تابعین کے دور میں رفع یدین اور عمر بن عبد العزیزؒ کا عمل
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

آثار تابعین رحمہم اللہ اجمعین

اصل حجت اور دلیل قرآن، حدیث اور اجماع ہے۔ آثار تابعین صرف اس مقصد کے پیش نظر تحریر کر رہا ہوں کہ خیر القرون میں رفع الیدین کی سنت پر مسلسل اور بغیر کسی انقطاع کے عمل ہوتا رہا ہے لہذا انسخ کا دعویٰ باطل ہے۔
درج ذیل تابعین سے باسند صحیح رکوع سے پہلے اور بعد رفع الیدین کرنا یا اقرار ثابت ہے۔
➊ ابوقلابہ (مصنف ابن ابی شیبہ 1/235 ح 2437 و اسناده صحیح، جزء رفع الیدین: 55)
➋ محمد بن سیرین (مصنف ابن ابی شیبہ 1/235 ح 2436 واسناده صحیح، اخرجہ البیہقی فی الخلافیات ص 104 قلمی واسنادہ صحیح)
➌ وہب بن منبہ (مصنف عبدالرزاق 2/69 ح 2524 التمہید 228/9 عبدالرزاق صرح بالسماع عنده، فالسند صحیح)
➍ سالم بن عبد اللہ
➎ القاسم بن محمد
➏ عطاء
➐ مکحول (جزء رفع الیدین: 62 وسنده حسن)
➑ نعمان بن ابی عیاش [جزء رفع الیدین: 59 و اسناده حسن]
➒ طاؤس شاگرد ابن عباس (مسند احمد 2/44 ح 50336 وسنده صحیح)
➓ الحسن البصری [مصنف ابن ابی شیبہ 1/235 ح 2435 وسنده صحیح، وله شواہد]
تلك عشرة كاملة

عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ اور رفع الیدین

امام بخاری نے جزء رفع الیدین میں کہا:
حدثنا محمد بن يوسف: ثنا عبد الأعلى بن مسهر: ثنا عبدالله بن العلاء بن زبر: ثنا عمرو بن المهاجر قال: كان عبدالله بن عامر ليسألني أن استأذن له على عمر بن عبدالعزيز فاستأذنت له عليه فقال: الذى جلد أخاه فى أن يرفع يديه إن كنالنؤدب عليه ونحن غلمان بالمدينة، فلم يأذن له.
عمرو بن مہاجر نے کہا: عبداللہ بن عامر مجھ سے کہتے کہ میں انھیں عمر بن عبد العزیز کے پاس لے جاؤں، میں نے عمر بن عبد العزیز سے جب اس کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا: یہ عبداللہ بن عامر وہی ہے جس نے اپنے بھائی کو رفع الیدین کرنے پر مارا تھا۔ ہمیں تو رفع الیدین سکھایا جاتا تھا جب کہ ہم مدینہ میں بچے تھے۔ پس عمر بن عبدالعزیز نے اسے اپنے پاس آنے کی اجازت نہ دی۔ (قلمی نسخہ ص6 نسخه مطبوعہ: 17 التمہید 218/9)
اس کی سند صحیح ہے۔
➊ محمد بن یوسف (البخاری ابو احمد البیکندی) ثقہ ہے۔ [التقریب: 6417]
➋ عبد الأعلى بن مسہر ثقہ فاضل تھے۔ [تقریب التہذیب: 3738]
➌ عبداللہ بن العلاء بن زبر ثقہ تھے۔ [التقریب: 3521]
➍ عمرو بن المہاجر ثقہ تھے۔ [التقریب: 5120]
غرض یہ سند بالکل صحیح ہے۔
ابن عبدالبر کی روایت میں ہے کہ عمر بن عبد العزیز نے فرمایا: سالم قد حفظ عن أبيه سالم نے اپنے باپ (عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے (حدیث رفع الیدین کو) یاد رکھا۔ ( التمہید 219/9 وسنده صحیح)
معلوم ہوا کہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ جو کہ مشہور تابعی اور عادل خلیفہ تھے، رفع الیدین کے قائل و فاعل تھے بلکہ منع کرنے والے سے ملاقات تک گوارا نہیں کرتے تھے۔ یہ ہے جذبہ اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔
اللهم صل وسلم على محمد وآله وأزواجه وأصحابه أجمعين، آمين

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے