مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

رضاعی بہن بھائی ثابت ہوں تو کیا نکاح قائم رہتا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

لڑکا لڑکی کا نکاح ہو گیا، بعد میں معلوم ہوا کہ دونوں رضاعی بہن بھائی تھے، تو کیا حکم ہے؟

جواب:

رضاعی حرام رشتہ ثابت ہونے کے بعد فوراً دونوں میں جدائی کرائی جائے گی۔ یہ نکاح فسخ ہو جائے گا۔
❀ عقبہ بن حارث بیان کرتے ہیں:
میں نے ابو ایہاب کی بیٹی (ام یحیی) سے شادی کی، کالے رنگ کی ایک عورت آکر کہنے لگی: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھ سے منہ موڑ لیا، میں نے پھر پوچھا، تو آپ نے پھر منہ موڑ لیا، تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ نے فرمایا: جب یہ بات کہی جا چکی ہے، تو وہ تیرے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے؟ پس آپ نے اسے اس کی بیوی کے ساتھ رہنے سے منع کر دیا۔
(صحيح البخاري: 2659)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔