مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

رضاعی ماں یا باپ کی سوتیلی ماں سے نکاح کا کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

رضاعی ماں یا باپ کی سوتیلی ماں سے نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب:

جس طرح نسبی دادا یا نانا کی منکوحہ سے نکاح جائز نہیں، اسی طرح رضاعی دادا یا نانا کی منکوحہ سے بھی نکاح جائز نہیں، کیونکہ جو رشتہ نسب سے حرام ہوتا ہے، وہ رضاعت سے بھی حرام ہو جاتا ہے۔
وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ
(النساء: 22)
جو عورتیں تمہارے آباء کی منکوحہ رہ چکی ہوں، ان سے تم نکاح نہ کرو۔
آباء سے مراد جس طرح نسبی باپ، دادا اور نانا شامل ہیں، اسی طرح رضاعی باپ، دادا اور نانا بھی شامل ہیں۔ لہذا ان کی منکوحات سے نکاح جائز نہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔