مضمون کے اہم نکات
رفع اليدين کا حکم اور سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
نماز میں رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع اليدين متواتر احادیث سے ثابت ہے۔( قطف الازهار المتناثرة في الاخبار المتواترة حدیث 33 الظلم المتناثر من الحديث المتواتر حدیث 67 ، لفظ الآلی المتناثرة في الاحاديث المتواترة حدیث 62)
صحابہ کرام مثلاً امیر المومنین سیدنا ابوبکر، امیر المومنین سیدنا عمر اور امیر المومنین سیدنا علی وغیرہم سے بھی صراحت رفع اليدين ثابت ہے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین
بلکہ امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولم يثبت عن أحد من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم إنه لا يرفع يديه
اور کسی ایک صحابی سے بھی رفع اليدين نہ کرنا ثابت نہیں۔ [جزء رفع اليدين: 76]
اس مختصر مضمون میں امیر المومنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث مع تحقیق سند پیش کی جاتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قولاً وفعلاً دونوں طرح رفع اليدين کرنا ثابت ہے۔ والحمد لله
عبد اللہ بن القاسم فرماتے ہیں:
بينما الناس يصلون فى مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ خرج عليهم عمر بن الخطاب رضى الله عنه فقال: اقبلوا على بوجوهكم أصلي بكم صلوة رسول الله صلى الله عليه وسلم التى كان يصلي و يأمر بها فقام مستقبل القبلة و رفع يديه حتى حاذا بهما منكبيه و كبر ثم غض بصره ثم رفع يديه حتى حاذا بهما منكبيه ثم كبر ثم ركع و كذلك حين رفع قال للقوم: هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلى بنا.
[نصب الراية ج 1ص 416 مسند الفاروق لابن کثیر ج 1ص 165 ،166 شرح سنن الترمذی لابن سید الناس ج 2 ص 217 واللفظ له]
لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک ان کے پاس عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! اپنے چہرے میری طرف کرو، میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر دکھاتا ہوں جو آپ پڑھتے تھے اور جس کا حکم دیتے تھے۔ پس آپ قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے اور اپنے کندھوں تک رفع اليدين کیا اور اللہ اکبر کہا۔ پھر آپ نے اپنی نظر جھکائی، پھر آپ نے رفع اليدين کیا۔ حتی کہ آپ کے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر ہو گئے پھر آپ نے تکبیر کہی، پھر رکوع کیا اور اسی طرح (رفع اليدين) کیا، جب آپ رکوع سے کھڑے ہوئے آپ نے (نماز کے بعد) لوگوں سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اسی طرح نماز پڑھاتے تھے۔
اب اس حدیث کے راویوں کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے:
① عبداللہ بن القاسم مولی ابی بکر الصدیق:
آپ عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہم اجمعین وغیرہم کے شاگرد ہیں۔ آپ سے فضیل بن غزوان قرة بن خالد اور ابو عیسی سلیمان بن کیسان الخراسانی نے روایت کی ہے۔
(التاريخ الكبير للبخاري ج 5 ص 173، الجرح والتعديل لابن ابی حاتم ج 5 ص 141،140 واللفظ له)
امام بخاری اور ابو حاتم الرازی نے اس پر کوئی جرح نہیں کی۔ حافظ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے۔
(کتاب الثقات لابن حبان، 46/5 تہذیب الکمال 421/10، تہذیب التہذیب 314/5 خلاصہ تہذیب تهذيب الكمال للمحزر جی ص 210)
ظفر احمد تھانوی دیوبندی فرماتے ہیں:
وكذا كل من ذكره البخاري فى تواريخه ولم يطعن فيه فهو ثقة ، فإن عادته ذكر الجرح والمجروحين قاله ابن تيمية
اور اسی طرح ہر وہ راوی جسے بخاری نے اپنی تاریخوں میں ذکر کر کے جرح نہیں کی وہ ثقہ ہے کیوں کہ آپ کی عادت ہے کہ جرح اور مجروحین کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ بات( مجد الدین عبدالسلام بن عبداللہ) ابن تیمیہ نے کہی ہے۔
(قواعد فى علوم الحدیث ص 223 ، اعلاء السنن ج 19)
ظفر احمد تھانوی صاحب کا یہ قول مرجوح ہے تاہم دیوبندیوں کو چاہیے کہ وہ اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے راوی مذکور کو ثقہ قرار دیں۔ دیدہ باید!
ابن القطان الفاسی نے عبد اللہ بن القاسم مذکور کو مجہول کہا ہے۔ (تہذیب التہذیب ج 5 ص 314)
یہ جرح کئی وجہ سے مردود ہے:
➊ جب توثیق ثابت ہو جائے تو مجہول و مستور وغیرہ اقوال خود بخود مردود ہو جاتے ہیں۔ کتنے ہی ایسے راوی ہیں جنھیں امام ابو حاتم وغیرہ نے مجہول کہا ہے، جب کہ دوسرے محدثین انھیں ثقہ کہتے ہیں اور عمل ان کی توثیق پر ہی ہے۔ دیکھیے قواعد فی علوم الحدیث (ص 267)
➋ ابن القطان الفاسی کا ایک خاص اصول ہے کہ وہ ایسے راویوں کو مجہول کہ دیتے ہیں جن کی توثیق کی صراحت انھیں (اس کے معاصر سے) نہیں ملتی، حالانکہ ایسے راوی صحیحین میں بھی موجود ہیں۔ دیکھئے قواعد الدیوبندیہ فی اصول الحدیث (ص 205)
➌ اصول حدیث میں یہ مقرر ہے کہ جس سے دو ثقہ راوی روایت بیان کریں وہ مجہول العین نہیں ہوتا بلکہ توثیق نہ ہونے کی صورت میں مجہول یا مستور کہلاتا ہے۔ ایسے شخص کی روایت امام ابوحنیفہ کے نزدیک مقبول ہوتی ہے۔ [قواعد فى علوم الحدیث ص 204]
یہ قول اگر چہ مرجوح ہے تاہم ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو أجلى الأعلام أن الفتوى مطلقا على قول الإمام جیسی کتابیں لکھتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں:
” لیکن سوائے امام اور کسی کے قول سے ہم پر حجت قائم کرنا بعید از عقل ہے۔“ (ایضاح الادلة ص 276)
وہ بعض ثقہ راویوں کو مستور یا مجہول الحال کہہ کر کیوں رد کر دیتے ہیں؟
ان لوگوں کے اصول اتنے متناقض ہیں کہ ہر سلیم الفطرت انسان معلوم ہونے کے بعد حیران ہوتا ہے کہ ان میں تطبیق کس طرح دے؟ مثلاً:
ظفر احمد تھانوی صاحب فرماتے ہیں:
إن رواية المستور من القرون الثلاثة مقبول عندنا معشر الحنفية
ہم حنفیوں کے نزدیک قرون ثلاثہ کے مستور کی روایت مقبول (صحیح و حجت) ہے۔ (اعلاء السنن 204/3)
اور فرماتے ہیں:
الجهالة فى القرون الثلاثة لا يضر عندنا
اور قرون ثلاثہ میں مجہول ہونا ہمارے نزدیک مضر نہیں ہے۔ (ایضا ص 197)
جب کہ اسی جلد میں، یہی تھانوی صاحب فرماتے ہیں:
قلت ففيه رجل مجهول فلا يحتج به
اس میں ایک آدمی ”رجل من آل الحارث“ جو کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا شاگرد تھا تھا مجہول ہے لہذا اس سے حجت پکڑنا صحیح نہیں۔ [ص 161] انا لله وإنا إليه راجعون
تھانوی صاحب کی ان متعارض و متناقض پالیسیوں کی وجہ سے ایک عرب محقق شیخ، عداب محمود التمش نے اعلاء السنن کے بارے میں لکھا ہے:
طبع هذا الكتاب مع مقدماته الثلاثة فى واحد وعشرين جزءا وفي هذا الكتاب بلايا وطامات مخجلة.
یہ کتاب اپنے تین مقدموں کے ساتھ اکیس جلدوں میں چھپی ہے اور اس کتاب میں مصیبتیں اور شرمندہ کرنے والی تباہیاں ہیں۔ [رواة الحديث الذین سکت علیہم ائمة الجرح والتعدیل ص 27]
➍ سنن ابی داود (1514) اور سنن ترمذی (3559) کی ایک روایت ”عن أبى نصيرة عن مولى لأبي بكر عن أبى بكر“ کی سند سے ہے۔
اس کے بارے میں حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں:
وقول على بن المديني والترمذي لميس إسناد هذا الحديث بذاك، فالظاهر أنه لأجل جهالة مولى أبى بكر ولكن جهالة مثله لا تضر لأنه تابعي كبير ويكفيه نسبته إلى أبى بكر فهو حديث حسن والله أعلم
ابن مدینی اور ترمذی کا یہ قول: اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے ظاہر اً مولی ابی بکر کی جہالت کی وجہ سے ہے، لیکن ایسے شخص کی جہالت مضر نہیں کیوں کہ وہ بڑا تابعي ہے اور اس کے لیے ابوبکر سے نسبت کافی ہے۔ پس یہ حدیث حسن ہے، واللہ اعلم!
(تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 106 اوفی نسخہ ج1ص 416)
یہ قول اگر چہ مرجوح ہے لیکن معلوم ہوا کہ عبداللہ بن القاسم، حافظ ابن کثیر کے نزدیک حسن الحدیث ہے۔
حافظ زیلعی نے کہا: لكن جهالته لا تضر إذ تكفيه نسبته إلى الصديق اس کی جہالت مضر نہیں ہے کیونکہ اس کی صدیق سے نسبت کافی ہے (اتحاف المتقین 59/5)
➎ امام ابو داود نے عبداللہ بن القاسم کی ایک حدیث پر سکوت کیا ہے۔ [1793]
منذری وغیرہ سکوت ابی داود کی بنا پر حدیث کو حسن قرار دیتے ہیں۔ [قواعد التھانوی ص 87]
یہ قول بھی مرجوح ہے تاہم ان لوگوں پر حجت ہے جن کے نزدیک سکوت ابی داود حسن ہونے کی دلیل ہے۔
فائدہ: ہمارے شیخ الاستاذ حافظ عبدالحمید ازہر حفظہ اللہ نے سکوت ابی داود پر ایک رسالہ لکھا ہے جس میں ثابت کیا ہے کہ امام ابو داود کا کسی روایت پر سکوت اس کے حسن ہونے کی دلیل نہیں ہے۔
درج بالا بحث سے معلوم ہوا کہ عبداللہ بن القاسم حسن الحدیث ہے۔ یہ بات عقلاً بعید ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہ ہو لہذا معاصرت کی وجہ سے راجح یہی ہے کہ یہ سند متصل ہے۔ عبداللہ بن القاسم مذکور کے بارے میں حافظ مزی لکھتے ہیں: رأى عمر بن الخطاب
اس نے عمر بن الخطاب کو دیکھا ہے۔ (تہذیب الکمال ج 10 ص 421)
② ابو عیسی سلیمان بن کیسان الخراسانی:
ان سے ایک جماعت نے حدیث بیان کی ہے۔ حافظ ابن حبان اور حافظ ذہبی نے اسے ثقہ کہا ہے۔ [الکاشف ج 3 ص 321]
لہذا ابن القطان الفاسی کا قول ”حاله مجهولة“ مردود ہے۔
③ حیوه بن شریح:
صحیح بخاری و صحیح مسلم وسنن اربعہ کے راوی اور ثقہ ہیں۔ [تقریب التہذیب: 1600]
④ عبداللہ بن وہب القرشی:
صحیح بخاری و صحیح مسلم وسنن اربعہ کے راوی اور ثقہ حافظ عابد ہیں۔ (تقریب 3694)
⑤ حجاج بن ابراہیم الازرق:
اس حدیث کو ابن وہب سے بیان کر رہے ہیں۔ كما نقله ابن سيد الناس ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ابو حاتم الرازی نے ثقہ کہا ہے۔ (الجرح والتعديل ج 3 ص 154 ، تاریخ بغداد ج 8 ص 239)
بلکہ اسے ابن حبان اور الاعجلی وغیرہم نے بھی ثقہ کہا ہے۔ [الثقات ج 8 ص 203]
تقریب التہذیب میں ہے: ثقة فاضل (118)
⑥ احمد بن الحسن الترمذی:
الراوي عن حجاج بن إبراهيم صحیح بخاری کے راوی اور ثقه حافظ ہیں۔ ( تقریب التہذیب : 25)
⑦ ابوبکر محمد بن اسحق بن خزیمہ:
الراوي عن أحمد بن الحسن الترمذي صحیح ابن خزیمہ کے مصنف اور مشہور ثقہ امام بلکہ شیخ الاسلام ہیں۔ (دیکھئے سیر اعلام النبلا ج 14 ص 365 تا 382)
(8) ابواحمد الحسین بن علی بن محمد بن یحیی:
حسينك الراوي عن ابن خزيمة خطيب نے کہا: ”كان ثقة حجة“ (تاریخ بغداد 74/4 ت 4154)
⑨ ابو عبد الله الحافظ:
الحاكم النيسابوري الراوي عن حسينك صاحب المستدرك على الصحيحين مشہور ثقہ وصدوق امام ہیں۔
⑩ الامام البيهقي صاحب الخلافیات:
الراوی عن الحاکم: مشہور ثقہ بالاتفاق امام اور السنن الکبری وغیرہ کے مصنف ہیں۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ سند حسن ہے۔
امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ سے رفع اليدين کے اثبات کے ساتھ اس کے متعدد شواہد بھی موجود ہیں مثلاً:
⟐ حديث الحكم قال: رأيت طاؤسا يرفع يديه إذا افتتح الصلوة وإذا ركع وإذا رفع من الركوع رفعهما، فسألت بعض أصحابه فقال: أنه يحدثه عن ابن عمر عن عمر عن النبى صلى الله عليه وسلم (السنن الكبرى للبیہقي ج 2 ص 74)
اسے حاکم نے محفوظ کہا ہے۔ یہاں پر بعض أصحابه مضر نہیں ہے کیوں کہ خطیب بغدادی نے اس حدیث پر” من اجتزأ بالسماع النازل مع كون الذى حدث عنه موجودا“ کا باب باندھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ حکم بن عتیبہ نے یہ حدیث طاؤس کے سامنے بیان کی ہے۔ (الجامع لاخلاق الراوی و آداب السامع ج1 ص 116 118)
چونکہ طاؤس کا انکار ثابت نہیں لہذا یہ روایت الحکم عن طاؤس متصل ہے۔ اس پر صاحب الامام کی جرح صحیح نہیں ہے۔
⟐حديث خلف بن أيوب البلخي عن مالك بن أنس عن الزهري عن سالم عن أبيه عن عمر [نصب الراية ج 1ص 416]
امام دار قطنی فرماتے ہیں کہ خلف کی کسی نے متابعت نہیں کی۔
(خلف مختلف فیہ راوی ہے ابو حاتم رازی کہتے ہیں) یردی عنہ، تہذیب الکمال ج 5 ص 473
تنبیہ: اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
⟐ حديث: راشد بن سعد عن محمد بن سهم عن سعيد بن المسيب قال: رأيت عمر بن الخطاب يرفع يديه حذو منكبيه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع. [نصب الراية ج1 ص 417]
محمد بن سہم کا ترجمہ التاریخ الکبیر للبخاري والجرح والتعدیل لابن ابی حاتم میں مذکور ہے۔ ابن حبان نے اسے ثقات میں ذکر کیا۔ [ج 7 ص 425]
راشد بن سعد کثیر الارسال ہے۔ [تقریب التہذیب: 1854]
اور اگر اس سے مراد رشدین بن سعد ہے تو ضعیف ہے۔ (ایضاً: 1942 ملخصاً)
معلوم ہوا کہ اس روایت کی سند بھی ضعیف ہے۔
اس کے دیگر شواہد بھی ہیں۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ پہلی تکبیر میں رفع اليدين کرتے پھر دوبارہ نہ کرتے۔ [الطحاوی والبیہقی بحوالہ نصب الرایۃ ج 1ص 405 بروایت ابراہیم عن الاسود عنہ]
اس کی سند ابراہیم انتھی کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس میں دوسری علتیں بھی ہیں۔
اس مختصر تحقیق سے معلوم ہوا کہ رفع اليدين قبل الرکوع و بعدہ کا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فعلاً بھی ثابت ہے اور قولاً بھی۔
كان يأمر بها سے حکم ثابت ہوتا ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ (صلوا كما رأيتموني أصلي) (صحیح البخاری ج1 ص 88 حدیث 631)
اور مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے ہی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع اليدين کر کے نماز پڑھی ہے۔ (صحیح البخاری ج 1 ص 102 ح 737 و صحیح مسلم: 391)
لہذا رفع اليدين کا حکم ثابت ہو گیا۔
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث مذکور سے متعدد مسائل معلوم ہوتے ہیں، مثلاً:
● شاگردوں کو تعلیم کے لیے استاد خود انھیں نماز پڑھ کر سکھائے۔
● رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفع اليدين کا حکم دیتے تھے۔
● سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اتباع سنت اور تبلیغ سنت کے جذبہ مبارکہ سے سرشار تھے۔
● ہر نماز میں حسب استطاعت، قبلہ کی طرف منہ کرنا ضروری ہے۔
● کندھوں تک رفع اليدين کرنا صحیح اور غیر منسوخ ہے۔
● رفع اليدين کا منسوخ ہونا ثابت نہیں۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو لوگوں میں سے کسی شخص کو تو امیر المومنین پر اعتراض کرنا چاہیے تھا مگر ایسا قطعا منقول نہیں ہے۔
● پہلے رفع اليدين اور پھر تکبیر کہنا صحیح ہے۔ اسی طرح دوسری احادیث کی رُو سے پہلے تکبیر اور بعد میں رفع اليدين یا تکبیر مع رفع اليدين بھی صحیح ہے۔
● نماز میں نظر جھکا کر رکھنی چاہیے۔
● ثم قام قدر ما يقرأ بأم القرآن و سورة من المفصل کے الفاظ سے نماز میں سورہ فاتحہ کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔
● رکوع میں گھٹنوں پر ہتھیلیاں پھیلا کر رکھنا صحیح ہے۔
● تعدیل ارکان ضروری ہے۔
● صرف تین تسبیحات، رکوع وسجود میں پڑھنا صحیح ہے۔
● اگر نماز صرف دو رکعتیں ہو تو دوسری رکعت کے آخر میں تشہد میں تورک کرنا صحیح ومسنون ہے۔
ثم صلى ركعة أخرى مثلها ثم استوى جالسا فنحى رجليه عن مقعدته وألزم مقعدته الأرض
● نماز سے خروج کا طریقہ سلام (السلام علیکم) ہے۔