی) نے اس پر” جواز الإشارة بالإصبع فيه وقت قراءة التشهد “ کا باب باندھا ہے۔ [کنز العمال ج 7 ص 481]
جب کہ امام الحق بن راہویہ، امام احمد بن حنبل، حافظ ہیثمی اور امام بیہقی وغیرہ نے اسے رفع الیدین کے متعلق قرار دیا ہے لہذا ان کی تحقیق راجح ہے۔
دوسرے یہ کہ اس اثر کا تعلق دونوں سے ہے۔ رکوع والے رفع الیدین سے بھی ہے اور تشہد والے اشارے سے بھی۔
علی متقی نے یہ نہیں کہا کہ اس حدیث کا تعلق رفع الیدین سے نہیں ہے۔
دلیل نمبر 10:
متعدد مستند علماء نے رفع الیدین نہ کرنے والے کی نماز کو ناقص قرار دیا ہے۔ مثلاً امام احمد بن حنبل اور امام اوزاعی وغیر ہما اور کسی ایک مستند عالم نے بھی رفع الیدین کرنے والے کی نماز کو ناقص نہیں کہا۔
لہذا معلوم ہوا کہ رفع الیدین ہی راجح ہے اور رفع الیدین کرنا چاہئے۔
وما علينا إلا البلاغ
حافظ زبیر علی زئی
(صفر1410ھ)
(بعد از مراجعت / رجب 1427ھ)