رضاعی بہن کی لڑکی سے نکاح کا کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

رضاعی بہن کی لڑکی سے نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب:

رضاعی بہن کی لڑکی سے نکاح جائز نہیں، جیسے نسبی بہن کی لڑکی سے نکاح جائز نہیں، کیونکہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں، وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں۔
❀سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الرضاعة تحرم ما تحرم الولادة
”رضاعت بھی ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے، جنہیں ولادت (نسب) حرام کرتی ہے۔“
(صحيح البخاري : 2646 ، صحیح مسلم : 1444)
❀فرمان باری تعالی ہے:
﴿وَبَنَاتُ الْأُخْتِ﴾
(النساء : 23)
”اور بہنوں کی بیٹیوں کو (بھی تم پر حرام کر دیا گیا ہے)۔“
یہاں ”أخت“ کا لفظ مطلق ہے، جو رضاعی بہنوں کو بھی شامل ہے، لہذا رضاعی بھانجی سے نکاح جائز نہیں، کیونکہ جو رشتہ نسب سے حرام ہوتا ہے، وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتا ہے۔