رفع الیدین قبل و بعد الركوع: اجماعِ صحابہ کی روشنی میں تحقیقی جائزہ

یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

تکبیر تحریمہ میں رفع یدین کے سنت و ( بلحاظ لغت ) مستحب ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والا رفع یدین درج ذیل احادیث صحیحہ سے ثابت ہے:
➊ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام فى الصلوة رفع يديه حتى تكونا حذو منكبيه ، وكان يفعل ذلك حين يكبر للركوع ويفعل ذلك إذا رفع رأسه من الركوع ويقول: سمع الله لمن حمده ولا يفعل ذلك فى السجود
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ جب نماز میں ( تکبیر تحریمہ کے لئے ) کھڑے ہوئے تو رفع یدین کیا حتیٰ کہ آپ کے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر ہو گئے ۔ آپ رکوع کے لئے تکبیر کہتے وقت ایسا ہی کرتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو ایسا ہی کرتے تھے اور فرماتے: سمع الله لمن حمده اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں (رفع یدین ) نہیں کرتے تھے۔
(البخاری: 736، مسلم : 390 و ترقیم دار السلام: 861-863)
➋ ابو قلابہ( مشہور تابعی) رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ
أنه رأى مالك بن الحويرث إذا صلى كبر ثم رفع يديه وإذا أراد أن يركع رفع يديه وإذا رفع رأسه من الركوع رفع يديه وحدث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفعل هكذا
انھوں نے مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا: وہ جب نماز پڑھتے تو تکبیر ( اللہ اکبر) کہتے پھر رفع یدین کرتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے رفع یدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے (تو) رفع یدین کرتے اور حدیث بیان کرتے تھے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [مسلم:391/24 والبخاری: 737]
➌ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ جب نماز میں داخل ہوئے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا ( کانوں تک ) پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور کپڑا لپیٹ لیا ۔ پھر جب رکوع کا ارادہ کیا تو کپڑے سے ہاتھ باہر نکال کر رفع یدین کیا پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا۔ پھر سمع اللہ لمن حمده کہا ( اور ) رفع یدین کیا، پھر جب سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا۔ [مسلم:401/54]
ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروع نماز ، رکوع سے پہلے ، رکوع کے بعد اور دو رکعتوں سے اٹھ کر رفع یدین کرتے تھے ۔ دوسرے صحابہ کرام نے اس حدیث کی تصدیق فرمائی ، رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ (ابوداود: 730 وسندہ صحیح)
نیز درج ذیل صحابہ کرام سے بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
➍ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جزء رفع اليدين للبخاری تحقیقی : وسنده حسن ، ابو داود : 744 ، 761، الترمذی : 3423 وقال: هذا حدیث حسن صحیح ابن ماجه : 864 وصحه ابن خزیمه : 584 ، واحمد بن حنبل ( نصب الرایه 414/1)
اس کا راوی عبد الرحمن بن ابی الزناد : حسن الحدیث ہے۔ (سیر اعلام النبلاء 170،168/8)
➎ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (ابن خزیمه: 695،694 وسنده حسن)
➏ ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ (الدار قطنی : 292/1 ح 1111 وسندہ صحیح)
➐ ابو بكر الصديق رضی اللہ عنہ (البيہقي في السنن الکبری 73/2 وقال: رواته ثقات وسنده صحیح)
➑ جابر بن عبد الله الانصاری رضی اللہ عنہ مسند السراج قلمی ص 52 و مطبوع: ح92، وسنده حسن ، ابن ماجه: 828 ابوالزبیر المکی نے سماع کی تصریح کردی ہے اور ابو حذیفہ حسن الحدیث راوی ہے۔
➒ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ (ابوداود : 730 وسنده صحیح)
معلوم ہوا کہ رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع یدین والی روایت متواتر ہے ۔ دیکھیے نظم المتناثر في الحديث المتواتر ص 32،31
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد درج ذیل صحابہ کرام رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین پر( بغیر کسی انکار کے) عمل پیرا تھے ۔ رضی اللہ عنہم اجمعین
① عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما [البخاری:739 وسنده صحیح ، وأخطأ من أعله وقال البغوي لهذا الحديث صحیح شرح السنة 21/3]
② مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ (البخاری : 873 ومسلم : 391)
③ ابو موسى الاشعرى رضی اللہ عنہ (الدار قطنی 292/1 وسندہ صحیح )
④ ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ( البیہقی 73/2 وسندہ صحیح)
⑤ عبدالله بن الزبیر رضی اللہ عنہما (البیہقی 73/2 و قال : رواته ثقات وسندہ صحیح)
⑥ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (عبد الرزاق في المصنف 2/ 69 ح 2523، ابن ابی شیبه 335 وسنده حسن]
⑦ انس بن مالک رضی اللہ عنہ [ جزء رفع یدین : 20 وسنده صحیح)
⑧ جابر رضی اللہ عنہ [مسند السراج قلمی ص 25 وسنده حسن )
⑨ ابو هريرہ رضی اللہ عنہ [ جزء رفع الیدین : 22 وسنده صحیح ]
⑩ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ (الخلافیات للبیہقی بحوالہ شرح الترمذی لا بن سید الناس قلمی ج 2 ص 217 وسنده حسن)
مشہور تابعی، امام سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم اجمعین ) شروع نماز میں رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (البیہقی فی السنن الکبری 75/2 وسندہ صحیح)
صحابہ کرام کے ان آثار کے مقابلے میں کسی صحابی سے باسند صحیح وحسن: ترک رفع الیدین قبل الرکوع و بعدہ ثابت نہیں ہے ۔ رضی اللہ عنہم اجمعین
امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
” کسی ایک صحابی سے بھی رفع یدین کا نہ کرنا ثابت نہیں ہے۔“( جزء رفع الیدین: 77 والمجموع شرح المہذب للنووی 405/3)
لہذا معلوم ہوا کہ رفع یدین کے عمل پر صحابہ کرام کا اجماع ہے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین
اگر رفع یدین متروک یا منسوخ ہوتا تو صحابہ کرام بالاتفاق اس پر عمل نہ کرتے ، ان کا اتفاق و اجماع یہ ثابت کر رہا ہے کہ ترک رفع یدین یا منسوخیت کا دعویٰ سرے سے ہی باطل ہے۔ مخالفین رفع یدین کے شبہات کا مدلل رد آگے آرہا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
نماز میں آدمی جو ( مسنون ) اشارہ کرتا ہے تو اسے ہر اشارے کے بدلے ( ہر انگلی پر ) ایک نیکی یا درجہ ملتا ہے۔ (الطبراني في لمعجم الكبير ج 17 ص 297 ح 819 وسنده حسن)
یہ اثر حکماً مرفوع ہے اور مرفوعا بھی مروی ہے دیکھئے السلسلہ الصحیحہ (ج 7 ص 848 ح 3286) عموم قرآن بھی اس کا مؤید ہے ۔ امام اسحاق بن راہویہ، محدث فقیہ مشہور نے اس اثر سے یہ ثابت کیا ہے کہ رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین پر ، ہر اشارے کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں دیکھئے معرفة السنن والآثار للبیہقی (قلمی ج1 ص 225 وسندہ صحیح ) امام اہل سنت ، احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی اس اثر سے” رفع الیدین فی الصلوۃ “ پر استدلال کرتے ہیں۔
(دیکھئے مسائل احمد روایة عبداللہ بن احمد ص 1/237 وتلخیص الحبیر 1/220)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے