مضمون کے اہم نکات
رضا مندی کی تقسیم
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
وہ تقسیم جس میں تمام شرکاء کا متفق ہونا ضروری ہو، ان کی رضا مندی کے بغیر درست نہیں ہوتی۔ اس نوعیت کی تقسیم میں کبھی کسی شریک کو معمولی سا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی کو مشترک چیز میں اپنے حصے کے بدلے میں کچھ معاوضہ لینا یا دینا پڑتا ہے۔ یہ صورتِ تقسیم عموماً وہاں پیش آتی ہے جہاں چھوٹے مکانات، تنگ دکانیں، یا ایسی زمین ہو جس کے حصے عمارتوں یا درختوں کی وجہ سے باہم مختلف ہوں، یا پھر کسی شریک کی کسی خاص حصے میں زیادہ رغبت ہو۔
ایسی مشترک چیز کی تقسیم میں تمام شرکاء کا اتفاق اور ان کی رضا مندی لازمی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ "
"نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان اٹھاؤ۔” [مسند احمد 1/313۔ وسنن ابن ماجہ الاحکام باب من بنی فی حقہ مایضر بجارہ حدیث:2340۔]
اس روایت کے عام الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ تقسیم جس میں کچھ نہ کچھ نقصان برداشت کرنا پڑے، اس میں تمام شرکاء کی رضا مندی ضروری ہے۔
یہ تقسیم ایک طرح سے بیع کے حکم میں ہوتی ہے، جس میں کسی عیب کی بنا پر چیز واپس کی جا سکتی ہے، اور اس میں خیار مجلس اور خیار شرط وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ایسی تقسیم قبول نہ کرے تو اسے زبردستی مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اگر کسی ایک شریک کی طرف سے مشترک چیز کو فروخت کرنے کا مطالبہ ہو تو دوسرے شریک کو بھی فروخت پر آمادہ کیا جائے گا۔ اگر وہ انکار کر دے تو قاضی خود وہ چیز فروخت کرے گا اور اس کی قیمت دونوں کے حصص کے مطابق تقسیم کر دے گا۔
تقسیم کے نتیجے میں نقصان سے مراد یہ ہے کہ تقسیم کرنے کے سبب چیز کی قیمت کم ہو جائے، خواہ تقسیم کے بعد اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے یا نہ اٹھایا جا سکے۔ البتہ اگر تقسیم کے بعد اس چیز سے فائدہ حاصل ہی نہ ہو سکے تو یہ نقصان معتبر نہ ہوگا۔
زبردستی کی تقسیم
یہ وہ تقسیم ہے جس میں تقسیم کی وجہ سے کسی شریک کو نقصان نہیں پہنچتا اور نہ کسی کو کسی قسم کا معاوضہ دینا پڑتا ہے۔ اس کو زبردستی کی تقسیم اس لیے کہا جاتا ہے کہ اگر اس سے متعلق تمام شرائط پوری ہوں تو قاضی رکاوٹ ڈالنے والے شریک کو مجبور بھی کر سکتا ہے۔ یہ تقسیم عموماً باغات، بڑے مکانات، وسیع زمینوں، کشادہ دکانوں، یا ایک ہی جنس کی ناپ تول یا وزن والی اشیاء میں ہوتی ہے۔
اس تقسیم میں رکاوٹ بننے والے شریک کو مجبور کرنے کے لیے درج ذیل تین شرائط ضروری ہیں:
① شرکاء کی ملکیت شرعاً ثابت ہو۔
② یہ علم ہو کہ اس تقسیم میں کسی کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
③ یہ بھی معلوم ہو کہ مشترک چیز حصص کے مطابق بغیر کمی بیشی کے تقسیم ہو جائے گی۔
جب یہ شرائط موجود ہوں اور شرکاء میں سے کوئی ایک تقسیم کا مطالبہ کرے تو دوسرے شریک کو تقسیم پر مجبور کیا جائے گا، اگرچہ وہ اس میں رکاوٹ ڈال رہا ہو، کیونکہ تقسیم شراکت کے ضرر کو ختم کر دیتی ہے اور ہر شریک اپنے حصے میں خود مختار ہو جاتا ہے کہ وہ اس سے جیسے چاہے فائدہ اٹھائے، مثلاً زمین میں پودے لگائے یا اس میں عمارت تعمیر کرے وغیرہ، جبکہ شراکت برقرار رہنے کی صورت میں یہ آزادی حاصل نہ تھی۔
اگر مشترک چیز میں کسی شریک کا تعلق نابالغ یا غیر عاقل ہونے کی وجہ سے ہو تو اس کی طرف سے اس کا ولی نائب ہوگا۔ اور اگر کوئی شریک غیر حاضر ہو تو قاضی خود اس کا نائب شمار ہوگا۔
حقیقت میں یہ تقسیم ہر شریک کو اس کا حق آسانی سے پہنچانے کی ایک صورت ہے، اور یہ پہلی قسم کی طرح بیع کے حکم میں بھی نہیں آتی، بلکہ اس کے احکام بیع سے مختلف ہوتے ہیں۔
شرکاء چاہیں تو مشترک چیز کو خود تقسیم کر سکتے ہیں، یا کسی اور سے تقسیم کروا سکتے ہیں، یا قاضی سے کسی تقسیم کرنے والے شخص کی تقرری کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔
حصص کی مساوی تقسیم کے لیے ضروری ہے کہ برابر اجزاء بنا لیے جائیں، بشرطیکہ ایسا کرنا ممکن ہو، جیسے ایک جنس کی ناپ یا وزن والی چیز ہو۔
اگر اس چیز کے برابر اجزاء بنانا ممکن نہ ہو تو پوری چیز کی قیمت لگائی جائے اور پھر حصص کے مطابق تقسیم کی جائے۔ مثلاً اس طرح کہ کم درجے والی چیز کا حصہ بڑا کر دیا جائے اور اعلیٰ درجے والی چیز کا حصہ چھوٹا رکھا جائے تاکہ دونوں حصوں کی قیمت برابر ہو جائے۔ اگر یہ دونوں صورتیں بھی ممکن نہ ہوں تو اعلیٰ چیز لینے والا شخص ادنیٰ چیز لینے والے کو اتنی رقم ادا کرے گا جتنی اس کے حاصل کردہ حصے کی قیمت اس کے اصل استحقاق سے زائد ہو۔
جب شرکاء تقسیم یا قرعہ پر رضا مند ہو جائیں تو تقسیم لازم ہو جاتی ہے، اور تقسیم کرنے والا حاکم کے قائم مقام ہوتا ہے۔
اگر قرعہ ڈالا جائے تو وہ حاکم کے فیصلے کے درجے میں ہوتا ہے اور اس پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے۔ قرعہ کنکریوں کے ذریعے بھی ڈالا جا سکتا ہے اور کاغذ پر نام لکھ کر بھی، دونوں صورتیں جائز ہیں۔ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ہر کاغذ کے ٹکڑے پر ایک شریک کا نام لکھ کر قرعہ ڈالا جائے، پھر اسی کے ذریعے ہر ایک کا حصہ متعین کر لیا جائے۔
اگر ایک شریک دوسرے کو اختیار دے دے تو باہمی رضا مندی سے چیز کی تقسیم ہو جائے گی، خواہ تمام شرکاء ایک جگہ جمع نہ بھی ہوں۔
اگر دو اشخاص نے مشترک چیز کو باہمی رضا مندی سے تقسیم کر لیا اور اپنی رضا مندی پر گواہ بھی مقرر کر لیے، پھر بعد میں ان میں سے کوئی تقسیم کے غلط ہونے کا اعتراض یا دعویٰ کرے، تو اس کا دعویٰ قابل التفات نہ ہوگا، کیونکہ جس طریقے سے تقسیم ہوئی، ہر ایک اس پر اپنی رضا ظاہر کر چکا ہے، بلکہ اس پر گواہ بھی مقرر کیے جا چکے ہیں۔ لہٰذا اگر کسی نے معاہدۂ تقسیم میں اپنے شریک کو کچھ زائد چیز دینے کا وعدہ کیا ہے تو اسے وہ دینا ہوگا، کیونکہ یہ اس کا حق بن چکا ہے۔
اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ حاکم کے مقرر کردہ شخص نے، یا وہ شخص جسے دونوں شریکوں نے تقسیم کے لیے مقرر کیا تھا، تقسیم میں غلطی کی ہے، تو اس کا دعویٰ دلیل کے ساتھ قبول کیا جائے گا، ورنہ دعوے کا انکار کرنے والا فریق قسم اٹھائے گا، کیونکہ اصل یہی ہے کہ غلطی واقع نہیں ہوئی۔ اگر مدعی تقسیم کے غلط ہونے کی دلیل پیش کر دے تو وہ دلیل قبول کی جائے گی اور سابقہ تقسیم ختم کر دی جائے گی، کیونکہ اس کی خاموشی تقسیم کرنے والے کے ظاہر حال پر اعتماد کی بنیاد پر تھی۔ جب دلیل سے ظاہر ہو گیا کہ غلطی ہوئی ہے تو اصلاح کا حق ثابت ہو جائے گا۔
اگر دو شریکوں میں سے ہر ایک کسی چیز کی ملکیت کا دعویٰ کرے اور دونوں اپنے دعوے کی سچائی کے لیے قسمیں بھی اٹھا لیں تو تقسیم ختم ہو جائے گی، کیونکہ وہ چیز ان دونوں ہی میں سے کسی ایک کی ہوسکتی ہے، ان کے علاوہ کسی اور کی نہیں، اور ان میں کسی ایک کو ترجیح دینے کی کوئی وجہ موجود نہیں۔
اگر لاعلمی میں کسی کو ایسا حصہ مل جائے جس میں عیب ہو تو اسے اختیار ہوگا کہ چاہے تقسیم کو فسخ کر دے یا کچھ معاوضہ لے کر تقسیم کو برقرار رکھے، کیونکہ عیب کا ظاہر ہونا نقصان ہے، اس لیے اسے مشتری کی طرح اختیار حاصل ہوگا۔
دعویٰ اور دلیل کا بیان
لفظ "دعویٰ” کے لغوی معنی طلب کرنا اور تمنا کرنا ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ”
"اور ان کے لیے ہوگا جو کچھ وہ طلب (اور تمنا) کریں گے۔” [یس:36۔57۔]
فقہاء کی اصطلاح میں دعویٰ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی ایسی چیز کے استحقاق کو اپنی طرف منسوب کرے جو یا تو کسی کے قبضے میں ہو یا کسی کے ذمے ہو۔
"الْبَيِّنَةُ” یعنی دلیل کے لغوی معنی واضح علامت کے ہیں۔ اور اصطلاح میں اس سے مراد وہ چیز ہے جو حق اور سچائی کو واضح کر دے، خواہ وہ گواہوں کی صورت میں ہو یا قسم کی صورت میں۔
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "شرع میں(الْبَيِّنَةُ) اس چیز کا نام ہے جو حق کو واضح اور نمایاں کردے۔ اللہ تعالیٰ نے حق وسچ کی ایسی علامات اور نشانیاں مقرر کی ہیں جن سے وہ صاف طور پر نمایاں اور ظاہر ہو جاتا ہے۔ جس نے ان علامات و نشانات کو مکمل طور پر گرادیا اس نے شریعت کے بہت سے احکام کو معطل کر دیا اور بہت سے حقوق ضائع کر دیے۔” [الطراق الحکمۃ لا بن القیم ص:67۔384۔386۔]
مدعی اور مدعا علیہ میں فرق یہ ہے کہ مدعی وہ ہوتا ہے کہ اگر وہ خاموش ہو جائے، یعنی اپنا دعویٰ چھوڑ دے، تو اس کے ذمے کچھ لازم نہیں آتا، کیونکہ وہ کسی چیز کو حاصل کرنے والا ہوتا ہے۔ جبکہ مدعا علیہ وہ ہے کہ اگر وہ خاموش ہو جائے تو فیصلہ اس کے خلاف ہو جائے گا، کیونکہ اس سے کوئی چیز طلب کی جا رہی ہوتی ہے، اور اس کی خاموشی اس بات کا اقرار سمجھی جاتی ہے کہ وہ کسی چیز کی ادائیگی کا پابند ہے۔
دعویٰ کے صحیح ہونے اور انکار کے معتبر ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ مدعی یا منکر، مکلف ہو، یعنی عاقل، بالغ اور آزاد ہو۔
اگر کسی چیز کی ملکیت کے بارے میں دو آدمی دعویٰ کریں تو وہ چیز اس کے حق میں قرار دی جائے گی جس کے قبضے میں ہو، بشرطیکہ وہ قسم بھی اٹھائے۔
جس کے ہاتھ میں چیز ہو اسے "داخل” کہا جاتا ہے، اور جس کے ہاتھ میں نہ ہو اسے "خارج” کہا جاتا ہے۔
اگر دونوں میں سے ہر ایک اپنے حق میں ملکیت کی دلیل یا گواہ پیش کر دے تو فیصلہ اس کے حق میں ہوگا جس کے قبضے میں وہ چیز نہیں، کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ، لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ”
"اگر محض دعوے کی بنیاد پر لوگوں کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے تو بہت سے لوگ آدمیوں کے خونوں اور اموال میں دعوے کرنے لگیں گے البتہ مدعا علیہ کے ذمے قسم ہے۔” [صحیح مسلم الاقضیہ باب الیمین علی المدعی علیہ حدیث 1711، ومسند احمد 1/342۔351۔363۔]
ایک اور روایت میں ہے:
” الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي ، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ”.
"گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمے ہے اور قسم اس پر ہے جو دعوے کا انکار کرے۔” [سنن الدارقطنی 3/111۔4/217۔ حدیث 3165۔4462، وارواءالغلیل 8/279۔ حدیث2661۔]
ان دونوں روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دلیل پیش کرنا مدعی کے ذمے ہے۔ اگر وہ دلیل پیش کر دے تو فیصلہ اس کے حق میں ہوگا۔ اور قسم اٹھانا اس شخص کے ذمے ہے جو دعوے کا انکار کر رہا ہو۔ مدعا علیہ اس وقت قسم اٹھائے گا جب مدعی دلیل اور شہادت پیش نہ کر سکے۔
اکثر اہل علم کی اس مسئلے میں یہ رائے ہے کہ چیز اسی کے حق میں ہوگی جس کے قبضے میں ہے، یعنی "داخل” کے حق میں۔ اور حدیث کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا کہ قبضے والے شخص کے پاس کوئی دلیل نہ ہو۔ ورنہ اگر قبضہ بھی اسی کے پاس ہو اور دلیل بھی اس کے پاس ہو تو پھر وہی زیادہ حق دار ہوگا کہ چیز اسی کے قبضے میں رہے۔ اس مسئلے میں جمہور کا موقف زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔
اگر وہ چیز جس کے بارے میں دونوں فریق دعویٰ رکھتے ہوں، کسی ایک کے قبضے میں بھی نہ ہو اور نہ ہی ظاہری حالات میں کسی کے حق میں کوئی قرینہ موجود ہو، اور نہ کسی کے پاس دلیل و شہادت ہو، تو دونوں قسم اٹھائیں گے کہ دوسرے کا اس میں کوئی حق نہیں، پھر وہ چیز دونوں میں برابر تقسیم کر دی جائے گی، کیونکہ دعویٰ میں دونوں برابر ہیں اور کسی ایک کو ترجیح دینے کے لیے کوئی قرینہ بھی موجود نہیں۔ البتہ اگر ظاہری قرائن و شواہد کسی ایک کے حق میں ہوں تو انہی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔
اگر میاں بیوی کے درمیان گھر کے سامان کے بارے میں نزاع ہو جائے تو وہ چیز جو مرد کے استعمال کے مناسب ہو مرد کو دی جائے گی، اور جو چیز عورت کے استعمال کے لائق ہو عورت کو دی جائے گی، جبکہ جو چیز دونوں کے استعمال کی ہو وہ دونوں کے درمیان برابر تقسیم ہوگی۔
گواہی کا بیان
شہادت یعنی گواہی، مشاہدہ سے مشتق ہے۔ اسی لیے شاہد وہ شخص کہلاتا ہے جو اس چیز کے بارے میں خبر دیتا ہے جسے اس نے خود دیکھا اور جانا ہو۔
ادائے شہادت کے وقت گواہ کا یہ الفاظ کہنا کہ "میں گواہی دیتا ہوں” ضروری ہے یا نہیں؟ اس مسئلے میں اہل علم کے دو قول ہیں۔ حنابلہ کا موقف یہ ہے کہ لفظ "شہادت” کا کہنا ضروری ہے۔ جبکہ ائمہ کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ یہ الفاظ کہنا لازم نہیں۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی دوسرے موقف کی تائید میں ایک روایت منقول ہے، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے شاگرد رشید ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "گواہی میں کسی مخصوص الفاظ کا کہنا قرآن وسنت سے ثابت نہیں ہے اور نہ صحابہ کرام اور تابعین عظام سے منقول ہے لہٰذا گواہی دینے والا کوئی بھی ایسے کلمات بول سکتا ہے جن سے گواہی کا مدعا حاصل ہوتا ہو۔ مثلاً: گواہ کہے کہ میں نے ایسا کام ہوتے دیکھا یا ایسی ایسی باتیں خود سنی تھیں وغیرہ۔” [الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ ص:578، والطرق الحکمیہ لا بن القیم ص:387۔]
حقوق العباد میں گواہی کی ذمہ داری فرض کفایہ ہے۔ اس لیے اگر اتنے گواہ موجود ہوں جن سے مقصد پورا ہو جائے تو باقی لوگ گناہ گار نہیں ہوں گے۔ لیکن اگر کسی خاص شخص کے علاوہ کوئی گواہ موجود نہ ہو تو اس پر گواہی دینا فرض عین ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا”
"اور گواہوں کو چاہیے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں۔” [البقرۃ:2/282۔]
یعنی جب انہیں گواہ بننے کے لیے بلایا جائے تو ان پر حاضر ہونا لازم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد گواہی اٹھانا اور حاکم کے سامنے اسے ثابت کرنا ہے۔ لوگوں کے حقوق اور معاہدات کے تحفظ کا تقاضا بھی یہی ہے، لہٰذا گواہی اٹھانا اور اسے ادا کرنا اسی طرح فرض ہے جیسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض ہیں۔
ضرورت کے وقت ادائے شہادت اس شخص پر فرض عین ہے جس نے یہ ذمہ داری قبول کر لی ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ”
"اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپالے وہ گناہ گار دل والا ہے۔” [البقر:2/28۔]
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں گواہی قائم کرنے کے لیے بلایا جائے تو نہ اسے چھپاؤ اور نہ اس میں خیانت کرو۔ الفاظ (آثِمٌ قَلْبُهُ) کے معنی ہیں: "(فاجر قَلْبُهُ)” یعنی اس کا دل گناہ گار ہے۔ یہ دلوں کے بگاڑ سے متعلق ایک سخت وعید ہے۔ آیت میں دل کا خاص ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ گواہی کا علم اسی میں ہوتا ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس شخص نے گواہی اٹھا رکھی ہو اس پر اس کی ادائیگی فرض ہے۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "گواہی دینے کی ذمے داری اٹھانا اور اسے ادا کرنا ایک حق ہے جس کے ترک سے آدمی گناہ گار ہوتا ہے۔”
نیز فرماتے ہیں: "قیاس کا تقاضا ہے کہ اگر گواہ کی گواہی چھپانے کی وجہ سے صاحب حق کو نقصان پہنچے تو گواہ کے ذمے تاوان ہوگا۔”
گواہی کی ذمہ داری اٹھانے اور اسے ادا کرنے والے کا یہ حق بھی ہے کہ اسے کسی قسم کی تکلیف یا نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اگر گواہ کو گواہی دینے کی صورت میں جانی نقصان، مالی ضرر یا بے عزتی کا اندیشہ ہو تو اس پر گواہی دینا واجب نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ ۚ "
"اور (یادرکھو کہ) نہ تو لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو۔” [البقر:2/282۔]
اور حدیث میں آیا ہے:
"لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ "
"نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان اٹھاؤ۔” [مسند احمد 1/313۔ وسنن ابن ماجہ الاحکام باب من بنی فی حقہ مایضر بجارہ حدیث:2340۔]
گواہ پر لازم ہے کہ وہ علم اور یقین کی بنیاد پر گواہی دے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"وَلا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ”
"اور جس بات کی تم کو خبرہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو۔” [بنی اسرائیل:17۔36۔]
نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"إِلَّا مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ "
"ہاں (مستحق شفاعت وہ ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انھیں علم بھی ہو۔” [الزخرف 43۔86۔]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گواہی دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سورج کو دیکھتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی چیز کو اس طرح واضح دیکھو تو گواہی دینا، ورنہ چھوڑ دو۔ [المستدرک للحاکم :4/110۔ حدیث:7045۔ والکامل فی الضعفاء لا بن عدی 7/429۔ فی ترجمہ بن سلیمان بن مشمول۔] امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس کی سند قابل اعتماد نہیں۔” اور حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے لیکن دوسرے دلائل سے یہ مسئلہ ثابت ہے۔”
علم درج ذیل امور میں سے کسی ایک کے ذریعے حاصل ہوتا ہے:
① قوتِ سماعت کے ذریعے، یعنی آواز اور کلام سن کر۔
② قوتِ بصارت کے ذریعے، یعنی آدمی خود واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔
③ گواہ نے کسی واقعے کو اتنے زیادہ لوگوں سے سنا ہو کہ اسے یقین کی حد تک علم حاصل ہو جائے، جیسے نسب یا موت کا ثبوت۔ البتہ محض کسی بات کے مشہور ہونے کی بنا پر گواہی دینا درست نہیں، جب تک یقینی علم حاصل نہ ہو جائے۔
کسی شخص کی گواہی اس وقت قبول ہوگی جب اس میں چھ شرائط موجود ہوں:
① بلوغت
بچوں کی گواہی قبول نہیں ہوگی، الا یہ کہ معاملہ بچوں ہی کا ہو۔
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور فقہائے مدینہ رحمۃ اللہ علیہ کا عمل یہی رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر جرح کے معاملے میں بچوں کی گواہی قبول کرتے تھے کیونکہ ایسے معاملات میں بڑے افراد عام طور پر موجود نہیں ہوتے۔ اگر بچوں کی گواہی قبول نہ ہو تو بہت سے حقوق ضائع ہو جائیں گے۔ البتہ بچوں کی گواہی قبول کرنے کے لیے چند ایک شرائط ہیں، درج ذیل ہیں۔” [اعلام الموقعین:1/102۔]
◈ معاملہ بچوں ہی کا ہو۔
◈ وہ اتنی تعداد میں ہوں کہ ان کی خبر سے یقین حاصل ہو جائے۔
◈ وہ متفرق ہونے سے پہلے پہلے گواہی دیں۔
◈ ان کا بیان باہم ایک جیسا ہو۔
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں کہ ان بچوں کی گواہی سے جو ظنی علم حاصل ہوگا، وہ دو آدمیوں کی گواہی سے حاصل ہونے والے ظنی علم سے کہیں زیادہ قوی ہوگا، لہٰذا اسے نہ رد کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ [اعلام الموقعین:1/102۔]
② عقل
مجنون اور پاگل کی شہادت قبول نہیں ہوگی۔ البتہ جس شخص کو پاگل پن یا مرگی کے دورے پڑتے ہوں، اس کی گواہی اس وقت قبول ہوگی جب واقعہ دیکھتے وقت یا گواہی دیتے وقت وہ دورے کی حالت میں نہ ہو۔
③ کلام
گونگے شخص کی شہادت قبول نہیں ہوگی، اگرچہ اس کے اشارے سمجھ میں آتے ہوں، کیونکہ شہادت میں یقین معتبر ہے اور وہ محض اشاروں سے حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ گونگے شخص کا اشارہ ان معاملات میں معتبر ہوگا جن کا تعلق اس کی اپنی ذات سے ہو، جیسے نکاح اور طلاق وغیرہ، کیونکہ وہاں مجبوری پائی جاتی ہے۔ لیکن اگر گونگا شخص تحریری صورت میں شہادت پیش کرے تو وہ قابل اعتبار ہوگی، کیونکہ تحریر زبان کے الفاظ پر دلالت کرتی ہے۔
④ اسلام
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ "
"اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کر لو۔” [الطلاق 2/65۔]
کافر کی گواہی صرف سفر کے دوران کی گئی وصیت کے معاملے میں قبول ہوگی، بشرطیکہ وہاں کوئی مسلمان موجود نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُم مُّصِيبَةُ الْمَوْتِ ۚ "
"اے ایمان والو! اگر تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وصیت کے وقت اپنے(مسلمانوں)میں سے دو صاحب عدل گواہ بنا لو اور اگر حالت سفر میں ہو اور تمھیں موت آلے تو غیر قوم کے بھی دو(غیر مسلموں کو) گواہ بنا سکتے ہو۔” [المائدہ:5/106۔]
⑤ حافظہ
غیر عاقل یا بہت زیادہ بھولنے والے شخص کی شہادت قبول نہیں ہوگی، کیونکہ اس کے بیان سے نہ یقین حاصل ہوتا ہے اور نہ غالب گمان، بلکہ غلطی کا قوی احتمال رہتا ہے۔ البتہ جس شخص کو کبھی کبھار نسیان ہو جاتا ہو، اس کی شہادت قبول ہوگی، کیونکہ اس سے شاید ہی کوئی محفوظ ہو۔
⑥ عدالت
عدالت کے لغوی معنی سیدھا اور درست ہونا ہیں، اور یہ ظلم و تعدی کی ضد ہے۔ شرعی اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہے کہ "آدمی کے دینی امور درست اور معتدل ہوں اور اس کے اقوال وافعال میں توازن ہو۔”
گواہ میں وصفِ عدالت کی شرط کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنْ الشُّهَدَاءِ”
"جنھیں تم گواہوں میں سے پسند کر لو۔” [البقرۃ:5/282۔]
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ "
"اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کر لو۔” [الطلاق 2/65۔]
جمہور علماء کے نزدیک عدالت یہ ہے کہ مسلمان دین کے واجبات اور مستحبات کا اہتمام کرتا ہو، اور محرمات و مکروہات سے بچتا ہو۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "فقہائے کرام اس پر متفق ہیں کہ جھوٹے کی گواہی رد کر دی جائے گی۔” [منہاج السنۃ النبویۃ 1/62۔ والفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ الشہادات 5/574۔]
وہ مزید فرماتے ہیں کہ عدل کا معیار ہر زمانے، ہر علاقے اور ہر معاشرے کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ ہر قوم میں وہی شخص عادل سمجھا جاتا ہے جسے وہاں گواہ تسلیم کیا جاتا ہو۔ اگر یہی شخص کسی دوسرے علاقے میں ہو تو ممکن ہے وہاں عدالت کا معیار مختلف ہو، لہٰذا لوگوں کے درمیان فیصلہ ان کے عرف کے مطابق کیا جائے گا۔ اگر گواہوں کے لیے یہ شرط لازم قرار دے دی جائے کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی طرح واجبات کے پابند اور محرمات سے مکمل اجتناب کرنے والے ہوں، تو گواہیاں ختم ہو جائیں گی یا بہت دشوار ہو جائیں گی۔ [منہاج السنۃ النبویۃ 1/62۔ والفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ الشہادات 5/574۔]
نیز فرماتے ہیں: "جو لوگ صدق و سچائی کے ساتھ معروف ہوں، ضرورت کے پیش نظر ان کی گواہی قبول کرنے کے لائق ہے اگرچہ وہ حدود کی مکمل پابندی کرنے والے نہ ہوں، جیسے قید خانے میں، دیہاتی حوادثات میں، یا ایسی بستی میں جہاں کوئی عادل نہ ہو۔” [منہاج السنۃ النبویۃ 1/62۔ والفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ الشہادات 5/574۔]
فقہاء نے کہا ہے کہ عدالت میں دو چیزوں کا اعتبار ہوتا ہے:
◈ ادائے فرض یعنی پانچ فرض نمازوں، جمعہ، اور سنن مؤکدہ کا اہتمام۔ لہٰذا جو شخص سنن مؤکدہ اور وتر کا اہتمام نہیں کرتا، اس کی شہادت قبول نہیں ہوگی۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جو آدمی سنن پر ہمیشگی نہ کرے وہ برا شخص ہے، کیونکہ ان کے مسلسل ترک کی وجہ سے وہ سنت سے اعراض کرنے والا، معیوب اور قابل ملامت ہے۔”
جس طرح اس پر فرائض کی ادائیگی لازم ہے، اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ وہ محارم سے بچے، یعنی کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے اور صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ نے پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگانے والے کی شہادت مردود قرار دی ہے، لہٰذا اس پر قیاس کرتے ہوئے کبیرہ گناہوں کے مرتکب شخص کی شہادت بھی مردود ہوگی۔ کبیرہ گناہ وہ ہے جس پر دنیا میں شرعی حد مقرر ہو، یا قرآن و حدیث میں اس پر آخرت کی سزا بیان ہوئی ہو، مثلاً سود خوری، جھوٹی گواہی، زنا، چوری، اور نشہ آور چیزوں کا استعمال وغیرہ۔ یہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔ اسی طرح فاسق کی شہادت بھی قبول نہیں ہوگی۔
◈ مروت اور شرافت یعنی ایسے کام اختیار کرنا جو انسان کے لیے زینت اور حسن کا باعث ہوں، جیسے سخاوت، حسن اخلاق، اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک؛ اور خود کو ایسے گھٹیا اور ذلیل کاموں سے بچانا جو عزت کو مجروح کرتے ہوں، مثلاً فحش گانے، لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹی مزاحیہ باتیں سنانا وغیرہ۔ (اس میں آج کل کے ڈرامے وغیرہ بھی شامل ہیں، اور گانا تو آج کل "فن” شمار ہونے لگا ہے جس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور ایسے لوگوں کی تعریف کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان فتنوں سے محفوظ رکھے۔)
جب کسی شخص میں شہادت کے موانع باقی نہ رہیں، مثلاً بچہ بالغ ہو جائے، مجنون سمجھ دار اور عاقل ہو جائے، کافر مسلمان ہو جائے، اور فاسق توبہ کر لے، تو ان سب کی شہادت قبول ہوگی، کیونکہ قبولیتِ شہادت میں موجود رکاوٹ ختم ہو چکی ہوگی، بشرطیکہ دیگر تمام شرائط بھی پوری ہوں۔
باپ، دادا، پردادا وغیرہ کے حق میں شہادت قبول نہیں ہوگی، جیسے بیٹے، پوتے اور پرپوتے کے حق میں شہادت قبول نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں قرابت کی بنا پر تہمت اور جانبداری کا احتمال موجود ہے۔
بھائی کے حق میں بھائی کی شہادت، اور دوست کے حق میں دوست کی شہادت قبول ہوگی، کیونکہ شرعی دلائل میں عموم ہے، اور یہ مقام تہمت نہیں۔
میاں بیوی کی ایک دوسرے کے حق میں شہادت قبول نہیں ہوگی، کیونکہ ہر ایک دوسرے کے مال سے فائدہ اٹھاتا ہے، اور دونوں کے درمیان مضبوط تعلق ہونے کی وجہ سے جانبداری کا الزام لگ سکتا ہے۔ البتہ ان تمام رشتہ داروں کی شہادت اس وقت قبول ہوگی جب وہ ایک دوسرے کے خلاف گواہی دیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ "
"(اے ایمان والو! عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی مولا کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ گو کہ وہ خود تمھارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے رشتہ دار عزیزوں کے۔” [النساء:4/135۔]
لہٰذا اگر کسی نے اپنے باپ، بیٹے، بیوی یا خاوند کے خلاف گواہی دی تو وہ قبول کی جائے گی۔
جس شخص کو گواہی کے نتیجے میں فائدہ پہنچتا ہو، یا وہ کسی نقصان سے بچتا ہو، اس کی گواہی بھی قبول نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر دو آدمیوں کے درمیان شدید دشمنی ہو تو ایک کی دوسرے کے خلاف گواہی قبول نہیں ہوگی، کیونکہ ممکن ہے وہ باطل شہادت کے ذریعے دوسرے کو نقصان پہنچانا چاہتا ہو۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کی بھی یہی رائے ہے۔ باہمی دشمنی پہچاننے کا معیار یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کے دکھ اور تکلیف کو دیکھ کر خوش ہو اور اس کی خوشی اور راحت کو دیکھ کر غمگین ہو۔ واضح رہے کہ یہاں مراد دنیاوی دشمنی ہے، دینی دشمنی نہیں، کیونکہ وہ شہادت کے قبول ہونے میں مانع نہیں۔ لہٰذا مسلمان کی گواہی کافر کے خلاف قبول ہوگی، اور موحد کی گواہی بدعتی کے خلاف بھی قبول ہوگی۔
جو شخص اپنے قبیلے کی حمایت میں تعصب رکھتا ہو، اس کے قبیلے والوں کے حق میں اس کی گواہی قبول نہیں ہوگی، کیونکہ اس میں تہمت لگنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
گواہوں کی تعداد کا نصاب
مختلف معاملات میں گواہوں کی تعداد مختلف ہوتی ہے:
① زنا اور عملِ قومِ لوط کے الزام میں
ان امور کو ثابت کرنے کے لیے چار آدمیوں کی شہادت ضروری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"لَوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاء”
"وہ اس پر چار گواہ کیوں نہیں لائے۔؟” [النور:13۔24۔]
چونکہ ان معاملات میں پردہ پوشی مطلوب ہے، اس لیے نصابِ شہادت میں سختی رکھی گئی ہے۔
② فقر و حاجت کے اثبات میں
اگر کوئی شخص پہلے مالداری میں معروف تھا، پھر اب اس کے بارے میں محتاج اور فقیر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہو، تو اس میں تین آدمیوں کی گواہی قبول ہوگی، کیونکہ حدیث میں ہے:
"حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ: لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ”
"یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین اشخاص گواہی دیں کہ فلاں کو فقرو فاقہ کی نوبت آگئی ہے۔” [صحیح مسلم الزکاۃ باب من تحل لہ المسالہ حدیث 1044۔]
③ باقی حدود اور قصاص میں
زنا کے علاوہ باقی حدود، جیسے حد قذف، شراب نوشی، چوری، ڈاکہ زنی، اور قصاص میں دو مردوں کی شہادت کافی ہوگی۔ ان امور میں عورتوں کی شہادت قبول نہیں ہوگی۔
④ غیر مالی امور جن میں سزا یا کفارہ نہ ہو
وہ معاملات جن میں نہ سزا ہو، نہ کفارہ، نہ مال مقصود ہو، اور عموماً مردوں ہی کو ان سے واسطہ پڑتا ہو، مثلاً نکاح، طلاق، اور رجوع وغیرہ، ان میں دو مردوں کی شہادت کافی ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے شاگرد امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے رجوع کے معاملے میں عورتوں کی گواہی کو بھی درست قرار دیا ہے، کیونکہ رجوع کے وقت ان کا حاضر ہونا کسی دوسرے معاہدے کی تحریر کے وقت حاضری سے زیادہ سہل ہے۔ [اعلام الموقعین:1/98۔]
⑤ مالی معاملات میں
مال یا وہ معاملہ جس میں مال مقصود ہو، مثلاً بیع، قرض، یا اجارہ وغیرہ، اس میں دو مردوں کی، یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت قبول ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"واستشهدوا شَهِيدَيْنِ مِّن رِّجَالِكُمْ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وامرأتان مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشهدآء”
"اور اپنے میں سے دومرد گواہ رکھ لو۔ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنھیں تم گواہوں میں سے پسند کرلو۔” [البقرۃ: 2/282۔]
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ مالی معاملات میں ایک آدمی اور دوعورتوں کی گواہی قبول ہوگی۔ اسی طرح جو امور مالی معاملات سے ملحق ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے مثلاً: بیع ادھار، بیع خیار، رہن، معین فرد کے حق میں وصیت کرنا، ہبہ، وقف، مالی ضمان، مال کا ضیاع، مجہول النسب شخص کے غلام ہونے کا دعویٰ کرنا، اور تعیین مہر یا خلع میں معاوضے کا تعیین وغیرہ۔” [اعلام الموقعین:1/97۔]
مالی معاملات میں عورت کی شہادت قبول کرنے کی حکمت یہ ہے کہ ایسے معاملات بکثرت پیش آتے ہیں اور مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی ان سے واسطہ پڑتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ثبوت میں وسعت رکھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے شریعت کے متعدد احکام میں مرد کے مقابلے میں عورت کا نصف حصہ مقرر کیا ہے، مثلاً گواہی کے معاملے میں ایک مرد کے مقابلے میں دو عورتیں مقرر کی گئی ہیں۔ اسی طرح میراث اور دیت میں اس کا حصہ مرد سے نصف ہے، اور عقیقے میں بھی بچی کے لیے ایک بکری مقرر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت یوں بیان فرمائی:
"أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَىٰ”
"اگر ایک بھول جائے تو دوسری یاد دلا دے۔” [البقرۃ:2/282۔]
آیتِ کریمہ عورت کے ضعیف عقل ہونے پر واضح دلیل ہے، لہٰذا ایک عورت ایک مرد کے قائم مقام نہیں ہوگی۔ لیکن عورت کی گواہی کو بالکل ختم کر دینے میں بہت سے حقوق ضائع ہونے کا اندیشہ تھا، اس لیے ایک عورت کے ساتھ دوسری عورت کو شامل کر دیا گیا تاکہ بھول کا ازالہ ہو جائے۔ اس طرح دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے قائم مقام قرار دی گئی۔
⑥ ایک گواہ اور مدعی کی قسم
مالی معاملات میں، یا جہاں مال مقصود ہو، ایک آدمی کی گواہی اور مدعی کی قسم کے ساتھ بھی فیصلہ کرنا شرعاً درست ہے، کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"أن النبي – صلى الله عليه وسلم – قضى باليمين مع الشاهد”
"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مدعی کی) قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ دیا۔” [صحیح مسلم الاقضیۃ باب وجوب الحکم بشاہد ویمین حدیث 1712۔ وسنن ابی داؤد القضاء باب القضاء بالیمین والشاہد حدیث 3610۔ واللفظ لہ۔]
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "امت مسلمہ میں یہ سنت (طریقہ) جاری ہے کہ قسم اور ایک گواہ سے فیصلہ ہوگا۔” [المغنی والشرح الکبیر12/13۔]
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: "یہ حدیث اس حدیث کے معارض نہیں ہے جس میں ہے کہ ‘قسم مدعا علیہ پر ہے’ کیونکہ مقصود یہ ہے کہ جب مدعی کے پاس صرف دعویٰ ہو اور دلیل نہ ہو تو محض دعویٰ کی وجہ سے اس کے حق میں فیصلہ نہ ہوگا، البتہ جب اس کی جانب گواہی یا کسی غیر واضح ثبوت وغیرہ کی وجہ سے راجح قرارپائی تو فیصلہ مدعی کے حق میں محض دعوے سے نہیں ہوا بلکہ اس کی جانب کو قسم اور گواہ وغیرہ سے اہمیت اور ترجیح ملی۔” [اعلام الموقعین:1/106۔]
⑦ وہ امور جن کی خبر عموماً مردوں کو نہیں ہوتی
وہ معاملات جن کی عموماً مردوں کو اطلاع نہیں ہوتی، مثلاً عورت کے وہ عیوب جو پردے کے قابل جسم کے حصے میں ہوں، یا عورت کا کنواری ہونا، نیز حیض، ولادت، رضاعت، اور نومولود بچے کا زندہ یا مردہ پیدا ہونا، ان امور میں ایک معتبر اور متقی عورت کی گواہی قبول ہوگی، کیونکہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"أنه – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – أجاز شهادة القابلة”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلی دایہ کی شہادت کو قابل قراردیا۔” [(ضعیف) سنن الدارقطنی 4/232 حدیث 4511، والسنن الکبری للبیہقی 10/15۔]
اگرچہ اس روایت کی سند میں کمزوری ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رضاعت کے مسئلے میں ایک عورت کی گواہی قبول فرمائی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں عقبہ بن حارث کا قصہ مذکور ہے۔ [صحیح البخاری العلم باب الرجلہ فی المسلہ النازلہ و تعلیم اھلہ حدیث 88۔]